Connect with us

Today News

حکومت سندھ کا 23 مارچ کو عام تعطیل کا اعلان، نوٹیفکیشن جاری

Published

on



حکومت سندھ نے 23 مارچ کو عام تعطیل کا اعلان کردیا اور اس حوالے سے نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا۔

حکومت سندھ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ صوبائی حکومت یوم پاکستان کے سلسلے میں 23 مارچ 2026 کو صوبے بھر میں عام تعطیل ہوگی۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ صوبائی حکومت کے تمام دفاتر، اداروں، حکومت سندھ کے زیر انتظام کارپوریشنز اور بلدیاتی اداروں میں عام تعطیل ہوگی تاہم ضروری نوعیت کے خدمات کے حامل دفاتر پر اس کا اطلاق نہیں ہوگا۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

پٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی اولین ترجیح، وزیر خزانہ

Published

on



اسلام آباد:

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ  حکومت کی اولین ترجیح ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانا اور عوام پر بوجھ  ممکنہ حد تک کم رکھنا ہے۔

اپنی زیر صدارت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی نگران کمیٹی کے وڈیو لنک اجلاس میں انھوں نے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کے باوجود پاکستان میں پٹرولیم سپلائی مستحکم ہے، اس کی وجہ بروقت منصوبہ بندی اور متعلقہ اداروں کے درمیان موثر رابطہ ہے۔

اجلاس میں علاقائی کشیدگی اور عالمی نرخوں میں اتار چڑھائو کا تفصیلی جائزہ، ملکی ذخائر، درآمدی انتظامات اور سپلائی چین کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔

حکام نے بتایا کہ کارگوز کی بروقت آمد، ریفائنریز کی پیداواری صلاحیت برقرار رکھنے اور بلا تعطل سپلائی چین کیلئے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

اجلاس میں وزیرِ پٹرولیم، وزیرِ قومی غذائی تحفظ ، وزیرِ مملکت برائے خزانہ، گورنرسٹیٹ بینک اور متعلقہ وزارتوں کے اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔





Source link

Continue Reading

Today News

امت مسلمہ کے لیے جہاد اور اتحاد کی ضرورت

Published

on


اللہ رب العزت نے اتحاد اور جہاد کا حکم اسی لیے دیا ہے کہ مسلمان مضبوط رہیں،کوئی ان کی طرف ٹیڑھی نگاہ سے دیکھنے کی جرأت نہ کرے لیکن مسلمانوں نے احکام ربانی کو بالائے طاق رکھ دیا ہے ، نصاریٰ اور صیہونی قوتوں کے سامنے نہ صرف کہ گھٹنے ٹیکے ہیں بلکہ ان کے رسم و رواج اور طور طریقوں کو اپنا لیا ہے ان کی اس مذموم حرکات کی وجہ سے امت مسلمہ ایک کمزور قوم کے طور پر سامنے آئی ہے۔

امریکا جو اپنے آپ کو سپرپاور قرار دیتا ہے اور وہ تمام خصوصاً اسلامی ملکوں کو تہہ و بالا کرنا چاہتا ہے اور اپنی ناپاک خواہش کے تحت وہ ماضی میں ایسا ہی کرتا رہا ہے۔ افغانستان، عراق، شام میں اس نے جو تباہی مچائی اسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔

ان جنگوں کے تناظر میں دیکھا جائے تو شام و عراق کے تیل کے کنوؤں پر قبضہ کرنا تھا اور اپنی معاشی طاقت میں اضافہ اور مسلم حکمرانوں کو محکوم بنانا تھا۔

وہ ہمیشہ سے ہی جال ساز رہا ہے ایسا جال بنتا ہے جس میں دنیا کے طالب، عیش و عشرت اور تعیشات زندگی کو ہی اپنا دین و دنیا سمجھنے والے بہت آسانی کے ساتھ کفار کے دوست بنتے ہیں اور ان کے ساتھ مل کر اپنے ہی بھائیوں کو ہلاکت میں بھی ڈالتے ہیں۔

انھیں مسلمانوں کو ایذا رسانی پہنچاتے ہوئے بالکل بھی نہیں آتا ہے، اگر وہ اللہ کے احکام کو دل سے مانتے اور زبان سے اعادہ کرتے تو یقینی بات ہے کہ غزہ کے معصوم بچے، خواتین اور تمام مظلومین کی آواز ضرور سنتے۔

ان کی مدد کرتے مسلمانوں کے دشمن کے سامنے سینہ سپر ہو جاتے تو آج اسرائیل ایران پر حملہ ہرگز نہ کرتا۔

اس موقع پر بھی مسلم حکمران خاموش ہیں۔ چپ کا روزہ رکھ لیا ہے، یہ ان کی مصلحت تو ہو سکتی ہے لیکن ایمان کی طاقت، جذبہ جہاد ہرگز نہیں۔

ایران ہمارا ہمسایہ مسلمان ملک ہے۔ ایسے موقعے پر شیعہ، سنی اور دوسرے مسالک کو مدنظر نہیں رکھنا چاہیے بلکہ اس بات پر غورکرنا چاہیے کہ یہ ہمارے کلمہ گو بھائی ہیں۔

سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی جرأت و دلیری کو سلام، وہ اسلام کے ایک سچے لیڈر کے طور پر سامنے آئے اور انھوں نے ثابت کر دیا کہ حقیقتاً وہ مرد مجاہد اور عالم اسلام کے سپہ سالار ہیں۔

چونکہ اسرائیل اور امریکا کے گٹھ جوڑ سے ہونے والا حملہ اس حقیقت کو عیاں کرتا ہے کہ جیسے ایران پر اسرائیل کے ہونے والے حملے سے امت مسلمہ کا کوئی تعلق نہیں ہے جب کہ یہ وہ وقت تھا کہ اپنی کوتاہیوں اور اللہ کی نافرمانی کی تلافی کی جاتی اور امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوتے اور علی الاعلان جہاد کا اعلان کرتے پھر جو نتیجہ آتا وہ حیران کن اور اسلام کی سربلندی کے طور پر سامنے آتا۔

53 اسلامی ممالک میں سے کچھ تیل کی دولت سے مالا مال، دنیا کی ہر نعمت سے لبریز شان دار اور جری افواج، پھر خوف کس چیز کا؟

لیکن بے حسی اور مفاد پرستی نے مسلمانوں کو کہیں کا نہیں چھوڑا ہے۔ پستی اور ناکامی ان کا مقدر بن چکی ہے۔ ذلت کے غار میں دھکیل دیے گئے ہیں، آج اپنے اعمال کی وجہ سے پوری دنیا میں ذلیل و خوار ہیں اور ان لوگوں کو اپنے سروں پر بٹھا لیا ہے جو اللہ سے کیے گئے وعدوں کی نفی کرتے اور آیات کو جھٹلاتے، پیغمبروں کو قتل کرتے۔

سزائیں ملنے کے باوجود ان صیہونیوں میں تبدیلی ہرگز نہیں آئی، امریکا اور ہندوستان اسرائیلیوں کے ساتھ ہیں، ٹرمپ اور مودی امت مسلمہ کا خون بہانے کے لیے ہر دم سرگرم عمل رہتے ہیں اور نئی نئی سازشوں کا جال بنتے ہیں۔

ٹرمپ نے غزہ میں مسلمانوں کی شہادت، انھیں گھروں سے بے گھر اور بھوک و افلاس میں مبتلا کرنے اور ان کے قتل عام کے لیے امداد اور اسلحہ فراہم کرنے کا بیڑا اٹھایا ہوا ہے اور عملی طور پر مسلم بہن بھائیوں اور ان کے معصوم بچوں کے لیے مقتل سجایا۔

ان حالات میں بھی جب کہ صدر ٹرمپ غزہ اور ایرانیوں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگ چکے ہیں وہ بھی بے قصور شہری۔ آخر امریکا کو پوری دنیا کا مائی باپ بننے اور امن پسند ملکوں کو زیرنگیں کرنے کا شوق کیوں ہے؟

شوق کا کوئی مول نہیں لیکن جائز طریقے سے اور اپنی محنت اور کاوش کی بدولت شوق پورا کیجیے لیکن دوسرے ملکوں کے سربراہان کو محض طاقت کے بل پر اٹھانے اور خون کی ہولی کھیلنے والوں کو نوبل انعام کی سفارش کیوں کر کی جا سکتی ہے۔

ایران کے سپریم لیڈر صدر آیت اللہ خامنہ ای کو شہید کر دیا گیا، ان کی شہادت پر پاکستان کے اکابر علما نے دکھ کا اظہار کیا اور ایران کے ساتھ یکجہتی و اتفاق پر زور دیا ہے انھی اعلیٰ حضرات اور مفتیان دین میں مفتی تقی عثمانی بھی شامل ہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

جنگی جنون اور اقوام متحدہ کی حیثیت کا سوال

Published

on


امریکا اسرائیل کے ایران پر حالیہ حملوں کے نتیجے میں خلیج کے خطے میں جاری جنگ کے حوالے سے اقوام متحدہ میں روس کی جانب سے جنگ بندی کی قرار داد کو امریکا نے ویٹو کرکے مذکورہ خطے کو جنگ و جدل میں مبتلا رکھنے کا عندیہ دے کر دنیا کے امن پسند اور جنگی جنون سے نفرت کرنے والوں کو پیغام دیا ہے کہ امریکا اور اس کے سرمایہ دار حلیف ممالک اپنے سرمائے کے تحفظ اور دنیا کے معدنی ذخائر کو طاقت اور سرمائے کی بنیاد پر نگلنا چاہتا ہے۔

جس میں امریکی سرمایہ دارانہ مفادات کا ساتھ یورپ سے لے کر خلیج،برصغیر کے ممالک دے رہے ہیں جب کہ ایران، روس اور چین امریکی جارحیت کے خلاف دنیا میں ایک ایسا ماحول تیار کرنے کی جستجو میں ہیں جو امریکی و اسرائیلی ہٹ دھرمی کے خلاف تو نظر آتا ہے۔

مگر ’’امپریل ازم‘‘ یا عالمی سامراج کی سرمایہ دارانہ لوٹ کھسوٹ یا اتحاد پر دنیا کے عوام کی توجہ نہیں مبذول کرانا چاہتا ہے اور نہ ہی عالمی سامراج کے جبر پر کوئی واضح بیانیہ دینا چاہتا ہے۔

سوشلسٹ روس کے ابتدائی سالوں میں پہلی عالمی جنگ کے بعد قائم ہونے والی ریاست ہائے متحدہ Nation of the leagueبنیادی طور سے انگلستان، فرانس اور جرمنی کے نو آبادیاتی مفادات کو تحفظ دینے کے لیے قائم کی گئی تھی۔

جس پر لینن نے ’’سوشلسٹ انقلاب‘‘ نامی پمفلٹ میں ریاست ہائے متحدہ بننے کے بارے میں کہا تھا کہ ’’اس قسم کے ادارے سرمایہ داری کے انتہائی ارتقا کے دور میں مٹھی بھر عظیم طاقتوں کے ہاتھوں کرہ ارض کے اربوں افراد کی لوٹ کھسوٹ کے لیے منظم کیے جاتے ہیں اور ایسے اداروں کے ذریعے یہ سامراجی ممالک اپنی نو آبادیوں کے حصے بخرے کرنے کے لیے سرمایہ دارانہ گٹھ جوڑ کرتے ہیں۔

لینن نے دنیا کو اس وقت ہی خبردار کیا تھا کہ،ناہموار اور غیر مساوی معاشی اور سیاسی ارتقا سرمایہ داری کا اٹل قانون ہے،جس کا خاتمہ سوشلزم کی فتح ہی سے ممکن ہے‘‘۔

لینن کی یہ باتیں جنگ عظیم دوم کے بعد آج بھی نہ صرف درست بلکہ دنیا میں سرمایہ دارانہ لوٹ کھسوٹ کا بھیانک چہرہ دکھانے کے لیے آج کی حقیقت ہیں،یاد رہے کہ دنیا میں امریکی تسلط کو امپریل ازم کی طاقتوں کے تحت جب نافذ کیا گیا تو اقوام متحدہ نامی ادارہ دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد 1945بنا یا گیا،جس میں دنیا کے 50امریکی زیر اثر ممالک شریک تھے، جب کہ اقوام متحدہ کی مخالفت اس وقت کی تمام سوشلسٹ ریاستوں نے کی تھی۔

وینزویلا کے صدر کو اغوا کرنے یا ایران پر امریکا اور اسرائیل کی جارحیت کے خلاف قرارداد نہ لانے پر سامراجی ممالک اور ان کے لے پالک بادشاہتیں ایران پر جنگ مسلط کرنے پر مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے۔

تو کیا اس حقیقت کو مان لیا جائے کہ آج کی جدید اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں بھی اقوام متحدہ کا ادارہ امریکا اور اس کے سرمایہ دار حلیف ممالک کی ایسی لونڈی بنا ہوا ہے،جو خریدے ہوئے ووٹ کی طاقت سے کسی بھی ملک پر نہ صرف حملہ کر سکتا ہے بلکہ امپیریل ازم کی بقا کے لیے کسی بھی ملک پر قابض ہو کر اپنی مرضی و منشا کی حکومت لا سکتا ہے۔

جب کہ پوری اقوام متحدہ امپریلسٹ قوتوں کے نمائندے امریکا کے سامنے عضو معطل بنا ہوا ہے، عالمی دنیا کے خط افلاس میں مبتلا عوام کے سامنے یہ وہ سوال ہے جو ایک صدی پہلے مفاد پرست سامراجی اداروں کے بارے میں روس کے انقلابی رہنما لینن اٹھا چکے ہیں جب کہ یہ سامراجی ممالک امریکا کی فرمانبرداری اور عوام کے سرمائے کی لوٹ کھسوٹ کے ساتھ ترقی پذیر ممالک کی آزادی و خود مختاری کو دھڑلے سے چبا رہے ہیں۔

اور دوسری جانب اقوام متحدہ کا ادارہ اپنے مجرمانہ سلوک سے اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہا ہے جب کہ اقوام متحدہ کے قیام کے وقت چارٹر میں واضح طور پر درج ہے کہ ’’اقوام متحدہ کا بنیادی مقصد دنیا میں امن و سلامتی برقرار رکھنا اور نسلی جنگوں سے بچنا ہے‘‘۔

سوال یہ ہے کہ کیا اقوام متحدہ اپنے بنیادی مقصد امن و سلامتی اور جنگیں روکنے پر عمل کر رہا ہے،اگر ایسا نہیں ہے تو لینن کا یہ کہنا بالکل درست ثابت ہوتا ہے کہ ’’ایسے ادارے صرف اربوں عوام کی معاشی لوٹ کھسوٹ اور وسائل پر قبضہ کرنے کے لیے قائم کیے جاتے ہیں‘‘۔

امریکا اسرائیل اور ایران کی حالیہ جنگی ماحول میں تینوں فریق اپنی اپنی سبقت کی خبریں چلانے میں مصروف ہیں جب کہ آبنائے ہرمز پر ایرانی پاسداران انقلاب کے فوجی اپنی دسترس قائم کیے ہوئے ہیں جس سے پوری دنیا تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے سے نہ صرف پریشان ہے بلکہ دنیا کی معیشتوں پر آبنائے ہرمز کے راستوں پر پڑی بارودی سرنگیں جہاں تیل کی ترسیل میں رکاوٹ کا سبب بن رہی ہیں۔

وہیں عالمی طور سے ملکوں کے عوام پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے پیش نظر معاشی دباؤ بڑھ رہا ہے جس سے عالمی طور سے معاشی بد حالی سر ابھار رہی ہے،جس سے مختلف ممالک کی حکومتوں کی بقا خطرے میں دکھائی دیتی ہے۔

جب کہ تیل کی آسان رسد کے نہ ہونے سے امریکا کی عالمی طاقت عالمی طور سے عوام کے اندر ایک منفی رجحان پیدا کر رہی ہے،جس کا مکمل فائدہ ایران کی حکومت نہ صرف اٹھا رہی ہے بلکہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کی گئی جارحیت کو ایران اور اس کا اتحادی میڈیا بڑھ چڑھ کر بیان کر رہا ہے جس سے عالمی طور پر جہاں امریکی طاقت کی ساکھ خراب ہو رہی ہے۔

وہیں دنیا اور خاص طور پر خلیجی ممالک کا امریکا پر انحصار بھی ایک سوال پیدا کر رہا ہے، اس تناظر میں مستقبل میں خلیجی ممالک اپنے دفاع کی جنگ کس طرح لڑیں گے یا اپنی بادشاہتوں کو کس طرح محفوظ بنائیں گے۔

اس وقت یہ سوال خلیج و فارس اور امریکا اسرائیل جنگ کے ضمن میں اہم بن چکا ہے،گو اقوام متحدہ میں امریکا نے اپنے اثر و رسوخ سے خلیجی ممالک کی ایرانی حملوں کے ضمن میں قرارداد منظور کر والی ہے،مگر یہ قرارداد ایران کے جوابی حملوں میں کوئی کمی اب تک نہیں لا سکی ہے۔

امریکا اسرائیل اور ایران کی حالیہ جنگ میں عالمی طور سے مختلف تبصروں میں یہ ضرور کہا جا رہا ہے کہ امریکا کی جدید اسلحہ اور ٹیکنالوجی کی طاقت کو شکست دینا کم از کم ایران کے بس کا روگ نہیں۔

مگر دوسری جانب یہ بات بھی منظر عام پر لائی جا رہی ہے کہ ایران کی میزائل اور ڈرون میزائل کی صلاحیت اور دباؤ کے پیش نظر یہ جنگ امریکا کو زر مبادلہ کے حوالے سے نہ صرف مہنگی پڑ رہی ہے بلکہ اس کی جدید ترین ٹیکنالوجی بھی سوالات کی نذر ہورہی ہے۔

اسی کے ساتھ اس امکان کو بھی خارج نہیں کیا جا سکتا کہ امریکی مہنگے ہتھیاروں کے تباہ ہونے یا غیر موثر ہونے سے امریکی معیشت کسی بھی وقت ایک شدید بحران سے دوچار ہو سکتی ہے۔

امریکا اسرائیل اور ایران کی موجودہ جنگ میں اس خیال کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا کہ طویل جنگی حکمت عملی ایران کے مفاد اور سلامتی کے لیے ضروری تصور کی جا رہی ہے جب کہ امریکا اور اسرائیل کی یہ خواہش ہے کہ جلد سے جلد جنگ ختم کی جائے تاکہ امریکا اور اسرائیل نہ صرف بڑی تباہی سے بچ سکیں بلکہ مستقبل کے حملے کے نئے زاویے بھی تلاش کریں۔





Source link

Continue Reading

Trending