Connect with us

Today News

وحشی آدم خوروں کے درمیان

Published

on


ہم بھی کیا؟بات کیا شروع کی تو پہنچ گئے کہاں؟ چلے تھے چین پہنچ گئے جاپان۔بات ہم نے عاملوں کاملوں،پروفیسروں،جادو گر بنگالیوں پرتگالیوں بلکہ سراسر گالیوں کی شروع کی تھی جو ایک دانشور ڈاکٹر کے مطابق سیدھی سادی بیماریوں کو جنات سے منسوب کرکے اللہ کی گائے یعنی عوام کالانعام کو جی بھر کر دوہتے ہیں۔ڈاکٹر صاحب نے ایسی تمام بیماریوں کی نشان دہی کرکے مشورہ دیا ہے کہ ان نوسربازوں کے پاس جانے کی بجائے ڈاکٹروں سے رجوع کریں۔اور یہی ہمارا نکتہ اعتراض ہے اگر ڈاکٹر صاحب آدم خوروں سے رجوع کرنے کو کہتے یا وحشی جنگلیوں کے پاس جانے کا مشورہ دیتے، خونی درندوں کے آگے خود کو ڈالنے کے لیے کہتے تو ہم مان بھی لیتے اور کالانعاموں سے بھی منوانے کی کوشش کرتے لیکن۔ڈاکٹر؟کیا اس بے مہار ملک میں ڈاکٹر سے بھی زیادہ کوئی درندہ ہے؟یہ تو بارش بلکہ بوندہ باندی سے بھاگ کر پرنالے کے نیچے بیٹھنے والی بات ہوگئی۔

ڈاکٹروں نے ثابت کردیا ہے کہ ان سے ’’بڑا‘‘کوئی بھی کہیں بھی نہیں ہے۔ہاں’’ایک‘‘ہے لیکن لوگ اس کے پاس جاتے نہیں بلکہ وہ خود لوگوں کے پاس جاتا ہے اور جب لوگوں کو اپنے پنجہ استبداد میں لے لیتا ہے تو پھر کبھی نہیں چھوڑتا نام تو اس کے بہت سارے جاتے ہیں منتخب نمائندہ۔جمہوری شہنشاہ‘ سیاسی دادا‘ جمہوری ڈکٹیٹر،فنڈہضم‘بجٹ ہضم،ملازمت فروش وغیرہ لیکن آج یہ مینڈیٹ کہلاتا ہے دراصل یہ برہمن اور کشتری ہوجاتے ہیں اور کالانعاموں کو شودر بنادیتے ہیں۔خیر مینڈیٹ اور مینڈیٹ فروشوں کو چھوڑیے کہ اب ہمارا مستقل نصیبہ ہوچکے ہیں اپنی اصل بات پر۔یعنی ڈاکٹر؟ سینہ کے تیر۔ سانپ بچھو کے ڈنک،پھیپھڑے کے جبڑے۔

پتھر کے خدا پتھر کے صنم پتھر ہی کے انساں پائے ہیں

تم ’’شہر‘‘ سمجھتے ہو جس کو ہم جان بچاکر آئے ہیں

’’شفاخانے‘‘سمجھتے ہو جس کو پوچھو نہ وہاں کیا حالت ہے

ہم بھی وہاں سے لوٹے ہیں بس شکر کرو لوٹ آئے ہیں

کبھی کسی کونے کھدرے میں اکادکا ایسے ہوں جو اگلے وقتوں کے مسیحا ہوں گے باقی وہ اجرتی قاتل۔جو قتل کا معاوضہ بھی مقتول سے وصول کرتے ہیں

ابھی تم قتل گہہ کو دیکھتا آساں سمجھتے ہو

نہیںدیکھا شناور جوئے خوںمیںاس کے ’’توسن‘‘کو

اور یہ قتل گہہ ہر جگہ ہر مقام ہر شہر ہربازار ہر گلی ہر کوچے میں پھیلے ہیں۔مذکورہ ڈاکٹر کو یا تو پتہ نہیں یا جان بوجھ کر کاروباری انداز سے کام لے رہا ہے ورنہ

دہن شیر میں جا بیٹھے لیکن اے دل

نہ کھڑے ہوجیے اس شخص دل آزار کے پاس

کہتے ہیں ڈاکٹر سے رجوع کریں۔صاف صاف یہ کیوں نہیں کہتے کہ بھیڑیے کے منہ میں اپنا سر دے دیجیے۔ہم نے تو عرصہ ہوا ان کو یہ فضول قسم کے غلط سلط ناموں جیسے ڈاکٹر،معالج،مسیحا وغیرہ کہنا چھوڑ دیا ہے سیدھے سیدھے اصلی نام سے یاد کرتے ہیں ایجنٹ۔جسے دیسی زبان میں مختلف ناموں سے پکارتے ہیںاور وہ بھی کسی ایک نہیں بیماریوں کے ڈسٹری بیوٹر،کمپنیوں کے ایجنٹ۔اور موت کے ہرکارے لوٹ ماروں کے لٹیروں کے سردار بلکہ ہمارا خیال ہے کہ موت کے سوداگر بھی اتنے بُرے نہیں، مرنا تو سب کو ہے اور بروقت آجائے تو کوئی بات نہیں۔ لیکن نچوڑ نچوڑ کر چوس چوس کر دھیرے دھیرے مارنا۔ قسطوں میں مارنا؟ظلم کی انتہا ہے اور یہ سلسلہ اتنا وسیع پیمانے پر رواں دواں ہے کہ شہروں میں مکانات دھڑا دھڑ ڈھائے جارہے ہیں اور ان کی جگہ کلینک اسپتال، میڈیکل اسٹور اور لیبارٹریاں ابھر رہی ہیں۔

ہمارے چند دوست ڈاکٹر تھے ہم جن کے پاس جب جاتے تھے تو ہم سے فیس نہیں لیا کرتے بلکہ کبھی سیمپل بھی دے دیا کرتے تھے لیکن اس وقت یہ ’’تازہ‘‘ زہریلی ہوا نہیں چلی تھی، انسان کچھ کچھ انسان اور ڈاکٹر میں کچھ کچھ ڈاکٹر بھی ہوا کرتے تھے۔

بیچ میں کافی عرصہ گزر گیا ہے اب جب ہم ان کے پاس جاتے ہیں تو مروت برقرار رکھے ہوئے ہیں حسب معمول فیس نہیں لیتے لیکن جب وہاں سے نکلتے ہیں تو دس پندرہ ہزار کا جرمانہ بھر کر نکلتے  ہیں کیونکہ ٹیسٹوں، ایکسریز اور دواؤں کے تھیلے ساتھ ہوتے ہیں۔اور یہ ان کی بھی مجبوری ہے جن لوگوں نے ان کو بٹھایا اس لیے ہے کہ ان کے گلشن کا کاروبار خوب چلے۔لیکن۔ڈاکٹر تو پھر بھی مرد ہیں اور مرد تو اکثر ظالم اور پتھردل ہوتے ہیں بہت زیادہ دکھ ان خواتین ڈاکٹروں۔معلوم نہیں قصائی کی مونث کیا ہے شاید قصائین ہاں تو ان قصائیوں کو دیکھ کر دل لہولہان ہوجاتا ہے کہ عورت تو سراسر پیار ہی پیار رحم ہی رحم، مامتا ہی مامتا ،شفقت ہی شفقت اور قربانی ہوتی ہے۔

یہ کیسی عورتیں ہیں جنہوں نے قسم کھا رکھی ہے کہ کوئی عورت ہمارے ہاں سے صحیح سلامت پیٹ لے کر نہیں جائے گی حالانکہ بچہ جننا کوئی بیماری نہیں ہے ایک قدرتی اور فطری عمل ہے کسی جانور کے بارے میں تو کبھی نہیں سنا ہے کہ بچہ جننے کے دوران اس کا پیٹ کاٹنا اور پھاڑنا پڑا ہو۔ پیٹ ہیں کہ پھاڑے جارہے ہیں ہمیں تو ایسا لگتا ہے کہ وہ دن دور نہیں جب کوئی بھی عورت سالم پیٹ والی نظر نہ آئے گی ان قصائیوں کے سوا اور ہاں وہ ایک کہاوت کہ بستی ابھی بسی نہیں کہ ڈاکو آگئے۔اس میں تھوڑی سی صرف ایک لفظ میں ایک دو حروف کی تبدیلی کرنا پڑے گی بستی ابھی بسی نہیں کہ…آگئے کیونکہ ہم نے ایسے ایسے مقامات پر بھی کلینک دیکھے ہیں جہاں دور دور تک کوئی بستی نہیں ہوتی ۔ہمارے پڑوس ایک بیوہ خاتون تھی جو پاس کے قصبے میں ایک ڈاکٹرنی عرف قصائین کے کلینک میں ملازم تھی ایک دن معلوم ہوا کہ ڈاکٹرنی نے اسے نوکری سے نکال دیا ہے۔

وجہ پوچھی تو بولی کہ ایک کیس آیا تو ڈاکٹرنی اس وقت موجود نہیں تھی ، مریضہ کو بستر پر لٹا کر میں نے ڈاکٹرنی کو فون کرنا چاہا تو میرے موبائل میں پیسے نہیں تھے، جلدی سے باہر نکلی، فون کا پیٹ بھرا ، ڈاکٹرنی کو فون پر کلینکس کی اطلاع دی لیکن ڈاکٹرنی کے آتے آتے نارمل ڈیلیوری ہوگئی تھی۔ ڈاکٹر نے مجھے آرے ہاتھوں لیا ، میں نے بہت سمجھایا فون میں بیلنس نہ ہونے کی بات کی لیکن اس نے مجھے نکال دیا کہ تو نے بر وقت مجھے اطلاع نہیں دی اور شکار صحیح سلامت اور سالم پیٹ لے کر نکل گیا۔ یقین نہیں آتا کہ ہم ایک ایسے ملک میں ہیں جسے اسلام کا مرکز ثانی کا دعویٰ ہے، تلقین ہی تلقین، ہدایت ہی ہدایت، رہنمائیاں ہی رہنمائیاں، دعوے ہی دعوے، عبادتیں ہی عبادتیں،بیان ہی بیان۔اور بلکہ لگتا ہے جیسے ہم افریقہ کے کسی دور دراز جنگل کے اندر آدم خور بستی میں ہوں۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ایرانی افزودہ یورینیم کی روس منتقلی؛ ٹرمپ نے پیوٹن کی پیشکش مسترد کر دی

Published

on



امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے افزودہ یورینیم کو روس منتقل کرنے کی روسی صدر ولادمیر پیوٹن کی پیشکش مسترد کر دی۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق روسی صدر ولادمیر پیوٹن نے ایران کے افزودہ یورینیم کو روس منتقل کرنے کی پیشکش دی تھی اور یہ پیشکش تہران کے ساتھ جنگ بندی معاہدے کے حصے کے طور پر سامنے آئی تھی۔

رپورٹس کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر روسی اور امریکی صدور کے درمیان رواں ہفتے رابطہ ہوا جس میں روسی صدر پیوٹن نے امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو میں یہ پیشکش دی تھی۔

امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے ایران کے افزودہ یورینیم کو اپنے ملک منتقل کرنے کی پیشکش اس سے قبل بھی کی جا چکی ہے، تاہم امریکا نے اس تجویز کو قبول نہیں کیا۔

 



Source link

Continue Reading

Today News

کینیا؛ ٹیسٹ ٹیوبز میں 2 ہزار سے زائد ’ملکہ چیونٹیوں‘ کی اسمگلنگ؛ چینی شہری گرفتار

Published

on


کینیا کے دارالحکومت نیروبی کے مرکزی ہوائی اڈے پر ایک چینی شہری کو اس وقت گرفتار کر لیا گیا جب اس کے سامان سے دو ہزار سے زائد زندہ ملکہ چیونٹیاں برآمد ہوئیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق گرفتار شخص کی شناخت ژانگ کیکون کے نام سے ہوئی جس کے سامان سے 1948 چونیٹیاں ملی تھیں۔ 

ان میں 300 سے زائد چونٹیاں زندہ تھیں جنھیں ٹشو پیپرز میں اس طرح رکھا گیا تھا کہ سفر کے دوران وہ زندہ رہیں اور انھیں کوئی نقصان نہ پہنچے۔

بقیہ چونٹیاں مردہ تھیں اور انھیں ٹیسٹ ٹیوب میں چھپایا گیا تھا۔ حیران کن طور پر تمام 1948 چونٹیاں عام نہیں بلکہ ملکہ چونٹیاں ہیں۔

کینیا کی وائلڈ لائف کے مطابق برآمد ہونے والی چیونٹیاں سائنسی طور پر میسور سیفالوٹس کہلاتی ہیں اور یہ افریقی ہارویسٹر چیونٹیاں مٹی کی زرخیزی، حیاتیاتی تنوع اور ماحولیاتی نظام میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ ان چونٹیوں کی تجارت بین الاقوامی حیاتیاتی تحفظ کے قوانین کے تحت سختی سے کنٹرول کی جاتی ہے اور یہ قابل گرفت جرم ہے۔

سرکاری وکیل ایلن ملاما نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کا تعلق چیونٹیوں کی اسمگلنگ کے ایک ایسے نیٹ ورک سے ہونے کا شبہ ہے جس کے خلاف گزشتہ سال کارروائی کی گئی تھی۔

استغاثہ نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ ملزم کے موبائل فون اور لیپ ٹاپ کی فرانزک جانچ کی اجازت دی جائے تاکہ اس ممکنہ نیٹ ورک کے دیگر ارکان تک پہنچا جا سکے۔

وائلڈ لائف سروس کے ایک سینئر اہلکار ڈنکن کے مطابق تفتیش کار اس معاملے میں مزید گرفتاریوں کی توقع کر رہے ہیں اور تحقیقات کو کینیا کے دیگر علاقوں تک بھی پھیلایا جا رہا ہے جہاں سے ممکنہ طور پر چیونٹیاں اکٹھی کی جاتی ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ یورپ اور ایشیا میں پالتو حشرات رکھنے کے شوقین افراد میں ان چیونٹیوں کی مانگ بڑھ رہی ہے۔ ملکہ چیونٹیوں کی خاص اہمیت اس لیے ہوتی ہے کیونکہ وہ نئی کالونیاں بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

گزشتہ سال بھی کینیا کی ایک عدالت نے ہزاروں زندہ ملکہ چیونٹیوں کو اسمگل کرنے کی کوشش کرنے پر چار افراد کو ایک سال قید اور تقریباً 7700 ڈالر جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد ملزم کو مزید تفتیش کے لیے پانچ دن کے ریمانڈ پر رکھنے کی اجازت دے دی ہے جبکہ حکام اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا اس واقعے کے پیچھے کوئی بین الاقوامی سمگلنگ نیٹ ورک تو نہیں۔

 

 





Source link

Continue Reading

Today News

US B-2 bombers begin mission for more strikes on Iran

Published

on


امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری ہیں جبکہ امریکی بی ٹو بمبار طیاروں نے بھی حملوں کے لیے اپنا مشن شروع کر دیا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ان حملوں کا مقصد ایران کی مستقبل میں دوبارہ طاقت حاصل کرنے کی صلاحیت کو ختم کرنا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس سے قبل تہران، شیراز اور اہواز سمیت مختلف شہروں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران دو سو سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی حکام کے مطابق لڑاکا طیاروں نے بڑے پیمانے پر بیس فضائی حملے کیے جن میں ایرانی فوجی تنصیبات، اسلحہ کی پیداوار اور ذخیرہ کرنے والے مقامات کو ہدف بنایا گیا۔

دوسری جانب امریکا نے جنوبی کوریا میں نصب دفاعی نظام “تھاڈ”  کو اسرائیل منتقل کر دیا تاکہ اسرائیل کے دفاعی نظام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

اس سے قبل امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے دعویٰ کیاکہ ایرانی رجیم کے رہنما زیر زمین جا چکے ہیں کیونکہ آج سب سے سخت حملے ہوں گے، ہم نہیں رکیں گے، آبنائے ہرمز میں جو کچھ ہو رہا ہے اس پر دنیا کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔





Source link

Continue Reading

Trending