Today News
کفایت شعاری اور سادگی عارضی کیوں؟
وزیر اعظم شہباز شریف نے حالیہ جنگی حالات میں کٹوتی فیصلے سے قبل سادگی اختیار کرنے کا بیان دیا تھا تاکہ غریبوں کی مشکلات کم کی جائیں۔ وزیر اعظم نے حکومتی کمیٹی کو 48 گھنٹوں میں اس حوالے سے قابل عمل تجاویز پیش کرنے کی ہدایت کی تھی جس کے نتیجے میں وزیر اعظم نے قوم سے خطاب میں دو ماہ کے لیے بچت کے لیے پٹرول اخراجات میں کٹوتی، گاڑیاں کم کرنے، تنخواہوں میں کچھ کمی جیسے اعلانات کیے تھے جس کے بعد پنجاب اور سندھ حکومت نے بھی کفایت شعاری کے اعلانات کیے مگر پی ٹی آئی کی کے پی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات میں 65 روپے اضافے کے بعد کے پی کے نوجوانوں کو جو موٹرسائیکلیں استعمال کرتے ہیں 22 سو روپے ریلیف دینے کا اعلان کیا تھا مگر یہ نہیں بتایا تھا ۔ پی ٹی آئی حکومت میں جب پٹرول مہنگا ہوتا تھا تو پارٹی کے جذباتی نوجوان میڈیا پر بیان دیتے تھے کہ ہم پانچ سو روپے لیٹر بھی پٹرول خریدیں گے۔
پنجاب اسمبلی کے اسپیکر ملک احمد خان نے وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب کی کفایت شعاری مہم کے تحت متعدد اقدامات کا اعلان کیا اور خود اسپیکر نے اپنی تنخواہ سرکاری پٹرول سمیت تمام سرکاری مراعات ترک کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ پنجاب اسمبلی کے ارکان کی تنخواہوں اور سرکاری الاؤنسز میں آئندہ دو ماہ کے لیے 25 فی صد کمی اور پنجاب اسمبلی سیکریٹریٹ کی 70 فی صد سرکاری گاڑیاں بھی بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔
اسپیکر پنجاب اسمبلی کا فیصلہ قابل ستائش ضرور ہے مگر وزیر اعظم، وفاقی وزرا، ملک کے وزرائے اعلیٰ اور ان کے تمام وزیروں کو بھی تنخواہیں اور سرکاری مراعات نہ لینے کا اعلان کرنا چاہیے تھا۔ تمام گورنروں اور سب سے زیادہ سرکاری تنخواہیں اور مراعات لینے والے ججز کو بھی اس نازک وقت میں سادگی اور کفایت شعاری کی مہم کا حصہ بننا چاہیے تھا۔
ایک رپورٹ کے مطابق ایوان صدر اور وزیر اعظم کے سرکاری اخراجات میں 60 فی صد اضافے کا بتایا گیا تھا مگر ایوان صدر، وزیر اعظم ہاؤس و پی ایم سیکریٹریٹ، گورنروں اور وزرائے اعلیٰ کی طرف سے کفایت شعاری مہم کا کوئی اعلان نہیں ہوا۔ سیاسی اہمیت رکھنے والے تمام وفاقی وزرا، صوبائی وزرائے اعلیٰ اور ان کے وزیروں مشیروں میں کوئی غریب ہے نہ کوئی متوسط طبقے سے تعلق رکھتا ہے۔
یہ منتخب ہونے کے لیے اپنی انتخابی مہم میں کروڑوں روپے خرچ کرکے منتخب ہونے کی مالیت حیثیت رکھتے ہیں ، جب کہ سینیٹروں کو منتخب ہونے کے لیے واقعی بڑی رقم خرچ کرنا پڑتی ہے مگر وہ اکثریت میں نہیں ہیں اور ارکان اسمبلی کی ملی بھگت سے منتخب ہو جاتے ہیں۔سینیٹروں اور ارکان اسمبلی میں وہ تمام اربوں نہیں تو کروڑوں پتی ضرور ہیں اور ان میں کوئی بھی مرحوم عبدالستار ایدھی نہیں جو وفاقی مجلس شوریٰ کے اجلاس میں شرکت کے لیے کراچی سے اسلام آباد بس سے جایا کرتے تھے اور ایدھی ٹرسٹ کی گاڑی بھی استعمال نہیں کیا کرتے تھے۔
ملک میں شاید ہی کوئی ملک معراج خالد جیسا وزیر اعظم نہیں رہا جو کرائے کے گھر میں رہتا رہا ہو اور عام آدمی ہو۔پاکستان میں سرکاری عہدے بڑی تنخواہوں، سرکاری مراعات کے حصول کے لیے سیاسی طور پر لیے جاتے ہیں۔ ملک کی بیورو کریسی تو ہر دور میں شاہی رہی ہے اعلیٰ سرکاری افسران تو بڑی تنخواہوں، سرکاری مراعات اور سہولیات کے حامل رہے ہیں جو بڑی بڑی سرکاری رہائش گاہوں، سرکاری گاڑیوں اور سرکاری پٹرول، مفت میں ملنے والی گیس و بجلی اور خادمین کی سہولیات رکھتے ہیں اور موجودہ حالات میں کسی سرکاری افسران نے تنخواہ تو کیا سرکاری مراعات ترک کرنے کا بھی فیصلہ نہیں کیا ہے۔
کفایت شعاری اور بچت مہم عارضی اور صرف دو ماہ کے لیے ہے۔ اس مہم میں شامل حکام کو چاہیے کہ وہ کفایت شعاری اور بچت مہم کو مستقل بنائیں کیونکہ جب وہ یہ عارضی قربانی دے سکتے ہیں تو اربوں کھربوں ڈالر مقروض اپنے ملک کے لیے مستقل طور پر بھی کفایت شعاری اور بچت کرسکتے ہیں۔ یہ قربانی سیاسی و سرکاری عہدیداروں کو بھی دینا چاہیے کیونکہ یہ ملک ان کا بھی ہے صرف غریبوں اور متوسط طبقے کا نہیں ہے جو قربانی کے مستقل بکرے بنے ہوئے ہیں۔ غیر ملکی شہریتیں، اپنے گھر، مال، اولاد ملک سے باہر رکھنے اور ریٹائرمنٹ کے بعد خود بھی باہر منتقل ہونے کا منصوبہ رکھنے والوں کو بھی اس ملک کو کچھ ضرور دینا چاہیے کیونکہ اس ملک نے ہی انھیں سب کچھ دے رکھا ہے۔
Today News
کینیا؛ ٹیسٹ ٹیوبز میں 2 ہزار سے زائد ’ملکہ چیونٹیوں‘ کی اسمگلنگ؛ چینی شہری گرفتار
کینیا کے دارالحکومت نیروبی کے مرکزی ہوائی اڈے پر ایک چینی شہری کو اس وقت گرفتار کر لیا گیا جب اس کے سامان سے دو ہزار سے زائد زندہ ملکہ چیونٹیاں برآمد ہوئیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق گرفتار شخص کی شناخت ژانگ کیکون کے نام سے ہوئی جس کے سامان سے 1948 چونیٹیاں ملی تھیں۔
ان میں 300 سے زائد چونٹیاں زندہ تھیں جنھیں ٹشو پیپرز میں اس طرح رکھا گیا تھا کہ سفر کے دوران وہ زندہ رہیں اور انھیں کوئی نقصان نہ پہنچے۔
بقیہ چونٹیاں مردہ تھیں اور انھیں ٹیسٹ ٹیوب میں چھپایا گیا تھا۔ حیران کن طور پر تمام 1948 چونٹیاں عام نہیں بلکہ ملکہ چونٹیاں ہیں۔
کینیا کی وائلڈ لائف کے مطابق برآمد ہونے والی چیونٹیاں سائنسی طور پر میسور سیفالوٹس کہلاتی ہیں اور یہ افریقی ہارویسٹر چیونٹیاں مٹی کی زرخیزی، حیاتیاتی تنوع اور ماحولیاتی نظام میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ان چونٹیوں کی تجارت بین الاقوامی حیاتیاتی تحفظ کے قوانین کے تحت سختی سے کنٹرول کی جاتی ہے اور یہ قابل گرفت جرم ہے۔
سرکاری وکیل ایلن ملاما نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کا تعلق چیونٹیوں کی اسمگلنگ کے ایک ایسے نیٹ ورک سے ہونے کا شبہ ہے جس کے خلاف گزشتہ سال کارروائی کی گئی تھی۔
استغاثہ نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ ملزم کے موبائل فون اور لیپ ٹاپ کی فرانزک جانچ کی اجازت دی جائے تاکہ اس ممکنہ نیٹ ورک کے دیگر ارکان تک پہنچا جا سکے۔
وائلڈ لائف سروس کے ایک سینئر اہلکار ڈنکن کے مطابق تفتیش کار اس معاملے میں مزید گرفتاریوں کی توقع کر رہے ہیں اور تحقیقات کو کینیا کے دیگر علاقوں تک بھی پھیلایا جا رہا ہے جہاں سے ممکنہ طور پر چیونٹیاں اکٹھی کی جاتی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ یورپ اور ایشیا میں پالتو حشرات رکھنے کے شوقین افراد میں ان چیونٹیوں کی مانگ بڑھ رہی ہے۔ ملکہ چیونٹیوں کی خاص اہمیت اس لیے ہوتی ہے کیونکہ وہ نئی کالونیاں بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
گزشتہ سال بھی کینیا کی ایک عدالت نے ہزاروں زندہ ملکہ چیونٹیوں کو اسمگل کرنے کی کوشش کرنے پر چار افراد کو ایک سال قید اور تقریباً 7700 ڈالر جرمانے کی سزا سنائی تھی۔
عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد ملزم کو مزید تفتیش کے لیے پانچ دن کے ریمانڈ پر رکھنے کی اجازت دے دی ہے جبکہ حکام اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا اس واقعے کے پیچھے کوئی بین الاقوامی سمگلنگ نیٹ ورک تو نہیں۔
Today News
US B-2 bombers begin mission for more strikes on Iran
امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری ہیں جبکہ امریکی بی ٹو بمبار طیاروں نے بھی حملوں کے لیے اپنا مشن شروع کر دیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ان حملوں کا مقصد ایران کی مستقبل میں دوبارہ طاقت حاصل کرنے کی صلاحیت کو ختم کرنا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس سے قبل تہران، شیراز اور اہواز سمیت مختلف شہروں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
B-2 stealth bombers takeoff to conduct a mission during Operation Epic Fury, delivering long-range fire to not only eliminate the threat from the Iranian regime today, but also eliminate their ability to rebuild in the future. pic.twitter.com/ebyUYNnOLo
— U.S. Central Command (@CENTCOM) March 13, 2026
اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران دو سو سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی حکام کے مطابق لڑاکا طیاروں نے بڑے پیمانے پر بیس فضائی حملے کیے جن میں ایرانی فوجی تنصیبات، اسلحہ کی پیداوار اور ذخیرہ کرنے والے مقامات کو ہدف بنایا گیا۔
دوسری جانب امریکا نے جنوبی کوریا میں نصب دفاعی نظام “تھاڈ” کو اسرائیل منتقل کر دیا تاکہ اسرائیل کے دفاعی نظام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
اس سے قبل امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے دعویٰ کیاکہ ایرانی رجیم کے رہنما زیر زمین جا چکے ہیں کیونکہ آج سب سے سخت حملے ہوں گے، ہم نہیں رکیں گے، آبنائے ہرمز میں جو کچھ ہو رہا ہے اس پر دنیا کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
Today News
ایران کی مدد روس کر رہا ہے، ایرانی حکومت جلد گر جائے گی؛ ٹرمپ کی دھمکی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے زور دیکر کہا ہے کہ مجھے لگتا روس ایران کی تھوڑی بہت مدد کر رہا ہے۔
فاکس نیوز ریڈیو کو انٹرویو میں صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ روسی صدر پوٹن ایران کی مدد کر رہے ہیں۔
جس کے جواب میں امریکی صدر نے کہا کہ مجھے لگتا ہے شاید وہ تھوڑی مدد کر رہا ہو کیوں کہ روس سمجھتا ہے کہ امریکا وہاں یوکرین کی مدد کر رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ہاں ہم بھی یوکرین کی مدد کر رہے ہیں۔ اور اسی طرح چین بھی یہی کہے گا۔ بات سیدھی سی ہے۔ وہ کرتے ہیں اور ہم بھی کرتے ہیں۔ انصاف کی بات یہی ہے کہ وہ کرتے ہیں اور ہم بھی کرتے ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے سی این این نے دعویٰ کیا تھا کہ روس ایران کو امریکی فوجی، جہاز اور طیاروں کی مواقع اور حرکات سے متعلق انٹیلیجنس فراہم کر رہا ہے۔ جس کی تصدیق کئی امریکی انٹیلیجنس ذرائع نے کی۔
تاہم امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے پینٹاگون میں صحافیوں کو بتایا تھا کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ میں روس اور چین حقیقی طور پر اہم عنصر نہیں ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران کی حکومت گر سکتی ہے لیکن فوراً نہیں، اس میں کچھ لگے گا۔ مجھے یقین ہے کہ ایران کے عوام بالاخر موجودہ حکومت کو تبدیل کریں گے۔
خیال رہے کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے باوجود ایران میں ابھی تک بڑے پیمانے پر احتجاج یا حکومتی اداروں سے کسی بڑے انخلا کے آثار نہیں دکھائی دے رہے۔
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Chasing the forgotten stars
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: THE RAMAZAN EXCEPTION – Newspaper
-
Business2 weeks ago
Tensions slow Pakistani investment in Dubai real estate
-
Entertainment2 weeks ago
Sidra Niazi Shares Details Of Her Marriage
-
Magazines2 weeks ago
Story time: The diary of an octopus
-
Business2 weeks ago
With presidential ordinance set to lapse, Senate passes bill for regulating virtual assets
-
Sports2 weeks ago
Samson’s 97 puts India into T20 World Cup semi-final against England – Sport
-
Entertainment2 weeks ago
Ali Ansari On Falling in Love With More Than One Person