Connect with us

Today News

ٹرمپ جنگ روکنے کے لیے فیس سیونگ درکار

Published

on


29دسمبر2025 کو صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم نتن یاہو کے مابین فلاڈلفیا میں ایک اہم ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں نتن یاہو کے اصرار پرطے ہوا کہ دونوں ممالک ایران پر حملہ کر دیں گے۔ملاقات کے نتیجے میں ہونے والے اس فیصلے کو پردے میں رکھنے کے لیے امریکا نے ایران کے ساتھ مذاکرات شروع کیے۔یہ مذاکرات محض ایک دکھاوا تھے۔ان کی آڑ میں حملے کی پلاننگ،ملٹری بلڈ اپ اور وار مشین کو اپنی اپنی جگہوں پر ڈپلائے کرنا تھا۔یہ عمل مکمل کرنے کے ساتھ ہی ایران پر حملہ کر دیا گیا۔ایران نے ابتدائی نقصانات اُٹھا کر اسرائیل،امریکی حملہAbsorbکر لیا ہے۔دنیا حیران و ششدر ہے کہ ایران پر ہر سمت سے آگ برس رہی ہے لیکن جھک نہیں رہا،ایرانی ریاست قائم ہے، اس کے ادارے کام کر رہے ہیں، ایرانی عوام حکومت کے خلاف اُٹھ کھڑے نہیں ہوئے بلکہ زندگی رواں دواں ہے۔

بازار کھلے ہیں۔کہیں پینکPanicخریداری نہیں ہو رہی۔ہر کوئی اپنی باری پر خرید رہا ہے۔دوائیں دستیاب ہیں، بازاروں میں معمول کی گہما گہمی ہے۔ہر ایک اپنی بساط کے مطابق اپنے وطن کی جس طرح خدمت کر سکتا ہے ،کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ایران کے سب سے اعلیٰ انتخابی ادارے مجلسِ خبرگان نے طویل مشاورت کے بعد جناب خامنہ ای کی جگہ نیا رہبرَ معظم چن کر امریکا اسرائیل و مغرب کو حیرت زدہ کر دیا ہے کیونکہ نئے رہبر کوئی اور نہیں بلکہ مرحوم خامنہ ای کے فرزند جناب مجتبیٰ خامنہ ای ہیں۔نئے سپریم لیڈر کے انتخاب سے عیاں ہے کہ تمام تر مشکلات کے باوجودState apparatusابھی تک برقرار اور مکمل فعال ہے۔

اسرائیل اور امریکا دونوں مختلف اہداف لیے اس جنگ میں کودے۔امریکا کا کوئی واضح ہدف نہیں تھا۔صدر ٹرمپ جب بھی بیان دیتے ہیں کوئی انوکھا اور نیا ہدف سامنے لے آتے ہیں۔ایک امریکی لا میکر کے بقول ان کا ہدف ہر گھنٹے بدل رہا ہے۔صاف ظاہر ہے امریکا نے یہ جنگ نتن یاہو کے کہنے پر چھیڑی اس لیے امریکا کا اپنا کوئی واضح ہدف نہیں ہو سکتا۔ایک امریکی ہدف بہرحال نظر آتا ہے کہ ہر صورت میں یہودی صیہونی ریاست اور اس کے انتہائی Ambitious وزیرِ اعظم کا حکم ماننا ہے۔ البتہ نتن یاہو کا ہدف ہے کہ وہ ایران کی موجودہ حکومت کو گرا کر ایران کے ٹکڑے اور ملیامیٹ کرنا چاہتا ہے۔وہ بہت لمبے عرصے سے یہ ہدف زبان پر بھی لا رہا ہے۔

اسرائیل، امریکا کا اندازہ تھا کہ جناب خامنہ ای کی شہادت کے ساتھ ہی ایرانی عوام اُٹھ کھڑے ہوں گے اور حکومت گر جائے گی۔جنگ شروع ہوئے کئی روز ہو گئے ہیں اور ایرانی بہت پامردی اور عقل و فہم کے ساتھ مزاحمت کر رہے ہیں۔اسرائیلی موساد نے کردوں کے اندر گھس کر بہت انویسٹ کیا ہے۔یوں اسرائیل اور امریکا خیال رکھتے تھے کہ کرد گریٹر کردستان کا علم بلند کیے ایرانی ریاست سے ٹکرا جائیں گے۔وہ یہ بھول گئے کہ امریکا کئی مرتبہ کردوں کو نظر انداز کر کے اپنی ساکھ کھو چکا ہے۔امریکا و اسرائیل ایرانی بلوچوں سے بھی بڑی امید لگائے ہوئے تھے۔ان کے خیال میں ایرانی بلوچ پاکستانی بلوچوں کے ساتھ مل کر اورموقع دیکھ کر علمِ بغاوت بلند کر دیں گے، حالانکہ ایرانی بلوچ اپنی شناخت مذہب پر رکھتے ہیں۔ وہ حنفی سنی ہونے پر نازاں ہیں۔ان کے مقابلے میں پاکستانی بلوچ اپنی شناخت زبان کی بنیاد پر رکھتے ہیں۔اس طرح ایرانی بلوچوں اور پاکستانی بلوچوں میں بہت کم قدرِ مشترک ہے۔اسی لیے نہ تو کردوں نے اور نہ ہی بلوچوں نے ابھی تک بغاوت کی ہے۔

ایران نے خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں اور خلیج فارس میں متعین امریکی جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔ امریکی Assets کو اس لیے نشانہ بنایا گیا تاکہ یہ امریکا،اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کے کام نہ آ سکیں۔ایران نے بہت کامیابی سے قطر، بحرین، کویت،اردن ،عراق اور امارات میں امریکی کمیونی کیشن آلات کو نشانہ بنا کر ناکارہ کر دیا۔یہ بہت قیمتی اور کارآمد کمیونیکیشن آلات تھے جو اب ناکارہ ہو چکے ہیں۔ان کو جلدی سے ری پلیس بھی نہیں کیا جا سکتا اور اگر کرنے کی کوشش ہو گی تو ایران دوبارہ حملہ کر کے ناکارہ بنا سکتا ہے۔قطر میں لگے ایسے سسٹم کی کم از کم لاگت1.1ارب ڈالر بتائی جا رہی ہے۔قطر اور بحرین میں ناکارہ ہو جانے والے سسٹم کو دوبارہ بنانے کے لیے 77کلو گرام کیلیم دھات درکار ہو گی جس کا 98فی صد صرف چین کے پاس ہے۔

قطر میں لگے سسٹم کو بنانے میں پانچ سے چھ سال اور بحرین میں لگے سسٹم کو دوباہ بنانے میں ایک سے دو سال درکار ہوں گے۔قطر میں لگے سسٹم سے امریکا 5ہزار کلو میٹر دور تک دیکھ اور سن سکتا تھا۔ان Assets کے ناکارا ہونے سے جو مالی نقصان ہوا وہ تو اپنی جگہ لیکن امریکا اب بہت دور تک دیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہو چکا ہے۔۔ان حملوں سے ایران نے خلیجی ممالک کو یہ باور کرایا کہ امریکی اڈے اپنی حفاظت نہیں کر سکتے تو ان ممالک کی کیا حفاظت کریں گے۔الٹا یہ اڈے خلیجی ممالک کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔امریکا اب ان اڈوں کے لیے یوکرین،جنوبی کوریا اور جاپان میں لگے سسٹمز کو لانے کی سوچ رہا ہے مگر یوں کرنے سے ان ممالک میں دفاعی صلاحیت ڈاؤن گریڈ ہو جائے گی۔

 جنگ صدر ٹرمپ کی خواہشات کے مطابق نہیں جا رہی۔جنگ شروع ہونے سے پہلے پینٹاگان میں 18امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے ایک رپورٹ دی کہ جنگ سے نہ تو ایران میں حکومت تبدیل ہو سکے گی اور نہ ہی ایران کولیپس کر جائے گا۔شاید اپنی عمر اور بیماریوں کی وجہ سے صدر ٹرمپ انھیں دی جانے والی بریفنگ میں پوری توجہ نہیں دے پاتے۔ وہ مزاجاً بھی بڑبولے ہیں۔ نیٹو ممالک اس جنگ میں کھل کر امریکا کا ساتھ نہیں دے رہے۔ صدر ٹرمپ اس مہینے کے آخر میں چین جا رہے ہیں۔ انھیں اپنے اس اہم دورے کو کامیاب بنانا ہے۔صدر ٹرمپ نے روس کے صدر پیوٹن سے ٹیلیفون پر بات کی ہے۔اس گفتگو کے فوراً بعد امریکی صدر نے کہا کہ جنگ جلد ختم ہو جائے گی۔صدر ٹرمپ کی اپروول ریٹنگ میں کمی واقع ہوئی ہے۔

امریکا میں مڈ ٹرم الیکشن قریب آ لگے ہیں۔اگر جنگ جاری رہی اور امریکا و اسرائیل نقصانات اٹھاتے رہے تو جنگ کے برے اثرات سے ری پبلکن پارٹی کو بڑا نقصان ہو سکتا ہے۔اس بات کا بھی قوی امکان ہے کہ خلیجی عرب ممالک بھی صدر ٹرمپ پر جنگ کے خاتمے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہوں۔جنگ بھی لمبی اور تعطل کا شکار ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ ٹرمپ کو جنگ ختم کرنے کے لیے فیس سیونگ چاہیے۔عین ممکن ہے کہ صدر ٹرمپ یک طرفہ طور پر اپنی فتح کا اعلان کر کے جنگ بندی کی طرف چلے جائیں۔یہی نظر آتا ہے کیونکہ اسرائیل و امریکا نے جو اندازے لگائے تھے وہ بالکل غلط ثابت ہو رہے ہیں۔وہ یہ جنگ نہیں جیت سکتے ۔امریکا و اسرائیل جارح ہیں انھیں فتح کی ٹرافی دکھانی ہے جب کہ ایران صرف دفاع کر رہا ہے اسے ٹرافی نہیں بلکہ حوصلہ دکھانا ہے۔اگر امریکا و اسرائیل واضح فتح نہیں دکھا سکتے اور جنگ اسٹیل میٹ پر ختم ہوتی ہے تو امریکا کی ہوا اکھڑ جائے گی۔آیندہ امریکا کا رعب، دھونس و دھاندلی نہیں چلے گی۔

اسرائیل یتیم ہو جائے گا۔ امریکی دفاعی چھتری کے بغیر اس کا جو حال ہوگا وہ سوچا بھی نہیں جا سکتا۔یہ بھی ممکن ہے کہ نیا ورلڈ آرڈر ابھر کر سامنے آئے جس میں چین بہت ممتاز ہو۔نتیجہ کچھ بھی ہو پہلے والی دنیا نہیں ہو گی۔تعطل کی صورت میں ایران کی پروفائل میں کئی گنا اضافہ ہو گا۔ایران مذہبی قیادت کے دور سے پاکستان کا ایک مشکل ہمسایہ رہا ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

روس انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ایران امداد بھیجنے والا پہلا ملک بن گیا

Published

on


روس حالیہ علاقائی جنگ کے دوران ایران کو انسانی امداد بھیجنے والا پہلا ملک بن گیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق روس کی جانب سے بھیجی گئی امداد کھیپ ایک Il-76 کارگو طیارہ 13 ٹن سے زائد طبی سامان لے کر آذربائیجان پہنچا ہے جہاں سے  یہ امداد ٹرکوں کے ذریعے سرحد پار کر کے ایرانی حکام کے حوالے کی جائے گی۔

اس امدادی کھیپ میں ہنگامی طبّی سامان، آلات اور ادویات شامل ہیں۔ جس کا مقصد حالیہ کشیدگی کے دوران ایران میں متاثرہ افراد کو فوری طبی سہولیات فراہم کرنا ہے۔

روسی وزارت ہنگامی حالات نے بتایا کہ یہ امدادی مشن روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی ہدایت پر شروع کیا گیا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ روس خطے میں انسانی بحران کو کم کرنے کے لیے امدادی اقدامات جاری رکھے گا۔

روس کا یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے اور خطے میں متعدد مقامات پر حملوں اور فوجی کارروائیوں کی اطلاعات مل رہی ہیں۔

خیال رہے کہ اس سے قبل صدر ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ مجھے معلوم ہے، روس تھوڑی بہت ایران کی مدد کر رہا ہے جیسے ہم یوکرین کو کرتے ہیں۔

 





Source link

Continue Reading

Today News

عالمی یوم القدس، مزاحمت کا استعارہ ہے

Published

on


دنیا بھر میں رمضان المبارک کا آخری جمعہ قبلہ اول بیت المقدس یعنی القدس شریف کے نام سے منسوب ہے۔ دنیا بھر میں لوگ اس دن کو یوم القدس مناتے ہیں۔

دنیا بھر میں ہر سال ماہِ رمضان کے آخری جمعہ کو منایا جانے والا یوم القدس صرف ایک علامتی دن نہیں ہے بلکہ ایک عالمی بیداری، مزاحمت اور مظلوموں سے یکجہتی کی علامت بن چکا ہے۔

اس دن کا آغاز ایران میں اسلامی انقلاب کے بانی حضرت امام خمینی ؒ کے حکم پر شروع ہوا تھا۔ امام خمینی نے رمضان کے آخری جمعہ کو یوم القدس قرار دیا اور دنیا بھر کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اس ایک دن کو فلسطین کی آزادی اور قدس کی بازیابی کے لیے متحد ہوکر ہم آواز ہوجائیں اور دنیا کو پیغام دیں کہ فلسطین کی آزادی کے لیے مسلمان دنیا بھر میں متحد ہیں۔

امام خمینی ؒ کی اس اپیل پر آج بھی دنیا بھر میں بالخصوص فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں بھی رمضان کے آخری جمعہ یوم القدس منایا جاتا ہے۔

یہ دن مسلمانوں کے لیے اتحاد کی علامت بن چکا ہے اور دنیا بھرکے حریت پسندوں کے لیے ایک مرکزی دن کی حیثیت اختیارکرچکا ہے۔

اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ دنیا کے مسلمان اور آزادی پسند افراد فلسطین کے مسئلے کو زندہ رکھیں اور مقبوضہ فلسطین و القدس کی آزادی کے لیے اپنی آواز بلندکریں۔

امام خمینی نے اپنے فرامین میں لوگوں کو تاکید کی کہ یوم القدس ایک عام دن نہیں۔ انھوں نے اس دن کو ظالم طاقتوں کی نابودی کا دن قرار دیا۔ انھوںنے یوم القدس کو فلسطین کی آزادی کا دن قرار دیا اورکہا کہ اسرائیل عالم اسلام کے قلب میں ایک خنجر کی مانند ہے۔

گزشتہ کئی دہائیوں سے یوم القدس دنیا کے مختلف ممالک میں جلسوں، ریلیوں اورکانفرنسوں کی صورت میں منایا جاتا رہا ہے، تاہم 7 اکتوبر 2023 کے بعد اس دن کی اہمیت میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

اس تاریخ کو حماس کی جانب سے اسرائیل کے خلاف شروع ہونے والی بڑی دفاعی کارروائی جسے طوفان الاقصیٰ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، نے پورے خطے کی سیاست کو بدل کر رکھ دیا۔

اس کے بعد غزہ میں جاری جنگ نے دنیا کو ایک مرتبہ پھر فلسطین کے مسئلے کی سنگینی کا احساس دلایا۔7 اکتوبر کے بعد سامنے آنے والی صورتحال نے یہ واضح کر دیا کہ فلسطین کا مسئلہ محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ ایک انسانی اور عالمی مسئلہ ہے۔

غزہ میں جاری جنگ، ہزاروں شہریوں کی شہادت اور انسانی بحران نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یوم القدس اب پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکا ہے کیونکہ یہ دن صرف فلسطینیوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار نہیں بلکہ ظلم کے خلاف اجتماعی آواز بلند کرنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔

حالیہ رمضان المبارک میں آنے والا یوم القدس جوکہ 23رمضان المبارک کو دنیا بھر میں منایا گیا۔ ایسے حالات میں آیا کہ جب امریکا و اسرائیل اور مغربی دنیا نے فلسطین اور لبنان میں نسل کشی کے بعد اب ایران کا رخ کر رکھا ہے۔

ایران خطے میں گریٹر اسرائیل کے راستے کا ایک مضبوط پتھر اور رکاوٹ ہے جسے امریکا و اسرائیل اور ان کے حواری گرانا چاہتے ہیں، اگر آج ایران کو شکست ہوئی تو پھر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ فلسطین پر اسرائیل کا مکمل قبضہ آسان ہوجائے گا اور ساتھ ساتھ خطے میں دیگر ممالک میں بھی گریٹر اسرائیل کی سرحدیں کھینچ دی جائیں گی۔

یوم القدس کا اصل پیغام مزاحمت، استقامت اور عوامی بیداری ہے۔ فلسطینی عوام نے گزشتہ کئی دہائیوں میں جس صبر اور حوصلے کے ساتھ اپنی سرزمین کے دفاع کی جدوجہد جاری رکھی ہے، وہ دنیا کے مظلوم عوام کے لیے ایک مثال بن چکی ہے۔

غزہ اور مغربی کنارے کے عوام سمیت لبنان کے عوام نے یہ ثابت کیا ہے کہ محدود وسائل کے باوجود آزادی کی جدوجہد کو زندہ رکھا جا سکتا ہے۔ آج غزہ وفلسطین سمیت لبنان اور یمن کے عوام نے القدس کی آزادی کے لیے بیش بہا قربانیاں دی ہیں۔

حال ہی میں ان قربانیوں میں ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور ان کے رفقاء اور اہل و عیال نے بھی اس راستے میں جام شہادت نوش کرلیا ہے۔

یہ ایک روشن حقیقت ہے کہ کسی بھی تحریک کی کامیابی صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ عوامی شعور اور عالمی رائے عامہ میں بھی طے ہوتی ہے۔ 7 اکتوبر کے بعد دنیا کے مختلف ممالک میں فلسطین کے حق میں بڑے پیمانے پر مظاہرے دیکھنے میں آئے۔

یورپ، امریکا، ایشیا اور افریقہ کے کئی شہروں میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہارکیا۔ یہ عالمی بیداری اس بات کا ثبوت ہے کہ یوم القدس کا پیغام سرحدوں سے بالاتر ہو چکا ہے۔

عوام کا کردار اس جدوجہد میں انتہائی اہم ہے۔ حکومتوں کی پالیسیوں کے باوجود عوامی دباؤ اکثر بین الاقوامی سیاست کا رخ بدل دیتا ہے۔ اسی لیے یوم القدس کو منانے کا مقصد صرف احتجاج نہیں بلکہ شعور پیدا کرنا، نئی نسل کو مسئلہ فلسطین سے آگاہ کرنا اور عالمی ضمیرکو بیدار رکھنا بھی ہے۔

جب دنیا کے مختلف ممالک میں لاکھوں افراد فلسطین کے حق میں آواز بلند کرتے ہیں تو یہ پیغام واضح طور پر سامنے آتا ہے کہ حق کی جدوجہد کو دبایا نہیں جا سکتا۔ یہ بات ہمارے تمام شہداء نے تکرارکی ہے کہ حق کی آوازکو دبایا نہیں جا سکتا۔

آج یوم القدس حق کی آواز ہے جو گونج رہی ہے اور دنیا کے با ضمیر انسانوں کو بیدارکرنے کا کام کر رہی ہے، اگرچہ آج ہمارے درمیان امام خمینی اور امام خامنہ ای کی شخصیات موجود نہیں ہیں لیکن ان کے افکار موجود ہیں۔

ان کا راستہ ہمارے لیے واضح ہے، اگر آج اس راستے میں اسماعیل ہانیہ، یحیٰ سنوار، محمد ضیف اور حسن نصر اللہ سمیت ہاشم صفی الدین اور دیگر اہم رہنماؤںنے اپنی جان قربان کر دی ہے لیکن پھر بھی راستہ وہی ہے اور ہدف بھی واضح اور دقیق ہے کہ اس خون کی برکت سے اسرائیل کی نابودی۔

یوم القدس حقیقت میں شہدائے اسلام کے خون کا تسلسل ہے۔یہی وہ پس منظر ہے جس میں یوم القدس کی اہمیت کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ آج یوم القدس صرف ایک مذہبی یا سیاسی دن نہیں بلکہ عالمی ضمیرکی بیداری کا دن بن چکا ہے۔

یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ فلسطین کی سرزمین پر جاری ظلم کے خلاف خاموش رہنا دراصل ظلم کا ساتھ دینے کے مترادف ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ آج جب دنیا ایک نئے سیاسی دور سے گزر رہی ہے اور خطے میں طاقت کا توازن تیزی سے بدل رہا ہے، ایسے میں یوم القدس کا پیغام پہلے سے کہیں زیادہ واضح ہے۔

ظلم کے خلاف مزاحمت، مظلوموں کے ساتھ یکجہتی اور انصاف کے لیے اجتماعی جدوجہد جاری رکھی جائے یہی یوم القدس اور امام خمینی کا عالمگیر پیغام ہے۔ پاکستان سمیت مسلم دنیا کے ممالک میں یوم القدس کی تقریبات خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔

پاکستان میں یہ دن تمام شہروں میں بھرپور مذہبی عقیدت اور جذبہ کے ساتھ منایا جاتا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستان کے غیور عوام فلسطین اور مزاحمت کے ساتھ ہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

پشاور، عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم کے انکلوژرز 1992 ورلڈ کپ کے ہیروز کے نام سے منسوب کرنے کی منظوری

Published

on



پشاور:

خیبرپختونخوا حکومت نے پشاور کے عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم کے انکلوژرز کو 1992 کے عالمی کپ میں پاکستان کو تاریخی فتح دلانے والی قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کے نام سے منسوب کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

محکمہ کھیل کی جانب سے اس سلسلے میں سمری صوبائی حکومت کو ارسال کی گئی تھی جسے باقاعدہ طور پر منظور کر لیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق ٹی ٹوئنٹی کپ کے اختتام کے بعد اسٹیڈیم کے مختلف انکلوژرز کو قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کے ناموں سے منسوب کرنے کا عمل شروع کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ 1992 کے عالمی کپ میں پاکستان کی قیادت کپتان عمران خان نے کی تھی جبکہ فاتح ٹیم میں جاوید میانداد، وسیم اکرم، عاقب جاوید، انضمام الحق، سلیم ملک، اعجاز احمد، عامر سہیل، رمیز راجہ، مشتاق احمد، اقبال سکندر، معین خان، زاہد فضل اور وسیم حیدر شامل تھے۔

ڈائریکٹر جنرل کھیل تاشفین حیدر کے مطابق عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم کے انکلوژرز کو 1992 کے عالمی کپ کی فاتح ٹیم کے کھلاڑیوں کے ناموں سے منسوب کیا جا رہا ہے جس کی صوبائی حکومت سے منظوری مل چکی ہے اور ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کے بعد اس منصوبے پر باقاعدہ کام شروع کر دیا جائے گا۔





Source link

Continue Reading

Trending