Connect with us

Today News

پڑوسی ممالک اپنی سرزمین سے امریکی فوجیوں کو نکال دیں؛ ایران کا مطالبہ

Published

on


امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں ایران نے خلیجی ممالک میں واقع امریکی فوجی اڈّوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے جس پر پڑوسی ممالک نے شکوہ بھی کیا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اور صدر مسعود پزیشکیان مشرق وسطیٰ کے ممالک سے امریکی فوجیوں کو نکالنے کا مطالبہ کرچکے ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی یہی مطالبہ دہراتے ہوئے خلیجی ممالک اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے علاقوں سے امریکی فوج کو فوری طور پر نکال دیں۔

عباس عراقچی نے کہا کہ ایران اپنے برادر ہمسایہ ممالک سے اپیل کرتا ہے کہ وہ غیر ملکی افواج کو اپنے علاقوں میں موجودگی کی اجازت نہ دیں، خاص طور پر اس وقت جب ان کا بنیادی مقصد صرف اسرائیل کے مفادات کا تحفظ ہے۔

سوشل میڈیا پر جاری بیان میں عباس عراقچی نے مزید کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی اور جوابی حملوں کے تناظر میں اب وقت آ گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے ممالک غیر ملکی جارح قوتوں کو اپنے علاقوں سے نکال دیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ امریکا کی جانب سے فراہم کیا جانے والا نام نہاد سکیورٹی امبریلا ناکام ثابت ہوچکا ہے جو خطے میں امن قائم رکھنے کے بجائے مزید مسائل کو دعوت دے رہا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکا اب خود آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کے لیے دوسرے ممالک حتیٰ کہ چین سے بھی مدد مانگ رہا ہے۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ امریکی حکمت عملی خطے میں استحکام فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔

 





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

عالمی یوم القدس، مزاحمت کا استعارہ ہے

Published

on


دنیا بھر میں رمضان المبارک کا آخری جمعہ قبلہ اول بیت المقدس یعنی القدس شریف کے نام سے منسوب ہے۔ دنیا بھر میں لوگ اس دن کو یوم القدس مناتے ہیں۔

دنیا بھر میں ہر سال ماہِ رمضان کے آخری جمعہ کو منایا جانے والا یوم القدس صرف ایک علامتی دن نہیں ہے بلکہ ایک عالمی بیداری، مزاحمت اور مظلوموں سے یکجہتی کی علامت بن چکا ہے۔

اس دن کا آغاز ایران میں اسلامی انقلاب کے بانی حضرت امام خمینی ؒ کے حکم پر شروع ہوا تھا۔ امام خمینی نے رمضان کے آخری جمعہ کو یوم القدس قرار دیا اور دنیا بھر کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اس ایک دن کو فلسطین کی آزادی اور قدس کی بازیابی کے لیے متحد ہوکر ہم آواز ہوجائیں اور دنیا کو پیغام دیں کہ فلسطین کی آزادی کے لیے مسلمان دنیا بھر میں متحد ہیں۔

امام خمینی ؒ کی اس اپیل پر آج بھی دنیا بھر میں بالخصوص فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں بھی رمضان کے آخری جمعہ یوم القدس منایا جاتا ہے۔

یہ دن مسلمانوں کے لیے اتحاد کی علامت بن چکا ہے اور دنیا بھرکے حریت پسندوں کے لیے ایک مرکزی دن کی حیثیت اختیارکرچکا ہے۔

اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ دنیا کے مسلمان اور آزادی پسند افراد فلسطین کے مسئلے کو زندہ رکھیں اور مقبوضہ فلسطین و القدس کی آزادی کے لیے اپنی آواز بلندکریں۔

امام خمینی نے اپنے فرامین میں لوگوں کو تاکید کی کہ یوم القدس ایک عام دن نہیں۔ انھوں نے اس دن کو ظالم طاقتوں کی نابودی کا دن قرار دیا۔ انھوںنے یوم القدس کو فلسطین کی آزادی کا دن قرار دیا اورکہا کہ اسرائیل عالم اسلام کے قلب میں ایک خنجر کی مانند ہے۔

گزشتہ کئی دہائیوں سے یوم القدس دنیا کے مختلف ممالک میں جلسوں، ریلیوں اورکانفرنسوں کی صورت میں منایا جاتا رہا ہے، تاہم 7 اکتوبر 2023 کے بعد اس دن کی اہمیت میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

اس تاریخ کو حماس کی جانب سے اسرائیل کے خلاف شروع ہونے والی بڑی دفاعی کارروائی جسے طوفان الاقصیٰ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، نے پورے خطے کی سیاست کو بدل کر رکھ دیا۔

اس کے بعد غزہ میں جاری جنگ نے دنیا کو ایک مرتبہ پھر فلسطین کے مسئلے کی سنگینی کا احساس دلایا۔7 اکتوبر کے بعد سامنے آنے والی صورتحال نے یہ واضح کر دیا کہ فلسطین کا مسئلہ محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ ایک انسانی اور عالمی مسئلہ ہے۔

غزہ میں جاری جنگ، ہزاروں شہریوں کی شہادت اور انسانی بحران نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یوم القدس اب پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکا ہے کیونکہ یہ دن صرف فلسطینیوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار نہیں بلکہ ظلم کے خلاف اجتماعی آواز بلند کرنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔

حالیہ رمضان المبارک میں آنے والا یوم القدس جوکہ 23رمضان المبارک کو دنیا بھر میں منایا گیا۔ ایسے حالات میں آیا کہ جب امریکا و اسرائیل اور مغربی دنیا نے فلسطین اور لبنان میں نسل کشی کے بعد اب ایران کا رخ کر رکھا ہے۔

ایران خطے میں گریٹر اسرائیل کے راستے کا ایک مضبوط پتھر اور رکاوٹ ہے جسے امریکا و اسرائیل اور ان کے حواری گرانا چاہتے ہیں، اگر آج ایران کو شکست ہوئی تو پھر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ فلسطین پر اسرائیل کا مکمل قبضہ آسان ہوجائے گا اور ساتھ ساتھ خطے میں دیگر ممالک میں بھی گریٹر اسرائیل کی سرحدیں کھینچ دی جائیں گی۔

یوم القدس کا اصل پیغام مزاحمت، استقامت اور عوامی بیداری ہے۔ فلسطینی عوام نے گزشتہ کئی دہائیوں میں جس صبر اور حوصلے کے ساتھ اپنی سرزمین کے دفاع کی جدوجہد جاری رکھی ہے، وہ دنیا کے مظلوم عوام کے لیے ایک مثال بن چکی ہے۔

غزہ اور مغربی کنارے کے عوام سمیت لبنان کے عوام نے یہ ثابت کیا ہے کہ محدود وسائل کے باوجود آزادی کی جدوجہد کو زندہ رکھا جا سکتا ہے۔ آج غزہ وفلسطین سمیت لبنان اور یمن کے عوام نے القدس کی آزادی کے لیے بیش بہا قربانیاں دی ہیں۔

حال ہی میں ان قربانیوں میں ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور ان کے رفقاء اور اہل و عیال نے بھی اس راستے میں جام شہادت نوش کرلیا ہے۔

یہ ایک روشن حقیقت ہے کہ کسی بھی تحریک کی کامیابی صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ عوامی شعور اور عالمی رائے عامہ میں بھی طے ہوتی ہے۔ 7 اکتوبر کے بعد دنیا کے مختلف ممالک میں فلسطین کے حق میں بڑے پیمانے پر مظاہرے دیکھنے میں آئے۔

یورپ، امریکا، ایشیا اور افریقہ کے کئی شہروں میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہارکیا۔ یہ عالمی بیداری اس بات کا ثبوت ہے کہ یوم القدس کا پیغام سرحدوں سے بالاتر ہو چکا ہے۔

عوام کا کردار اس جدوجہد میں انتہائی اہم ہے۔ حکومتوں کی پالیسیوں کے باوجود عوامی دباؤ اکثر بین الاقوامی سیاست کا رخ بدل دیتا ہے۔ اسی لیے یوم القدس کو منانے کا مقصد صرف احتجاج نہیں بلکہ شعور پیدا کرنا، نئی نسل کو مسئلہ فلسطین سے آگاہ کرنا اور عالمی ضمیرکو بیدار رکھنا بھی ہے۔

جب دنیا کے مختلف ممالک میں لاکھوں افراد فلسطین کے حق میں آواز بلند کرتے ہیں تو یہ پیغام واضح طور پر سامنے آتا ہے کہ حق کی جدوجہد کو دبایا نہیں جا سکتا۔ یہ بات ہمارے تمام شہداء نے تکرارکی ہے کہ حق کی آوازکو دبایا نہیں جا سکتا۔

آج یوم القدس حق کی آواز ہے جو گونج رہی ہے اور دنیا کے با ضمیر انسانوں کو بیدارکرنے کا کام کر رہی ہے، اگرچہ آج ہمارے درمیان امام خمینی اور امام خامنہ ای کی شخصیات موجود نہیں ہیں لیکن ان کے افکار موجود ہیں۔

ان کا راستہ ہمارے لیے واضح ہے، اگر آج اس راستے میں اسماعیل ہانیہ، یحیٰ سنوار، محمد ضیف اور حسن نصر اللہ سمیت ہاشم صفی الدین اور دیگر اہم رہنماؤںنے اپنی جان قربان کر دی ہے لیکن پھر بھی راستہ وہی ہے اور ہدف بھی واضح اور دقیق ہے کہ اس خون کی برکت سے اسرائیل کی نابودی۔

یوم القدس حقیقت میں شہدائے اسلام کے خون کا تسلسل ہے۔یہی وہ پس منظر ہے جس میں یوم القدس کی اہمیت کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ آج یوم القدس صرف ایک مذہبی یا سیاسی دن نہیں بلکہ عالمی ضمیرکی بیداری کا دن بن چکا ہے۔

یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ فلسطین کی سرزمین پر جاری ظلم کے خلاف خاموش رہنا دراصل ظلم کا ساتھ دینے کے مترادف ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ آج جب دنیا ایک نئے سیاسی دور سے گزر رہی ہے اور خطے میں طاقت کا توازن تیزی سے بدل رہا ہے، ایسے میں یوم القدس کا پیغام پہلے سے کہیں زیادہ واضح ہے۔

ظلم کے خلاف مزاحمت، مظلوموں کے ساتھ یکجہتی اور انصاف کے لیے اجتماعی جدوجہد جاری رکھی جائے یہی یوم القدس اور امام خمینی کا عالمگیر پیغام ہے۔ پاکستان سمیت مسلم دنیا کے ممالک میں یوم القدس کی تقریبات خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔

پاکستان میں یہ دن تمام شہروں میں بھرپور مذہبی عقیدت اور جذبہ کے ساتھ منایا جاتا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستان کے غیور عوام فلسطین اور مزاحمت کے ساتھ ہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

پشاور، عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم کے انکلوژرز 1992 ورلڈ کپ کے ہیروز کے نام سے منسوب کرنے کی منظوری

Published

on



پشاور:

خیبرپختونخوا حکومت نے پشاور کے عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم کے انکلوژرز کو 1992 کے عالمی کپ میں پاکستان کو تاریخی فتح دلانے والی قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کے نام سے منسوب کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

محکمہ کھیل کی جانب سے اس سلسلے میں سمری صوبائی حکومت کو ارسال کی گئی تھی جسے باقاعدہ طور پر منظور کر لیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق ٹی ٹوئنٹی کپ کے اختتام کے بعد اسٹیڈیم کے مختلف انکلوژرز کو قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کے ناموں سے منسوب کرنے کا عمل شروع کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ 1992 کے عالمی کپ میں پاکستان کی قیادت کپتان عمران خان نے کی تھی جبکہ فاتح ٹیم میں جاوید میانداد، وسیم اکرم، عاقب جاوید، انضمام الحق، سلیم ملک، اعجاز احمد، عامر سہیل، رمیز راجہ، مشتاق احمد، اقبال سکندر، معین خان، زاہد فضل اور وسیم حیدر شامل تھے۔

ڈائریکٹر جنرل کھیل تاشفین حیدر کے مطابق عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم کے انکلوژرز کو 1992 کے عالمی کپ کی فاتح ٹیم کے کھلاڑیوں کے ناموں سے منسوب کیا جا رہا ہے جس کی صوبائی حکومت سے منظوری مل چکی ہے اور ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کے بعد اس منصوبے پر باقاعدہ کام شروع کر دیا جائے گا۔





Source link

Continue Reading

Today News

آپریشن غضب للحق، پاک فضائیہ کی کامیاب کارروائی، طالبان کے اہم ٹھکانے اور فوجی تنصیبات تباہ

Published

on



اسلام آباد:

پاکستانی افواج نے آپریشن “غضب للحق” کے تحت 14 اور 15 مارچ کی درمیانی شب افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف بڑی فضائی کارروائی کرتے ہوئے متعدد اہم اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اس کارروائی کی ویڈیو بھی جاری کر دی گئی ہے جس میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملوں کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک افواج نے افغانستان کے شہر قندھار میں افغان طالبان اور فتنہ الخوارج سے منسلک دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے ساتھ ساتھ بعض فوجی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا۔

ان حملوں میں دہشت گردوں کے ٹیکنیکل سپورٹ انفراسٹرکچر اور ایکوپمنٹ اسٹوریج کو مؤثر انداز میں تباہ کر دیا گیا۔

ذرائع کے مطابق تباہ کیے جانے والے انفراسٹرکچر اور اسٹوریج مراکز افغان طالبان اور دہشت گرد عناصر کی جانب سے استعمال کیے جا رہے تھے جہاں سے دہشت گردی کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور معاونت کی جاتی تھی۔

سیکیورٹی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ آپریشن “غضب للحق” کے تحت کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک تمام اہداف حاصل نہیں کر لیے جاتے اور پاکستان کی سرحدی سلامتی کو مکمل طور پر یقینی نہیں بنا لیا جاتا۔





Source link

Continue Reading

Trending