Today News
فرحانہ مقصود نے ہمایوں سعید اور پروڈکشن ٹیم پر سنگین الزامات
پاکستانی شوبز انڈسٹری کی اداکارہ فرحانہ مقصود نے حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے معروف اداکار اور پروڈیوسر ہمایوں سعید کے ساتھ کام کرنے کے اپنے تجربے کو ناخوشگوار قرار دیا ہے۔
فرحانہ نے دعویٰ کیا کہ فلم ’’میں ہوں شاہد آفریدی‘‘ کے دوران ان کے ساتھ ناانصافی کی گئی۔
فرحانہ مقصود کے مطابق جب انہوں نے اس پراجیکٹ پر کام شروع کیا تو انہیں بتایا گیا تھا کہ یہ ایک ٹیلی فلم ہے۔ تاہم جب وہ شوٹنگ کے لیے سیٹ پر پہنچیں تو انہیں معلوم ہوا کہ یہ دراصل ایک فیچر فلم ہے۔
اداکارہ کا کہنا تھا کہ صورتحال جاننے کے باوجود انہوں نے کام جاری رکھا کیونکہ وہ بطور فنکار دوسرے فنکاروں کا ساتھ دینے پر یقین رکھتی ہیں۔
انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ انہیں اس پراجیکٹ کا معاوضہ بھی ٹیلی فلم کے حساب سے دیا گیا، حالانکہ یہ ایک باقاعدہ فیچر فلم تھی۔ فرحانہ مقصود کے مطابق یہ معاملہ ان کے لیے حیران کن اور مایوس کن تھا۔
اداکارہ نے مزید بتایا کہ فلم کی ریلیز کے بعد جب کاسٹ کی فہرست سامنے آئی تو ان کا نام اس میں شامل نہیں تھا۔ ان کے بقول نہ صرف انہیں کریڈٹ نہیں دیا گیا بلکہ فلم کی تشہیری تقریبات اور پریمیئر میں بھی مدعو نہیں کیا گیا، جسے وہ اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی قرار دیتی ہیں۔
Source link
Today News
وحشی آدم خوروں کے درمیان
ہم بھی کیا؟بات کیا شروع کی تو پہنچ گئے کہاں؟ چلے تھے چین پہنچ گئے جاپان۔بات ہم نے عاملوں کاملوں،پروفیسروں،جادو گر بنگالیوں پرتگالیوں بلکہ سراسر گالیوں کی شروع کی تھی جو ایک دانشور ڈاکٹر کے مطابق سیدھی سادی بیماریوں کو جنات سے منسوب کرکے اللہ کی گائے یعنی عوام کالانعام کو جی بھر کر دوہتے ہیں۔ڈاکٹر صاحب نے ایسی تمام بیماریوں کی نشان دہی کرکے مشورہ دیا ہے کہ ان نوسربازوں کے پاس جانے کی بجائے ڈاکٹروں سے رجوع کریں۔اور یہی ہمارا نکتہ اعتراض ہے اگر ڈاکٹر صاحب آدم خوروں سے رجوع کرنے کو کہتے یا وحشی جنگلیوں کے پاس جانے کا مشورہ دیتے، خونی درندوں کے آگے خود کو ڈالنے کے لیے کہتے تو ہم مان بھی لیتے اور کالانعاموں سے بھی منوانے کی کوشش کرتے لیکن۔ڈاکٹر؟کیا اس بے مہار ملک میں ڈاکٹر سے بھی زیادہ کوئی درندہ ہے؟یہ تو بارش بلکہ بوندہ باندی سے بھاگ کر پرنالے کے نیچے بیٹھنے والی بات ہوگئی۔
ڈاکٹروں نے ثابت کردیا ہے کہ ان سے ’’بڑا‘‘کوئی بھی کہیں بھی نہیں ہے۔ہاں’’ایک‘‘ہے لیکن لوگ اس کے پاس جاتے نہیں بلکہ وہ خود لوگوں کے پاس جاتا ہے اور جب لوگوں کو اپنے پنجہ استبداد میں لے لیتا ہے تو پھر کبھی نہیں چھوڑتا نام تو اس کے بہت سارے جاتے ہیں منتخب نمائندہ۔جمہوری شہنشاہ‘ سیاسی دادا‘ جمہوری ڈکٹیٹر،فنڈہضم‘بجٹ ہضم،ملازمت فروش وغیرہ لیکن آج یہ مینڈیٹ کہلاتا ہے دراصل یہ برہمن اور کشتری ہوجاتے ہیں اور کالانعاموں کو شودر بنادیتے ہیں۔خیر مینڈیٹ اور مینڈیٹ فروشوں کو چھوڑیے کہ اب ہمارا مستقل نصیبہ ہوچکے ہیں اپنی اصل بات پر۔یعنی ڈاکٹر؟ سینہ کے تیر۔ سانپ بچھو کے ڈنک،پھیپھڑے کے جبڑے۔
پتھر کے خدا پتھر کے صنم پتھر ہی کے انساں پائے ہیں
تم ’’شہر‘‘ سمجھتے ہو جس کو ہم جان بچاکر آئے ہیں
’’شفاخانے‘‘سمجھتے ہو جس کو پوچھو نہ وہاں کیا حالت ہے
ہم بھی وہاں سے لوٹے ہیں بس شکر کرو لوٹ آئے ہیں
کبھی کسی کونے کھدرے میں اکادکا ایسے ہوں جو اگلے وقتوں کے مسیحا ہوں گے باقی وہ اجرتی قاتل۔جو قتل کا معاوضہ بھی مقتول سے وصول کرتے ہیں
ابھی تم قتل گہہ کو دیکھتا آساں سمجھتے ہو
نہیںدیکھا شناور جوئے خوںمیںاس کے ’’توسن‘‘کو
اور یہ قتل گہہ ہر جگہ ہر مقام ہر شہر ہربازار ہر گلی ہر کوچے میں پھیلے ہیں۔مذکورہ ڈاکٹر کو یا تو پتہ نہیں یا جان بوجھ کر کاروباری انداز سے کام لے رہا ہے ورنہ
دہن شیر میں جا بیٹھے لیکن اے دل
نہ کھڑے ہوجیے اس شخص دل آزار کے پاس
کہتے ہیں ڈاکٹر سے رجوع کریں۔صاف صاف یہ کیوں نہیں کہتے کہ بھیڑیے کے منہ میں اپنا سر دے دیجیے۔ہم نے تو عرصہ ہوا ان کو یہ فضول قسم کے غلط سلط ناموں جیسے ڈاکٹر،معالج،مسیحا وغیرہ کہنا چھوڑ دیا ہے سیدھے سیدھے اصلی نام سے یاد کرتے ہیں ایجنٹ۔جسے دیسی زبان میں مختلف ناموں سے پکارتے ہیںاور وہ بھی کسی ایک نہیں بیماریوں کے ڈسٹری بیوٹر،کمپنیوں کے ایجنٹ۔اور موت کے ہرکارے لوٹ ماروں کے لٹیروں کے سردار بلکہ ہمارا خیال ہے کہ موت کے سوداگر بھی اتنے بُرے نہیں، مرنا تو سب کو ہے اور بروقت آجائے تو کوئی بات نہیں۔ لیکن نچوڑ نچوڑ کر چوس چوس کر دھیرے دھیرے مارنا۔ قسطوں میں مارنا؟ظلم کی انتہا ہے اور یہ سلسلہ اتنا وسیع پیمانے پر رواں دواں ہے کہ شہروں میں مکانات دھڑا دھڑ ڈھائے جارہے ہیں اور ان کی جگہ کلینک اسپتال، میڈیکل اسٹور اور لیبارٹریاں ابھر رہی ہیں۔
ہمارے چند دوست ڈاکٹر تھے ہم جن کے پاس جب جاتے تھے تو ہم سے فیس نہیں لیا کرتے بلکہ کبھی سیمپل بھی دے دیا کرتے تھے لیکن اس وقت یہ ’’تازہ‘‘ زہریلی ہوا نہیں چلی تھی، انسان کچھ کچھ انسان اور ڈاکٹر میں کچھ کچھ ڈاکٹر بھی ہوا کرتے تھے۔
بیچ میں کافی عرصہ گزر گیا ہے اب جب ہم ان کے پاس جاتے ہیں تو مروت برقرار رکھے ہوئے ہیں حسب معمول فیس نہیں لیتے لیکن جب وہاں سے نکلتے ہیں تو دس پندرہ ہزار کا جرمانہ بھر کر نکلتے ہیں کیونکہ ٹیسٹوں، ایکسریز اور دواؤں کے تھیلے ساتھ ہوتے ہیں۔اور یہ ان کی بھی مجبوری ہے جن لوگوں نے ان کو بٹھایا اس لیے ہے کہ ان کے گلشن کا کاروبار خوب چلے۔لیکن۔ڈاکٹر تو پھر بھی مرد ہیں اور مرد تو اکثر ظالم اور پتھردل ہوتے ہیں بہت زیادہ دکھ ان خواتین ڈاکٹروں۔معلوم نہیں قصائی کی مونث کیا ہے شاید قصائین ہاں تو ان قصائیوں کو دیکھ کر دل لہولہان ہوجاتا ہے کہ عورت تو سراسر پیار ہی پیار رحم ہی رحم، مامتا ہی مامتا ،شفقت ہی شفقت اور قربانی ہوتی ہے۔
یہ کیسی عورتیں ہیں جنہوں نے قسم کھا رکھی ہے کہ کوئی عورت ہمارے ہاں سے صحیح سلامت پیٹ لے کر نہیں جائے گی حالانکہ بچہ جننا کوئی بیماری نہیں ہے ایک قدرتی اور فطری عمل ہے کسی جانور کے بارے میں تو کبھی نہیں سنا ہے کہ بچہ جننے کے دوران اس کا پیٹ کاٹنا اور پھاڑنا پڑا ہو۔ پیٹ ہیں کہ پھاڑے جارہے ہیں ہمیں تو ایسا لگتا ہے کہ وہ دن دور نہیں جب کوئی بھی عورت سالم پیٹ والی نظر نہ آئے گی ان قصائیوں کے سوا اور ہاں وہ ایک کہاوت کہ بستی ابھی بسی نہیں کہ ڈاکو آگئے۔اس میں تھوڑی سی صرف ایک لفظ میں ایک دو حروف کی تبدیلی کرنا پڑے گی بستی ابھی بسی نہیں کہ…آگئے کیونکہ ہم نے ایسے ایسے مقامات پر بھی کلینک دیکھے ہیں جہاں دور دور تک کوئی بستی نہیں ہوتی ۔ہمارے پڑوس ایک بیوہ خاتون تھی جو پاس کے قصبے میں ایک ڈاکٹرنی عرف قصائین کے کلینک میں ملازم تھی ایک دن معلوم ہوا کہ ڈاکٹرنی نے اسے نوکری سے نکال دیا ہے۔
وجہ پوچھی تو بولی کہ ایک کیس آیا تو ڈاکٹرنی اس وقت موجود نہیں تھی ، مریضہ کو بستر پر لٹا کر میں نے ڈاکٹرنی کو فون کرنا چاہا تو میرے موبائل میں پیسے نہیں تھے، جلدی سے باہر نکلی، فون کا پیٹ بھرا ، ڈاکٹرنی کو فون پر کلینکس کی اطلاع دی لیکن ڈاکٹرنی کے آتے آتے نارمل ڈیلیوری ہوگئی تھی۔ ڈاکٹر نے مجھے آرے ہاتھوں لیا ، میں نے بہت سمجھایا فون میں بیلنس نہ ہونے کی بات کی لیکن اس نے مجھے نکال دیا کہ تو نے بر وقت مجھے اطلاع نہیں دی اور شکار صحیح سلامت اور سالم پیٹ لے کر نکل گیا۔ یقین نہیں آتا کہ ہم ایک ایسے ملک میں ہیں جسے اسلام کا مرکز ثانی کا دعویٰ ہے، تلقین ہی تلقین، ہدایت ہی ہدایت، رہنمائیاں ہی رہنمائیاں، دعوے ہی دعوے، عبادتیں ہی عبادتیں،بیان ہی بیان۔اور بلکہ لگتا ہے جیسے ہم افریقہ کے کسی دور دراز جنگل کے اندر آدم خور بستی میں ہوں۔
Today News
امریکا کا مجتبیٰ خامنہ ای سمیت 10 اہم ایرانی رہنماؤں کی معلومات دینے پر 10 ملین ڈالر انعام کا اعلان
امریکا نے ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سمیت 10 اہم ایرانی رہنماؤں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر 10 ملین ڈالر انعام کا اعلان کردیا۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ریوارڈز فار جسٹس پروگرام کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری بیان میں ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سمیت ایران کے اہم رہنماؤں کے بارے میں معلومات طلب کی گئیں۔
محکمہ خارجہ نے کہا کہ جو بھی فرد ایران کے ان 10 اہم رہنماؤں کے بارے میں معلومات فراہم کرے گا وہ امریکا منتقل ہونے کا اہل بھی بن سکتا ہے اور اس کے لیے 10 ملین امریکی ڈالر کا انعام بھی مقرر کیا گیا ہے۔
Got information on these Iranian terrorist leaders?
Send us a tip. It could make you eligible for a reward and relocation. pic.twitter.com/y7avkqdGWw
— Rewards for Justice (@RFJ_USA) March 13, 2026
وہ ایرانی رہنماؤں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے پر انعام رکھا گیا ہے ان میں ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای ، ایرانی وزیر انٹیلی جنس اسماعیل خطیب، سیکرٹری برائے سپریم کونسل علی لاریجانی، نائب چیف آف اسٹاف علی اصغر حجازی، میجر جنرل یحییٰ رحیم صفوی اور بریگیڈیئر جنرل اسکندر مومنی بھی شامل ہیں۔
واضح رہے کہ آج تہران میں یوم القدس ریلی کے موقع پر علی لاریجانی اور دیگر اہم شخصیات عوامی ریلی میں شریک ہوئے، ایرانی رہنماؤں نے کسی بھی دھمکی اور خوف کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ریلی کے شرکا کے ساتھ سیلفیز بنوائیں اور امریکا مخالف نعرے بھی لگائے۔
Source link
Today News
جنگ اور نسل کشی سستا کھیل نہیں رہا
مجھے یہ تو نہیں معلوم کہ جب گیدڑ کی موت آتی ہے تو وہ شہر کا رخ کیوں کرتا ہے مگر تاریخ پڑھنے سے اتنا ضرور پتہ چلا ہے کہ جب کسی ہوس زدہ ذہنیت کی حامل ریاست کے برے دن آتے ہیں تو وہ ایک پنگے سے ابھی باہر نہیں نکلتی کہ ایک اور مہنگا والا خرید لیتی ہے۔ اسرائیل کا بھی یہی معاملہ ہے۔غزہ سے ہاتھ نہیں بھرے اور جنوبی شام اور لبنان میں گھس گیا اور اب اپنے منہ کے سائز سے بھی دوگنا ایرانی نوالہ حلق میں پھنسا لیا ہے۔امریکا کا تو ایرانی جنگ میں دو ارب ڈالر روزانہ کا خرچہ ہو رہا ہے جو وہ وینزویلا کا تیل بیچ کر پورا کر لے گا۔جنگ طول پکڑتی ہے تو اسرائیل کیا کرے گا جس سے اب تک غزہ کی نسل کشی کا خرچہ بھی نہیں سنبھالا جا رہا۔
مہنگائی اس قدر ہو چکی ہے کہ ان دنوں نسل کشی بھی آسان نہیں رہی۔چنانچہ اگر کسی ملک کو کسی ہمسائے کی نسل کشی کے لیے دو برس میں پچھتر ہزار سے ایک لاکھ لوگ اسلحے اور محاصرے سے مارنے ہوں ، مزید دو لاکھ زخمی یا اپاہج کرنے ہوں اور تمام شہری و زرعی املاک کو صفحہِ ہستی سے بھی مٹانا ہو تو کتنا پیسہ اور وسائل صرف ہوں گے ؟
بینک آف اسرائیل کا کہنا ہے کہ اب تک اسرائیل غزہ کی مہم جوئی پر ایک سو بارہ بلین ڈالر خرچ کر چکا ہے۔اس میں سے ستتر بلین ڈالر جنگ پر خرچ ہوئے اور ساڑھے دس ارب ڈالر ان شہریوں کی املاک کو ٹیکس سے مستثنٰی کرنے پر صرف ہوئے ہیں جنہوں نے بطور ریزرو اپنے روزمرہ کاموں سے چھٹی لے کر غزہ میں ’’ خدمات‘‘ انجام دی ہیں۔ دفاع سے جڑی سویلین مدوں میں اٹھارہ ارب ڈالر لگے ہیں جب کہ جنگی اخراجات کے لیے جو قرضہ لیا گیا اس پر اب تک چھ ارب ڈالر سود ادا کیا گیا ہے۔
عسکری معیشت کے امور سے متعلق اسرائیلی وزارتِ دفاع کے مشیر جل پنچاس کا اندازہ ہے کہ اسرائیل جیب سے اس جنگ پر فروری دو ہزار پچیس تک اڑتالیس ارب ڈالر خرچ کر چکا تھا۔ یعنی چھیانوے ملین ڈالر روزانہ۔فلسطینیوں سے متعلق اقوامِ متحدہ کے فلاحی ادارے انرا کے کمیشنر فلیپے لازارانی کے بقول روزانہ اوسطاً ایک سو فلسطینی اس عرصے میں قتل ہوئے۔
جل پنچاس کا کہنا ہے کہ غزہ پر جو اسلحہ اور گولہ بارود اس عرصے میں استعمال کرنے کے لیے مختص کیا گیا اس کی مالیت ایک سو آٹھ بلین ڈالر بنتی ہے۔اس میں سے زیادہ تر پیسہ مقامی اسلحہ ساز کمپنیوں کو ملا۔
امریکی جریدے وال اسٹریٹ جرنل کا اندازہ ہے کہ ایران سے گذشتہ برس جون میں بارہ دن کی لڑائی میں اسرائیل کو دو ارب ڈالر روزانہ صرف کرنے پڑے۔جب کہ دوران ِ جنگ کئی دن ایسے بھی آئے جب خرچہ چار ارب ڈالر روزانہ تک پہنچ گیا کیونکہ ایرانی حملے کے لیے جو ہمہ اقسام میزائیل شکن میزائیل استعمال کیے گئے ان میں سے ہر ایک کی لاگت سات سے چالیس لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔ ستمبر دو ہزار چوبیس میں حزب اللہ کے خلاف بھر پور جنگ کے آغاز سے پہلے اسرائیل نے حزب اللہ اور لبنانی شہریوں کے زیراستعمال تقریباً چودہ ہزار پیجرز تباہ کیے۔اس مہم پر تین سو اٹھارہ ملین ڈالر کا خرچہ آیا۔
اسرائیل کی باقاعدہ فوج ایک لاکھ ستر ہزار ہے اور اسے چار لاکھ پینسٹھ ہزار ریزرو فوجیوں کی معاونت بھی حاصل ہے۔( اسرائیل میں چالیس برس تک کی عمر کے ہر زن و مرد کو دو سے تین برس لازمی فوجی خدمت انجام دینا پڑتی ہے )۔ تین لاکھ ریزرو فوجیوں کو پہلے سال کے دوران غزہ میں تعینات کیا گیا۔ گذشتہ سوا دو برس میں ان ریزرو فوجیوں پر ساڑھے بائیس ارب ڈالر اور باقاعدہ فوج پر دو ہزار پچیس کے پہلے دس ماہ میں پانچ ارب ڈالر صرف ہوئے۔
بینک آف اسرائیل کا اندازہ ہے کہ ایک ریزرو فوجی پر اس کے اصل کام کے پیداواری گھنٹے ضایع ہونے کی لاگت سمیت ایک ماہ میں بارہ ہزار ایک سو ڈالر کا خرچہ ہے۔ ایران پر تازہ حملے سے قبل اسرائیل کے سرکردہ لبرل اخبار ہاریتز کا تبصرہ تھا کہ مہم جویانہ اخراجات دن بدن اتنے بڑھ گئے ہیں کہ آیندہ اسرائیل کو ایک نئی جنگ چھیڑ کر اسے مختصر وقت میں نمٹانے کے لیے کم ازکم ایک سو ساٹھ ارب ڈالر کا بجٹ مختص کرنا ہو گا۔
امریکا کی براؤن یونیورسٹی کی جنگی لاگت سے متعلق رپورٹ کے مطابق امریکا نے سات اکتوبر دو ہزار تئیس تا دسمبر دو ہزار پچیس اسرائیل کو بائیس ارب ڈالر کی اضافی فوجی امداد فراہم کی۔جب کہ اسرائیل کی محبت میں امریکا نے اس عرصے میں یمن اور ایران سمیت متعدد علاقائی ممالک میں جو عسکری کارروائیاں کیں ان پر مجموعی لاگت کا اندازہ تیرہ ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے۔یعنی اگر اسرائیل کو براہِ راست فوجی امداد اور اسرائیل کی خاطر اکتوبر دو ہزار تئیس سے اب تک کی امریکی دفاعی کارروائیوں کا مجموعی خرچہ دیکھا جائے تو امریکی ٹیکس دھندگان کی کم ازکم چونتیس ارب ڈالر کی کمائی ان لاحاصل جنگوں میں جھونک دی گئی۔
اتنے پیسے لگا کر اسرائیل اور امریکا نے جس طرح غزہ کے انفراسٹرکچر کو حرفِ غلط سمجھ کے مٹایا ہے۔اس کی تعمیرِ نو پر اقوامِ متحدہ کے تخمینوں کے مطابق کم از کم ستر ارب ڈالر کی لاگت آئے گی۔ اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ غزہ میں جو عمارتی ڈھانچے بظاہر اب بھی کھڑے ہیں۔ان کی اندرونی چوٹیں اس قدر شدید ہیں کہ شائد ہی کوئی ڈھانچہ ایسا ہو جسے گرا کر دوبارہ تعمیر نہ کرنا پڑے۔
تب تک غزہ کی پوری آبادی ( تئیس لاکھ ) کو کثیر سمتی روزمرہ شدید انسانی مصائب سے گذرنا پڑے گا۔ان مصائب میں صاف پانی کی عدم دستیابی ، تعلیمی سہولتوں کا فقدان ، نقل و حرکت کا محدود ہونا ، اس کے نتیجے میں کم از کم پچاس فیصد بے روزگاری اور تین چوتھائی کنبوں کی بے گھری اور ناکافی غذائیت جیسے بنیادی مسائل شامل ہیں۔اب تو ایران سے جنگ کے سبب میڈیا کے تھوڑے بہت کیمرے بھی غزہ سے ہٹ گئے ہیں۔لہذا وہاں کے انسانی مصائب کو غیر معینہ ہی سمجھئے۔
(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کیلیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Chasing the forgotten stars
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: THE RAMAZAN EXCEPTION – Newspaper
-
Business2 weeks ago
Tensions slow Pakistani investment in Dubai real estate
-
Business2 weeks ago
With presidential ordinance set to lapse, Senate passes bill for regulating virtual assets
-
Entertainment2 weeks ago
Sidra Niazi Shares Details Of Her Marriage
-
Magazines2 weeks ago
Story time: The diary of an octopus
-
Sports2 weeks ago
Samson’s 97 puts India into T20 World Cup semi-final against England – Sport
-
Entertainment2 weeks ago
Ali Ansari On Falling in Love With More Than One Person