Connect with us

Today News

آبنائے ہرمزکا بحران، عالمی سیاست کا نیا موڑ

Published

on


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ جلد ہی ختم ہو جائے گی کیونکہ اب عملی طور پر نشانہ بنانے کے لیے ایران میں کچھ نہیں بچا ہے۔ دوسری جانب خلیج کے پانیوں میں متعدد بحری جہازوں پر حملوں کے بعد صورتحال انتہائی کشیدہ ہوگئی ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل روکنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ پیٹرول کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک جاسکتی ہے۔

 مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی سیاست کے سب سے حساس اور خطرناک مرحلے میں داخل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے یہ خطہ عالمی طاقتوں کی سیاسی کشمکش، عسکری مداخلت اور اقتصادی مفادات کا مرکز رہا ہے، مگر حالیہ دنوں میں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے حالات کو ایک نئی اور غیر یقینی سمت میں دھکیل دیا ہے۔

حالیہ جنگی صورتحال کے دوران امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے دیا گیا یہ بیان کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ جلد ختم ہو سکتی ہے اور امریکا اس میں واضح برتری حاصل کر چکا ہے، عالمی سطح پر ایک نئی بحث کو جنم دے رہا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جنگ کے خاتمے کا فیصلہ دراصل ان کے ہاتھ میں ہے اور امریکا نے اپنے طے شدہ شیڈول سے بھی پہلے اہداف حاصل کر لیے ہیں۔ بظاہر یہ بیان ایک کامیاب عسکری حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے، مگر اس بیان کے پس منظر میں چھپی حقیقتیں کہیں زیادہ پیچیدہ،گہری اور عالمی اثرات کی حامل ہیں۔

جنگیں محض میدانِ جنگ میں لڑی جانے والی لڑائیاں نہیں ہوتیں بلکہ ان کے اثرات سیاسی، معاشی، سفارتی اور انسانی سطح پر طویل عرصے تک محسوس کیے جاتے ہیں۔ امریکا اور ایران کے درمیان موجودہ تنازع بھی اسی نوعیت کا ہے جس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا پر مرتب ہو رہے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق فضائی اور زمینی کارروائیوں کے دوران ہزاروں اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے جب کہ متعدد بحری جہازوں اور عسکری تنصیبات کو تباہ کیا گیا ہے۔ امریکی عسکری قیادت کا دعویٰ ہے کہ ایران کی دفاعی اور بحری صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا ہے اور اس کی جنگی استعداد کمزور پڑ چکی ہے۔ تاہم تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ جنگ میں صرف عسکری اہداف کو تباہ کرنا ہی کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتا۔

 گزشتہ دو دہائیوں کی عالمی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو واضح ہوتا ہے کہ طاقتور ممالک کی عسکری برتری کے باوجود سیاسی اور سماجی استحکام کا حصول ہمیشہ ایک مشکل مرحلہ ثابت ہوا ہے۔ عراق اور افغانستان کی جنگیں اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔ دونوں جنگوں میں ابتدائی مرحلے میں فوجی کامیابی کا دعویٰ کیا گیا تھا، مگر بعد میں یہ تنازعات طویل اور پیچیدہ بحرانوں میں تبدیل ہو گئے۔ یہی خدشہ موجودہ ایران امریکا تنازع کے حوالے سے بھی ظاہر کیا جا رہا ہے، اگرچہ امریکا عسکری میدان میں برتری حاصل کر سکتا ہے، لیکن خطے میں پائیدار استحکام کا حصول اتنا آسان نہیں ہوگا۔

اس جنگ کا سب سے خطرناک پہلو عالمی توانائی کی فراہمی اور سمندری تجارت کے لیے پیدا ہونے والا بحران ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے سمندری راستے عالمی معیشت کی شہ رگ سمجھے جاتے ہیں، خصوصاً آبنائے ہرمز جس کے ذریعے دنیا کے ایک بڑے حصے تک خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ حالیہ کشیدگی کے دوران خلیج عرب، خلیج عمان اور آبنائے ہرمز کے علاقوں میں متعدد تجارتی اور تیل بردار جہازوں پر حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ برطانوی میری ٹائم مانیٹرنگ اداروں کے مطابق تنازع کے آغاز کے بعد سے کم از کم تیرہ تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے جب کہ کئی مشکوک سرگرمیوں کی رپورٹس بھی موصول ہوئی ہیں۔

یہ صورتحال نہ صرف سمندری سلامتی کے لیے خطرہ ہے بلکہ عالمی تجارت کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ ان حملوں کے حوالے سے یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ دھماکہ خیز مواد سے لیس بغیر عملے کی کشتیوں اور سمندری بارودی سرنگوں کا استعمال کیا گیا۔ جدید جنگی حکمت عملی میں اس قسم کے ہتھیاروں کا استعمال نہ صرف حملہ آور کے لیے نسبتاً آسان ہوتا ہے بلکہ اس کے ذریعے بڑے پیمانے پر اقتصادی نقصان بھی پہنچایا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر بحری سلامتی کے حوالے سے تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ایران کی جانب سے دی گئی حالیہ دھمکیوں نے بھی صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ ایرانی عسکری ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ ایران اب صرف دفاعی ردعمل تک محدود نہیں رہے گا بلکہ دشمنوں کے خلاف پیشگی اور مسلسل کارروائیوں کی حکمت عملی اختیار کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر جنگ کا دائرہ مزید پھیلتا ہے تو ایران آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل روک سکتا ہے۔ یہ بیان عالمی معیشت کے لیے ایک سنگین انتباہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اگر واقعی آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل رک جاتی ہے تو اس کے اثرات فوری طور پر عالمی منڈیوں میں محسوس ہوں گے۔ توانائی کے ماہرین کے مطابق ایسی صورت میں تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔ اس وقت دنیا کی بڑی معیشتیں پہلے ہی معاشی دباؤ اور مہنگائی کے مسائل کا سامنا کر رہی ہیں، اگر تیل کی قیمتیں اچانک اس حد تک بڑھ جاتی ہیں تو اس کا اثر صنعتوں، ٹرانسپورٹ، زراعت اور عام صارفین تک پہنچے گا۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں ہونے والی کسی بھی جنگ کا اثر صرف تیل تک محدود نہیں رہتا بلکہ عالمی تجارت کے وسیع نظام کو متاثر کرتا ہے۔ سمندری راستے جدید عالمی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، اگر خلیجی پانیوں میں جہاز رانی غیر محفوظ ہو جاتی ہے تو نہ صرف توانائی بلکہ دیگر تجارتی اشیاء کی ترسیل بھی متاثر ہوگی۔ اس کے نتیجے میں عالمی سطح پر سپلائی چین کا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔اس تنازع کا ایک اہم پہلو عالمی طاقتوں کا ممکنہ کردار بھی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی ہمیشہ سے بڑی طاقتوں کے مفادات سے جڑی رہی ہے، اگر یہ جنگ طویل ہوتی ہے تو اس بات کا امکان ہے کہ دیگر عالمی قوتیں بھی براہِ راست یا بالواسطہ اس تنازع میں شامل ہو جائیں۔ اس صورت میں یہ بحران ایک وسیع علاقائی یا حتیٰ کہ عالمی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

اسی طرح اس جنگ کے انسانی پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ جنگیں ہمیشہ عام شہریوں کے لیے سب سے زیادہ تباہ کن ثابت ہوتی ہیں۔ بنیادی ڈھانچے کی تباہی، معاشی بحران، بے روزگاری اور مہنگائی جیسے مسائل براہِ راست عوام کو متاثر کرتے ہیں۔ حالیہ بحران میں بھی یہی صورتحال نظر آ رہی ہے ۔اس صورتحال میں عالمی طاقتوں کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ روس اور چین نے امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں پر سخت بیانات دیتے ہوئے ایران کے ساتھ سفارتی ہمدردی کا اظہار کیا ہے، تاہم اب تک انھوں نے براہِ راست فوجی مداخلت سے گریز کیا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی کئی دہائیوں سے سیاسی عدم استحکام اور جنگوں کا شکار رہا ہے، اس لیے ایک نئی جنگ اس خطے کے عوام کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔اس تمام صورتحال میں عالمی برادری کے لیے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا اس بحران کو سفارتی ذرائع سے حل کیا جا سکتا ہے۔ جنگ کے ابتدائی مراحل میں اکثر فریقین اپنی عسکری برتری کے دعوے کرتے ہیں، مگر بالآخر تنازعات کا حل مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہی نکلتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ امریکا اور ایران دونوں کو کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات کی راہ اختیار کرنی چاہیے۔

دنیا اس وقت جس غیر یقینی صورتحال سے گزر رہی ہے، اس میں سب سے زیادہ ضرورت ذمے دارانہ قیادت اور دانشمندانہ فیصلوں کی ہے۔ طاقت کے استعمال کے ذریعے وقتی کامیابی تو حاصل کی جا سکتی ہے، مگر پائیدار امن صرف مکالمے، تعاون اور باہمی احترام کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے جنگوں اور بحرانوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

اب وقت آ گیا ہے کہ عالمی طاقتیں اس خطے کو مزید جنگ کا میدان بنانے کے بجائے امن اور استحکام کی طرف لے جانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں۔ عالمی قیادت نے بروقت اور مؤثر سفارتی کوششیں نہ کیں تو موجودہ تنازع ایک ایسے بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے جس کے اثرات کئی دہائیوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا کو طاقت کے مظاہرے سے زیادہ امن کی حکمت عملی کی ضرورت ہے،کیونکہ تاریخ ہمیں یہی بتاتی ہے کہ جنگیں وقتی فتوحات تو دے سکتی ہیں مگر مستقل امن صرف دانشمندانہ سیاسی فیصلوں سے ہی حاصل ہوتا ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

مجتبیٰ خامنہ ای اسرائیلی حملے میں کیسے بال بال بچ گئے تھے؛ تفصیلات سامنے آگئیں

Published

on


برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف نے ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کی شہادت اور ان کے بیٹے کے بال بال بچ جانے کی رپورٹ جاری کردی۔

دی ٹیلی گراف کے مطابق منظر عام پر آنے والی ایک آڈیو ریکارڈنگ سے انکشاف ہوا ہے کہ فروری کے آخر میں تہران میں خامنہ ای خاندان کے رہائشی کمپاؤنڈ پر ہونے والے امریکی اور اسرائیلی میزائل حملوں کا اصل ہدف مجتبیٰ خامنہ ای تھے۔

رپورٹ کے مطابق 28 فروری کو ہونے والے اس حملے سے چند منٹ قبل مجتبیٰ خامنہ ای عمارت سے باہر نکل کر باغیچے کی جانب چلے گئے تھے جس کے باعث وہ میزائل حملے میں بال بال بچ گئے۔

البتہ اسی حملے میں ان کی ٹانگ شدید زخمی ہوگئی تھی جب کہ ان کی اہلیہ، بیٹے اور داماد شہید ہوگئے تھے۔

آڈیو ریکارڈنگ میں کیا انکشاف ہوا؟

یہ آڈیو ریکارڈنگ مبینہ طور پر 12 مارچ میں ہونے والے ایک اجلاس کی ہے جس میں شہید علی خامنہ ای کے دفتر کے شعبہ تشریفات کے سربراہ مظاہر حسینی علما اور پاسداران انقلاب کے کمانڈروں کو شہادت کی تفصیلات بتا رہے تھے۔

آڈیو میں سنا جا سکتا ہے کہ مظاہر حسینی نے واضح طور پر بتایا کہ اس حملے میں مجتبیٰ خامنہ ای کی ٹانگ پر چوٹ آئی جب کہ ان کی اہلیہ، بیٹا اور داماد موقع پر ہی شہید ہوگئے تھے۔

انھوں نے پاسداران انقلاب کے کمانڈرز کو بتایا کہ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے ملٹری آفس کے سربراہ محمد شیرازی اس حملے میں شہید ہوگئے اور ان کے جسم کے کچھ ہی حصے ملے۔ 

مظاہر حسینی نے بتایا کہ اس حملے میں سپریم لیڈر کے ملٹری آفس کے سربراہ محمد شیرازی کو نشانہ بنانے کا مقصد ایرانی عسکری قیادت میں جانشینی کے عمل کو متاثر کرنا تھا، کیونکہ وہ فوجی قیادت اور سپریم لیڈر کے دفتر کے درمیان ایک اہم رابطہ سمجھے جاتے تھے۔

رپورٹ کے مطابق میزائل حملے انتہائی منظم انداز میں کیے گئے اور کمپاؤنڈ کے اندر متعدد مقامات کو بیک وقت نشانہ بنایا گیا۔ تین میزائل براہ راست سپریم لیڈر کی رہائش گاہ پر گرے۔

مجتبیٰ خامنہ ای کے گھر کے علاوہ ان کے داماد مصباح الہدی باقری کنی کے گھر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ دوسرے بیٹے مصطفیٰ خامنہ ای اور ان کی اہلیہ کے گھر بھی حملے کی زد میں آئے۔

حملے کے وقت علی خامنہ ای کمپاؤنڈ کے اندر اعلیٰ سکیورٹی اور عسکری حکام کے ساتھ اجلاس میں موجود تھے۔ اسی دوران ہونے والے میزائل حملوں میں متعدد اہم شخصیات ہلاک ہو گئیں جن میں ایرانی عسکری قیادت کے اہم عہدیدار بھی شامل تھے۔

رپورٹس کے مطابق نئے سپریم لیڈر کے طور پر منتخب ہونے کے بعد سے مجتبیٰ خامنہ ای عوامی سطح پر نظر نہیں آئے۔ ان کی جانب سے صرف ایک تحریری پیغام جاری کیا گیا جو سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہوا۔

ان کی غیر موجودگی نے ان کی صحت سے متعلق قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے۔ اس حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایک بیان میں کہا تھا کہ ممکن ہے مجتبیٰ خامنہ ای کے زخم تہران کے دعوؤں سے زیادہ سنگین ہوں۔

 





Source link

Continue Reading

Today News

کراچی؛ عید سے قبل گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی

Published

on



محکمہ موسمیات نے شہر میں بدھ اورجمعرات کو گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ چند مقامات پرموسلادھاربارش ہوسکتی ہے اور بارش کے دوران معمول سے تیزہوائیں چل سکتی ہیں۔

محکمہ موسمیات ارلی وارننگ کی جانب سے جاری الرٹ کے مطابق بدھ اورجمعرات کو شہر میں مطلع ابرآلود رہنے اور گرج چمک کےساتھ بارش کا امکان ہے۔

محکمہ موسمیات نے بتایا کہ اس دوران کہیں کہیں موسلادھاربارش بھی متوقع ہے، بارش کے دوران بعض علاقوں میں تیز ہوائیں چل سکتی ہیں، جس سے کمزور انفرا اسٹرکچر کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

مزید بتایا گیا کہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 33 سے 35 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہنے کا امکان ہے جبکہ کم سے کم درجہ حرارت 21 سے 23 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہے گا، ہوا میں نمی کا تناسب 75 سے 85 فیصد تک رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

محکمہ موسمیات نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کریں اور کسی بھی ہنگامی صورت حال میں متعلقہ اداروں سے رابطہ کریں۔



Source link

Continue Reading

Today News

کراچی میں ٹریلر سے خوفناک تصادم کے بعد جیپ تباہ، 1 شخص جاں بحق

Published

on



شہر قائد کے علاقے منگھوپیر ناردرن بائی پاس دعا ہوٹل کے قریب ٹریلر اور جیپ کے مابین تصادم کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ ایک شخص زخمی ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق منگھوپیر ناردرن بائی پاس کے قریب دعا ہوٹل کے پاس تیز رفتار ٹرک اور جیپ کے درمیان تصادم ہوا جس میں گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔حادثے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ دوسرا شدید زخمی ہوا، دونوں جیپ میں سوار تھے۔ 

حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے موقع پر پہنچ کر متوفی کی لاش اور زخمیوں کو چھیپا ایمبولینس کے ذریعے عباسی شہید اسپتال منتقل کیا۔

ایس ایچ او منگھوپیر انیس الرحمٰن نے بتایا کہ حادثہ ٹریلر اور جیپ کے درمیان تصادم کے نتیجے میں پیش آیا تھا جبکہ ڈرائیور موقع سے ٹریلر چھوڑ کر فرار ہوگیا جسے پولیس نے قبضے میں لیکر تھانے منتقل کر دیا تاہم اس حوالے سے پولیس مزید معلومات حاصل کر رہی ہے۔

ریسکیو حکام نے بتایا کہ زخمی کی شناخت 30 سالہ شاکر کے نام سے کی گئی جبکہ جیپ میں سوار 2 افراد معجزانہ طور پر محفوظ رہے جو کہ محنت کش اور چھت بھرائی کا کام کرتے تھے۔

 حادثے میں محفوظ تنویر نامی شخص نے بتایا کہ جیپ میں سوار افراد محنت کش اور چھت بھرائی کا کام کرتے ہیں، متوفی کو پٹھان کے نام سے پکارا جاتا تھا جس کا اصل نام معلوم نہیں جبکہ وہ معمار موڑ فقیرا گوٹھ کا رہائشی تھا تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تفتیش اور ڈرائیور کو تلاش کیا جا رہا ہے ۔



Source link

Continue Reading

Trending