Connect with us

Today News

South Africa is the stupidest team of T20 World Cup 2026: Michael Vaughan

Published

on


سابق انگلش کپتان مائیکل وان نے جنوبی افریقا کی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 میں کارکردگی پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے ٹورنامنٹ کی بے وقوف ترین ٹیم قرار دے دیا۔

ان کے مطابق جنوبی افریقا نے سپر ایٹ مرحلے میں ایسے نتائج حاصل کیے جنہوں نے بالآخر ٹورنامنٹ کا رخ بدل دیا۔

جنوبی افریقا نے گروپ مرحلے اور سپر ایٹ دونوں میں شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے تمام میچ جیتے اور ناقابلِ شکست رہتے ہوئے سیمی فائنل تک رسائی حاصل کی۔

تاہم کولکتہ کے ایڈن گارڈنز میں کھیلے گئے سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ نے جنوبی افریقا کو نو وکٹوں سے شکست دے کر ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا۔

مائیکل وان کا کہنا تھا کہ سپر ایٹ میں ویسٹ انڈیز کے خلاف جنوبی افریقا کی جیت نے بالواسطہ طور بھارتی ٹیم کو ٹورنامنٹ میں برقرار رہنے کا موقع دیا۔

ان کے مطابق اگر جنوبی افریقی ٹیم ویسٹ انڈیز سے ہار جاتی تو بھارت سپر ایٹ میں ہی باہر ہو سکتا تھا۔

وان نے مزید کہا کہ بعد میں بھارت نے زمبابوے اور ویسٹ انڈیز کو شکست دے کر مقابلے میں اپنی پوزیشن مضبوط کرلی۔

ان کے مطابق بڑے ٹورنامنٹس جیتنے کے لیے اکثر مضبوط ٹیموں کو ابتداء میں ہی مقابلے سے باہر کرنا ایک مؤثر حکمت عملی ثابت ہو سکتی ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

کراچی میں طبی فضلے کی غیر محفوظ تلفی سے خطرناک بیماریاں پھیلنے لگیں

Published

on



کراچی:

اسپتالوں سے نکلنے والا 10 فیصد طبی فضلہ انتہائی خطرناک، ایک بستر سے یومیہ ڈھائی کلو طبی فضلہ نکلتا ہے جس میں ایک کلو انفیکشن پھیلانے والا فضلہ شامل ہوتا ہے۔

پاکستان کے کسی بھی سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کے بستروں کے نکلنے والے طبی فضلے کے اعداد و شمار دستیاب ہی نہیں جس سے یہ معلوم کیا جاسکے کہ ایک مریض کے بستر سے یومیہ کتنا طبی فضلہ نکلتا ہے اور نکلنے والے طبی فضلے میں کتنے فیصد فضلہ انفیکیشن پھیلانے کا باعث بن رہا ہے اور انفیکشن پھیلانے والا طبی فضلہ یومیہ، ماہانہ کتنے فیصد صحت مند افراد کو متاثرکر رہا ہے۔

صوبائی محکمہ صحت اوربلدیہ عظمی کراچی کے ماتحت اسپتالوں میں ایسے اعداد و شمار ہی نہیں جبکہ انفیکیشن کنٹرول ڈیزیزکے ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ایک مریض کے بستر سے یومیہ ڈھائی سے تین کلوطبی فضلہ نکلتا ہے اس میں سے ایک کلوانفیکشن پھیلانے والا طبی فضلہ شامل ہوتا ہے جس میں مریض کا بلغم، استعمال شدہ سرنجز، استعمال شدہ ڈراپس سیٹ، کینولا، بلڈ بیگز، یورین کا فضلہ بھی شامل ہوتا ہے۔

کراچی کے 6 ضلعی اسپتالوں میں طبی فضلے کو سائنسی بنیادوں پر ٹھکانے لگانے کے لئے کوئی انڈیکیٹر مشین سرے سے موجود ہی نہیں جبکہ اندرون سندھ صوبہ تمام سرکاری اسپتالوں سے نکلنے والاطبی فضلے کو سائنسی بنیادوں پر تلف کرنے کے لئے کوئی مشین دستیاب نہیں تاہم 2012 میں طبی فضلے کو تلف کرنے کیلیے پہلی بار ڈیپ ہیٹ اسٹیلائزیشن پلانٹ لگائے گئے تھے جو صرف 5 ٹیچنگ اسپتالوں کو فراہم کئے گئے تھے ان میں سے بیشتر غیر فعال ہوگئے تاہم سول اسپتال کراچی میں مکمل فعال ہے لیکن جناح اسپتال میں اس وقت خراب پڑا ہے جبکہ دیگر ٹیچنگ اسپتالوں کے ڈیپ پیٹ اسٹیلائزیشن بھی عدم توجہی کی وجہ سے غیر فعال پڑے ہیں۔

مریضوں کے بستروں کے نکلنے والے طبی فضلے کوڈیپ ہیٹ اسٹیلائزیشن پلانٹ میں ڈال کر ایک ہزار ڈگری سینٹی گریڈ پرتلف کیا جاتا ہے جس میں تمام اقسام کے بیکٹریا اوردیگرجراثیم تلف ہوجاتے ہیں جبکہ محکمہ صحت سندھ کراچی کے تمام ضلعی اسپتالوں میں طبی فضلے کو سائنسی بنیادوں پر ٹھکانے لگانے کے کوئی انتظامات نہیں اسی طرح کے ایم سی کے ماتحت چلنے والے سرکاری اسپتالوں میں بھی اسی صورتحال کا سامنا ہے۔

ان اسپتالوں سے نکلنے والا طبی فضلہ کہاں جارہا ہے محکمے کے افسران اس بات سے لاعلم ہیں۔ معلوم ہوا ہے بعض اسپتالوں میں خاکروبوں کے ذریعے ایک منظم گروہ اس طبی فضلے کو اٹھواکر ری سائیکلینگ بھی کرایا جاتا ہے، اس وقت کراچی میں محکمہ صحت کے ماتحت چلنے والے اسپتالوں میں طبی فضلے کوسائنسی بنیادوں پر تلف کرنے کیلیے ڈیپ ہیٹ پلانٹ موجود ہی نہیں۔

معلوم ہوا ہے کہ ان اسپتالوں کے بعض اہلکاروں کی مدد سے اسپتالوں سے نکلنے والے طبی فضلے کونامعلوم ٹھیکیداروں کے ذریعے نامعلوم افراد سے اٹھوایا جاتا ہے ہے اور نہ جانے اس فضلے کوکہاں پھینکا جاتا ہے اس غیر ذمہ داران اقدام سے طبی فضلے کوغیر سائنسی بنیادوں پر ٹھکانے لگانے سے مختلف امراض جنم لیتے ہیں۔

دریں اثناء عالمی ادارہ صحت کے مطابق اسپتال کے ایک مریض کے ایک بستر سے 10 فیصد طبی فضلہ انتہائی خطرناک نکلتا ہے جومختلف انفیکیشن کا باعث بنتا ہے جبکہ باقی 90 فیصد فضلہ نارمل تصورکیاجاتا ہے،عالمی ادارہ صحت کی مطابق افر10فیصد انفیکیشن پھیلانے والے فضلے کو اگرسائنسی بنیادوں پر ٹھکانے نہ لگایا جائے تو پھر 100 فیصد طبی فضلہ انتہائی خطرناک ہوجاتا ہے۔

حکومت سندھ نے 2005 میں سرکاری، غیر سرکاری اسپتالوں، لیبارٹریوں اور ڈسپنسریوں سے نکلنے والے طبی فضلے کوسائنسی بنیادوں پر ٹھکانے لگانے کیلئے اسپتال ویسٹ مینجمنٹ رولز بنائے تھے، اسپتال ویسٹ مینجمنٹ رولز اور تحفظ ماحولیات ایکٹ 1997 ترمیم شدہ 2012 کے تحت محکمہ ماحولیات کے عملہ کو خصوصی اختیارات بھی دیے گئے تھے۔

ان رولزکے مطابق اسپتالوں سے نکلنے والے طبی فضلے کو سائنسی بنیادوں پر ٹھکانے لگانے اور محفوظ و مناسب جگہوں پر ڈمپ کیا جائے لیکن یہاں صورتحال اس کے برعکس ہے، پاکستان میں قانون کے تحت اسپتالوں، دواخانوں، لیبارٹریوں، زچہ خانوں اوردیگر طبی خدمات فراہم کرنے والے ادارے ہرقسم کے مہلک، معتدی طبی مادوں کومجوزہ سائنسی طریقوں سے ٹھکانے لگانے کے پابند ہیں لیکن صورتحال اس کے برعکس ہے، اسپتالوں کے طبی فضلے کوٹھکانے لگانے کیلیے حکومت نے ہاسپٹل منیجمینٹ گائیڈ لائنز بھی جاری کی ہیں تاہم اسے نظر انداز کیا جاتا ہے۔

اسپتالوں سے نکلنے والے کم اور چھوٹے طبی فضلے کو سائنسی بنیادوں پر ٹھکانے لگانے کا دوسرا طریقہ آٹوکلیو ہے جس میں ایک خاص درجہ حرارت کے ساتھ نمی کے ذریعے طبی فضلے کے خطرناک جراثیم کوتلف کیا جاتا ہے، طبی فضلے کو مجوزہ طریقوں سے تلف کرنے کے بجائے عام گھریلو کوڑا کرکٹ کی طرح پھینکنے سے ماحولیاتی آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہوتا ہے اور معاشرے میں ایڈز، ہپاٹائٹس اور ٹائیفائیڈ جیسی بیماریاں جنم لے رہی ہیں۔

دنیا کے تمام ممالک اس مسائل سے دوچار ہیں مگرپاکستان میں یہ مسئلہ زیادہ گھمیر صورتحال اختیارکرچکا ہے۔ قواعد کے مطابق اسپتال میں ڈسپوزل ایبل استعمال ہونے والی اشیا کو سائنسی بنیادوں پر تلف کرنا ضروری ہے اور اسپتال کے ہر سیکشن میں انجکشن کٹرکا ہونا بھی لازم ہے لیکن لیبارٹریز اور بیشترپرائیویٹ اسپتالوں میں صورتحال مختلف ہے، پرائیویٹ اسپتالوں کاآلودہ ویسٹ تلف کرنے کے بجائے اس کوندی نالوں میں بہایاجارہا ہے جس سے آلودگی کے ساتھ ساتھ مضر صحت نقصانات بڑھ رہیں ہیں۔

واضع رہے کہ سرکاری اسپتالوں سے نکلنے والے طبی فضلے کو بیشتر سرکاری اسپتالوں میں غیر سائنسی بنیادوں پر ٹھکانے لگایا جارہا ہے، بیشتر اسپتالوں میں کچرا جلانے والی انسیلئیٹر مشینین بھی ناکارہ پڑی ہیں جس کی وجہ سے ان سرکاری اسپتالوں سے نکلنے والا طبی فضلے کو منظم انداز میں مافیا فروخت کرنے میں مصروف ہے، اسپتالوں سے نکلنے والے طبی فضلے کو منظم انداز میں جمع کیا جاتا ہے اور اسپتالوں سے ٹرک کے ذریعے رات کے اوقات میں مخصوص مقامات پر لے جایا جاتا ہے جہاں تمام اسپتالوں کا طبی فضلہ جمع کیا جاتا ہے اور فروخت کیا جاتا ہے۔

پاکستان انفیکشن سوسائٹی کے سربراہ پروفیسر رفیق خانانی نے بتایا کہ طبی فضلے کو کھلے عام یا ابادی کے علاقوں میں پھینکنے یا جلانے سے مختلف انفیکشن کی وجہ جراثیم بھی جنم لیتے ہیں، پاکستان میں ایسی کوئی گائیڈ لائن نہیں جس سے اسپتالوں سے نکلنے والے طبی فضلے کے اعداد وشمار اکٹھے کیے جاسکیں۔ مریضوں کے بستر سے نکلنے والے طبی فضلے میں مختلف بیکٹریا اوروائرس موجود ہوتے ہیں۔

سندھ گورنمنٹ میرپور خاص کے میڈیکل سپرنٹینڈنٹ اور ماہر صحت ڈاکٹر پیر غلام نبی جیلانی شاہ نے بتایا کہ طبی فضلے کو سائنسی بنیادوں پر تلف کرنا لازمی ہوتا ہے۔ انفلوائینزا وائرس، ٹی بی کا جرثومہ، ہیپاٹائٹس بی، سی، ایچ آئی وی سمیت دیگر وائرس ایک سے دوسرے صحت مند افراد میں باآسانی منتقل ہونے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں، طبی فضلے کے نقصانات لاپرواہی کی وجہ سے سامنے آرہے ہیں اس کے لیے عوام اور اسپتالوں کے طبی عملے میں آگاہی ضروری ہے، طبی فضلے کو غیر سائنسی بنیادوں پر ٹھکانے لگانے سے مختلف جراثیم اور وائرس ایک سے دوسری جگہ پھیلتے یا منتقل ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں عام کچرے اورطبی فضلے کو غیر سائنسی بنیادوں پر پھینکنے کی وجہ سے شہر میں مختلف امراض اور بیماریوں میں ہولناک اضافہ ہو رہا ہے، صوبائی محکمہ صحت میں 60 سال بعد بھی اسپتالوں سے طبی فضلے کے اعداد و شمار جمع کرنے کیلیے کوئی ادارہ ہے اور نہ ہی فوکل پرسن مقررکیا گیا۔





Source link

Continue Reading

Today News

ایران کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، روس

Published

on


روس نے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے تناظر میں کہا ہے کہ ایران کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زخارووا نے خطے میں فوجی کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

وزارت نے کہا ہے کہ کسی بھی ملک کو اپنی خودمختاری اور سلامتی کے دفاع کا حق حاصل ہوتا ہے۔ ایران کے خلاف بڑھتی ہوئی فوجی کارروائیاں خطے میں بڑے تصادم کا خطرہ بڑھا سکتی ہیں۔

روس نے فریقین سے کشیدگی کم کرنے اور سفارتی راستہ اختیار کرنے کی اپیل بھی کی ہے۔

واضح رہے کہ ایران اور روس کے درمیان حالیہ برسوں میں تعلقات مضبوط ہوئے ہیں خصوصاً دفاعی اور فوجی تعاون اور توانائی اور اقتصادی منصوبوں کے حوالے سے۔





Source link

Continue Reading

Today News

ایران کے رہبرِ اعلیٰ Mojtaba Khamenei زخمی اور روپوش ہیں: Pentagon کا دعویٰ

Published

on


امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے نئے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای اس وقت زخمی اور منظرِ عام سے غائب ہو کر چھپتے پھر رہے ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ان خیالات کا اظہار امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے پینٹاگون میں صحافیوں سے گفتگو میں کیا۔

انھوں نے کہا کہ گزشتہ روز ایرانی سرکاری ٹی وی پر مجتبیٰ خامنہ ای کا ایک تحریری بیان پڑھ کر سنایا گیا تھا تاہم اس کے ساتھ کوئی ویڈیو یا آڈیو جاری نہیں کی گئی۔

وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے صحافیوں کے سامنے یہ سوال اٹھایا کہ ایسا کیوں ہوا ؟ اور خود ہی جواب دیا کہ میرا خیال ہے آپ سب جانتے ہیں، ایسا کیوں ہوا۔

پیٹ ہیگستھ کے بقول نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اس وقت خوف زدہ اور زخمی ہیں اور منظر عام پر آنے سے گریز کر رہے ہیں۔

ایرانی حملوں میں بڑی کمی کا دعویٰ

امریکی وزیر دفاع نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ حالیہ دنوں میں ایران کے میزائل حملوں میں تقریباً 90 فیصد کمی آ چکی ہے جبکہ ایران کی جانب سے کیے جانے والے یکطرفہ حملہ آور ڈرونز میں 95 فیصد تک کمی دیکھی گئی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران اس وقت آبنائے ہرمز میں انتہائی مایوسی کا مظاہرہ کر رہا ہے تاہم امریکا اس صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ایران کی فوج کو شدید نقصان پہنچانے کا دعویٰ

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ امریکا ایران کی فوجی صلاحیتوں کو اس انداز میں تباہ کر رہا ہے جیسا دنیا نے پہلے کبھی نہیں دیکھا اور ایرانی فوج کو بڑی حد تک جنگ کے قابل نہیں چھوڑا گیا۔

پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی فضائی افواج کا مشترکہ آپریشن انتہائی مؤثر ثابت ہو رہا ہے اور دونوں ممالک کی انٹیلیجنس صلاحیتیں مسلسل بہتر ہو رہی ہیں۔

امریکی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ایران کا فضائی دفاعی نظام شدید متاثر ہو چکا ہے جبکہ اس کے میزائل لانچرز کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

حملوں میں مزید شدت کا امکان

پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ آج ایران کی فضاؤں میں امریکا کی جانب سے کیے جانے والے حملوں کی تعداد اب تک کی بلند ترین سطح تک پہنچ سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی قیادت اس وقت چھپ رہی ہے جبکہ امریکا کا عزم مضبوط ہے اور اس کی فوجی صلاحیتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔

ان کے مطابق اس تنازع کے حوالے سے تمام اختیارات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس ہیں اور وہی اس جنگ کی رفتار، طریقہ کار اور وقت کا تعین کریں گے۔

 





Source link

Continue Reading

Trending