Connect with us

Today News

کفایت شعاری اقدامات نافذ، اسپیکر پنجاب اسمبلی کا تنخواہ اور تمام مراعات نہ لینے کا اعلان

Published

on



اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کفایت شعاری اور توانائی بچت اقدامات کے تحت قومی مفاد میں تنخوا، اور سرکاری پیٹرول سمیت تمام مراعات ترک کرنے کا اعلان کردیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وفاق اور دیگر صوبوں کی طرح پنجاب میں بھی کفایت شعاری اقدامات نافذ کردیے گئے جس کا نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا گیا۔

اسپیکر ملک محمد احمد خان نے وزیر اعظم  شہباز شریف اوروزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی کفایت شعاری مہم کے تحت اقدامات کیے۔

اسپیکر ملک محمد احمد خان نے قومی مفاد میں اپنی تنخواہ اور سرکاری پیٹرول سمیت تمام مراعات ترک کرنے کا اعلان کردیا۔

کفایت شعاری مہم کے تحت اراکین پنجاب اسمبلی کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں دو ماہ کے لیے 25 فیصد کمی کرنے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔ نوٹی فکیشن کے مطابق 70 فیصد سرکاری گاڑیاں بند رکھی جائیں گی صرف 30 فیصد گاڑیاں دفتری امور کے لیے استعمال ہوں گی۔

نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ پروٹوکول گاڑیوں اور اسکواڈ کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے جبکہ پنجاب اسمبلی اور قائمہ کمیٹیوں کے اجلاس غروب آفتاب سے پہلے شیڈول کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

نوٹی فکیشن کے مطابق قائمہ کمیٹیوں کے اجلاس، اگر ناگزیر ہوں، تو ورچوئل یا آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے منعقد کیے جائیں گے جبکہ اجلاسوں کی تعداد کو بھی کم سے کم سطح تک محدود رکھا جائے گا۔

پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو دفاتر بند رہیں گے۔  جبکہ اجلاس کے دنوں میں معمول کے مطابق کام ہوگا۔  رمضان المبارک میں دفتری اوقات صبح 9 بجے سے دوپہر 3 بجے تک جبکہ رمضان کے بعد صبح 9 بجے سے شام 5 بجے تک ہوں گے۔

کفایت شعاری اقدامات کے تحت بجلی کے استعمال میں 70 فیصد کمی کی جائے گی جس کے تحت غیر ضروری لائٹس اور برقی آلات بند رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ میں پیپر لیس ورکنگ اپنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ سیکرٹریٹ میں تمام نئی خریداری فوری طور پر بند، صرف ناگزیر روزمرہ ضروریات کے لیے محدود خریداری کی اجازت ہوگی۔

نوٹی فکیشن کے مطابق جون 2026 تک نئی سرکاری گاڑیوں کی خریداری پر عائد پابندی کو سختی سے نافذ کیا جائے گا جبکہ غیر ملکی وفود کے علاوہ سرکاری عشائیوں اور افطار ڈنرز کے انعقاد پر بھی پابندی ہوگی۔

اسمبلی سیشن کے دوران ضرورت کے مطابق اقدامات میں مناسب تبدیلی کی جائے گی جبکہ پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ کا 80 فیصد عملہ گھر سے ورچوئل ڈیوٹی سر انجام دے گا اور ضرورت پڑنے پر گھر سے کام کرنے والے ملازمین کو ایک گھنٹے کے نوٹس پر دفتر طلب کیا جا سکے گا۔ 

نوٹی فکیشن کے مطابق گھر سے کام کرنے والے ملازمین کو آنریریا یا سیشن الاؤنس نہیں دیا جائے گا۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

اسٹیٹ بینک نے عارضی طور پر خام تیل، پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد کی اجازت  دے دی

Published

on



اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے موجودہ جغرافیائی و سیاسی حالات اور ملک میں خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کی ضرورت کے پیش نظر عارضی طور پر 60 دن کے لیے سی آئی ایف  کی بنیاد پر خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد کی اجازت دے دی ہے۔

اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری سرکلر میں مجاز ڈیلرز اور کمرشل بینکوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فارن ایکسچینج مینوئل کے باب 13 کی شق 5 کے تحت درآمدات کے لیے مقررہ قابل قبول انکوٹرمز میں اس عارضی نرمی کا نوٹس لیں۔

سرکلر کے مطابق موجودہ حالات اور ملک کے لیے خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی غیر معمولی اہمیت کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اس سرکلر کے اجرا کی تاریخ سے 60 دن تک سی آئی ایف بنیاد پر درآمدات کی اجازت ہوگی۔

مرکزی بینک نے تمام بینکوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس عارضی اقدام سے متعلق اپنے تمام صارفین اور درآمد کنندگان کو آگاہ کریں اور نئی ہدایات پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنائیں۔

مینوئل کے تحت بعض شرائط کے ساتھ ای ایکس ورکس بنیاد پر بھی درآمدات کی اجازت دی جاتی ہے، اس صورت میں درآمدی ادائیگی شپنگ دستاویزات درآمد کنندہ کے بینک میں پیش کیے جانے پر کی جاتی ہے، جبکہ انشورنس کا انتظام درآمد کنندہ کو سپلائر کے گودام سے کرنا ہوتا ہے۔

اس ضمن میں بتایا گیا ہے کہ فارن ایکسچینج مینوئل میں درج انکوٹرمز کے علاوہ کسی اور بنیاد پر درآمدات کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان بینکنگ سروسز کارپوریشن کے فارن ایکسچینج آپریشنز ڈپارٹمنٹ سے قبل از منظوری درکار ہوتی ہے۔

مزید بتایا گیا کہ سی آئی ایف بنیاد پر درآمدات کی اس عارضی اجازت سے توقع ہے کہ موجودہ جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے دوران پاکستانی تیل درآمد کنندگان کو لاجسٹکس اور انشورنس سے متعلق خطرات کو زیادہ مؤثر انداز میں سنبھالنے میں مدد ملے گی اور اس اقدام کا مقصد سپلائی میں ممکنہ تعطل کو روکنا اور ملکی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی مسلسل دستیابی یقینی بنانا ہے۔



Source link

Continue Reading

Today News

پیٹرول اور ڈیزل کی قلت سے متعلق جان بوجھ کر غلط معلومات پھیلائی جا رہی ہیں، پی ایس او

Published

on



پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) نے کہا ہے کہ ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قلت سے متعلق جان بوجھ کر غلط معلومات پھیلائی جا رہی ہیں حالانکہ 20 دن سے زائد کا ذخیرہ موجود ہے۔

پی ایس او نے مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ اور آبنائے ہرمز کی صورت حال کے تناظر میں وزارت پیٹرولیم اور حساس اداروں کو ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی دستیابی سے متعلق تفصیلی رپورٹ ارسال کر دی ہے۔

پی ایس او کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قلت سے متعلق جان بوجھ کر غلط معلومات پھیلائی جا رہی ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ صرف سرکاری ملکیت میں پیٹرول اور ڈیزل کا 20 دن سے زائد کا ذخیرہ موجود ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نجی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے پاس موجود اسٹاک اس کے علاوہ ہے، ملک میں ڈیزل کی تقریباً 80 فیصد ضرورت مقامی ریفائنریز کی پیداوار سے پوری کی جا رہی ہے، جس سے سپلائی کی صورت حال مستحکم ہے۔

پی ایس او کے مطابق رواں ماہ کے لیے عمان سے پیٹرول کے دو کارگوز خریدے جا چکے ہیں جو شیڈول کے مطابق پاکستان پہنچ چکے ہیں، جبکہ حکومتی معاونت سے سعودی عرب کی کمپنی آرامکو سے بھی پیٹرول کا ایک کارگو حاصل کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پیٹرول کا ایک اور جہاز اپریل کے پہلے ہفتے کے لیے خریدا جا چکا ہے جبکہ 10 مارچ کو کھولے گئے ٹینڈر کے تحت 25 اپریل تک پیٹرول کا ایک اور کارگو حاصل ہونے کی توقع ہے۔

پی ایس او نے بتایا کہ مختلف ٹینڈرز پر بولیاں 13 مارچ تک کارآمد ہیں اور اپریل کے لیے پیٹرول کا ایک اور ٹینڈر 16 مارچ کو کھولا جائے گا، ملک میں ڈیمانڈ اور سپلائی کی صورت حال کے مطابق کارگوز کی تعداد کا فیصلہ کیا جائے گا۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ آنے والے زرعی سیزن اور اسٹریٹجک اسٹاک کو مدنظر رکھتے ہوئے متبادل آپشنز پر بھی کام کیا جا رہا ہے تاکہ سپلائی میں کسی ممکنہ رکاوٹ سے بچا جا سکے۔

پی ایس او نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش تیار پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد اور مقامی ریفائنریز کے لیے خام تیل کی سپلائی دونوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، موجودہ حالات کے باعث کویت پیٹرولیم کے دو تیار شدہ کارگوز بھی پاکستان نہیں پہنچ سکے۔



Source link

Continue Reading

Today News

ایران میں نئے سپریم لیڈر کا انتخاب؛ شمالی کوریا کا بڑا بیان سامنے آگیا

Published

on


شمالی کوریا نے ایران کے نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کا خیر مقدم کرتے ہوئے عوام کو مبارک باد دی ہے۔

شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے سی این اے کے مطابق وزارت خارجہ کے ترجمان نے بیان میں کہا کہ ایران میں مجتبیٰ خامنہ ای کے بطور نئے سپریم لیڈر انتخاب کے پر ایرانی عوام کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں۔

ترجمان نے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ غیر قانونی فوجی کارروائیاں خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ بن رہی ہیں اور عالمی سطح پر کشیدگی میں اضافہ کر رہی ہیں۔

شمالی کوریا نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کے خلاف جاری جارحیت کی سخت مذمت کرتا ہے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔

 





Source link

Continue Reading

Trending