Today News
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں ناقص کارکردگی کے باوجود پاکستانی ٹیم کو بڑی انعامی رقم مل گئی
آئی سی سی نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 کے اختتام پر ٹیموں اور کھلاڑیوں کے لیے مختص 11.25 ملین ڈالر کی حتمی تقسیم کی تفصیلات جاری کردیں۔
تفصیلات کے مطابق ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کی فاتح ٹیم بھارت کو سب سے زیادہ 26 لاکھ 39 ہزار 423 ڈالرز جبکہ رنر اپ نیوزی لینڈ کی ٹیم کو 14 لاکھ 22 ہزار 692 ڈالرز ملے۔
سیمی فائنلسٹ جنوبی افریقا کو 10 لاکھ 5 ہزار 577 ڈالرز اور انگلش ٹیم 9 لاکھ 74 ہزار 423 ڈالر اپنے نام کر پائی۔
سپر 8 تک محدود رہنے والی ٹیموں میں ویسٹ انڈیز کو 5 لاکھ 38 ہزار 269 ڈالرز اور پاکستان کو 5 لاکھ 22 ہزار 692 ڈالرز دیے گئے۔
زمبابوے کو 4 لاکھ 91 ہزار 538 ڈالرز اور سری لنکا کو 4 لاکھ 75 ہزار 962 ڈالرز ملے۔
مزید ٹیموں میں افغانستان، آسٹریلیا اور امریکا کو فی ٹیم 3 لاکھ 9 ہزار 808 ڈالرز ملے۔ اسکاٹ لینڈ کو 2 لاکھ 78 ہزار 654 ڈالرز اور آئرلینڈ کو 2 لاکھ 71 ہزار 731 ڈالر دیے گئے۔
اٹلی، نیدرلینڈز، متحدہ عرب امارات اور نیپال کو فی ٹیم 2 لاکھ 56 ہزار 154 ڈالر ملے۔
آئی سی سی کے مطابق کینیڈا، نمیبیا اور عمان کو بنیادی شرکت کی رقم کے طور پر 2 لاکھ 25 ہزار ڈالر دیے گئے۔
ترجمان نے واضح کیا کہ یہ تمام رقوم گروپ مرحلے، سپر ایٹ، سیمی فائنل اور فائنل تک رسائی کے بونس اور میچ جیتنے کی بنیاد پر طے کی گئی ہیں ، یہ ٹیکس یا دیگر کٹوتیوں سے پہلے کی مجموعی رقوم ہیں۔
Today News
ہوگیا رخصت وہ ماہِ عظیم ۔۔۔۔۔ !
اب رمضان المبارک ہم سے بچھڑنے کو ہے۔ رمضان کے بعد دیکھتے ہیں کہ آپ کم کھاتے، کم سوتے، کم بولتے اور کیا اپنے نفس کی چوکی داری کرتے ہیں یا پہلے کی طرح پھر ویسے ہی زندگی گزارنا شروع کر دیتے ہیں۔۔۔۔ ؟
یاد رکھیے! اﷲ تعالی نے سورہ العمران میں ارشاد فرمایا ہے کہ تم اس وقت تک نیکی کو نہیں پا سکتے جب تک کہ تم اپنی پسندیدہ ترین چیز اﷲ کی راہ میں نہ دے دو۔ کھانا، پینا، آرام اور نفس کی بے لگام آزادی سے بڑھ کر انسان کی پسندیدہ چیز اور کیا ہوگی۔۔۔ ؟
کم کھانے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ مطلوبہ ضروری غذائیت کو ہی فراموش کر بیٹھیں۔ کم کھانے کا مطلب یہ کہ آپ نفس کے اندر موجود، زیادہ سے زیادہ کھانے کی حرص اور اس حوالے سے حرام و حلال دولت اکٹھا کرنے کی ہوس کو لگام ڈالتے ہیں یا نہیں ؟
ضرورت کے مطابق مال و دولت کا تو حکم ہے مگر دراصل یہ مال و دولت کی بے لگام ہوس ہے جو اﷲ انسانی زندگی سے منہا کرنا چاہتے ہیں۔ جب ایک انسان پورا مہینہ بہت کچھ نہ کھا کر اور نہ پی کر بھی زندہ رہ سکتا ہے تو زیادہ سے زیادہ کی ہوس کیا معنی رکھتی ہے۔۔۔۔۔ ؟
کم سے کم سونے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آپ جسمانی آرام کو اپنی زندگی سے خارج ہی کر دیں بل کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنے نظام الاوقات کو کس طرح بہترین استعمال کرکے عبادت میں اہتمام کرتے ہیں اور اﷲ کی خاطر کس قدر اپنے آرام اور بے سرو پا محفلوں سے دامن بچاتے ہوئے، اﷲ کے سامنے حاضر رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
مفہوم: ’’بے شک! رات کا اٹھنا دل جمعی کے لیے انتہائی مناسب اور بات کو بالکل درست کر دینے والا ہے۔‘‘ (سورہ مزمل)
مفہوم: ’’دن کے دونوں سروں پر نماز قائم کرو اور رات کی کئی ساعتوں میں بھی۔‘‘ (سورہ ہود)
مفہوم: ’’ان کے رب نے انھیں جو کچھ عطا فرمایا اسے لے رہے ہوں گے وہ تو اس پہلے ہی نیک تھے وہ راتوں کو بہت کم سویا کرتے تھے اور صبح کے وقت استغفار کیا کرتے تھے۔‘‘ (سورہ الذاریات)
کم بولنا زیادہ غور کرنے سے عبارت ہے۔ روزے کے دوران، شدید بھوک اور پیاس ہمیں خود بہ خود خاموش کرا دیتی ہے۔ رمضان المبارک میں اعتکاف میں بیٹھنے میں کیا مطلب سموئے ہوئے ہے ؟ دراصل اس کا مطلب یہی ہے کہ آپ دنیا و مافیہا سے الگ اپنے اﷲ سے لو لگا لیتے ہیں اور اس دنیا اور اخروی دنیا سے متعلق سوالات پر غور کرتے ہیں اور اپنی زندگی کا جائزہ لیتے ہوئے اپنے نفس کی چوکی داری کا فریضہ سر انجام دیتے ہیں۔
غور کرنے کا مطلب یہ بھی ہے کہ آپ جیسے رمضان المبارک میں اپنے روزے کی حفاظت کے لیے اس بات کو ملحوظ ِ خاطر رکھتے ہیں کہ آپ سے کوئی ایسا کام نہ ہو جائے جو اﷲ کو ناپسند ہو مبادا آپ کا روزہ ضایع ہو جائے بالکل اسی طرح غیر ِ رمضان آپ اپنے نفس کی اسی طرح کی چوکی داری کرتے ہیں یا نہیں ؟
مفہوم: ’’اس عورت نے کہ جس کے گھر میں یوسف تھا، یوسف کو ورغلانا شروع کیا کہ وہ اپنے نفس کی نگرانی چھوڑ دے اور دروازہ بند کر کے کہنے لگی آجاؤ یوسف۔‘‘ (سورہ یوسف)
اسی طرح کی نفس کی نگرانی اﷲ تعالی نے آپ کو تمام رمضان میں سکھائی ہے۔ نفس کی نگرانی کی پورے مہینے عملی مشق کے بعد اب دیکھنا یہ ہے کہ آپ غیر ِ رمضان اپنی زندگی کے لمحات کیسے گذارتے ہیں۔۔۔؟
مفہوم: ’’تو جس شخص نے سرکشی کی ہوگی اور دنیاوی زندگی کو ترجیح دی ہوگی اس کا ٹھکانا جہنم ہی ہے مگر ہاں جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرتا رہا ہوگا اور اپنے نفس کو خواہش سے روکا ہو گا۔‘‘ (سورہ النازغات)
حضرت معاذ ؓ سے ابن ماجہ کی حدیث میں مروی ہے کہ آپؐ نے اپنی زبان پکڑ کر فرمایا: اس کو روک رکھو۔ میں نے عرض کیا: اے اﷲ کے نبیؐ! جو گفت گو ہم عام طور پر کرتے ہیں کیا اس پر بھی مواخذہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اے معاذ! لوگوں کو جہنم میں اوندھے منہ گرانے کا باعث صرف ان کی زبان کی کھیتیاں ( یعنی غیبت، بہتان، گالیوں بھری باتیں ) ہی تو ہوں گی۔‘‘
سورہ بنی اسرائیل میں اﷲ تعالی کے ارشاد کا مفہوم ہے کہ زنا کے قریب بھی مت جاؤ کیوں کہ وہ بڑی بے حیائی ہے اور بہت ہی بُری راہ ہے۔ تفاسیر کے مطالعے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ قریب جانے سے مراد ان افعال، حالات اور افراد سے دور رہنا ہے جو زنا کا باعث بن سکتے ہیں۔ دیکھنا یہ بھی ہے کہ رمضان المبارک نے آپ کو نفس کی جس چوکی داری کا درس دیا ہے آپ زبان اور زنا کے حوالے سے کس قدر اہتمام کے ساتھ اس کی خبر رکھتے ہیں کہ وہ لوگ کون ہیں جو آپ کو غیبت، گالی، بہتان، فحش گفت گو اور لایعنی باتوں میں الجھا کر آپ کے وقت اور مستقبل دونوں کو داؤ پر لگا دیتے ہیں۔۔۔ ؟
رمضان المبارک نے آپ کو یہ درس بھی تو دیا ہے کہ بھوک، پیاس اور مادی آسائشوں کی کمی انسانی زندگی پر کس قدر شدید اثرات مرتب کرتی ہے؟ یوں آپ کو اپنے آس پاس کے لوگوں کے ساتھ بہتر رویوں اور احسان کی روش قائم رکھنے کا امتحان شروع ہونے کو ہے۔
مفہوم: ’’یقیناً! تمہارے اموال اور نفس سے تمہاری آزمائش کی جائے گی۔‘‘ (سورہ العمران)
آپؐ کی حدیث کے مطابق تو ایمان مکمل ہی تب ہوتا ہے جب ہم اپنے مسلمان بھائی کے لیے بھی وہی پسند نہ کریں جو اپنے لیے کرتے ہیں۔
ہماری زندگی کا مقصد حقوق اﷲ اور حقوق العباد کی معیاری تکمیل ہے۔ حقوق اﷲ اور حقوق العباد واضح ہیں اور آپؐ کی صورت ان حقوق کی ادائی کا معیار بھی واضح ہے۔ ہم میں سے ہر ایک کو ان دو قسم کے حقوق کی تکمیل کے حوالے سے دنیاوی زندگی میں اپنے اختیار اور شیاطین کی موجودی میں، ایک آزمائش سے دوچار کردیا گیا ہے۔
علوم ِ قرآن و حدیث کا مقصد یہی ہے کہ ان کے ذریعے حقوق اﷲ اور حقوق العباد کو اس انداز میں پیش کیا جائے کہ عام لوگوں کو یہ صراط ِ مستقیم، ان کی اپنی زندگی کے تناظر میں بالکل صاف نظر آئے اور یوں زندگی میں پیش آمدہ کسی دو راہے پر صراط ِ مستقیم طے کرنے کا امکان میسر رہے۔ لیکن صراط ِ مستقیم پر چلنے کے بعد بھی کام یابی اﷲ کی مرضی پر منحصر ہے۔ ہم مسلمان، بچپن سے لڑکپن اور جوانی سے ادھیڑ عمر تک اور پھر بڑھاپے تک ، صراط ِ مستقیم کو طے کرنے کے عمل سے دوچار رہتے ہیں اور یہ سب تدریجاً ہوتا ہے۔
درس ہائے رمضان المبارک بے شمار ہیں مگر ان سب کا مقصد و منتہا یہی ہے کہ آپ انھیں کس قدر اہتمام اور شوق سے اپنی عملی زندگی میں جاری کرتے ہیں ۔۔۔ ؟ اس سلسلے میں آپ تدریج کا راستہ بھی اپنا سکتے ہیں مگر پھر یہ بھی یاد رکھیں کہ شیطان بھی کہیں تدریج کے ساتھ آپ کو اپنے راستے پر نہ لے جائے۔
مفہوم: ’’پھر شیطان نے کہا کہ مجھے تو تُونے ملعون کیا ہی ہے، میں بھی تیرے سیدھے رستے پر ان (انسانوں) کو گم راہ کرنے کے لیے بیٹھوں گا، پھر ان کے آگے سے اور پیچھے سے، دائیں سے اور بائیں سے آؤں گا اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گذار نہیں پائے گا۔‘‘ اﷲ تعالی نے فرمایا: یہاں سے نکل جا مردود ۔ جو لوگ ان میں سے تیری پیروری کریں گے میں ( ان کو اور تم سب کو) جہنم میں بھر دوں گا۔‘‘ (سورہ اعراف)
رمضان کے بعد جب چھوٹے بڑے شیاطین آزاد ہوں گے تو ایسی صورت میں ہمیں اپنے نفس کی زبردست نگرانی کرنا ہوگی یوں ہمارا امتحاں اور بھی سخت اور محتاط رویوں کا متقاضی ہوگا۔
Today News
موسیقی کا زوال – ایکسپریس اردو
موسیقی کی دنیا بھی اک عجب دنیا ہے، جب آپ اداس اور غمگین ہوتے ہیں تو یہ آپ کے جذبات سے ہم آہنگ ہو جاتی ہے اور جب آپ خوش ہوں تب بھی یہ آپ کے جذبات کو خوشی سے ہم کنار کردیتی ہے۔ برصغیر پاک و ہند کی کلاسیکی اور سیمی کلاسیکل موسیقی کا دنیا میں جواب نہیں، اگر ہم بات کریں ابتدائی بلیک اینڈ وائٹ فلموں کی موسیقی کی تو بلاشبہ سہگل برصغیرکا پہلا سپراسٹار تھا، اس کے علاوہ امیربائی کرناٹکی، زہرہ بائی انبالے والی، پنکج ملک، سی ایچ آتما کے نام نظر آتے ہیں جنھوں نے نہایت دلکش اور دل کو چھو لینے والا سنگیت دیا، ایک نام راج کماری کا بھی ہے جنھوں نے فلم ’’محل‘‘ میں دو لازوال گیت گائے۔ بعد میں شمشاد بیگم، ثریا اور خورشید بھی اس کارواں میں شامل ہوگئیں۔ یہ ذکر ہے بلیک اینڈ وائٹ فلموں کے لیے گائے جانے والے گیتوں کا اور ان گیتوں کے سنگیت کاروں کا۔
برصغیر میں فلمی موسیقی کے بانی تھے کھیم چندر پرکاش، آرسی بورال، بھائی چند، پنکج ملک، انل بسواس، ایس ڈی برمن، مدن موہن، ماسٹر غلام حیدر، خواجہ خورشید انور، رشید عطرے وغیرہ لیکن ان میں کھیم چند پرکاش کا نام سب سے پہلے آتا ہے۔ ان کی ترتیب دی ہوئی دھنیں سنیں تو ان کی صلاحیتوں اور ان کے زرخیز ذہن کی داد دینا پڑتی ہے۔ کھیم چندر پرکاش نے یوں تو بے شمار فلموں کی موسیقی ترتیب دی۔
یہ 12 دسمبر 1907جے پور کے شاہی محل میں پیدا ہوئے جہاں ان کے والد درباری موسیقار تھے۔ تقسیم سے پہلے راجے مہاراجے اور نوابین موسیقاروں کی بڑی آؤ بھگت کرتے تھے، انھیں رتبہ اور خطاب بھی دیتے تھے اور دل کھول کر تنخواہیں بھی دیا کرتے۔ کھیم چندر پرکاش نے فلم تان سین، شادی، چاندنی، کھلونا، ممتاز محل، آشا، ملاقات، سیندور، سماج کو بدل ڈالو، امید، پیاس، پردیسی، چراغ، گوری، شہنشاہ بابر، میرا گاؤں، ہالیڈے، دکھ سکھ، 1948 میں فلم ’’ضدی‘‘ کا سنگیت دیا جس میں لتا کی آواز میں یہ گانا بہت مقبول ہوا ’’چندا رے جارے جارے‘‘ تان سین فلم کے گانے جو سہگل اور خورشید نے گائے بہت مقبول ہوئے جیسے یہ گیت:
جگ مگ دیا جلاؤ … سہگل
گھٹا گھنگھور گھور مور مچائے شور…خورشید
میرے سجن آجا، آجا
فلم ’’ضدی‘‘ کا یہ گیت بھی بہت مقبول ہوا:
تجھے او بے وفا ہم زندگی کا آسرا سمجھے
سہگل کا گایا ہوا فلم تان سین کا یہ گیت بھی بہت مقبول ہوا:
بالم آئے بسو مورے من میں
سن 1935 سے 1950 تک کا زمانہ بلاشبہ کھیم چندر پرکاش کا زمانہ تھا، یوں تو انھوں نے بے شمار فلموں کا سنگیت دیا لیکن فلم ’’محل‘‘ کے سنگیت نے یکدم بے پناہ شہرت سے نوازا۔ آج بھی لوگ یوٹیوب پر پرانے گانے سنتے ہیں۔ یوٹیوب مجھے اسی لیے پسند ہے کہ اپنی پسند کا کوئی بھی گیت یا فلم اس پر دیکھی جا سکتی ہے۔ فلم ’’محل‘‘ کے تمام گانے سپر ہٹ ہوئے، خاص کر ان کا گایا ہوا یہ گیت:
آئے گا، آئے گا آنے والا
اس گیت سے لتا کو بھی بریک ملا اور وہ سنگیت کاروں کی نظروں میں آ گئیں، پھر لتا نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ ویسے تو لتا کو متعارف کروانے والے ماسٹر غلام حیدر تھے لیکن لازوال شہرت فلم ’’محل‘‘ کے گانے سے ملی۔ مزے کی بات یہ ہے کہ HMV کے ریکارڈ پرگلوکارہ کا نام ’’کامنی‘‘ لکھا ہوا ہے۔ یہ ریکارڈ میرے والد کے کلیکشن میں شامل تھا، بلکہ فلم ’’محل‘‘ کے تمام گانوں کے ریکارڈ جنھیں پرانے لوگ کالا توا کہتے تھے، ان کے پاس تھے۔ ایک گیت امیربائی کرناٹکی اور راج کماری کی آواز میں ہے، بڑی خوبصورت بندش ہے، دل چاہتا ہے بس سنتے رہو:
یہ رات پھر نہ آئے گی، جوانی بیت جائے گی
یہ گیت ایک رقص پر مبنی ہے لیکن یہ وہ دور تھا جب فلم کے پردے پر رقاصائیں اور گلوکارائیں، پوری آستین کا لباس اور سر پر ڈوپٹہ لیتی تھیں، فلم ’’محل‘‘ 1949 میں ریلیز ہوئی۔ یہ کمال امروہوی کی فلم تھی، اس لیے موسیقی تو اچھی ہونی ہی تھی۔ اس فلم میں کھیم چندر پرکاش نے دو گیت راج کماری کی آواز میں ریکارڈ کیے تھے جو آج بھی سننے والوں کا دل موہ لیتے ہیں۔ بڑی سحر انگیز آواز تھی راج کماری کی۔ گیت یہ تھے:
گھبرا کے جو ہم سر کو ٹکرائیں تو اچھا ہو
اس جینے میں سو دکھ ہیں مر جائیں تو اچھا ہو
اور دوسرا گیت یہ ہے:
میں وہ دلہن ہوں راس نہ آیا جسے سنگھار
ہوں وہ چمن کہ جس میں نہ آئی کبھی بہار
کھیم چندر پرکاش نے سب سے پہلے کشور کمار کو متعارف کرایا، دیوآنند پر ایک گیت پکچرائز کیا جسے کشور کمار نے بڑی خوبصورتی سے گایا، گیت یہ تھا:
مرنے کی دعائیں کیوں مانگو، جینے کی تمنا کون کرے
اب یہ دنیا ہو یا وہ دنیا اب خواہش دنیا کون کرے
کھیم چندر پرکاش نے سب سے پہلے مناڈے کو بھی متعارف کروایا۔ فلم تھی ’’چلتے چلتے‘‘ ۔ یہ فلم 1947 میں بنی تھی۔ مناڈے بہت جلد موسیقاروں کی نظروں میں آگئے۔ تان سین 1943 میں بنی تھی، اس فلم کا سنگیت بہت جاذب اور پراثر تھا۔
یہ کیسے موسیقار تھے، کیسے گلوکار تھے جن کا ذہن اتنا زرخیز تھا کہ جس پر زمانے کا اثر نہ تھا، پھر آہستہ آہستہ فلمی موسیقی میں بدلاؤ آیا، بٹوارے کے بعد لاہور سے موسیقار بمبئی (ممبئی) چلے گئے اور وہاں سے صرف ماسٹر غلام حیدر پاکستان واپس آئے۔ ممبئی فلموں کا مرکز تھا اور ہے، تقسیم نے بمبئی کی فلمی دنیا پہ زیادہ اثر نہ ڈالا۔ اسی لیے وہاں کام ہوتا رہا اور فلمیں بنتی رہیں۔ بٹوارے کے بعد جن موسیقاروں کے نام سامنے آئے ان میں اوپی نیئر، شنکر جے کشن، آر ڈی برمن، نوشاد علی وغیرہ۔ چلیں ان موسیقاروں نے تو بہت کام کیا۔ لاہور میں ماسٹر غلام حیدر، خواجہ خورشید انور، رشید عطرے، سلیم اقبال، ناشاد اور نثار بزمی نے بڑی اچھی دھنیں ترتیب دیں۔
لیکن آج موسیقی کہیں کھو گئی ہے، انڈیا میں اے آر رحمان بڑا اچھا کام کر رہے ہیں۔ ان کی فلموں میں نیم کلاسیکل موسیقی ہوتی ہے۔ خاص کر فلم ’’تال‘‘ اس کے علاوہ دوسرے موسیقار ویسا کام نہیں کر رہے۔ لکشمی لال پیارے لال نے بھی اچھی دھنیں ترتیب دی ہیں، لیکن اب حالات بدل چکے ہیں، اب نہ وہ اساتذہ ہیں جنھوں نے لازوال دھنیں ترتیب دیں نہ وہ موسیقار رہے جو ایک ایک گیت پر کئی کئی ماہ ریہرسل کرواتے تھے۔ سینما کی رات جا چکی ہے، ابتدائی موسیقی سے ہٹ کر فلمی موسیقاروں اور فلم میکرز نے راک اینڈ رول میوزک دیا جو جلد ہی اپنی موت آپ مرگیا، پاکستان میں نہ سینما ہے نہ موسیقی۔ وہ لوگ جنھوں نے محل، پاکیزہ، تان سین، بیجوباورا، مغل اعظم، پردیسی اور بہت سی فلمیں لازوال دور کی دیکھی ہوں، انھیں نقصان کا زیادہ اندازہ ہوتا ہے۔ کسی حد تک پاکستان میں نثار بزمی نے موسیقی کو سنبھالا دیا، لیکن اب ہر طرف سناٹا ہے۔ رونا لیلیٰ کی آواز میں نثار بزمی نے بڑے خوبصورت گیت گوائے۔ خاص کر فلم انجمن، ثریا بھوپالی، تہذیب، امراؤ جان وغیرہ۔ لیکن اب ہر طرف سناٹا ہے، نہ ویسے فلم ساز رہے نہ گلوکار نہ موسیقار۔ موسیقی کا سنہرا دور جب تک تھا جب اوپی نیئر، انل بسواس، مدن موہن، نثار بزمی، خواجہ خورشید انور اور جی اے چشتی تھے۔کھیم چندر پرکاش صرف اڑتالیس سال کی عمر میں 1950 میں وفات پا گئے ان کی موت کے بعد ان کے خاندان کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کسی نے ان کی مدد نہیں کی۔ کھیم چندر پرکاش اپنے پیچھے صرف ایک حویلی چھوڑ گئے تھے جسے ان کے پریوار نے گروی رکھ کر کام چلایا، پھر اس حویلی کو بیچ دیا، لیکن نہایت کسمپرسی میں زندگی گزاری۔ یہ وہ دور تھا جب اداکار موسیقار، مستقبل کے لیے کچھ نہیں سوچتے تھے، یہ نہیں سوچتے تھے کہ کل جب شہرت کا سورج ڈھل جائے گا تب کیا کریں گے؟ آج کا فنکار زیادہ سمجھدار ہے۔ وہ آنے والے وقت کے لیے سرمایہ کاری کرتا ہے۔ کوئی ہوٹل بنا لیتا ہے کوئی فارم ہاؤس اور کوئی دوسرا بزنس۔ یہی وجہ ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے فنکار ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اچھی زندگی گزارتے دیکھے گئے ہیں۔
Today News
تیل کی ہتھکڑیاں توڑو۔۔۔۔ سورج سے ناتا جوڑو
تاریخ کا پہیہ جب بھی مشرق وسطیٰ کی ریت پرگھومتا ہے، اس کے نشانات پاکستان کے غریب گھرانوں کے باورچی خانوں تک گہرے ہوتے چلے جاتے ہیں۔ آج آبنائے ہرمزکے سمندر سے اٹھنے والا دھواں ایک عالمی معاشی زلزلے کا نقطہ آغاز معلوم دے رہا ہے اور ہمیں یہ باورکرایا جا رہا ہے کہ ہماری معیشت کی نبضیں ان پائپ لائنوں سے جڑی ہیں اور اب یہ موقع آ گیا ہے کہ ہماری معیشت اعداد و شمار کے گورکھ دھندوں سے باہر آ کر پاکستان کی عوام کی اکثریت کے کرب کے ساتھ جڑ گئی ہے کیونکہ میرے نزدیک معاشیات صرف اعداد و شمار، معاشی اصولوں اور بہت سے معاشی بحث ومباحثے کا نام نہیں، یہ تو انسانی زندگی کے اس کرب کا نام ہے جو ایک باپ کی پیشانی پر اس وقت ابھرتا ہے جب پٹرول کی قیمت اس کی پہنچ سے دور ہو جاتی ہے اور ایک ماں کے حساب کتاب سے ظاہر ہو جاتا ہے جب وہ ایک روٹی اپنے چار بچوں میں برابر تقسیم کر دیتی ہے اور خود پانی کا ایک گلاس پی کر مطمئن ہو جاتی ہے کہ آج میرے بچوں کا پیٹ بھرگیا ہے۔
پاکستان کی معیشت اسی درد و کرب سے دوچار ہو کر حیران و پریشان کھڑی ہے کہ بظاہر 2 یا 3 ہفتوں کا پٹرول کا ذخیرہ اور جنگ کے آغاز کا تو سب کو پتا ہے انجام کی خبر نہیں ہے، کیونکہ امریکا، ایران جنگ میں پاکستانی معیشت ’’تیل زدہ جال‘‘ میں پھنسی ہوئی ہے،کیونکہ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کا 80 فی صد سے زائد حصہ درآمدی تیل سے پورا کرتا ہے۔ ان دنوں تیل کی قیمت میں جس طرح سے اضافہ ہوئے چلا جا رہا ہے اس سے پاکستان کا ماہانہ توانائی کا درآمدی بوجھ دو ارب ڈالر سے بھی زائد پہنچ چکا ہے اور اس میں مزید اضافہ ہونے والا ہے۔ اس میں سب سے اہم کردار آبنائے ہرمز کا ہے، کیونکہ پاکستان اپنے درآمدی تیل کا 90 فی صد حصہ اسی آبنائے ہرمز کے تنگ راستے سے لے کر آتا ہے۔
پاکستان کے لیے تیل صرف ایندھن نہیں بلکہ یہ معیشت کا خون ہے جب تیل مہنگا ہوتا ہے تو جیساکہ گزشتہ دنوں پٹرول کی قیمت اور ڈیزل کی قیمت میں اچانک راتوں رات ہی 55 روپے کا اضافہ کر دیا گیا جس سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات، اشیائے خور ونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا۔ ترسیلات زر میں کمی کا خدشہ بھی سر پر منڈلا رہا ہے، کیونکہ صرف سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے ہی ترسیلات زر کا 80 فی صد سے زائد حصہ آتا ہے، جنگ کے باعث ان ملکوں کی معیشت خطرات سے دوچار ہو چکی ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم نے اپنی افرادی قوت کا ایک بڑا حصہ ان کے کھاتے میں ڈال رکھا ہے تو دیگر ملکوں کی طرف پہلے دھیان کیوں نہیں گیا؟ ہر حکومت کو اپنے اپنے وقت پر یہ احساس کرنا چاہیے تھا کہ اپنے زیادہ سے زیادہ افرادی قوت کے لیے مشرق وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ دیگر ملکوں کو بھی اولیت دی جانی چاہیے تھی، لیکن اب اس جانب توجہ دینی ہوگی۔
وقت آگیا ہے کہ پاکستان توانائی کی خود مختاری کے حصول کے لیے فوری قدم اٹھائے، شمسی انقلاب لانے کی ضرورت ہے۔ سولر پینلز کے کاروبار کو ہر طرح کی سہولیات مراعات دی جائیں تاکہ غریب کی چھت پر بھی سولر پینلز کی بہار اتر سکے، کیونکہ شمسی توانائی قدرت کی طرف سے پاکستان کے لیے ایک قیمتی لیکن مفت تحفہ ہے۔ پاکستان کے منصوبہ سازوں کو اس بات کو مدنظر رکھنا ہوگا کہ بھارت ’’جموں‘‘ میں نئے پن بجلی منصوبوں کی تیاری کر رہا ہے ایسے منصوبے بنا رہا ہے جس سے پاکستان کی طرف پانی کے بہاؤ کو کنٹرول کیا جا سکے۔ پہلے ہی وہ کئی بڑے ڈیمز بنا چکا ہے اور ہم 1974 میں تربیلا ڈیم کے بعد کوئی قابل ذکر بڑا ڈیم نہیں بنا سکے۔ لہٰذا اب شمسی توانائی کے اس عظیم خزانے سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ جہاں جہاں پانی کی ضرورت پڑے تو ٹیوب ویلوں کو سولر پینلز کا سہارا دیا جاسکے اور ایسا کرنا زرعی خودکفالت کے لیے ضروری ہے۔
مشرق وسطیٰ کے افق پر اٹھتا ہوا دھواں ہمیں ایک آخری مہلت دے رہا ہے کہ ہم ایک ایسی دہلیز پر کھڑے ہیں جہاں اب خاموشی اور تاخیر کی گنجائش نہیں ہے۔ وہ کسان جو ہزاروں سال سے بادلوں کی طرف دیکھتا تھا اب اسے اپنی بنجر امیدوں کو سیراب کرنے کے لیے تیل کے ٹینکروں کے بجائے آسمان سے برستی ہوئی کرنوں کی ضرورت ہے۔ زرعی خود کفالت اب محض ایک خواب نہیں بلکہ ہماری بقا کا واحد راستہ بن چکی ہے، جب تک ہم اپنے کھیتوں کو شمسی حصار میں نہیں لائیں گے، اس وقت تک دوسروں کے ہی محتاج رہیں گے، لہٰذا وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے رزق کو سورج کی سنہری کرنوں سے محفوظ سنہری دور کے ساتھ جڑ جائیں کیونکہ جو قوم سورج سے ناتا جوڑ لیتی ہے اسے کوئی بحران اندھیروں میں نہیں دھکیل سکتا۔حکومت کو چاہیے کہ سولر پینلز سے وابستہ تاجروں کو ہر طرح کی سہولیات فراہم کرے۔ ان کی راہ میں حائل سرخ فیتہ شاہی اور غیر ضروری نامناسب ٹیکسز دراصل سورج کی روشنی پر ٹیکس لگانے کے مترادف ہے۔ سولر پینلز کے تاجروں کو اہمیت دینا محض ایک توانائی پالیسی نہیں بلکہ سستی توانائی کی طرف ہجرت کا پہلا قدم ہوگا۔
-
Magazines2 weeks ago
Story Time: Culinary Disasters – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Bangladesh recall Litton, Afif for Pakistan ODI series – Sport
-
Entertainment2 weeks ago
Fans React to Nadia Khan’s Wrinkles in Filter-Free Video
-
Sports2 weeks ago
‘There will be nerves’: India face New Zealand for T20 World Cup glory – Sport
-
Magazines5 days ago
STREAMING: CHOPRA’S PIRATES – Newspaper
-
Magazines6 days ago
Story time: The price of a typo
-
Entertainment2 weeks ago
Troubling News About Rahat Fateh Ali Khan & His Family
-
Sports1 week ago
Samson rises from year of struggle to become India’s World Cup hero – Sport