Today News
جب آبنائے ہرمز نے پٹرول آدھا کر دیا (آخری حصہ)
دنیا کی معیشت کی ایک عجیب عادت ہے جب بھی مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے بادل گہرے ہوتے ہیں تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں آسمان کی طرف دوڑنے لگتی ہیں اور آبنائے ہرمز تو ایک شعلہ بنتا ہے جیسے ہی اس کے گرد جنگی بحری بیڑوں کی نقل و حرکت میں اضافہ ہونے لگتا ہے تو لندن اور نیویارک کی تیل کی منڈیوں میں آگ لگ جاتی ہے،کیونکہ کہا جاتا ہے کہ 20 ملین بیرل سے بھی زائد تیل اسی تنگ گزرگاہ سے گزر کر مختلف ملکوں کو پہنچایا جاتا ہے۔ اس بحری راستے کی سانس جیسے ہی تنگ ہونے لگتی ہے، پاکستانی معیشت کی سانسیں اکھڑنے لگتی ہیں۔ ان لمحات میں حکومت کا یہ فیصلہ خوش آیند ہے کہ سرکاری گاڑیوں میں استعمال کیے جانے والے پٹرول کو آدھا کردیا جائے۔
پٹرول کے خرچے میں نصف کٹوتی دراصل ایک انتظامی فیصلہ ہی نہیں ہے بلکہ ایک پیغام ہے جو ہرمز کی لہروں نے ہمیں دیا ہے کہ جب عالمی معیشت کے طوفان تیز ہو جائیں تو قوموں کو اپنی کشتی کا وزن کم کرنا پڑتا ہے۔ حکومت نے اس کے ساتھ ہی غیر ضروری سرکاری دوروں پر پابندی عائد کر دی ہے اور نئی سرکاری گاڑیوں کی خریداری روک دی ہے۔ پاکستان کی معیشت پہلے ہی کئی چیلنجز سے گزر رہی ہے۔
پاکستان کی برآمدات سے دگنی مالیت اب درآمدات کی ہو کر رہ گئیں جس کے باعث اب تک8 ماہ میں برآمدات سے کہیں زیادہ تجارتی خسارہ ہو چکا ہے، اگر حکومت اس قسم کے اقدامات نہ اٹھاتی تو تجارتی خسارہ برآمدات سے دگنا ہو سکتا تھا، کیونکہ تجارتی خسارے کی کہانی میں اگر کسی ایک کردار کو مرکزی حیثیت دی جائے تو وہ تیل ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی درآمد پاکستان کے درآمدی بل کا اب تک تقریباً چوتھائی حصہ بنتا ہے، لیکن اب یہ 35 سے 40 فی صد تک جا سکتا ہے۔
جب تیل کی قیمت بڑھتی ہے تو ساتھ ہی ٹرانسپورٹ، بجلی، صنعت کی لاگت، خوراک سمیت مکانوں کے کرائے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ دنیا کی معاشی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو تیل ہی اس کا مرکزی کردار نظر آتا ہے۔ جب 1973 میں تیل کا بحران آیا تو مغربی معیشتیں ہل کر رہ گئیں۔ خلیج جنگ کے دوران تیل کے کنویں جلتے رہے اور دنیا بھر کی معیشتوں کو اس کی تپش جھلساتی رہی۔ اب جب کہ امریکا، ایران جنگ میں جیسے جیسے تیزی آ رہی ہے پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے یہ صورت حال ہمیشہ امتحان بن جاتی ہے کیونکہ معیشت کے بڑے حصے کا دار و مدار درآمدی توانائی پر ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ عارضی فیصلے کرنے کے بجائے پاکستان کو ایک طویل المدتی منصوبے پر کام کرنا ہوگا۔ پاکستان کے پاس سورج کی روشنی کا پورے سال کا خزانہ موجود ہے، سولر سسٹم کے ذریعے اس خزانے سے بڑی مقدار میں بجلی بنائی جا سکتی ہے۔ بڑے بڑے بہتے دریاؤں پر بند باندھے جا سکتے ہیں، سندھ کے ساحلی علاقوں میں ہوا سے بجلی پیدا کرنے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ اسی طرح الیکٹرک ٹرانسپورٹ بھی پٹرول کی بچت کا اہم ذریعہ ہے، اگر بڑے شہروں میں الیکٹرک بسوں اور گاڑیوں کو فروغ دیا جائے تو پٹرول کی کھپت میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔
آبنائے ہرمز کی لہریں اب بھی کراچی کے ساحل سے ٹکرا رہی ہیں، ان لہروں کے شور میں ایک خاموش پیغام بھی چھپا ہوا ہے کہ قومیں اپنی معیشت کو مضبوط نہ کریں تو ایک دن توانائی کی قیمتیں ہی ان کے بجٹ کا فیصلہ کرنے لگتی ہیں۔ اس سے قبل کہ وہ وقت آ جائے حکومت نے خوش آئند اعلان کر دیا کہ پٹرول آدھا کر دیا گیا ہے، لیکن اب بھی یہ ایک عارضی حل ہے۔ اصل مسئلہ پاکستان کا توانائی پر درآمدی انحصار ہے۔ جب تک پاکستان ملک میں موجود تیل اور گیس کے کنوؤں کی پیداوار نہیں بڑھاتا، نئے نئے ذخائر تلاش نہیں کرتا، قابل تجدید توانائی کو فروغ نہیں دیتا، پاکستان عالمی توانائی کے بحران سے نمٹتے نمٹتے مافیاز کے چنگل میں پھنس جاتا ہے تو فوراً بھانپ لیتے ہیں کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے سے کس طرح ہر شے کی قیمت میں اضافہ ہوکر رہے گا، لہٰذا وہ ہر مال سے اپنے گوداموں، ذخیرہ گاہوں کو بھر لیتے ہیں۔ پہلے ہی قیمت میں اضافہ ہو رہا تھا اور اب ہر شے کی قلت پیدا کر کے اس کے دام دگنے سے تگنے کر دیے جاتے ہیں اور اربوں روپے منافع کما کر ایک طرف بیٹھ جاتے ہیں۔
حکومت نے فیصلہ کیا کہ نئی سرکاری گاڑیوں کی خریداری روک دی جائے۔ اس فیصلے کو کئی سالوں کے لیے کیا جانا ضروری ہے کیونکہ کوئی محکمہ ایسا نہیں ہے جس کے پاس گاڑیوں کی طویل قطار نہ ہو۔ کئی اچھی گاڑیاں معمولی خرابی کی بنا پر ایک طرف کھڑی کر دی جاتی ہیں اور بہت جلد ان کو نیلام کرنے کی فہرست میں شامل کر دیا جاتا ہے۔ نیلام کرنے والوں کو بھی پتا ہوتا ہے کہ یہ گاڑی کتنی اچھی ہے اور خریدار بھی جانتا ہے کہ بس معمولی خرابی ہے۔
چند لاکھ خرچ کیے گاڑی خرید کر چند ہزار میں معمولی نقص دور کرا دیا اور کروڑوں کی گاڑی ہاتھ لگ جاتی ہے، لہٰذا انھی معمولی یا زیادہ خراب گاڑیوں کو درست کرایا جائے تاوقت یہ کہ انتہائی ضرورت کے عالم میں نئی گاڑی بشرطیکہ زیادہ قیمتی نہ ہو وہ خرید لی جائے۔ وزیر اعظم کے اعلانات کے تحت جو فیصلے کیے گئے ہیں وہ ایک مثبت قدم ہے۔ خاص طور پر پٹرول کے خرچ کو آدھا کر دینے کے مثبت اثرات توانائی کے اخراجات پر مرتب ہوں گے جس سے ملک کے بڑھتے ہوئے ہوش ربا تجارتی خسارے کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔
Today News
عوام کی سہولت کیلیے پاسپورٹ آفس ہفتے میں 5 دن کھلے رکھنے کا فیصلہ
ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹ نے ہفتے میں عوام کی سہولت کیلیے ہفتے میں5دن آفس کھلے رکھنے کا فیصلہ کر لیا۔
اس سے قبل ایک پبلک نوٹس کے ذریعے ہفتے کے 4 دن پاسپورٹ آفس کھلے رکھنے کا اعلان کیا گیا تھا۔اب حسبِ سابق پیر سے جمعہ تک پاسپورٹ آفس کے تمام فیلڈ فارمیشنز، دفاتر کھلے رہیں گے۔
یاد رہے کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدہ صورتحال کے پیش نظر وزیراعظم نے کفایت شعاری پلان دیا تھا جس میں توانائی کے ممکنہ بحران کے حوالے سے یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ ہفتے میں 4 دن کام ہوگا جبکہ 50 فیصد ملازمین کو ورک فرام ہوم دیا جائے گا۔
Source link
Today News
ایرانی افزودہ یورینیم کی روس منتقلی؛ ٹرمپ نے پیوٹن کی پیشکش مسترد کر دی
امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے افزودہ یورینیم کو روس منتقل کرنے کی روسی صدر ولادمیر پیوٹن کی پیشکش مسترد کر دی۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق روسی صدر ولادمیر پیوٹن نے ایران کے افزودہ یورینیم کو روس منتقل کرنے کی پیشکش دی تھی اور یہ پیشکش تہران کے ساتھ جنگ بندی معاہدے کے حصے کے طور پر سامنے آئی تھی۔
رپورٹس کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر روسی اور امریکی صدور کے درمیان رواں ہفتے رابطہ ہوا جس میں روسی صدر پیوٹن نے امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو میں یہ پیشکش دی تھی۔
امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے ایران کے افزودہ یورینیم کو اپنے ملک منتقل کرنے کی پیشکش اس سے قبل بھی کی جا چکی ہے، تاہم امریکا نے اس تجویز کو قبول نہیں کیا۔
Today News
کینیا؛ ٹیسٹ ٹیوبز میں 2 ہزار سے زائد ’ملکہ چیونٹیوں‘ کی اسمگلنگ؛ چینی شہری گرفتار
کینیا کے دارالحکومت نیروبی کے مرکزی ہوائی اڈے پر ایک چینی شہری کو اس وقت گرفتار کر لیا گیا جب اس کے سامان سے دو ہزار سے زائد زندہ ملکہ چیونٹیاں برآمد ہوئیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق گرفتار شخص کی شناخت ژانگ کیکون کے نام سے ہوئی جس کے سامان سے 1948 چونیٹیاں ملی تھیں۔
ان میں 300 سے زائد چونٹیاں زندہ تھیں جنھیں ٹشو پیپرز میں اس طرح رکھا گیا تھا کہ سفر کے دوران وہ زندہ رہیں اور انھیں کوئی نقصان نہ پہنچے۔
بقیہ چونٹیاں مردہ تھیں اور انھیں ٹیسٹ ٹیوب میں چھپایا گیا تھا۔ حیران کن طور پر تمام 1948 چونٹیاں عام نہیں بلکہ ملکہ چونٹیاں ہیں۔
کینیا کی وائلڈ لائف کے مطابق برآمد ہونے والی چیونٹیاں سائنسی طور پر میسور سیفالوٹس کہلاتی ہیں اور یہ افریقی ہارویسٹر چیونٹیاں مٹی کی زرخیزی، حیاتیاتی تنوع اور ماحولیاتی نظام میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ان چونٹیوں کی تجارت بین الاقوامی حیاتیاتی تحفظ کے قوانین کے تحت سختی سے کنٹرول کی جاتی ہے اور یہ قابل گرفت جرم ہے۔
سرکاری وکیل ایلن ملاما نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کا تعلق چیونٹیوں کی اسمگلنگ کے ایک ایسے نیٹ ورک سے ہونے کا شبہ ہے جس کے خلاف گزشتہ سال کارروائی کی گئی تھی۔
استغاثہ نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ ملزم کے موبائل فون اور لیپ ٹاپ کی فرانزک جانچ کی اجازت دی جائے تاکہ اس ممکنہ نیٹ ورک کے دیگر ارکان تک پہنچا جا سکے۔
وائلڈ لائف سروس کے ایک سینئر اہلکار ڈنکن کے مطابق تفتیش کار اس معاملے میں مزید گرفتاریوں کی توقع کر رہے ہیں اور تحقیقات کو کینیا کے دیگر علاقوں تک بھی پھیلایا جا رہا ہے جہاں سے ممکنہ طور پر چیونٹیاں اکٹھی کی جاتی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ یورپ اور ایشیا میں پالتو حشرات رکھنے کے شوقین افراد میں ان چیونٹیوں کی مانگ بڑھ رہی ہے۔ ملکہ چیونٹیوں کی خاص اہمیت اس لیے ہوتی ہے کیونکہ وہ نئی کالونیاں بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
گزشتہ سال بھی کینیا کی ایک عدالت نے ہزاروں زندہ ملکہ چیونٹیوں کو اسمگل کرنے کی کوشش کرنے پر چار افراد کو ایک سال قید اور تقریباً 7700 ڈالر جرمانے کی سزا سنائی تھی۔
عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد ملزم کو مزید تفتیش کے لیے پانچ دن کے ریمانڈ پر رکھنے کی اجازت دے دی ہے جبکہ حکام اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا اس واقعے کے پیچھے کوئی بین الاقوامی سمگلنگ نیٹ ورک تو نہیں۔
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Chasing the forgotten stars
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: THE RAMAZAN EXCEPTION – Newspaper
-
Business2 weeks ago
Tensions slow Pakistani investment in Dubai real estate
-
Business2 weeks ago
With presidential ordinance set to lapse, Senate passes bill for regulating virtual assets
-
Entertainment2 weeks ago
Sidra Niazi Shares Details Of Her Marriage
-
Magazines2 weeks ago
Story time: The diary of an octopus
-
Sports2 weeks ago
Samson’s 97 puts India into T20 World Cup semi-final against England – Sport
-
Entertainment2 weeks ago
Ali Ansari On Falling in Love With More Than One Person