Today News
جنگ سے مسائل حل نہیں ہوتے
جنگ و جدل سے کبھی مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ جنگ و جدل سے فقط مسائل پیدا ہوتے ہیں کیونکہ جنگ و جدل نام ہے جوانوں کی موت کا اور وسائل کے ضیاع کا۔ پھر یہ بھی کھلی صداقت ہے کہ جنگ میں کسی فریق کی جیت نہیں ہوتی اور جنگ کا آغاز ہوتا ہے جوش و غضب سے اور انجام ہوتا ہے افسوس، رنج و الم سے۔ معلوم انسانی تاریخ پر اگر نظر ڈالی جائے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح انسان نے دوسرے کو بے دردی سے موت کے گھاٹ اتارا بلکہ جنگ و جدل سے بسا اوقات ایک ہی جنگ کے نتیجے میں ہزاروں لاکھوں بلکہ کروڑوں لوگوں کو موت کی نیند سلا دیا گیا۔ زیادہ دور کی بات نہیں،گزشتہ صدی میں دو عالمگیر جنگیں لڑی گئیں اور ایک محتاط اندازے کے مطابق ان عالمگیر جنگوں میں کم ازکم پانچ کروڑ لوگ موت کی وادیوں میں جا بسے۔ یہ تذکرہ ضروری ہے کہ اولین عالمگیر جنگ 1914 سے 1917 تک جاری رہی جب کہ دوسری عالمگیر جنگ 1939 سے 1945 تک جاری رہی۔ البتہ 1950-51 میں کوریا کی جنگ میں بتایا جاتا ہے کہ 20 لاکھ افراد لقمہ اجل بنے، دیگر چھوٹی موٹی جنگیں ہوتی رہیں لیکن 6 ستمبر 1965 کو پاک بھارت جنگ ہو گئی۔
اس جنگ میں دونوں ممالک کا انسانی جانوں کے ساتھ ساتھ مالی نقصان بہت زیادہ ہوا۔ اس جنگ میں پاک بھارت دونوں کی جانب سے کامیابی و فتح کے دعوے کیے گئے، البتہ 1967-68 میں عرب اسرائیل جنگ ہوئی، اس جنگ میں امریکی مدد و تعاون سے اسرائیل نے عربوں کے بہت سارے علاقوں پر غیر قانونی قبضہ کر لیا۔ یہ قبضہ تاحال قائم ہے جب کہ 1971 میں نومبر کی 21 تاریخ کو پاک بھارت جنگ پھر شروع ہوگئی۔ نتیجہ میں مشرقی پاکستان بنگلا دیش بن گیا۔ بھارت اس جنگ میں فتح مند ہونے کا دعویدار ضرور ہے مگر حقیقت میں ہمارے اپنوں نے ہمارا ساتھ چھوڑ دیا تھا۔ 1979 کے آخری ایام تھے، خانہ جنگی کے شکار ملک افغانستان میں سوویت یونین ایک سے ڈیڑھ لاکھ فوجی لے کر داخل ہو گیا۔
سوویت یونین کے وسائل و افغانستان کا جانی نقصان بے حد ہوا۔ یہ جنگ 1988 کو اختتام پذیر ہوئی جب کہ 1980 میں عراق و ایران کے درمیان ایک بے مقصد جنگ چھیڑ دی گئی اس جنگ کے مقاصد آج تک سمجھ سے بالاتر ہیں۔ یہ جنگ بھی 1988 کو ختم ہوئی مگر لاحاصل۔ ایک اور جنگ کا تذکرہ بھی کرتے چلیں یہ جنگ 1983 میں لڑی گئی۔ یہ جنگ تھی ارجنٹائن اور برطانیہ کے درمیان۔ یہ جنگ برطانیہ نے پانچ ہزار کلومیٹر دور جا کر لڑی۔ یہ جنگ برطانیہ نے ایک جزیرے کے حصول کے لیے لڑی اور برطانیہ اپنے جزیرے پر قبضہ برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔ البتہ 1990 میں صدام حسین نے کویت پر قبضہ کر لیا نتیجۃً سعودی عرب کی درخواست پر امریکا اپنے اتحادیوں سمیت جنوری 1991 میں عراق پر حملہ آور ہوا اور عراق کے پانچ لاکھ لوگ خواتین، بچوں و بزرگوں سمیت جاں بحق ہوگئے اور کویت پر عراقی قبضہ ختم ہو گیا۔
1999 کا زمانہ تھا جب پاک بھارت معرکہ کارگل ہوا، مزید ذکر نہ کریں تو مناسب ہوگا۔ البتہ 2001 میں پاکستان و بھارت کے درمیان مکمل جنگی فضا قائم ہو گئی لیکن اس وقت کے پاکستانی حکمران جنرل پرویز مشرف کے اس بیان پر کہ جنگ کرنی ہے تو یہ جنگ چند گھنٹے کی جنگ ہوگی آؤ جنگ کر لو۔ اس بیان کے بعد دونوں ممالک کی فوجیں اپنے اپنے سابقہ مقام پر واپس منتقل ہو گئیں۔ ایک جنگ کا تھوڑا ذکر کر لیں بلکہ جارحیت کا۔ 11 ستمبر 2001 کے دن سانحہ ورلڈ ٹریڈ سینیٹر پیش آیا امریکا نے اس سانحہ کا ذمے دار افغانستان میں موجود اسامہ بن لادن کو ٹھہرایا اور اپنے اتحادیوں سمیت افغانستان پر حملہ آور ہوا، لاکھوں افغان شہری جاں بحق ہوئے مگر بالآخر امریکا کا حشر وہی ہوا جو ویت نام میں ہوا تھا کہ آخری فوجی ہیلی کاپٹر سے لٹک کر جان بچا کر نکلا جب کہ مارچ 2003 میں امریکا نے عراق پر جارحیت کی مگر اس بار عراقیوں نے بھرپور مزاحمت کی اور گوریلا جنگ لڑی، البتہ عراقی صدر اس موقع پر جاں بحق ہوئے۔
تھوڑا ماضی میں جاتے ہیں تو پچاس کی دہائی میں امریکا نے ویت نام پر جارحیت کی اور 24 برس تک خوب اسلحے کا استعمال کیا اور آخر کار راہ فرار اختیار کی۔ 2010 میں امریکا نے لیبیا میں خانہ جنگی کروائی اور قذافی حکومت کا خاتمہ ہوا۔ چند برس قبل ملک شام میں خانہ جنگی ہوئی وہاں کے حکمران بشارالاسد کی حکومت ختم ہوئی اور وہاں رجیم چینج ہوا۔ پس پردہ امریکا تھا لیکن 2023 اکتوبر کی 7 تاریخ کو اسرائیل مکمل امریکی مدد و تعاون کے غزہ پر حملہ آور ہوگیا، یہ کھلی جارحیت تھی۔ بے دریغ قتل عام ہوتا رہا۔ 70 ہزار سے زیادہ فلسطینی شہید ہو گئے، ایک لاکھ مجروح ہوئے۔ یہ سب عام شہری تھے۔ یہ جارحیت جنگ بندی کے اعلان کے بعد بھی جاری ہے جب کہ چار برس سے روس یوکرین بے مقصد جنگ بھی ہنوز جاری ہے۔
البتہ 7 مئی 2025 کو جنگی جنون میں مبتلا نریندر مودی پاکستان پر حملہ آور ہوا۔ 3 یوم بھارتی جارحیت جاری رہی، البتہ 10 مئی کو جب پاکستان نے دندان شکن جوابی حملہ کیا تو نریندر مودی کا سارا غرور خاک ہوا۔ چند گھنٹوں میں بھارت نے اپنی شکست تسلیم کر لی۔ البتہ ماہ جون 2025 میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو۔ ایران کو تر نوالہ جان کر حملہ آور ہوا۔ ایران نے منہ توڑ جواب دیا تو امریکا نے ذاتی اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے یہ جنگ بند کروائی جب کہ پاکستان افغانستان تنازع ابھی جاری تھا کہ 28 فروری 2026 کو اسرائیل و امریکا ایران پر حملہ آور ہوئے۔ اس حملے میں ابتدا میں ایران کا شدید جانی نقصان ہوا۔ ایران کا جوابی حملہ بڑا شدید تھا۔ اگرچہ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای دیگر قیادت کے ساتھ شہید ہو گئے۔
اس کے باوجود ایران نہ صرف پوری قوت کے ساتھ اسرائیل کے شہروں پر میزائل حملے کر رہا ہے، اگرچہ اسرائیل نے سخت رویہ اپناتے یہ پابندی عائد کر رکھی ہے پھر بھی موصولہ اطلاعات کے مطابق اسرائیل کا جانی نقصان بہت زیادہ ہو رہا ہے۔ دوسری جانب ایران مختلف ممالک میں موجود امریکی اڈوں پر مسلسل حملے کر رہا ہے بلکہ امریکی تنصیبات کو بھی نشانہ بنا رہا ہے۔ یہ ضرور ہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی ملک نے اسرائیل و امریکا کو اس قدر نقصان پہنچایا ہے جب کہ امریکی صدر کو ایران پر حملے کرنے و اسرائیلی جنگ میں کودنے پر سخت تنقید کا سامنا ہے۔ بالخصوص ایران میں ایک اسکول کو نشانہ بنانے پر جس میں 168 معصوم طالبات شہید ہوگئیں، جن کی عمریں 7 برس سے 12 برس تک تھیں جب کہ امریکی ایوان بالا کے رکن مسٹر شومر نے امریکی صدر پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس جنگ میں امریکا کے 193 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں جب کہ جنگ ابھی جاری ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متضاد بیانات دے رہے ہیں۔ ان کا یہ بیان بھی سامنے آیا ہے کہ ایران جنگ سے فراغت کے بعد وہ کیوبا پر حملہ آور ہونے کا ارادہ کرچکے ہیں، وہ اگر کیوبا پر حملہ کرتے ہیں تو لازمی بات ہے کہ شمالی کوریا کیوبا کا ساتھ دیتے ہوئے اس جنگ میں شریک ہو جائے گا نتیجہ یہ ہوگا کہ جنگ کا دائرہ مزید ملکوں تک پھیل جائے گا، گویا تیسری عالمگیر جنگ کا آغاز ہو جائے گا، چنانچہ لازمی بات ہے اور وقت کا تقاضا ہے کہ ایران اسرائیل و امریکا کے درمیان جنگ بندی ممکن بنائی جائے یہی دنیا کے بہترین مفاد میں ہے کیونکہ جنگ مسائل پیدا کرتی ہے مسائل حل نہیں کرتی۔
Today News
سیکیورٹی فورسز نے افغان طالبان کے ڈرون حملوں کی کوشش ناکام بنا دی
سیکیورٹی فورسز نے افغان طالبان کے ڈرونز حملوں کی کوشش کو ناکام بنا دیا جبکہ ڈرونز کا ملبے گرنے سے چند شہری زخمی ہو گئے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق 13 مارچ 2026 کو افغان طالبان نے پاکستان میں خوف و ہراس پھیلانے کی غرض سے چند ابتدائی نوعیت کے ڈرونز استعمال کیے۔
سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ان ڈرونز کو سافٹ اور ہارڈ کِل طریقوں کے ذریعے تباہ کر دیا جس کے باعث وہ اپنے ہدف تک نہ پہنچ سکے جبکہ تباہ کیے گئے ڈرونز کا ملبہ گرنے سے کوئٹہ میں دو بچے جبکہ کوہاٹ اور راولپنڈی میں ایک ایک شہری زخمی ہوا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ حملے عوام میں خوف پیدا کرنے کی کوشش تھے اور اس سے افغان طالبان کی دہشت گرد ذہنیت عیاں ہوتی ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ افغان طالبان ایک جانب عالمی سطح پر ہمدردی حاصل کرنے کے لیے خود کو متاثرہ فریق ظاہر کرتے ہیں جبکہ دوسری جانب اپنے پراکسی عناصر اور ڈرونز کے ذریعے شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے عوام اور مسلح افواج افغان طالبان کے عزائم اور طرز عمل سے بخوبی آگاہ ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان کا آپریشن “غضبُ لِلحق” دہشت گردی کے خلاف جاری رہے گا جب تک افغان طالبان افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف ہونے والی دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کے بنیادی خدشات دور نہیں کرتے۔
پاکستان کی مسلح افواج نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف بھرپور کارروائی جاری رکھیں گی اور پاکستان کے عوام کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھایا جاتا رہے گا۔
Today News
عوام کی سہولت کیلیے پاسپورٹ آفس ہفتے میں 5 دن کھلے رکھنے کا فیصلہ
ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹ نے ہفتے میں عوام کی سہولت کیلیے ہفتے میں5دن آفس کھلے رکھنے کا فیصلہ کر لیا۔
اس سے قبل ایک پبلک نوٹس کے ذریعے ہفتے کے 4 دن پاسپورٹ آفس کھلے رکھنے کا اعلان کیا گیا تھا۔اب حسبِ سابق پیر سے جمعہ تک پاسپورٹ آفس کے تمام فیلڈ فارمیشنز، دفاتر کھلے رہیں گے۔
یاد رہے کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدہ صورتحال کے پیش نظر وزیراعظم نے کفایت شعاری پلان دیا تھا جس میں توانائی کے ممکنہ بحران کے حوالے سے یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ ہفتے میں 4 دن کام ہوگا جبکہ 50 فیصد ملازمین کو ورک فرام ہوم دیا جائے گا۔
Source link
Today News
ایرانی افزودہ یورینیم کی روس منتقلی؛ ٹرمپ نے پیوٹن کی پیشکش مسترد کر دی
امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے افزودہ یورینیم کو روس منتقل کرنے کی روسی صدر ولادمیر پیوٹن کی پیشکش مسترد کر دی۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق روسی صدر ولادمیر پیوٹن نے ایران کے افزودہ یورینیم کو روس منتقل کرنے کی پیشکش دی تھی اور یہ پیشکش تہران کے ساتھ جنگ بندی معاہدے کے حصے کے طور پر سامنے آئی تھی۔
رپورٹس کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر روسی اور امریکی صدور کے درمیان رواں ہفتے رابطہ ہوا جس میں روسی صدر پیوٹن نے امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو میں یہ پیشکش دی تھی۔
امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے ایران کے افزودہ یورینیم کو اپنے ملک منتقل کرنے کی پیشکش اس سے قبل بھی کی جا چکی ہے، تاہم امریکا نے اس تجویز کو قبول نہیں کیا۔
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Chasing the forgotten stars
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: THE RAMAZAN EXCEPTION – Newspaper
-
Business2 weeks ago
Tensions slow Pakistani investment in Dubai real estate
-
Business2 weeks ago
With presidential ordinance set to lapse, Senate passes bill for regulating virtual assets
-
Entertainment2 weeks ago
Sidra Niazi Shares Details Of Her Marriage
-
Magazines2 weeks ago
Story time: The diary of an octopus
-
Sports2 weeks ago
Samson’s 97 puts India into T20 World Cup semi-final against England – Sport
-
Entertainment2 weeks ago
Ali Ansari On Falling in Love With More Than One Person