Today News
ریاستی ڈھانچے کی تنظیمِ نو کی اشد ضرورت
اس ملک کی تاریخ میں تین وزرائے اعظم ایسے اقتدار میں آئے جو حقیقی طور پر سادگی کا نمونہ تھے۔ ان میں سے ایک پیپلز پارٹی کے رہنما ملک معراج خالد تھے جب کہ دوسرے پیر پگارا کے نامزد کردہ محمد خان جونیجو تھے اور تیسرے عبوری وزیر اعظم ڈاکٹر معین قریشی تھے۔ جب سابق صدر فاروق لغاری نے اپنی پیپلز پارٹی کی تیسری حکومت کو برطرف کیا تو پیپلز پارٹی کے منحرف رہنما ملک معراج خالد کو عبوری وزیر اعظم بنایا گیا۔ ملک معراج خالد نے وزیر اعظم ہاؤس سے کچھ نہ لیا ۔اپنا پروٹوکول محدود کردیا، نہ اپنے کسی چہیتے کارکن کو پلاٹ الاٹ کیا۔ملک معراج خالد کیونکہ عبوری وزیر اعظم تھے اس بناء پر وہ نظامِ حکومت کو سادہ کرنے کے لیے کچھ نہ کرسکے۔
جب مسلم لیگ کے صدر اور پہلی دفعہ وزیر اعظم کے منصب پر فائز ہونے والے میاں نواز شریف اور اس وقت کے بیوروکریٹ صدر غلام اسحاق خان کے درمیان جھگڑا بڑھ گیا اور غلام اسحاق خان نے نواز شریف کی حکومت کو برطرف کردیا مگر سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ نے میاں نواز شریف کی حکومت کو بحال کردیا تھا مگر میاں نواز شریف دوبارہ وزیر اعظم بنے تو پھر ان کا غلام اسحاق خان سے جھگڑا اس حد تک بڑھا کہ اس وقت نواز شریف اورغلام اسحاق خان دونوں کو اقتدار چھوڑنا پڑا اور سنگاپور میں مقیم ڈاکٹر معین قریشی کوعبوری وزیر اعظم کا عہدہ سونپ دیا گیا۔
ڈاکٹر معین قریشی نے پہلی دفعہ یہ شرط عائد کی کہ انتخابات میں حصہ لینے والے امیدوار کے بینکوں کے قرضوں کی ادائیگی کی دستاویز، تمام یوٹیلیٹی بلز کی ادائیگی کے علاوہ سرکاری رہائشی سہولتیں اختیار کرنے والے افراد کا ان سہولتوں کے چارجز ادا کرنا لازمی ہوگا، یوں بہت سے افراد اس شرط پر پورے نہیں اترے اور خاصی تعداد میں لوگوں نے سرکاری اخراجات ادا کیے۔ ڈاکٹر معین قریشی نے کسی فرد کو پلاٹ نہیں دیا۔ انھوں نے پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان کو آزاد ادارہ بنانے کے لیے قانونی ضروریات پوری کیں مگر محترمہ بے نظیر بھٹو کی قیادت میں اقتدار میں آنے والی پیپلز پارٹی کی حکومت نے ڈاکٹر معین قریشی کی اصلاحات کو رول بیک کردیا۔
جنرل ضیاء الحق نے ایم آر ڈی کی تحریک کے بعد ملکی اور عالمی دباؤ پر ملک میں غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات کرائے اور جنرل ضیاء الحق نے مسلم لیگ فنکشنل کے صدر پیر پگارا کے نامزد کردہ محمد خان جونیجو کو وزیر اعظم مقرر کیا۔ اگرچہ محمد خان جونیجو سیاسی طور پر ایک کمزور وزیر اعظم تھے مگر انھوں نے سب سے پہلے سیاسی جماعتوں کو بحال کیا اور تاریخ میں پہلی دفعہ سادگی اور سرکاری اخراجات میں زبردست کمی کا اعلان کیا۔ محمد خان جونیجو نے فیصلہ کیا کہ وزیر اعظم، وفاقی وزراء، وزراء اعلیٰ اور تمام سول و غیر سول سرکاری ملازمین کی بڑی گاڑیاں نیلام کردی جائیں گی اور تمام افراد چھوٹی گاڑیوں میں سفر کریں گے۔ حکومتی فیصلے کے تحت بڑی گاڑیوں کو سرکاری پول میں جمع کیا گیا، یوں ہزاروں گاڑیاں اس پول میں جمع ہوگئیں۔ جنرل ضیاء الحق نے کچھ عرصے بعد محمد خان جونیجو کی حکومت کو برطرف کردیا، نئے انتخابات ہوئے۔ پہلے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی حکومتیں بنیں۔ ہر حکومت نے کفایت شعاری کا نعرہ تو لگایا مگر عملی طور پر تمام ریاستی اداروں کے اخراجات بڑھتے چلے گئے۔
جب 2002 میں نیویارک میں ٹوئن ٹاورز کو طیاروں کے حملے میں تباہ کیا گیا، یہ کارنامہ افغانستان میں مقیم سعودی منحرف اسامہ بن لادن کے حصے میں آیا ، تو امریکا نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ کابل پر حملہ کیا، یوں War on terror شروع ہوئی۔ پاکستان اس ’مقدس‘ جنگ کا حصہ بنا۔ امریکا اور اتحادیوں نے جنرل ضیاء الحق کے دورِ اقتدار کی طرح اربوں ڈالر بطور امداد لیے جس کا فائدہ سول و غیر سول بیوروکریسی کو ہوا، اور ان کا سائز بڑھتا چلا گیا۔
آئین میں کی گئی 18ویں ترمیم کے بعد قومی مالیاتی ایوارڈ کا فارمولہ تبدیل ہوا۔ صوبوں کی آمدنی میں کئی سو گنا اضافہ ہوا۔ اس اضافی رقم کا کچھ حصہ تو ترقیاتی کاموں پر صرف ہوا جب کہ باقی حصہ کہاںخرچ ہوا تمام صوبوںکے ترجمان اس سوال کا مختلف جواب دیتے ہیں۔ پاکستان کی معیشت ہمیشہ آئی سی یو میں رہی ہے۔ عالمی مالیاتی اداروں اور دوست ممالک کی امداد سے ملک کی معیشت کا پہیہ چلتا ہے۔
جب بھی کوئی عالمی تنازع ہوتا ہے تو سب سے پہلے پاکستان پر اس کے اثرات پڑتے ہیں۔ امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا۔ ایران نے زبردست مزاحمت کی۔ اس تنازع میں آبنائے ہرمز میں جہازرانی مشکل ہوئی۔ خلیجی ممالک میں تیل کی پیداوار رک گئی۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھنے لگیں۔ پاکستان نے پیٹرول کی قیمت بڑھا کر 322 روپے فی لیٹر کردی جب کہ ڈیزل کی قیمت 335.86 روپے فی لیٹر اور مٹی کے تیل کی قیمت 318.81 کردی گئی۔
البتہ بھارت کی حکومت نے پیٹرولیم کی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا۔ وہاں مختلف شہروں میں پیٹرول 103.94 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 90.74 روپے فی لیٹر دستیاب ہے۔ اسی طرح بنگلہ دیش میں ڈیزل فی لیٹر 100 ٹکا، پیٹرول فی لیٹر 116 ٹکا اور کروسین آئل فی لیٹر 112 ٹکا پر دستیاب ہے۔ بھارت اور بنگلہ دیش کی کرنسی کی ویلیو پاکستان کی کرنسی سے زیادہ ہے۔ بنگلہ دیش نے پیٹرول کی راشننگ کا فیصلہ کیا۔ صدر ٹرمپ ہر ہفتے پاکستانی قیادت کے گن گاتے ہیں مگر امریکا نے بھارت کو روس سے تیل خریدنے کی خصوصی اجازت دیدی۔ بنگلہ دیش کے نئے وزیر اعظم طارق رحمن نے اپنا عہدہ سنبھالتے ہی فیصلہ کیا کہ وہ اپنی ذاتی کار میں سفر کریں گے اور اپنا پروٹوکول مختصر کردیا۔ حکومت پر یہ تنقید ہوئی کہ جب حکومت کے پاس 28 دن کا پیٹرول موجود تھا تو ابھی سے اس اضافے کی کیا ضرورت تھی؟ تو اس کا کوئی خاطرخواہ جواب نہیں آیا۔ مگر یہ اعداد و شمار وائرل ہوئے کہ اچانک پیٹرول کی قیمت میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ سے پیٹرول پمپ مالکان، ڈیلرز اور تیل فراہم کرنے والی کمپنیوں کو کروڑوں روپے مل گئے۔
اس کے ساتھ سازشی تھیوریاں بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے لگیں۔ ان سازشی تھیوریز کی اگرچہ کوئی حقیقت نہیں مگر غریب آدمی جس پر پیٹرول کا بم گرا ہے اپنے ناگفتہ بہ حالات کی بناء پر اس سازشی تھوریز پر یقین کرنے پر مجبور ہوئے، یوں عام آدمی اور حکومت میں فاصلے بڑھ گئے۔ عجیب حیرت کی بات ہے کہ جب وزیر خزانہ نے پیٹرولیم کی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کیا تو حکومت نے سرکاری اخراجات میں کمی کے لیے باقاعدہ طور پر کوئی اعلان نہیں کیا۔ خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ نے جب یہ اعلان کیا کہ ہر رجسٹرڈ موٹرسائیکل سوار کو 2 ہزار 200 روپے دیے جائیں گے تو وفاق ، پنجاب اور سندھ کی حکومتوں نے مختلف اعلانات کیے۔پیٹرول ملک میں بہت کم پیدا ہوتا ہے اور پیٹرول کی بیشتر مقدار درآمد ہوتی ہے۔ پاکستان سعودی عرب، خلیجی ممالک کے علاوہ ایران سے بھی تیل خریدتا تھا۔ پھر پیٹرولیم کے وزیر ڈاکٹر مصدق ملک کی کوششوں سے روس سے بھی تیل منگوایا گیا۔ امریکا نے روس سے تیل منگوانے پر سخت اعتراض کیا۔ پاکستان کو پہلی دفعہ امریکا سے تیل خریدنا پڑا جس کی بناء پر ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات بڑھ گئے۔
خارجہ تعلقات کے طالب علموں کا کہنا ہے کہ پاکستان نے صدر ٹرمپ کو نوبل انعام کے لیے نامزد کیا مگر پاکستان امریکا کو اس بات پر آمادہ نہ کرسکا کہ امریکا تیل رعایتی قیمتوں پر فراہم کرے۔ یہی صورتحال گلف اور سعودی عرب سے درآمد ہونے والے تیل کے بارے میں ہے۔ میڈیا کے امور پر تحقیق کرنے والے ڈاکٹر سعید عثمانی کاکہنا ہے کہ ہمارے حکمران اور وزرا مہینہ میں 20 سے 25 دن مختلف ممالک کے کامیاب دورہ پر ہوتے ہیں مگر پھر بھی پاکستان کو کہیں سے بھی ریلیف نہیں ملتا۔ وزیر اعظم نے پیٹرول کی بچت کے لیے جو اعلانات کیے ہیں وہ قابلِ ستائش ہیں مگر ان اعلانات سے عام آدمی کا مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ اس پیٹرول بم کے متوسط اور نچلے متوسط طبقے پر گہرے اثرات رونما ہونگے۔ ڈاکٹر فاروق ستار کی یہ بات درست ہے کہ اس فیصلے سے غربت بڑھے گی اور لوگ خودکشیوں پر آمادہ ہونگے۔ اس کے علاوہ ملک میں جرائم میں اضافہ ہوگا۔ مسئلہ کا حل ریاست کے پورے نظام کی ازسرِنو تنظیمِ نو میں مضمر ہے۔ حکمران طبقہ اپنی ذاتی زندگیوں میں جب سادگی کو اپنالے گا تو عوام بھی اس بارے میں سوچنے پر مجبور ہونگے۔
Today News
پاکستان نے ایران پر حملوں کی مذمت اور کشیدگی کم کرنے کا مطالبہ کر دیا
نیویارک:
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے خطاب کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور ایران پر ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں کی مذمت کی۔
سلامتی کونسل میں مشرق وسطیٰ کے بحران پر بحرین اور روس کی جانب سے پیش کی جانے والی قراردادوں کی پاکستان کی حمایت پر ان کا کہنا تھا کہ ایران پر حملوں نے نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن و استحکام کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔
پاکستان برادر ملک ایران کی سلامتی اور خودمختاری کی حمایت کرتا ہے اور کسی بھی ملک پر غیر ضروری حملے پورے خطے کو ایک بڑے تنازع کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔
پاکستانی مندوب کا کہنا تھا کہ حالیہ کشیدگی کے باعث شدید انسانی بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات پر ہونے والے حملوں میں دو پاکستانی شہری جاں بحق ہوئے جبکہ خلیجی ممالک میں مقیم کئی لاکھ پاکستانی شہری اس صورتحال سے متاثر ہو رہے ہیں۔
عاصم افتخار نے کہا کہ کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جس کے اثرات پوری دنیا پر پڑ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ فضائی آپریشنز میں خلل پڑنے سے ایوی ایشن سیکٹر بھی متاثر ہوا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ میزائل اور ڈرون حملوں سے شہری آبادی اور املاک کو نقصان پہنچ رہا ہے، جو بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہے۔
اقوام متحدہ کے چارٹر سے ہٹ کر طاقت کا استعمال غیر قانونی ہے اور تمام فریقین پر بین الاقوامی انسانی قوانین کی پاسداری کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ مسائل کا حل طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ مذاکرات اور سفارتکاری میں ہے۔ اعتماد کی بحالی کے لیے تمام فریقین کو نیک نیتی کے ساتھ اقدامات کرنا ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کسی ایک ملک کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ خطے کے دیگر ممالک کو اپنی شرائط پر چلانے کی کوشش کرے۔
فلسطینی علاقوں اور عرب خطے میں جاری کشیدگی بھی پورے خطے کو عدم استحکام کی طرف دھکیل رہی ہے۔
عاصم افتخار نے تنازع کے حل کے لیے ثالثی کی کوششیں کرنے والے ممالک کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستانی قیادت اپنے پڑوسیوں، دوست ممالک اور شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور پاکستان کشیدگی کم کرانے کے لیے اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ فریقین کو فوری طور پر کشیدگی کم کرنے، مزید حملوں سے گریز کرنے اور سفارتکاری کو موقع دینے پر آمادہ کیا جائے تاکہ خطے میں امن بحال ہو سکے۔
Today News
گوگل نے پاکستان میں نیا اے آئی پروفیشنل سرٹیفکیٹ پروگرام متعارف کرادیا
گوگل نے پاکستان کے لیے گوگل اے آئی پروفیشنل سرٹیفکیٹ (Google AI Professional Certificate) کے آغاز کا اعلان کیا ہے،جو انڈسٹری سے منظور شدہ ایک نیاسرٹیفکیٹ پروگرام ہے ۔ اس پروگرام کا مقصد مصنوعی ذہانت(AI)کی مہارتوں میں تیزی سے بڑھتے ہوئے خلا کو کم کرنا ہے۔ بنیادی نظریات سے آگے، یہ پروگرام روانی کے ساتھ اے آئی کے استعمال AI fluency پر توجہ دیتا ہے اور کارکنوں کو عملی مہارتیں فراہم کرتا ہے تاکہ وہ اپنی روزمرہ کی پیشہ ورانہ سرگرمیوں میں مصنوعی ذہانت کو مؤثر طریقے سے استعمال کر سکیں۔
جس طرح مصنوعی ذہانت عالمی معیشت کی بنیادوں کوتبدیل کر رہی ہے،اُسی طرح اسے سمجھنے اور استعمال کرنے والے ماہر افراد کی طلب بھی بہت زیادہ اضافہ ہو گیا ہے اور اس طرح طلب و رسد کے حوالے سے اس شعبے میں ایک نمایاں ’تربیتی شگاف (training gap)‘ پیدا ہو گیا ہے۔
Ipsos اور گوگل کی نئی تحقیق کے مطابق 70 فی صد منیجرز کا خیال ہے کہ کامیابی کے لیے مصنوعی ذہانت کی تربیت رکھنے والی افرادی قوت کی اشد ضرورت ہے جبکہ صرف14فیصد کارکنوں کو حقیقی معنوں میں اے آئی کی تربیت کی پیشکش کی گئی ہے۔گوگل کا یہ اے آئی پروفیشنل سرٹیفکیٹ اسی فرق کو کم کرنے کے لیے متعارف کرایا گیا ہے۔
عمل کے ذریعے اے آئی میں مہارت
یہ پروگرام ’مشق کے ذریعے سیکھنا(Learn by Doing)‘ کے تصور پر مبنی ہے اور اس میں 20 سے زیادہ عملی سرگرمیاں شامل ہیں۔اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ سیکھنے والوں کے پاس بہترین ٹولز موجود ہوں، پروگرام میں داخلہ لینے کو Google AI Pro تک تین ماہ کے لیے مفت رسائی بھی فراہم کی جاتی ہے۔اس کے ذریعے پروگرام کے شرکا گوگل کے جدید ترین اے آئی ماڈلز کے ساتھ براہِ راست مشق کر سکتے ہیں اور انہیں اُن ٹولز میں استعمال کر سکتے ہیں جنہیں وہ پہلے ہی استعمال کرتے رہے ہیں، جیساکہGmail، Google Docs اورGoogle Sheets میں موجود Gemini۔
جدید کام کی جگہ کے لیے تیار کردہ نصاب
یہ سرٹیفکیٹ چھ جامع کورسز اور ایک حتمی اختتامی پروجیکٹ (capstone) پر مشتمل ہے، جو گوگل کے ماہرین اور اے آئی کے پیشہ ور ماہرین کی جانب سے فراہم کیے جاتے ہیں۔
کورس 1: مصنوعی ذہانت کی مبادیات (AI Fundamentals) اے آئی کے بارے میں بنیادی تصورات کو سمجھیں اور مؤثر پرومپٹنگ میں مہارت حاصل کریں۔
کورس 2: پُرجوش ذہنی کاوش و منصوبہ بندی کے لیے اے آئی(AI for Brainstorming and Planning) تفصیلی ٹائم لائنز اور پروجیکٹ پلانز تیار کرنا سیکھیں۔
کورس 3: مصنوعی ذہانت برائے تحقیق وبصیرت(AI for Research and Insights) آئیڈیاز کی جانچ کے لیے گہری تحقیق (Deep Research) کریں اور اس مقصد کے لیےNotebookLM استعمال کریں۔
کورس 4: مصنوعی ذہانت برائے تحریر و مواصلات(AI for Writing & Communicating) اسٹیک ہولڈرز کے لیے پیغامات اور پریزنٹیشنز تیار کریں۔
کورس 5: مصنوعی ذہانت برائے کنٹنٹ کی تخلیق(AI for Content Creation)اعلیٰ معیار کے بصری کنٹنٹ، ویڈیوز، اور پریزنٹیشنز تخلیق کریں۔
کورس 6: مصنوعی ذہانت برائے ڈیٹا کا تجزیہ (AI for Data Analysis)گوگل شیٹس میں جیمنائی (Gemini) کا استعمال کرتے ہوئے بصری اظہار کے لیے خاکے اور پیچیدہ فارمولے تیار کریں۔
حتمی اختتامی پروجیکٹ (Capstone):ایپ کی تیاری میں مصنوعی ذہانت کا استعمال(AI for App Building) ’وائب کوڈنگ (vibe coding)‘ میں مہارت حاصل کریں اور بغیر کسی کوڈ کے کسٹم، عملی ایپس تیار کریں۔
لچکدار اور آجر ین سے تسلیم شدد تعلیم
یہ پروگرام مصروف پیشہ ور افراد کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے اور جسے سیکھنے والا اپنی رفتار سے 10 گھنٹوں سے کم وقت میں مکمل کر سکتا ہے۔ہر سات ماڈیولز کے ساتھ شیئر کرنے کے قابل ایک ڈیجیٹل سرٹیفکیٹ بھی دیا جاتا ہے، جس سے سیکھنے والے LinkedIn پر اپنی پیشرفت دکھا سکتے ہیں۔
یہ نصاب حقیقی دنیا میں دستیاب جاب ڈیٹا کی بنیاد پر تیار کیا گیا اور معروف آجرین کی جانب سے تصدیق شدہ ہے، تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ جو مہارتیں سکھائی جاتی ہیں (جیسا کہ کنٹنٹ کی تخلیق، ڈیٹا کا تجزیہ اور ورک فلو آٹومیشن) جو آج کی مارکیٹ کی درست ضرورتیں پوری کرتی ہیں۔
Today News
اسپین کا شدید احتجاج؛ اسرائیل سے اپنا سفیر واپس بلا لیا
اسپین نے ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں اور غزہ میں جارحیت کے خلاف احتجاجاً اسرائیل سے اپنا سفیر واپس بلانے کا اعلان کر دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ہسپانوی حکومت نے وزیر خارجہ کی سفارش اور کابینہ اجلاس میں مشترکہ فیصلے کے نتیجے میں اسرائیل میں تعینات سفیر آنا ماریا سالومون پیریز کی تقرری ختم کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
اس فیصلے کے بعد اسرائیل میں اسپین کے سفارت خانے کی سربراہی عارضی طور پر ناظم الامور کریں گے۔
اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے حالیہ دنوں میں ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی ایران پر فوجی کارروائیوں کو بلا جواز قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا ملک اس جنگ کی حمایت نہیں کرتا۔
خیال رہے کہ اسپین یورپی ممالک میں ان چند حکومتوں میں سے ہے جنھوں نے غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر مسلسل تنقید کی ہے۔
گزشتہ برس اکتوبر میں اسپین کی پارلیمنٹ نے اسرائیل کو ہتھیاروں، فوجی سازوسامان اور دہرے استعمال کی ٹیکنالوجی کی فروخت پر مستقل پابندی عائد کر دی تھی کیوں کہ اس کا استعمال غزہ میں کیا جانا تھا۔
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Chasing the forgotten stars
-
Business2 weeks ago
Tensions slow Pakistani investment in Dubai real estate
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: THE RAMAZAN EXCEPTION – Newspaper
-
Business2 weeks ago
Petrol, diesel prices likely to rise by Rs7 for next forthnight
-
Entertainment2 weeks ago
Sidra Niazi Shares Details Of Her Marriage
-
Entertainment1 week ago
Ali Ansari On Falling in Love With More Than One Person
-
Magazines2 weeks ago
THE ICON INTERVIEW: THE FUTURE’S ALWAYS BRIGHT FOR HIM – Newspaper
-
Business2 weeks ago
With presidential ordinance set to lapse, Senate passes bill for regulating virtual assets