Connect with us

Today News

پاکستان سمیت کئی ممالک میں انسٹاگرام سروس متاثر، میسیجز اور فیڈ لوڈ ہونے میں مشکلات

Published

on



پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام کی سروس متاثر ہونے سے صارفین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

متعدد صارفین نے شکایت کی ہے کہ انہیں میسیجز بھیجنے اور وصول کرنے میں دشواری پیش آ رہی ہے، جبکہ کچھ افراد کو فیڈ لوڈ ہونے اور ایپ تک رسائی میں بھی مسائل درپیش ہیں۔

ڈیجیٹل سروسز میں خرابیوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق پاکستان میں صبح تقریباً 7 بج کر 10 منٹ پر انسٹاگرام کی ایپ اور ویب سائٹ میں تکنیکی خلل کی رپورٹس سامنے آنا شروع ہوئیں۔ اس کے بعد مختصر وقت میں ہزاروں صارفین نے اس مسئلے کی نشاندہی کی۔

رپورٹس کے مطابق اس حوالے سے ڈاؤن ڈیٹیکٹر پر 13 ہزار سے زائد شکایات درج کی گئیں۔ ان شکایات میں سے تقریباً 71 فیصد کا تعلق ایپ کے درست طریقے سے کام نہ کرنے سے تھا، جبکہ قریب 20 فیصد صارفین نے سرور کنکشن کے مسائل کی نشاندہی کی۔

اطلاعات کے مطابق یہ خرابی خاص طور پر براہِ راست میسیجنگ سروس کو متاثر کر رہی ہے، جس کے باعث صارفین کو ذاتی پیغامات بھیجنے یا وصول کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ امریکا سمیت دیگر کئی ممالک میں بھی ہزاروں صارفین اسی نوعیت کے مسائل کی شکایت کر رہے ہیں۔

رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ یورپ، کینیڈا اور ممکنہ طور پر مشرقِ وسطیٰ کے بعض علاقوں میں بھی انسٹاگرام کی سروس متاثر ہونے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ تاہم اس تکنیکی خرابی کی اصل وجہ اور سروس کی مکمل بحالی کے بارے میں تاحال کمپنی میٹا پلیٹ فارمز کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔

ادھر سروس متاثر ہونے کے بعد صارفین نے دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی اپنی شکایات اور ردعمل کا اظہار شروع کردیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس طرح کے مسائل عموماً سرور پر زیادہ بوجھ پڑنے یا کسی ممکنہ سائبر حملے کے باعث بھی سامنے آ سکتے ہیں۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

بینائی مضبوط رکھنے کے لیے کون سی غذائیں مفید ہیں؟ ماہرین کی اہم ہدایات

Published

on



آنکھیں انسانی جسم کا نہایت اہم حصہ ہیں اور ان کی صحت برقرار رکھنے کے لیے متوازن غذا بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔

ماہرین کے مطابق وٹامن اے ایسا غذائی جزو ہے جو بہتر بینائی کے لیے انتہائی ضروری سمجھا جاتا ہے۔ یہ وٹامن آنکھوں کو کم روشنی میں دیکھنے کی صلاحیت دیتا ہے اور آنکھ کے بیرونی حفاظتی حصے یعنی کورنیا کو فعال رکھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جسم میں وٹامن اے کی کمی ہو جائے تو رات کے وقت دیکھنے میں دشواری پیدا ہوسکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق وٹامن اے سے بھرپور غذا کا استعمال بعض آنکھوں کی بیماریوں جیسے بند موتیا اور عمر کے ساتھ ہونے والی میکولر ڈی جنریشن کے خطرے کو کم کرنے میں بھی مدد دے سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کئی قدرتی غذائیں ایسی ہیں جو وٹامن اے سے بھرپور ہونے کے ساتھ آنکھوں کی صحت کو بہتر بنانے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں گاجر ہے۔

گاجر

گاجر بیٹا کیروٹین سے بھرپور ہوتی ہے جسے انسانی جسم وٹامن اے میں تبدیل کر لیتا ہے۔ اس کے علاوہ گاجر میں فائبر، پوٹاشیم اور اینٹی آکسیڈنٹس بھی پائے جاتے ہیں جو مجموعی صحت کے لیے فائدہ مند ہیں۔

پتوں والی سبزیاں

پتوں والی سبزیاں بھی آنکھوں کے لیے نہایت مفید سمجھی جاتی ہیں۔ خصوصاً پالک اور گوبھی میں وٹامن اے کے ساتھ مختلف اینٹی آکسیڈنٹس موجود ہوتے ہیں جو بینائی کی حفاظت میں مدد دیتے ہیں اور آنکھوں کو صحت مند رکھنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔

انڈے

اسی طرح انڈے بھی غذائیت کے اعتبار سے اہم سمجھے جاتے ہیں۔ انڈے کی زردی میں وٹامن اے موجود ہوتا ہے جو نظر کو بہتر بنانے میں کردار ادا کر سکتا ہے۔

دودھ اور پنیر

اس کے علاوہ دودھ اور پنیر جیسی ڈیری مصنوعات بھی وٹامن اے کا اچھا ذریعہ ہیں، اس لیے ماہرین انہیں متوازن غذا کا حصہ بنانے کا مشورہ دیتے ہیں۔

شکر قندی

شکر قندی بھی آنکھوں کے لیے فائدہ مند غذاؤں میں شامل ہے۔ اس میں بیٹا کیروٹین کے ساتھ دیگر ضروری غذائی اجزاء بھی پائے جاتے ہیں جو نہ صرف بینائی کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں بلکہ نظامِ ہاضمہ اور قوتِ مدافعت کو بھی مضبوط بناتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق آنکھوں کی بہتر کارکردگی کے لیے صرف وٹامن اے ہی نہیں بلکہ دیگر غذائی اجزاء بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان میں وٹامن ای، وٹامن سی، وٹامن بی6، بی9 اور بی12، اومیگا تھری فیٹی ایسڈز، تھیامین اور رائبوفلاوین شامل ہیں، جو آنکھوں کو صحت مند رکھنے اور بینائی کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔



Source link

Continue Reading

Today News

کفایت شعاری؛ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں بڑے اقدامات، گاڑیاں بند اور تنخواہوں میں کٹوتی

Published

on



اسلام آباد:

اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ہدایت پر قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں وسیع پیمانے پر کفایت شعاری اقدامات نافذ کر دیے گئے ہیں۔

قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے مطابق  یہ اقدامات وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف کی کفایت شعاری مہم کے تحت کیے گئے ہیں۔

نوٹیفکیشن کے مطابق کفایت شعاری مہم کے تحت 70 فیصد سرکاری گاڑیاں بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ اراکین قومی اسمبلی کی 2 ماہ کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں 25 فیصد کٹوتی کی جائے گی۔

اس کے علاوہ پارلیمانی وفود کے بیرون ملک دوروں پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے افسران یا وہ افسران جن کی ماہانہ تنخواہ 3 لاکھ روپے یا اس سے زائد ہے، ان کی 2 دن کی تنخواہ قومی خزانے میں جمع کرائی جائے گی۔ سیکرٹریٹ میں تمام خریداری فوری طور پر بند کر دی گئی ہے جبکہ صرف ناگزیر روزمرہ ضروریات کے لیے محدود خریداری کی اجازت دی گئی ہے۔

قومی اسمبلی اور کمیٹیوں کے اجلاس غروب آفتاب سے پہلے شیڈول کیے جائیں گے جبکہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں 80 فیصد عملہ گھر سے ورچوئل ڈیوٹی سر انجام دے گا۔

کفایت شعاری کو یقینی بنانے کے لیے گھر سے کام کرنے والے 80 فیصد ملازمین کو اضافی الاؤنس بھی نہیں دیے جائیں گے۔

قائمہ کمیٹیوں کے اجلاس ورچوئل یا آن لائن طریقے سے منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ قومی اسمبلی میں ہفتے میں 4 ورکنگ ڈیز ہوں گے۔ کفایت شعاری پالیسی کے تحت قائمہ کمیٹیوں کے اجلاسوں کو محدود رکھنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ بجلی کے استعمال میں 70 فیصد کمی کی جائے گی اور غیر ضروری لائٹس اور برقی آلات بند رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے کیفے ٹیریاز کے یوٹیلیٹی بلز میں بھی 70 فیصد بچت کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ روایتی اخراجات میں مزید کمی لانے کے لیے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں پیپر لیس ورکنگ اپنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

وفات پانے والے 42 لاکھ افراد کے شناختی کارڈ فعال نکلے، نادرا نے منسوخ کردیے

Published

on



قومی شناختی نظام کی مکمل درستی کے لیے نادرا نے اہم قدم اٹھالیا، سول رجسٹریشن ریکارڈ اور قومی شہری ڈیٹابیس کے درمیان مطابقت کا کام مکمل ہوگیا جس کے بعد 42 لاکھ ایسے شناختی کارڈ منسوخ کردیے گئے جن کے لواحقین نے کارڈ منسوخ نہیں کرایا تھا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق سول رجسٹریشن نظام اور نادرا کے نظام میں مطابقت کے بعد مرنے والے افراد کے شناخت کارڈ منظر عام پر آئے جس پر نادرا آرڈیننس اور شناختی کارڈ رولز کے تحت اقدام اٹھاتے ہوئے 42 لاکھ شناختی کارڈ منسوخ کیے گئے، لواحقین نے صوبائی اداروں میں اندراج کرایا لیکن نادرا ریکارڈ اپ ڈیٹ نہیں کرایا تھا۔

نادرا کے مطابق نادرا کے حالیہ معاون اقدامات پر 30 لاکھ افراد کے لواحقین نے شناختی کارڈ منسوخ کرائے، 42 لاکھ شناختی کارڈز سول رجسٹریشن نظام میں وفات کے اندراج کے باوجود فعال رہے۔

شناختی کارڈ منسوخ نہ ہونے سے قومی اعدادوشمار عدم مطابقت کا شکار ہوتے ہیں، بعض اوقات غلطی یا بدنیتی سے بھی کوئی رشتہ دار شناختی کارڈ منسوخ کرا دیتے ہیں، غلطی سے شناختی کارڈ منسوخی پر نادرا سے رابطہ کر کے یونین کونسل کی معلومات لی جائے اور  یونین کونسل میں درستی کرائی جائے اور نادرا میں ریکارڈ اپ ڈیٹ کرایا جائے۔

نادرا کے مطابق ایک کروڑ 40 لاکھ بچوں کی پیدائش کا اندراج یونین کونسل میں ہو چکا ہے لیکن نادرا میں نہیں ہوا، نادرا ایسے بچوں کے والدین یا سرپرستوں کو یاددہانی کے ایس ایم ایس بھجوا رہا ہے، ایسے بچوں کے والدین جلد ازجلد نادرا سے ان کے ب فارم بنوائیں۔



Source link

Continue Reading

Trending