Connect with us

Today News

کراچی؛ 25 لاکھ روپے کی ڈکیتی کی واردات کا ڈراپ سین ہوگیا

Published

on



نیو کراچی انڈسٹریل ایریا میں 25 لاکھ روپے کی ڈکیتی کی واردات کا ڈراپ سین ہوگیا، ڈکیتی کا دعویٰ جھوٹا نکلا۔

تفصیلات کے مطابق 10 مارچ کو سعد حسن نامی مدعی کی جانب سے اطلاع دی گئی کہ پلاٹ نمبر بی انتیس  اتحاد انٹرپرائز کے قریب ستارہ پارک کے مقام پر 2 موٹر سائیکلوں پر سوار 4 مسلح ملزمان ان سے 25 لاکھ روپے نقدی چھین کر فرار ہوگئے ہیں۔

اطلاع پر نیو کراچی انڈسٹریل ایریا پولیس نے واقعے کا مقدمہ نمبر 132/2026 بجرم دفعہ 397/34 تعزیرات پاکستان درج کرکے تحقیقات کا آغاز کیا۔ دورانِ تحقیقات پولیس نے جائے وقوعہ اور واقعے کے مختلف پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جس کے بعد تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ مبینہ ڈکیتی کا واقعہ دراصل جھوٹا اور من گھڑت تھا۔

ایس ایس پی سینٹرل ڈاکٹر عمران کے مطابق تحقیقات کے دوران مدعی سعد حسن نے اعتراف کیا کہ اس نے اپنے سیٹھ اور خالو ادریس کو 25 لاکھ روپے کی واجب الادا رقم ادا نہ کرنے کے لیے ڈکیتی کا جھوٹا ڈرامہ رچایا۔ اس نے ستارہ پارک کے قریب اپنی موٹر سائیکل گرا کر جھوٹی واردات کا تاثر دینے کی کوشش کی اور پولیس کو غلط اطلاع دی۔

پولیس کی مؤثر اور پیشہ ورانہ تحقیقات کے نتیجے میں 48 گھنٹوں کے اندر واقعہ کا ڈراپ سین کر دیا گیا اور حقیقت سامنے آگئی کہ ایسی کوئی ڈکیتی پیش نہیں آئی تھی، مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ایران کیخلاف جنگ امریکی معیشت پر کتنی بھاری پڑے گی؟

Published

on


ایران کے خلاف بڑی جنگ امریکی معیشت پر بہت بھاری پڑ سکتی ہے۔

ماہرینِ معاشیات کے مطابق اس کے اثرات صرف فوجی اخراجات تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ تیل کی قیمت، عالمی تجارت اور امریکی بجٹ سب متاثر ہو سکتے ہیں۔

امریکا پہلے ہی دفاع پر سالانہ تقریباً 800–900 ارب ڈالر خرچ کرتا آرہا ہے۔ ایران کے ساتھ بڑی اور طویل مدتی جنگ سے یہ اخراجات کھربوں ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں۔

عراق جنگ پر امریکا کو اندازاً 2 کھرب ڈالر سے زیادہ خرچ کرنا پڑا تھا اور افغانستان کے وقت مجموعی لاگت بھی 2 کھرب ڈالر سے زائد رہی۔

ماہرین کا خیال ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ اس سے بھی مہنگی ہو سکتی ہے کیونکہ ایران کی فوج اور میزائل طاقت زیادہ مضبوط ہے۔

آبنائے ہرمز دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی سپلائی کا راستہ ہے۔ اگر جنگ کے دوران ایران اس راستے کو بند رکھتا ہے تو عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں 150–200 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہیں۔

اس کے اثرات امریکا میں مہنگائی، پیٹرول اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ اور امریکی قرض اور بجٹ پر دباؤ شامل ہے جبکہ امریکا پہلے ہی تقریباً 34 ٹریلین ڈالر کے قومی قرض کا سامنا کر رہا ہے۔

جنگ کے نتیجے میں امریکا کا دفاعی بجٹ بھی بڑھے گا جو قرض مزید بڑھا سکتا ہے۔ حکومت کو ٹیکس بڑھانے یا مزید قرض لینے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

کراچی میں طبی فضلے کی غیر محفوظ تلفی سے خطرناک بیماریاں پھیلنے لگیں

Published

on



کراچی:

اسپتالوں سے نکلنے والا 10 فیصد طبی فضلہ انتہائی خطرناک، ایک بستر سے یومیہ ڈھائی کلو طبی فضلہ نکلتا ہے جس میں ایک کلو انفیکشن پھیلانے والا فضلہ شامل ہوتا ہے۔

پاکستان کے کسی بھی سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کے بستروں کے نکلنے والے طبی فضلے کے اعداد و شمار دستیاب ہی نہیں جس سے یہ معلوم کیا جاسکے کہ ایک مریض کے بستر سے یومیہ کتنا طبی فضلہ نکلتا ہے اور نکلنے والے طبی فضلے میں کتنے فیصد فضلہ انفیکیشن پھیلانے کا باعث بن رہا ہے اور انفیکشن پھیلانے والا طبی فضلہ یومیہ، ماہانہ کتنے فیصد صحت مند افراد کو متاثرکر رہا ہے۔

صوبائی محکمہ صحت اوربلدیہ عظمی کراچی کے ماتحت اسپتالوں میں ایسے اعداد و شمار ہی نہیں جبکہ انفیکیشن کنٹرول ڈیزیزکے ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ایک مریض کے بستر سے یومیہ ڈھائی سے تین کلوطبی فضلہ نکلتا ہے اس میں سے ایک کلوانفیکشن پھیلانے والا طبی فضلہ شامل ہوتا ہے جس میں مریض کا بلغم، استعمال شدہ سرنجز، استعمال شدہ ڈراپس سیٹ، کینولا، بلڈ بیگز، یورین کا فضلہ بھی شامل ہوتا ہے۔

کراچی کے 6 ضلعی اسپتالوں میں طبی فضلے کو سائنسی بنیادوں پر ٹھکانے لگانے کے لئے کوئی انڈیکیٹر مشین سرے سے موجود ہی نہیں جبکہ اندرون سندھ صوبہ تمام سرکاری اسپتالوں سے نکلنے والاطبی فضلے کو سائنسی بنیادوں پر تلف کرنے کے لئے کوئی مشین دستیاب نہیں تاہم 2012 میں طبی فضلے کو تلف کرنے کیلیے پہلی بار ڈیپ ہیٹ اسٹیلائزیشن پلانٹ لگائے گئے تھے جو صرف 5 ٹیچنگ اسپتالوں کو فراہم کئے گئے تھے ان میں سے بیشتر غیر فعال ہوگئے تاہم سول اسپتال کراچی میں مکمل فعال ہے لیکن جناح اسپتال میں اس وقت خراب پڑا ہے جبکہ دیگر ٹیچنگ اسپتالوں کے ڈیپ پیٹ اسٹیلائزیشن بھی عدم توجہی کی وجہ سے غیر فعال پڑے ہیں۔

مریضوں کے بستروں کے نکلنے والے طبی فضلے کوڈیپ ہیٹ اسٹیلائزیشن پلانٹ میں ڈال کر ایک ہزار ڈگری سینٹی گریڈ پرتلف کیا جاتا ہے جس میں تمام اقسام کے بیکٹریا اوردیگرجراثیم تلف ہوجاتے ہیں جبکہ محکمہ صحت سندھ کراچی کے تمام ضلعی اسپتالوں میں طبی فضلے کو سائنسی بنیادوں پر ٹھکانے لگانے کے کوئی انتظامات نہیں اسی طرح کے ایم سی کے ماتحت چلنے والے سرکاری اسپتالوں میں بھی اسی صورتحال کا سامنا ہے۔

ان اسپتالوں سے نکلنے والا طبی فضلہ کہاں جارہا ہے محکمے کے افسران اس بات سے لاعلم ہیں۔ معلوم ہوا ہے بعض اسپتالوں میں خاکروبوں کے ذریعے ایک منظم گروہ اس طبی فضلے کو اٹھواکر ری سائیکلینگ بھی کرایا جاتا ہے، اس وقت کراچی میں محکمہ صحت کے ماتحت چلنے والے اسپتالوں میں طبی فضلے کوسائنسی بنیادوں پر تلف کرنے کیلیے ڈیپ ہیٹ پلانٹ موجود ہی نہیں۔

معلوم ہوا ہے کہ ان اسپتالوں کے بعض اہلکاروں کی مدد سے اسپتالوں سے نکلنے والے طبی فضلے کونامعلوم ٹھیکیداروں کے ذریعے نامعلوم افراد سے اٹھوایا جاتا ہے ہے اور نہ جانے اس فضلے کوکہاں پھینکا جاتا ہے اس غیر ذمہ داران اقدام سے طبی فضلے کوغیر سائنسی بنیادوں پر ٹھکانے لگانے سے مختلف امراض جنم لیتے ہیں۔

دریں اثناء عالمی ادارہ صحت کے مطابق اسپتال کے ایک مریض کے ایک بستر سے 10 فیصد طبی فضلہ انتہائی خطرناک نکلتا ہے جومختلف انفیکیشن کا باعث بنتا ہے جبکہ باقی 90 فیصد فضلہ نارمل تصورکیاجاتا ہے،عالمی ادارہ صحت کی مطابق افر10فیصد انفیکیشن پھیلانے والے فضلے کو اگرسائنسی بنیادوں پر ٹھکانے نہ لگایا جائے تو پھر 100 فیصد طبی فضلہ انتہائی خطرناک ہوجاتا ہے۔

حکومت سندھ نے 2005 میں سرکاری، غیر سرکاری اسپتالوں، لیبارٹریوں اور ڈسپنسریوں سے نکلنے والے طبی فضلے کوسائنسی بنیادوں پر ٹھکانے لگانے کیلئے اسپتال ویسٹ مینجمنٹ رولز بنائے تھے، اسپتال ویسٹ مینجمنٹ رولز اور تحفظ ماحولیات ایکٹ 1997 ترمیم شدہ 2012 کے تحت محکمہ ماحولیات کے عملہ کو خصوصی اختیارات بھی دیے گئے تھے۔

ان رولزکے مطابق اسپتالوں سے نکلنے والے طبی فضلے کو سائنسی بنیادوں پر ٹھکانے لگانے اور محفوظ و مناسب جگہوں پر ڈمپ کیا جائے لیکن یہاں صورتحال اس کے برعکس ہے، پاکستان میں قانون کے تحت اسپتالوں، دواخانوں، لیبارٹریوں، زچہ خانوں اوردیگر طبی خدمات فراہم کرنے والے ادارے ہرقسم کے مہلک، معتدی طبی مادوں کومجوزہ سائنسی طریقوں سے ٹھکانے لگانے کے پابند ہیں لیکن صورتحال اس کے برعکس ہے، اسپتالوں کے طبی فضلے کوٹھکانے لگانے کیلیے حکومت نے ہاسپٹل منیجمینٹ گائیڈ لائنز بھی جاری کی ہیں تاہم اسے نظر انداز کیا جاتا ہے۔

اسپتالوں سے نکلنے والے کم اور چھوٹے طبی فضلے کو سائنسی بنیادوں پر ٹھکانے لگانے کا دوسرا طریقہ آٹوکلیو ہے جس میں ایک خاص درجہ حرارت کے ساتھ نمی کے ذریعے طبی فضلے کے خطرناک جراثیم کوتلف کیا جاتا ہے، طبی فضلے کو مجوزہ طریقوں سے تلف کرنے کے بجائے عام گھریلو کوڑا کرکٹ کی طرح پھینکنے سے ماحولیاتی آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہوتا ہے اور معاشرے میں ایڈز، ہپاٹائٹس اور ٹائیفائیڈ جیسی بیماریاں جنم لے رہی ہیں۔

دنیا کے تمام ممالک اس مسائل سے دوچار ہیں مگرپاکستان میں یہ مسئلہ زیادہ گھمیر صورتحال اختیارکرچکا ہے۔ قواعد کے مطابق اسپتال میں ڈسپوزل ایبل استعمال ہونے والی اشیا کو سائنسی بنیادوں پر تلف کرنا ضروری ہے اور اسپتال کے ہر سیکشن میں انجکشن کٹرکا ہونا بھی لازم ہے لیکن لیبارٹریز اور بیشترپرائیویٹ اسپتالوں میں صورتحال مختلف ہے، پرائیویٹ اسپتالوں کاآلودہ ویسٹ تلف کرنے کے بجائے اس کوندی نالوں میں بہایاجارہا ہے جس سے آلودگی کے ساتھ ساتھ مضر صحت نقصانات بڑھ رہیں ہیں۔

واضع رہے کہ سرکاری اسپتالوں سے نکلنے والے طبی فضلے کو بیشتر سرکاری اسپتالوں میں غیر سائنسی بنیادوں پر ٹھکانے لگایا جارہا ہے، بیشتر اسپتالوں میں کچرا جلانے والی انسیلئیٹر مشینین بھی ناکارہ پڑی ہیں جس کی وجہ سے ان سرکاری اسپتالوں سے نکلنے والا طبی فضلے کو منظم انداز میں مافیا فروخت کرنے میں مصروف ہے، اسپتالوں سے نکلنے والے طبی فضلے کو منظم انداز میں جمع کیا جاتا ہے اور اسپتالوں سے ٹرک کے ذریعے رات کے اوقات میں مخصوص مقامات پر لے جایا جاتا ہے جہاں تمام اسپتالوں کا طبی فضلہ جمع کیا جاتا ہے اور فروخت کیا جاتا ہے۔

پاکستان انفیکشن سوسائٹی کے سربراہ پروفیسر رفیق خانانی نے بتایا کہ طبی فضلے کو کھلے عام یا ابادی کے علاقوں میں پھینکنے یا جلانے سے مختلف انفیکشن کی وجہ جراثیم بھی جنم لیتے ہیں، پاکستان میں ایسی کوئی گائیڈ لائن نہیں جس سے اسپتالوں سے نکلنے والے طبی فضلے کے اعداد وشمار اکٹھے کیے جاسکیں۔ مریضوں کے بستر سے نکلنے والے طبی فضلے میں مختلف بیکٹریا اوروائرس موجود ہوتے ہیں۔

سندھ گورنمنٹ میرپور خاص کے میڈیکل سپرنٹینڈنٹ اور ماہر صحت ڈاکٹر پیر غلام نبی جیلانی شاہ نے بتایا کہ طبی فضلے کو سائنسی بنیادوں پر تلف کرنا لازمی ہوتا ہے۔ انفلوائینزا وائرس، ٹی بی کا جرثومہ، ہیپاٹائٹس بی، سی، ایچ آئی وی سمیت دیگر وائرس ایک سے دوسرے صحت مند افراد میں باآسانی منتقل ہونے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں، طبی فضلے کے نقصانات لاپرواہی کی وجہ سے سامنے آرہے ہیں اس کے لیے عوام اور اسپتالوں کے طبی عملے میں آگاہی ضروری ہے، طبی فضلے کو غیر سائنسی بنیادوں پر ٹھکانے لگانے سے مختلف جراثیم اور وائرس ایک سے دوسری جگہ پھیلتے یا منتقل ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں عام کچرے اورطبی فضلے کو غیر سائنسی بنیادوں پر پھینکنے کی وجہ سے شہر میں مختلف امراض اور بیماریوں میں ہولناک اضافہ ہو رہا ہے، صوبائی محکمہ صحت میں 60 سال بعد بھی اسپتالوں سے طبی فضلے کے اعداد و شمار جمع کرنے کیلیے کوئی ادارہ ہے اور نہ ہی فوکل پرسن مقررکیا گیا۔





Source link

Continue Reading

Today News

ایران کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، روس

Published

on


روس نے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے تناظر میں کہا ہے کہ ایران کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زخارووا نے خطے میں فوجی کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

وزارت نے کہا ہے کہ کسی بھی ملک کو اپنی خودمختاری اور سلامتی کے دفاع کا حق حاصل ہوتا ہے۔ ایران کے خلاف بڑھتی ہوئی فوجی کارروائیاں خطے میں بڑے تصادم کا خطرہ بڑھا سکتی ہیں۔

روس نے فریقین سے کشیدگی کم کرنے اور سفارتی راستہ اختیار کرنے کی اپیل بھی کی ہے۔

واضح رہے کہ ایران اور روس کے درمیان حالیہ برسوں میں تعلقات مضبوط ہوئے ہیں خصوصاً دفاعی اور فوجی تعاون اور توانائی اور اقتصادی منصوبوں کے حوالے سے۔





Source link

Continue Reading

Trending