Connect with us

Today News

کراچی ایئرپورٹ پر دبئی سے آنے والی خاتون اور مرد مسافر سے کروڑوں مالیت کے آئی فون برآمد

Published

on



محکمہ کسٹمز نے کراچی ایئرپورٹ پر کارروائی کرتے ہوئے دبئی سے آنے والی خاتون اور مرد مسافر سے 3 کروڑ 40 لاکھ روپے مالیت کے موبائل فونز اور الیکٹرانک ڈیوائسز برآمد کرلیں۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق پاکستان کسٹمز نے جناح انٹرنیشنل ٹرمینل ارائیول پر کارروائی  کرتے ہوئے دبئی سے آنیوالے دو مسافروں سید انور اور خاتون زرقہ سے تجارتی پیمانے کی قابل ڈیوٹی اشیاء برآمد کیں۔

دونوں مسافر غیرملکی ایئرلائن کے ذریعے دبئی سے کراچی پہنچے تھے، جس پر کسٹمز کے افسران نے شک کی بنا پر مسافروں کے سامان کی اسکیننگ کی۔

اسکیننگ میں 64 قیمتی آئی فونز، 26 لیپ ٹاپس، ایپل واچ سیریز، آئی پیڈز، میک منی، ائیرپورڈز برآمد ہوئے۔ برآمد ہونے والی الیکٹرانک مصنوعات کی مالیت 3 کروڑ 40 لاکھ روپے کے قریب ہے۔

حکام نے مقدمہ درج کرکے برآمد ہونے والی اشیاء کو ضبط کرلیا ہے۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

امریکا کی ایران فہمی میں ناکامی

Published

on


امریکا نے ایران پر حملہ کر کے ایک خود مختار اور غیور قوم کو للکارا ہے۔ اب تک امریکا وینزویلا اور یورپ کے دوسرے ملکوں پر قبضے کے لیے ہمک رہا تھا مگر ایران اس کے دل کا کانٹا بنا ہوا تھا اور بالآخر جب انھیں درست طور پر پتا چل گیا کہ آیت اللہ خامنہ ای اس وقت کہاں ہیں تو اس جگہ پر ٹھیک حملہ کر دیا گیا۔اس حملے میں آیت اللہ خانہ ای کے علاوہ ان کے گھر کے تقریباً سب افراد شہید ہو گئے۔ ایران کے سپریم لیڈر کی بیٹی، داماد، نواسی، بہو، کمانڈر پاسداران انقلاب بھی شہید ہو گئے۔ جو لوگ شہید کیے وہ خامنہ ای کے اہل خانہ اور متعلقین تھے جن کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ان کا قتل جنگی جرائم کی تعریف میں آتا ہے مگر ان کے خون کی قیمت لگانے کون سا ادارہ کھڑا ہو سکے گا۔

رہے آیت اللہ خامنہ ای تو امریکا کا خیال تھا کہ اگر وہ زندہ رہے تو ایران پر قابو پانا دشوار ہوگا اور ان کی یہ فکر ان کے نقطہ نظر سے درست ہوگی مگر آیت اللہ خامنہ ای کو اپنی قوم کی قیادت کا حق حاصل تھا جس طرح مسٹر ٹرمپ کو امریکا کی قیادت کا حق حاصل ہے مگر تکنیکی امور میں مہارت کے حامل امریکا نے اپنا مقصد گھر بیٹھے حاصل کر لیا ہے۔ یہ میدان جنگ میں لڑنے والے کی شکست نہیں تھی بلکہ ایک امریکا کے مقابلے میں انتہائی کمزور ملک پر اپنی تکنیکی جنگی برتری کی بنیاد پر حاصل ہوئی ہے گویا یہ جنگ بغیر میدان میں آئے لڑی گئی اور جیت لی گئی۔امریکا کو شاید اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ ایران اتنی زیادہ مزاحمت کرے گااور جواب میں امریکا اور اسرائیل کو بھی بھاری نقصان پہنچائے گا۔

مگر ایران نے اپنی انتہائی قیمتی جانوں کے زیاں سے حوصلے نہیں ہارے، وہ زندہ رہنے کی جنگ لڑنے کو تیار ہیں۔ ایران قبل اسلام بھی ایک طاقتور ملک تھا جسے عالمی سیاست میں اہم مقام حاصل تھا۔قبول اسلام کے بعد بھی وہ مسلم تاریخ میں نمایاں مقام کا حامل رہا۔ ایرانیوں کو اپنے ایرانی ہونے پر سب سے زیادہ فخر رہا ہے۔ وہ اپنے شان دار ماضی پر نازاں رہے ہیں اور کسی قیمت پر کسی کی باج گزاری انھیں گوارا نہیں رہی۔ ایران نے قبول اسلام کے بعد ہی مسلم سوسائٹی میں اپنا مقام بنایا تھا اور اس کے باوجود اس نے اپنی علیحدہ شناخت بنائی تھی۔ ایران کی اس تاریخی اہمیت اور تسلسل سے دنیا کے نقشے پر اپنے علیحدہ نقوش کے باعث ایک نمایاں مقام بنا رکھا تھا۔ امریکی قیادت نے یا تو اس مقام کو سمجھا نہ تھا یا پھر اس سے سرسری طور نمٹ لینے کے لیے ہی تیار تھے۔

 ایران آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد بے قیادت نہیں ہوا، ایران نے جرات اور ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئے سپریم لیڈر کا انتخاب کیا اور دنیا کو بتایا کہ ایران ایک قوت اور جذبے کا نام ہے جو بڑی سے بڑی قوت سے بھی ٹکرا سکتا ہے۔ ایران نے واضح اعلان کیا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت سے ایرانیوں کے دل جل اٹھے ہیں، وہ امریکا کا بھی دل جلائیں گے اور ایران اپنے شہیدوں کے خون کا بدلہ لیے بغیر نہیں رہے گا۔

اس اعلان کے ساتھ ہی ایران مشرق وسطیٰ میں قائم 27 امریکی اڈوں پر حملے کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ خامنہ ای کی شہادت کا بدلہ لینا ایرانی قوم پر قرض اور وہ جلد ہی یہ قرض اتار دے گی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی واضح ترین دھمکی کے باوجود مجتبیٰ خامنہ ای کو جو کہ شہید رہبر کے بیٹے ہیں، سپریم لیڈر چن لیا گیا اور اب ایران کو نہ صرف قیادت میسر آگئی ہے بلکہ وہ زیادہ قوت وشدت سے اسرائیل پر حملہ آور ہورہا ہے،یہ سارے انتظامات ایرانی قوم کے جذبہ انتقام کی نشان دہی کر رہے ہیں۔

اور اب آپ کو راقم الحروف کے اس خدشے کا ثبوت مل گیا ہوگا کہ آخر ٹرمپ صاحب ہمارے وزیر اعظم اور ہمارے کمانڈر آف فورسز کے اتنے مداح کیوں ہیں۔ وہ کبھی ان کی صفات اعلیٰ کی تعریفات کے پُل باندھتے ہیں کبھی انھیں گلے لگاتے ہیں اور کبھی ان کی تعریف اس تعلق سے کرتے ہیں جو ایک عالمی سربراہ کے عہدے کے لیے نامناسب معلوم ہوتی ہے۔

دراصل پاکستان واحد مسلم ملک ہے جو ایٹمی طاقت ہے۔ پھر وہ ہندوستان سے پچھلی جھڑپ میں جس طرح نبرد آزما ہوا وہ فوجی اعتبار سے بحرالقول کا زمانہ تھا۔ یہ فتح جنگی تاریخ کا ایک ناقابل فراموش باب بن گئی ہے۔ امریکا اس طاقت کو اپنے دام ہم رنگ میں سنبھالے گا اور وہ غزہ امن بورڈ میں رہتے ہوئے امریکا کے خلاف موثر آواز بلند نہیں کر سکے گا۔ بس یہی بندوبست امریکا کو راس آیا۔ اب پاکستان امریکی حملے کی مخالفت تو کر رہا ہے مگر اس کی آواز میں وہ گھن گرج سنائی نہیں دیتی جس کی اس سے توقع تھی اور بس یہی امریکا کو درکار تھا جو اس نے حاصل کر لیا۔ جہاں تک ایران کا تعلق ہے تو اس نے اسرائیل پر حملہ کرکے بدلے اور انتقام کا ایک مرحلہ تو طے کر لیا مگر خاموش بیٹھنا ایرانی مزاج کے خلاف ہوگا۔





Source link

Continue Reading

Today News

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کے خلیجی ممالک پر حملوں کے خلاف قرارداد منظور

Published

on



نیویارک:

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران کی جانب سے خلیجی ممالک پر کیے گئے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایک قرارداد بھاری اکثریت سے منظور کرلی۔

قرارداد کے حق میں 13 ارکان نے ووٹ دیا جبکہ چین اور روس ووٹنگ کے دوران غیر حاضر رہے۔

سلامتی کونسل کے اجلاس میں خلیجی ممالک کی جانب سے پیش کیے گئے مسودے پر ووٹنگ ہوئی جس میں ایران کے پڑوسی ممالک پر حملوں کو خطے کے امن کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔

پاکستان نے بھی اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا اور اسے مشترکہ طور پر پیش کرنے والے ممالک میں شامل تھا۔

بحرین کے مندوب نے اجلاس کو بتایا کہ ایران کے حملوں کی مذمت کے لیے پیش کی جانے والی قرارداد کو 135 ممالک کی حمایت حاصل تھی جو اقوام متحدہ کی تاریخ میں ایک غیر معمولی تعداد ہے۔

اس سے قبل ایبولا کے معاملے پر پیش کی گئی قرارداد کو 134 ممالک کی سرپرستی حاصل ہوئی تھی۔

سلامتی کونسل کے اجلاس سے پاکستانی مندوب کا خطاب

اجلاس میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے جہاں ایران پر ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں کی بھی مذمت کی ہے وہیں خطے میں کشیدگی بڑھانے والے اقدامات پر تشویش کا اظہار بھی کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات پر ایرانی حملوں میں دو پاکستانی شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی عالمی امن و استحکام کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔ پاکستان ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کرتا ہے تاہم مسائل کا حل طاقت کے بجائے مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔

پاکستانی مندوب نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خلیجی ممالک میں لاکھوں پاکستانی مقیم ہیں اور بڑھتی ہوئی کشیدگی ان کے لیے بھی تشویش کا باعث ہے۔

متحدہ عرب امارات کے مندوب کا خطاب

متحدہ عرب امارات کے مندوب محمد ابوشہاب نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ ایران کے اقدامات کے خلاف مؤثر اور فیصلہ کن کارروائی کی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایرانی حملے نہ صرف خطے میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش ہیں بلکہ بین الاقوامی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک ان حملوں کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہے ہیں اور خطے کے ممالک نے اس مشکل وقت میں اتحاد اور تحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔

روسی مندوب کا خطاب

روس کے نمائندے نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں موجودہ صورتحال انتہائی افسوسناک ہے اور کسی بھی ملک کی شہری آبادی پر حملہ ناقابل قبول ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عرب اور خلیجی ریاستوں میں سویلین آبادی کو نشانہ بنانا قابل مذمت ہے

روسی مندوب نے مؤقف اختیار کیا کہ خطے کی صورتحال اس وقت خراب ہوئی جب امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے۔ ان کے مطابق ایران کے خلاف یہ جارحیت موجودہ بحران کی بنیادی وجہ ہے۔

انہوں نے سلامتی کونسل میں منظور ہونے والی قرارداد کو یکطرفہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں تہران پر ہونے والے حملوں کا ذکر یا مذمت شامل نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کا مؤقف ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا حق استعمال کر رہا ہے اور اس نے بارہا کہا ہے کہ اس کے حملوں کا ہدف امریکی اڈے ہیں۔

روسی نمائندے نے مزید کہا کہ سینٹ کام کے مطابق ایران پر حملوں کے لیے خلیجی ممالک میں موجود امریکی اڈے استعمال کیے گئے جن میں بحرین بھی شامل ہے۔

انہوں نے تمام فریقین سے کشیدگی کم کرنے اور مزید حملوں سے گریز کا مطالبہ کیا۔

امریکی مندوب کا خطاب

اجلاس میں امریکی مندوب نے ایران پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی حملوں کو روکنے کے لیے عالمی برادری کے تعاون کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران مسلسل شہری علاقوں کو نشانہ بنا رہا ہے اور دنیا کے 135 ممالک اس کے اقدامات کے خلاف کھڑے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران اور اس کے اتحادی سلامتی کونسل میں حقائق کو مسخ کر رہے ہیں۔

امریکی مندوب کے مطابق دبئی میں ایک ہوٹل، بحرین کی بڑی آئل ریفائنری اور دبئی ایئرپورٹ جیسے سویلین مقامات کو بھی نشانہ بنایا گیا جو کسی صورت فوجی اڈے نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور کویت سمیت کئی ممالک میں شہری تنصیبات کو نشانہ بنا رہا ہے جبکہ کارگو بحری جہازوں پر بھی حملے کیے جا رہے ہیں جو خوراک کی ترسیل میں مصروف تھے۔

امریکی مندوب نے مزید کہا کہ ایران کا نیوکلیئر پروگرام عالمی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے اور عالمی برادری کو اس معاملے پر سنجیدہ فیصلہ کرنا ہوگا۔

چین کے مندوب کا خطاب

چین کے نمائندے نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں سویلین انفراسٹرکچر پر حملے فوری طور پر بند کیے جانے چاہئیں۔

انہوں نے زور دیا کہ یہ جنگ شروع ہی نہیں ہونی چاہیے تھی اور تمام فوجی کارروائیاں فوری طور پر روک دی جائیں۔

چینی مندوب نے کہا کہ تنازعات کا واحد حل مذاکرات اور سفارتکاری ہے اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے بات چیت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

برطانیہ کے مندوب کا خطاب

برطانیہ کے نمائندے نے کہا کہ ان کا ملک نہیں چاہتا کہ خطے میں کشیدگی مزید بڑھے۔ انہوں نے ایران کی جانب سے خلیجی ممالک، خصوصاً بحرین پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے شہریوں کی حفاظت یقینی بنانے پر زور دیا۔

بحرین کے مندوب کا خطاب

بحرین کے مندوب نے اجلاس میں بتایا کہ ایران کے خلاف پیش کی گئی قرارداد کو دنیا کے 135 ممالک کی حمایت حاصل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بحرین کی سرزمین ایران پر حملوں کے لیے استعمال نہیں ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے ملک میں سائرن بج رہے ہیں اور سویلین تنصیبات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو خطے میں امن کے لیے خطرناک صورتحال پیدا کر رہا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

جب آبنائے ہرمز نے پٹرول آدھا کر دیا(حصہ اول)

Published

on


آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں کی قطار ایسے دکھائی دیتی ہے جیسے دنیا کی معیشت کی نبض انھی کے سینوں میں دھڑک رہی ہو۔ ان جہازوں میں لدا ہوا تیل آج عالمی سیاست، جنگ، معیشت اور عوامی زندگی کا سب سے بڑا کردار بن چکا ہے۔ ہرمز نامی سمندر سے اٹھنے والی ایک خبر نے اسلام آباد کے ایوانوں میں ہلچل مچا دی اور یہ ایک حقیقت تھی کہ جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا تھا جوکہ 119 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی تھی۔ تازہ اطلاعات کے مطابق جی سیون ملکوں نے ہنگامی ذخائر کے استعمال کا اشارہ دیا اور قیمت میں کمی ہوئی۔

یہ وہی آبنائے ہرمز ہے جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فی صد تیل کے ٹینکرز گزرتے ہیں۔ پاکستان جیسے ملک کے لیے یہ خبر کسی زلزلے سے کم نہیں۔ اس کے فوری اثرات یہ مرتب ہوئے کہ وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے ایران، مشرق وسطیٰ اور خلیج سمیت پورے خطے میں جنگی صورت حال کے پیش نظر معیشت کے استحکام کے لیے کفایت شعاری، سادگی اور توانائی کی بچت کے لیے 14 نکاتی فیصلوں کا اعلان کیا ہے جن میں دو ماہ کے لیے فوری طور پر سرکاری گاڑیوں کے پٹرول کی مد میں 50 فی صد کٹوتی، سرکاری گاڑیوں کے استعمال میں 60 فی صد کمی، 4 دن کام، تعلیمی ادارے 16 تا 31 مارچ بند اور دیگر کئی کفایت شعاری کے اہم فیصلے کیے گئے۔

آبنائے ہرمز کے تنگ سمندری راستے میں ذرا سی بھی رکاوٹ پیدا ہو جائے تو دنیا کی معیشت میں ہلچل مچ جاتی ہے۔ پاکستان جیسے ملک کے لیے یہ خبر کسی زلزلے سے کم نہیں ہوتی۔ کیونکہ پاکستان اپنی ضرورت کا 85 فی صد تیل درآمد کرتا ہے۔ مالی سال 2025-26 کے پہلے 7 ماہ کے دستیاب ڈیٹا کے مطابق پٹرولیم گروپ کی کل درآمدات 9 ارب 4 کروڑ ڈالرز کی رہیں۔ جب کہ ایل این جی کی درآمدات میں 26.20 اور ایل پی جی میں 4.98 فی صد کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔

سال 2024-25 کے مالی سال کے تجارتی اعداد و شمار کے مطابق پاکستان نے تیل اور پٹرولیم مصنوعات کی درآمد پر تقریباً 17 سے 18 ارب ڈالر خرچ کیے اور یہی درآمدی بل پاکستان کے تجارتی خسارے کو بڑھانے کا سب سے بڑا سبب ہے۔ جب عالمی منڈی میں خام تیل 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 100 ڈالر فی بیرل ہو جائے تو اسلام آباد کی وزارت خزانہ میں فائلوں کے انبار لگ جاتے ہوں گے کیونکہ 10 ڈالر اضافے سے پاکستان کا سالانہ درآمدی بل تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالر بڑھ جاتا ہے اور ایک ایک ارب ڈالر کی خاطر ہم آئی ایم ایف کے سامنے کس طرح گڑگڑاتے ہیں ،حکام بخوبی جانتے ہیں۔ ایسے حالات میں حکومت نے نہایت ہی اہم فیصلہ کیا کہ سرکاری پٹرول آدھا کر دیا، اس 50 فی صد سرکاری پٹرول کی کٹوتی سے معیشت پر اچھا اثر پڑے گا۔

بعض ذرائع کے مطابق حکومت کے پاس سرکاری استعمال کے لیے ایک لاکھ سے زائد گاڑیاں موجود ہیں۔ ان گاڑیوں پر سالانہ اربوں روپے کا پٹرول خرچ ہوتا ہے۔ اب نصف سے زائد گاڑیاں خاموشی سے سرکاری اداروں کے احاطے میں کھڑی رہیں گی، لیکن ایک قباحت در آسکتی ہے۔ غیر استعمال شدہ گاڑیوں کو کچھ افراد اپنے استعمال کے لیے بھی لے کر جا سکتے ہیں۔ اس سے قبل بے شمار مثالیں ایسی ہیں کہ سرکاری گاڑیاں نجی استعمال میں نظر آتی رہی ہیں۔ اب اس میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ حکومت کا کفایت شعاری کا مقصد فوت ہو جائے گا۔ پٹرول کی کھپت میں کفایت شعاری کی جا رہی ہے جب نجی استعمال میں اضافہ ہوگا تو ساتھ ہی ملک میں پٹرول کی کھپت میں بھی اضافہ ہوگا۔ پاکستان کے تجارتی خسارے میں سب سے اہم کردار تیل کی درآمد کا ہے کیونکہ صرف پٹرولیم مصنوعات ہی پاکستان کے درآمدی بل کا 30 فیصد سے زیادہ حصہ بن جاتی ہیں۔

کراچی کی بندرگاہ پر جب بھی کوئی تیل بردار جہاز لنگرانداز ہوتا ہے تو اس کے ساتھ صرف ایندھن نہیں آتا بلکہ ایک کمزور معیشت کی امیدیں اور خدشات بھی اس کے ساتھ بندھے چلے آتے ہیں۔ پاکستان جیسے ملک کے لیے تیل محض توانائی کا ذریعہ نہیں بلکہ وفاقی بجٹ تجارتی خسارے درآمدات کی بڑھتی ہوئی ہولناکیوں کو کم یا زیادہ کرنے کا اہم ذریعہ اور غریب عوام کی زندگی پر اثر کرنے والی مہنگائی کو کم یا زیادہ کرنے کا ایک بنیادی عنصر ہے۔

جب تیل کی قیمت 60 سے 70 ڈالر فی بیرل تھی تو پاکستان اپنی ضرورت پر تیل کی درآمد کے لیے تقریباً 18 ارب ڈالر خرچ کرتا رہا ہے اور جب قیمت میں مسلسل اضافہ ہوگا تو معیشت پر شدید بوجھ پڑے گا۔ لہٰذا حکومت کا فیصلہ دو ماہ سے بھی زیادہ عرصے کا ہونا چاہیے۔ بشرطیکہ دیگر عوامل کو مدنظر رکھ کر فیصلے کی سختی میں کمی یا بیشی کی جا سکتی ہے کیونکہ آبنائے ہرمز کی لہروں نے ہمیں سکھا دیا ہے کہ معیشت کی بہتری کے لیے درآمدات کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے اور فضول سرکاری پٹرول کے خرچے کو کم کرنے کے لیے پٹرول آدھا کرنا ہوگا۔

(جاری ہے)





Source link

Continue Reading

Trending