Connect with us

Today News

کاش ہم بھی غریب ہوتے

Published

on


آج کل ہمیں اپنے آپ پرسخت غصہ آرہا ہے کہ لوگ دنیا میں کیاکیا نہیں کرتے کیاکیا بن نہیں جاتے ، کہاں سے کہاں پہنچ نہیں جاتے اورایک ہم نالائق ، نکمے نکھٹو، کہ خود کو غریب یا مستحق نہ بنا سکے۔

ان لبوں نے نہ کی مسیحائی

ہم نے سوسو طرح سے مر دیکھا

آپ سوچیں گے کہ لوگ تو ’’غربت‘‘ سے ڈرتے ہیں دور بھاگتے ہیں اورتم غربت کے تمنائی ہو، اسے حاصل کرنا چاہتے ہو ،گلے لگانا چاہتے ہو، اپنے نام کا حصہ بنانا چاہتے ہو اوراس کے لیے ہروقت ترستے رہتے ہو، لو جناب عالی ۔ آپ نے غربت کا مزا چکھا ہی نہیں ۔ ہائے کم بخت تم نے پی ہی نہیں ، یہ اپنا پاکستان ہے جو آئینے کے اندر ہے یہاں سب کچھ الٹا ہوتا ہے یہاں جو ہوتا ہے وہ دکھتا نہیں اورجو دکھتا ہے وہ ہوتا نہیں مثلاً ساری دنیا میں ہوتا یوں ہے بلکہ تاریخ میں بھی ہوتا رہا ہے کہ ہرکام کی ابتدا نیچے یعنی گراس روٹ لیول سے ہوتی ہے لیکن یہاں ہر کام اوپر سے شروع ہوتا ہے ۔ دوسرے ملکوں میں لوگ امیروں کی خدمت کرتے ہیں اوریہاں سارے ’’امیر ‘‘ غریب کی خدمت میں لگے ہوتے ہیں بلکہ اتنے زیادہ لگے ہوئے ہیں کہ منابھائی ہو رہے ہیں، ایک دوسرے کو دھکے دے دے کر غریب کی خدمت میں سبقت حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں بلکہ بعد از مرگ بھی چاہتے ہیں کہ ان کا کام جاری رہے

سنا ہے باپ نے بیٹے کو یہ وصیت کی

کہ میرے بعد بھی یہ میرا کاروبار چلے

اوربیٹے اتنے سعادت مند ہوتے ہیں کہ باپ سے بھی آگے بڑھ جاتے ہیں مثلاً محترمہ بے نظیر کو لے لیجیے، خود بھی عمربھر غریبوں کی خدمت میں مصروف رہیں اوراپنے بعد بھی اپنی جائیداد سے غریبوں کی خدمت کررہی ہیں اوربے نظیر انکم سپورٹ کاصدقہ جاریہ رواں دواں ہے ۔مطلب یہ کہ سارے عیش تو غریبوں کے ہیں طرح طرح کے کارڈ ، بھکاری خانے ،عشروزکواۃ، للسائل والمحروم، رمضان دسترخوان ، لنگرخانے ، صورت حال یہ ہے کہ جہاں کوئی غریب دکھائی دیتا ہے تو لوگ سب کو چھوڑچھاڑ کرجھپٹ پڑتے ہیں اورغریب ۔

 اس حسن کاشیوہ ہے جب عشق نظر آئے

 پردے میں چلے جانا شرمائے ہوئے رہنا

 بخداآج کل تو یہ سوچ سوچ کر خود پر غصہ آجاتا ہے کہ اتنی عمر میں ہم سے یہ بھی نہیں ہوپایا کہ خود کو غربت کے اعلیٰ منصب پر فائز کرتے یاکراتے ، کیسے کیسے لوگ آئے اوراچھے خاصے غریب بن گئے اورہم ؟

 کارواں گزراکیا ہم رہگزر دیکھاکیے

 ہرقدم پر نقش پائے راہبر دیکھاکیے

راہبر پر یادآیا ، ایک مرتبہ ہم نے ایک راہبر سے بھی رجوع کیا کہ وہ کوئی ایسا اپائے بتائے جس سے ہم اپنی منزل غربت پرپہنچ جائیں۔ اس نے جو اپائے بتایا ہم اس کے مطابق اپنے حلقے کے ایم پی اے کے پاس پہنچ گئے اورسند غربت ایشو کرنے کی درخواست کی ، ظاہرہے کہ اسے یہ تاثر دیناتھا کہ ہم تمہارے ووٹر تھے ووٹر ہیں اور ووٹر رہیں گے اس لیے تھوڑا ساجھوٹ بولنا پڑا وہ مہربان ہوئے اورٹیلی فون کھینچ کر ہمیں سند غربت عطاکرنے والے تھے کہ اس کاچمچہ خاص آکر اس کے کان میں کچھ پھونکنے لگا ، اس نے سنا تو پرایاسا منہ لے کر بولے ، ووٹ تو تم نے فلاں کو ڈالا ہے جاؤ اس کے پاس ، ہم سے کیالینے آگئے، چشم زدن میں اس کاچہرہ اتنا پرایا سا ہوگیا کہ ہم اپناسامنہ لے کر نکل آئے

ہرقدم پر ادھر مڑ کے دیکھا

اس کی محفل سے ہم اٹھ تو آئے

 حالانکہ ہم نے معافی بھی مانگی کہ اس مرتبہ غلطی سے ووٹ کسی اورکو دیا ہے آیندہ ہمارا تو کیا ہماری آنے والی سات پشتوں کے ووٹ بھی آپ کے ۔ لیکن وہ ہمیں سند غربت عطا کرنے پر راضی نہیں ہوئے ۔ یہ نہ تھی ہماری قسمت

برسماع راست ہرکسی چیرنیست

طعمہ ہرمرغکے انجیر نیست

 اورآج کل تو یہ احساس بہت شدت سے ہورہا ہے کیوں کہ مرکزی اورصوبائی حکومتوں میں غریبوں کو ’’نوازنے‘‘ کی باقاعدہ ریس لگی ہوئی ہے، لنگر خانے ہی لنگر خانے چل رہے ہیں اورغریب بس جی بھر کر چررہے ہیں ، کم ازکم اخباروں اوربیانوں میں تو یہی آرہا ہے ،اگر کچھ کمی تھی تو وہ سرکاری دسترخوان نے پوری کردی جب سے ہم نیسرکاری دسترخوان کا نام سنا ہے روپڑنے کو جی چاہ رہا ہے ۔ پہلے سے دسترخوان کیا کم تھے کہ اوپر سے یہ نیا دسترخوان بھی بچھ گیا ، کبھی ہم اپنی افطاری کرتے ہوئے رمضان دسترخوان کاتصورکرتے ہیں تو آنسو بھر آتے ہیں ، ہائے وہ کیا کیا نہ ہڑپ رہے ہوں گے

 لوگ لے آتے ہیں کعبے سے ہزاروں تحفے

 ہم سے اک بت بھی نہ لایا گیا بت خانے سے

 جی چاہتا ہے کہ باہرنکل پڑیں اورجہاں بھی کوئی سرکاری غریب نظر آئے اسے گولی ماریں۔

اوپر سے بیانات ، اب یہ تو یاد نہیں کہ کس کا بیان تھا کیوں کہ آج کل وزیر مشیر تو کیاسرکاری افسربھی بیان پر اتر آئے ہیں، چیف سیکریٹری بلکہ سیکریٹریوں کے سیکریٹری بھی روزانہ باتصویر بیان دینے لگے ہیں۔ اس لیے اب یاد نہیں کہ وہ بیان کس کاتھا جس میں کہا گیا تھا کہ حکومت نے عزم کررکھا ہے کہ کوئی غریب بھوکا نہیں سوئے گا اوریہ بالکل سچ ہے ۔ ہمارا اپنا تجربہ ہے کئی بار ہم نے بھوکا سونے کی کوشش کی ہے لیکن مجال ہے کہ سوئے ہوں، نیند کو منتیںسماجتیں کرکے بلاتے رہے لیکن وہ دور ہی دور رہی شاید ڈرتی تھی کہ بھوکا ہے کہیں مجھے ہی نہ ہڑپ کرلے ۔

ایک منظر یاد آیا ، بمبئی یا ممبائی میں سمندر کے اندر ایک مزارہے حاجی علی بابا، سمندر کے اندر ہی کوئی ایک کلومیٹر کا راستہ ہے جس کے کنارے دنیا جہاں کے بھکاری بڑے بڑے پتھروں پر رہائش پذیر ہوتے ہیں ، مزار کے پاس پکی پکائی دیگیں ملتی ہیں ، مالدار لوگ آتے ہیں دیگ خریدتے ہیں لیکن خود تو مصروف لوگ ہوتے ہیں، ان دیگوں والوں سے کہہ دیتے ہیں کہ ان بھکاریوں میں تقسیم کر دینا۔ ایساکوئی ایک تو نہیں ہوتا ، خیرات کرنے والوں کاتانتا بندھا رہتا ہے ، دیگیں خریدی جاتی ہیں بانٹی جاتی ہیں چنانچہ وہ کنارے کے پتھر نشین بھکاری دن بھر چاولوں میں اتناکھیلتے ہیں کہ پتھروں کے گرد بھی چاولوں کے ڈھیر لگے رہتے ہیں، کوئی آخر کتناکھائے گا۔ یقیناً اپنے ہاں بھی آج کل غریبوں کی یہی صورت حال ہے ۔ ویسے ہمیں بعد میں پتہ چلا کہ کنارے کے وہ ’’پتھر‘‘ ہزاروں روپے میں بیچے اورخریدے جاتے ہیں ۔ جن پر ڈیرے لگتے ہیں ۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

گوگل نے پاکستان میں نیا اے آئی پروفیشنل سرٹیفکیٹ پروگرام متعارف کرادیا

Published

on


گوگل نے پاکستان کے لیے گوگل اے آئی پروفیشنل سرٹیفکیٹ (Google AI Professional Certificate) کے آغاز کا اعلان کیا ہے،جو انڈسٹری سے منظور شدہ ایک نیاسرٹیفکیٹ پروگرام ہے ۔ اس پروگرام  کا مقصد مصنوعی ذہانت(AI)کی مہارتوں میں تیزی سے بڑھتے ہوئے خلا کو کم کرنا ہے۔ بنیادی نظریات سے آگے، یہ پروگرام روانی کے ساتھ اے آئی کے استعمال AI fluency پر توجہ دیتا ہے اور کارکنوں کو عملی مہارتیں فراہم کرتا ہے تاکہ وہ اپنی روزمرہ  کی پیشہ ورانہ سرگرمیوں میں مصنوعی ذہانت کو مؤثر طریقے سے استعمال کر سکیں۔

جس طرح مصنوعی ذہانت عالمی معیشت کی  بنیادوں کوتبدیل کر رہی ہے،اُسی طرح اسے سمجھنے اور استعمال کرنے والے ماہر افراد کی طلب بھی بہت زیادہ اضافہ ہو گیا ہے  اور اس طرح  طلب و رسد کے حوالے سے اس شعبے  میں ایک نمایاں ’تربیتی شگاف (training gap)‘ پیدا ہو گیا ہے۔

Ipsos اور گوگل کی نئی تحقیق کے مطابق 70 فی صد منیجرز کا خیال ہے کہ کامیابی کے لیے مصنوعی ذہانت کی تربیت رکھنے والی افرادی قوت کی اشد ضرورت ہے جبکہ صرف14فیصد کارکنوں کو حقیقی معنوں میں اے آئی کی تربیت کی پیشکش کی گئی ہے۔گوگل کا یہ اے آئی پروفیشنل سرٹیفکیٹ اسی فرق کو کم کرنے کے لیے متعارف کرایا گیا ہے۔

عمل کے ذریعے اے آئی میں مہارت

یہ پروگرام ’مشق کے ذریعے سیکھنا(Learn by Doing)‘ کے تصور پر مبنی ہے  اور اس  میں 20 سے زیادہ عملی سرگرمیاں شامل ہیں۔اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ سیکھنے والوں کے پاس بہترین ٹولز موجود ہوں، پروگرام میں داخلہ لینے  کو Google AI Pro تک تین ماہ کے لیے مفت رسائی بھی فراہم کی جاتی ہے۔اس کے ذریعے پروگرام کے شرکا گوگل کے جدید ترین اے آئی ماڈلز کے ساتھ براہِ راست مشق کر سکتے ہیں اور انہیں اُن ٹولز میں استعمال کر سکتے ہیں جنہیں وہ پہلے ہی استعمال کرتے  رہے ہیں، جیساکہGmail،  Google Docs   اورGoogle Sheets میں موجود Gemini۔

جدید کام کی جگہ کے لیے تیار کردہ نصاب

یہ سرٹیفکیٹ چھ جامع کورسز اور ایک حتمی اختتامی پروجیکٹ (capstone) پر مشتمل ہے، جو گوگل کے ماہرین اور اے آئی کے پیشہ ور ماہرین کی جانب سے فراہم کیے جاتے ہیں۔

کورس 1:  مصنوعی ذہانت کی مبادیات (AI Fundamentals) اے آئی کے بارے میں بنیادی تصورات کو سمجھیں اور مؤثر پرومپٹنگ میں مہارت حاصل کریں۔

کورس 2:  پُرجوش ذہنی کاوش و منصوبہ بندی کے لیے اے آئی(AI for Brainstorming and Planning) تفصیلی ٹائم لائنز اور پروجیکٹ پلانز تیار کرنا سیکھیں۔

کورس 3:  مصنوعی ذہانت برائے تحقیق وبصیرت(AI for Research and Insights)  آئیڈیاز کی جانچ کے لیے گہری تحقیق (Deep Research) کریں اور اس مقصد کے لیےNotebookLM استعمال کریں۔

کورس 4:  مصنوعی ذہانت برائے تحریر و مواصلات(AI for Writing & Communicating)  اسٹیک ہولڈرز کے لیے پیغامات اور پریزنٹیشنز تیار کریں۔

کورس 5:  مصنوعی ذہانت برائے کنٹنٹ کی تخلیق(AI for Content Creation)اعلیٰ معیار کے بصری کنٹنٹ، ویڈیوز، اور پریزنٹیشنز تخلیق کریں۔

کورس 6: مصنوعی ذہانت برائے  ڈیٹا کا تجزیہ (AI for Data Analysis)گوگل شیٹس میں جیمنائی (Gemini)  کا استعمال کرتے ہوئے بصری اظہار کے لیے خاکے  اور پیچیدہ فارمولے تیار کریں۔

حتمی اختتامی پروجیکٹ (Capstone):ایپ کی تیاری میں مصنوعی ذہانت کا استعمال(AI for App Building) ’وائب کوڈنگ (vibe coding)‘ میں مہارت حاصل کریں اور بغیر کسی کوڈ کے کسٹم، عملی ایپس تیار کریں۔

لچکدار اور آجر ین سے تسلیم شدد تعلیم

یہ پروگرام مصروف پیشہ ور افراد کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے اور جسے سیکھنے والا اپنی رفتار سے 10 گھنٹوں سے کم  وقت میں مکمل کر سکتا ہے۔ہر سات ماڈیولز کے ساتھ شیئر کرنے کے قابل ایک ڈیجیٹل سرٹیفکیٹ بھی دیا جاتا ہے، جس سے سیکھنے والے LinkedIn پر اپنی پیشرفت دکھا سکتے ہیں۔

یہ نصاب حقیقی دنیا میں دستیاب جاب ڈیٹا کی بنیاد پر تیار کیا گیا اور معروف آجرین کی جانب سے تصدیق شدہ ہے، تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ جو مہارتیں سکھائی جاتی ہیں (جیسا کہ کنٹنٹ کی تخلیق، ڈیٹا کا تجزیہ اور ورک فلو آٹومیشن) جو آج کی مارکیٹ کی درست ضرورتیں پوری کرتی ہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

اسپین کا شدید احتجاج؛ اسرائیل سے اپنا سفیر واپس بلا لیا

Published

on


اسپین نے ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں اور غزہ میں جارحیت کے خلاف احتجاجاً اسرائیل سے اپنا سفیر واپس بلانے کا اعلان کر دیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ہسپانوی حکومت نے وزیر خارجہ کی سفارش اور کابینہ اجلاس میں مشترکہ فیصلے کے نتیجے میں اسرائیل میں تعینات سفیر آنا ماریا سالومون پیریز کی تقرری ختم کرنے کا حکم جاری کر دیا۔

اس فیصلے کے بعد اسرائیل میں اسپین کے سفارت خانے کی سربراہی عارضی طور پر ناظم الامور کریں گے۔

اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے حالیہ دنوں میں ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی ایران پر فوجی کارروائیوں کو بلا جواز قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا ملک اس جنگ کی حمایت نہیں کرتا۔

خیال رہے کہ اسپین یورپی ممالک میں ان چند حکومتوں میں سے ہے جنھوں نے غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر مسلسل تنقید کی ہے۔

گزشتہ برس اکتوبر میں اسپین کی پارلیمنٹ نے اسرائیل کو ہتھیاروں، فوجی سازوسامان اور دہرے استعمال کی ٹیکنالوجی کی فروخت پر مستقل پابندی عائد کر دی تھی کیوں کہ اس کا استعمال غزہ میں کیا جانا تھا۔

 

 





Source link

Continue Reading

Today News

پیٹرول کے بعد ایل پی جی کے چار جہاز پاکستان پہنچ گئے

Published

on



حکومتی اقدامات کی وجہ سے پیٹرول کے بعد ایل پی جی کے بھی چار جہاز پاکستان پہنچ گئے جس کے بعد ملک میں توانائی کا ذخیرہ تقریباً ایک ماہ کا ہوگیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ایل پی جی انڈسٹری ایسوسی ایشن چئیرمین عرفان کھوکھر نے بتایا کہ ملک میں ایل پی جی کی کوئی قلت نہیں ہے لہذا حکومت مہنگی ایل پی جی فراہم کرنے والی کمپنیوں کے خلاف کریک ڈاون کرے۔

انہوں نے کہا کہ سوئی گیس کے 4 ایل پی جی لے کر جہاز پہنچ گئے ہیں، مزید 4 درآمدی ایل پی جی کے جہاز پائپ لائن میں ہیں۔

عرفان کھوکھر نے کہا کہ حکومتی بروقت اقدامات کی وجہ سے ایل پی جی کی کوئی قلت نہیں ہوئی ہے، حکومت سے اپیل ہے کہ مہنگی ایل پی جی بیچنے والی کمپنیوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ماہ رمضان میں عوام کو مہنگی ایل پی جی فروخت کرنے والی ظلم نہ کریں۔



Source link

Continue Reading

Trending