Connect with us

Today News

صدر پی ایچ ایف کی پچھلے پانچ سالوں میں ہاکی فیڈریشن کی کارکردگی کا آڈٹ کرنے کی درخواست

Published

on



پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) کے صدر محی الدین احمد وانی نے پاکستان کے آڈیٹر جنرل آف پاکستان سے درخواست کی ہے کہ وہ پچھلے پانچ سالوں کے دوران فیڈریشن کی کارکردگی کا جامع آڈٹ کرے۔

پی ایچ ایف کے صدر نے اپنے خط میں بتایا کہ یہ فیڈریشن ملک میں ہاکی کے فروغ، انتظام اور بین الاقوامی نمائندگی کی ذمہ دار ہے اور ماضی میں پاکستان کی عالمی کھیلوں میں وقار برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہے۔ تاہم حالیہ برسوں میں قومی ہاکی ٹیموں کی کارکردگی میں کمی، مالی استحکام کے مسائل، حکمرانی کے طریقہ کار اور ادارہ جاتی صلاحیت کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ پاکستان، جو کبھی عالمی ہاکی میں ایک طاقتور ملک تھا، اب عالمی درجہ بندی اور مقابلوں میں نمایاں کمی کا شکار ہے۔ ان حالات کے پیش نظر فیڈریشن نے ایک جامع اور غیر جانبدارانہ جائزہ لینے کی درخواست کی ہے تاکہ بنیادی مسائل کی نشاندہی کی جا سکے اور اصلاحات کی سفارش کی جا سکے۔

درخواست کے مطابق، مجوزہ آڈٹ میں مالی کارکردگی، عملی مؤثریت، حکمرانی کے طریقہ کار اور اسٹریٹجک نتائج کے اہم پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔ مالی جائزے میں سرکاری گرانٹس، اسپانسرشپس اور بین الاقوامی فنڈنگ کے ذرائع اور استعمال کے علاوہ مالی نظام اور داخلی کنٹرولز کی مؤثریت کو بھی دیکھا جائے گا۔

عملی جائزے میں تربیتی پروگرامز، ٹیلنٹ کی شناخت کے نظام، گراس روٹس ترقیاتی اقدامات، قومی ٹیموں کی تیاری، کوچنگ انتظامات اور بین الاقوامی مقابلوں کی منصوبہ بندی کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس کے علاوہ پی ایچ ایف اور صوبائی ہاکی ایسوسی ایشنز و کلبز کے درمیان تعاون کا بھی مطالعہ کیا جائے گا۔

آڈٹ میں فیڈریشن کے حکمرانی کے ڈھانچے، فیصلہ سازی کے عمل، آئین اور قومی کھیلوں کی پالیسیوں کے مطابق عمل درآمد، شفافیت اور جوابدہی کے طریقہ کار کا جائزہ بھی شامل ہوگا۔

مجوزہ آڈٹ میں پاکستان کی گزشتہ پانچ سالوں کی بین الاقوامی ہاکی ٹورنامنٹس میں کارکردگی کا تجزیہ، قومی ہاکی کی ترقی پر اثر انداز ہونے والی ساختی کمزوریوں کی شناخت اور عالمی ہاکی فیڈریشنز کے ساتھ پی ایچ ایف کے ماڈلز کا موازنہ بھی کیا جائے گا۔

پی ایچ ایف کے صدر نے امید ظاہر کی کہ آڈٹ کے نتائج پالیسی اصلاحات اور ادارہ جاتی ڈھانچے کی بہتری کے لیے شواہد پر مبنی بنیاد فراہم کریں گے، جس سے پاکستان کی تاریخی ہاکی کا وقار بحال ہو گا اور کھیلوں کی ترقی کے لیے مختص عوامی وسائل کا مؤثر استعمال یقینی بنایا جا سکے گا۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

کراچی میں ٹریفک حادثات، رواں سال کے 70 روز میں 206 جاں بحق، ہیوی گاڑیوں سے 67 افراد ابدی نیند سوگئے

Published

on



شہر میں ہیوی گاڑیوں سے جان لیوا حادثات تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے ، شہر میں رواں سال کے دوران ٹریفک حادثات میں مجموعی طور پر 206 افراد جاں بحق ہوگئے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق رواں سال 2026 کے ابتدائی 70 روز میں جاں بحق ہونے والے 206 افراد میں سے 147 مرد، 29 خواتین، 21 بچے اور 9 بچیاں شامل ہیں جبکہ 2080 شہری زخمی بھی ہوئے۔

اس دورانیے میں کراچی شہر میں ہیوی گاڑیوں کے جان لیوا خونی حادثات میں 67 افراد زندگی سے محروم ہوگئے، جن میں سب سے زیادہ 35 حادثات ٹرالر کی ٹکر سے پیش آئے،

ترجمان چھیپا فاؤنڈیشن چوہدری شاہد کے مطابق رواں سال کے دوران شہر کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات میں 1633 مرد ، 336 خواتین ، 81 بچے اور 30 بچیاں زخمی ہوئیں۔

ترجمان کے مطابق رواں سال کے 70 روز میں شہر میں ہیوی گاڑیوں سے ہونے والے جان لیوا خونی حادثات میں مجموعی طور پر 67 افراد زندگی سے محروم ہوگئے جس میں سب سے زیادہ 35 جان لیوا حادثات ٹرالر سے پیش آئے۔

واٹر ٹینکر سے 14 افراد، مزدا کی ٹکر سے 7 افراد ، بس کی ٹکر سے بھی 7 افراد جبکہ ڈمپر کی ٹکر سے 4 افراد جاں بحق ہوئے۔

شہر میں ہیوی گاڑیوں سے بڑھتے ہوئے جان لیوا خونی حادثات پر شہریوں میں بھی شدید اشتعال پایا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز ضلع وسطی کے علاقے عائشہ منزل فرنیچر مارکیٹ کے قریب ٹرالر نے جواں عمر موٹرسائیکل بھائیوں کو کچل کر موت کی ابدی نیند سلادیا۔ متوفین کی شناخت عاطف اور تابش کے ناموں سے ہوئی، دونوں بھائی عید کی خریداری کیلیے گئے تھے۔



Source link

Continue Reading

Today News

سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس، پاکستان کی لبنان میں اسرائیلی بمباری کی شدید مذمت

Published

on



اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں پاکستان نے لبنان کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بھرپور حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب عثمان جدون نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لبنان ایک متنوع معاشرہ رکھنے والا ملک ہے جس کے عوام نے مشکل حالات کے باوجود ہمیشہ صبر اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لبنان کو امن اور استحکام کے لیے ایک پرامن ماحول اور سیاسی استحکام کی ضرورت ہے۔

عثمان جدون نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان حملوں کے نتیجے میں سینکڑوں شہری ہلاک اور بڑی تعداد میں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ شہری آبادی اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا بین الاقوامی انسانی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور ایسے اقدامات فوری طور پر بند ہونے چاہئیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ طاقت کے استعمال کا اختیار صرف لبنانی ریاست اور اس کے آئینی اداروں کو حاصل ہونا چاہیے۔

پاکستان نے اس موقع پر لبنانی مسلح افواج کی صلاحیت بڑھانے اور ملک میں استحکام کے لیے کی جانے والی کوششوں کی حمایت کا بھی اظہار کیا۔

پاکستانی مندوب نے اقوام متحدہ کی عبوری امن فورس برائے لبنان کے اہلکاروں پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امن مشن کے تحت خدمات انجام دینے والے اہلکاروں کی حفاظت کو ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی موجودگی اور لبنانی حدود میں قائم کی گئی پوزیشنیں غیر قانونی ہیں اور یہ اقدامات لبنان میں امن کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

پاکستان کے مستقبل نائب مندوب نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ تمام مقبوضہ لبنانی علاقوں سے فوری اور غیر مشروط طور پر واپس چلا جائے اور سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

اپنے بیان کے اختتام پر عثمان جدون نے کہا کہ لبنان کی صورتحال کو مشرق وسطیٰ میں جاری وسیع تر کشیدگی سے الگ نہیں دیکھا جا سکتا۔

انہوں نے زور دیا کہ خطے میں امن کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو ترجیح دی جائے تاکہ کشیدگی میں کمی لائی جا سکے اور خطے کو مزید عدم استحکام سے بچایا جا سکے۔

اپنی تقریر کے آخر میں جدون نے مزید کہا کہ پاکستان لبنان کی حکومت اور عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ لبنان میں امن، استحکام اور انسانی امداد کی فراہمی کے لیے فوری اقدامات کرے۔



Source link

Continue Reading

Today News

کراچی میں دکان سے برآمد ہونے والے ’شیطانی‘ مجسمے کا معمہ حل

Published

on



کراچی: شہر قائد کے علاقے مہران ٹاؤن میں دکان سے برآمد ہونے والے ’شیطانی شکل‘ کے مجسمے کا معمہ حل ہوگیا۔

سماجی رابطے کی سائٹ پر شیطان کی شکل کا مجسمے کی ویڈیو وائرل ہوئی جس پر کورنگی صنعتی ایریا کی پولیس نے فوری ایکشن لیتے ہوئے مجسمے کو قبضے میں لے کر تھانے منتقل کردیا۔

پولیس کی کارروائی کے دوران دکاندار موجود نہیں تھا تاہم پولیس نے کچھ دیر بعد مجسمہ بنانے والے کاریگر کو پکڑ لیا۔

پولیس کے مطابق تھرمو پول سے بنا مجسمہ مذہبی اسکالر نے دکاندار کو بنانے کا ٹاسک دیا اور اسے یوم القدس کے لیے بنوایا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق دکاندار عمران نے بتایا کہ علامہ صاحب نے کہا جمعہ کے روز ہم نے یہ پتلا جلوس میں احتجاج کے طور پر نذر آتش کرنا تھا۔

پولیس نے مجسمہ ساز کا وضاحتی بیان ریکارڈ کرنے کے بعد اسے جانے کی اجازت دے دی۔

 



Source link

Continue Reading

Trending