Connect with us

Today News

امریکا ویتنام کی طرح ایران میں پھنس سکتا ہے، سابق سیکریٹری خارجہ

Published

on



سابق سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کے پاس اب بھی وقت ہے کہ جیت کا اعلان کرکے جنگ ختم کرے تاکہ بچت ہو ورنہ امریکا ویتنام کی طرح ایران میں پھنس سکتا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے پروگرام ‘سینٹر اسٹیج’ میں گفتگو کرتے ہوئے سابق سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے کہا کہ امریکا کو تشویش ہے کہ ایران میں حکومت تبدیل کیوں نہیں ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ جب دونوں طرفین ڈٹے ہوں تو پھر سفارت کاری کام نہیں آتی، سفارت کاری اس وقت کامیاب ہو گی جب ایک فریق کمزور ہو۔

اعزاز چوہدری نے کہا کہ امریکا کو اس جنگ کا مقصد ہی واضح نہیں تھا، امریکی جنگ کے مختلف مقاصد بیانات کرتے رہے، یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ یہ امریکا کی نہیں بلکہ اسرائیل کی جنگ ہے۔

سابق سیکریٹری خارجہ نے کہا کہ امریکا کے پاس اب بھی وقت ہے کہ وہ جیت کا اعلان کر کے جنگ ختم کرے، اس صورت میں ہی فیس سیونگ رہ جائے گی۔

امریکا، اسرائیل اور ایران جنگ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ یہ جنگ ویتنام جیسی صورت حال اختیار کر سکتی ہے، امریکا ویتنام کی طرح ایران میں پھنس سکتا ہے، خلیجی ریاستیں جنگ ختم کرنے کے لیے امریکا پر دباؤ ڈالیں۔

اعزاز چوہدری نے کہا کہ پاکستان نے اب تک بہت عمدہ سفارت کاری کی ہے، جنگ سے پہلے امریکا نے سفارت کاری صرف دکھاوے کے لیے کی تھی اور اس وقت مجھے سفارت کاری کامیاب ہوتی نظر نہیں آرہی ہے۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

سنک ہولز خطرے کی علامت

Published

on


چند برس پہلے ہی پڑھا تھا کہ ایران میں زیادہ مقدار میں زیر زمین پانی نکالنے کے باعث زمین دھنس جانے کے واقعات رونما ہو رہے ہیں، ابھی کچھ عرصہ قبل ایسا ہی کچھ ترکیہ کے بارے میں سنا جب کہ پاکستان میں بھی خاص کر کراچی میں زمین دھنس جانے کے بارے میں سنا ہے۔

زمین کی سطح پر اچانک بننے والے ایسے گڑھے سنک ہولزکہلاتے ہیں جن کی وجہ سے زمین اپنی سطح سے نیچے دھنس جاتی ہے، یہ زیر زمین چٹانوں کے پانی میں حل ہونے کے باعث یا کٹاؤ کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔

جب زیر زمین پانی کو کثرت سے نکالا جائے تو چونے کے پتھر یا نمکیات کا کٹاؤ پیدا ہوتا ہے۔ یہ قدرتی طور پر پیدا ہو سکتے ہیں یا کان کنی اور دیگر تعمیراتی کاموں کی وجہ سے بھی بنتے ہیں۔

حال ہی میں ترکیہ کے حوالے سے ایسے دیوہیکل سنک ہولز کے پھیلاؤ کے بارے میں پڑھا جہاں تیزی سے شدید گرمی میں زمین بیٹھنے کے واقعات رونما ہو رہے ہیں جس سے کسانوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں، ہر رات وہ اسی خوف کے ساتھ سوتے ہیں کہ ان کا گھر زمین میں نہ سما جائے۔

یہ ترکیہ کے وسطی اناطولیہ کے زرعی خطے میں خاص تعداد میں پائے جا رہے ہیں اور ان کی تعداد میں مستقل اضافہ ہی ہو رہا ہے۔ زراعت کے حوالے سے ماہرین کسانوں کو کم پانی والی فصلوں پر زور دے رہے ہیں۔

پاکستان میں پانی کے حوالے سے مسائل تو رہے ہیں لیکن شہری علاقوں میں استعمال اور پینے کے صاف پانی کے لیے ذرائع نت نیا رخ اختیار کرتے چلے گئے اور حال یہ ہے کہ ہر گلی محلے میں پینے کا پانی فراہم کرنے والے آر او پلانٹ نے مسائل تو حل کر دیے ہیں لیکن بڑے مسائل مستقبل کے لیے تیار کھڑے ہیں جس کے نتائج ابھی سے نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔

ان آر او پلانٹ کے لیے پانی کی فراہمی کے لیے زیر زمین پانی کو استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی پانی کے حصول کو رواں رکھنے کے لیے عام عوام بھی کنویں کی کھدائی کے حصول میں جتی رہتی ہے، اب چاہے پانی کم کھارا ہو یا زیادہ کھارا، ضرورت تو رہتی ہے۔

اس تمام صورت حال میں اگر قصور وار کوئی ہے تو وہ ذمے دار ادارے ہیں جو اپنے فرائض میں کوتاہی اور غفلت کے باعث ایک بڑے دیوہیکل مسئلے کو نمو دے رہے ہیں۔

آج سے دس بیس سال بعد کیا آسمان جیسے بلند و بالا اپارٹمنٹس، عمارات اور مالز اپنے وجود پر قائم رہ سکیں گے۔ زیر زمین پانی کی موجودگی قدرت کی جانب سے ایک خاص فارمولے کے تحت زمین کو ایک دوسرے سے جوڑے رکھتی ہے اور اس میں بگاڑ کے باعث زمین میں سنک ہولز بن جاتے ہیں جو زمین کو بٹھا دیتے ہیں۔

اب چاہے اس پر گھر بنے ہوں یا بلند و بالا عمارات اپنے ساتھ دھنسا دیتے ہیں یہ چند انچ کا زمینی دھنساؤ اپنے اندر کس قدر خطرات رکھتا ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے، خاص کر انسانی جانوں کے حوالے سے یہ صورت حال خوفناک ہے۔

کراچی کی زیر زمین چٹانیں چونے کے پتھر، ریت اور چکنی مٹی پر مشتمل ہیں۔ یہاں پانی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے کنوؤں کی کھدائی کا کام بڑے پیمانے پر کیا جا رہا ہے۔ یہاں تک کہ بڑے بڑے مالز اور اپارٹمنٹس میں کنویں اور میٹھے پانی کی فراہمی جاری ہے۔

کم بارش کے باعث بھی زیر زمین پانی میں کمی پیدا ہوتی ہے سنک ہولز کے پیدا ہونے میں ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے یا مختصر وقت میں بارش کا بہت زیادہ ہونا بھی ہے۔

دونوں صورتوں میں انتہائی کمی یا انتہائی زیادتی ہے۔ساحل سمندر کے حوالے سے بپھرتا ہوا بے باک لہروں سے اچھلتا یا خاموش لہروں سے اپنی ہی سوچ میں محو سمندر ابھرتا ہے پر حالیہ چند برسوں میں کراچی کے باسی ساحل سمندر کے ماڈل کو دیکھ رہے ہیں، سمندر تو دور بہتا انسانی فطرت کے چلبلے، حریصانہ رویے پر حیران اپنی روش پر چلا جا رہا ہے لیکن حضرت انسان قدرت کے اس انمول تحفے سے مستقل ناشکری کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

’’ارے یہ کیا۔۔۔‘‘ برسوں بعد سمندری علاقے سے گزرتے سمندر کی راہ گزر پر تعمیرات دیکھی تھیں۔

’’یہ تم نے اب دیکھا ہے، اسے تو بنے کافی عرصہ ہو گیا۔ لوگ چیخ کر بھی خاموش ہو چکے ہیں۔‘‘ حیرت انگیز فکر کا انتہائی دکھی جواب۔

قدرت کی جانب سے کراچی کے پہاڑ، ساحل اور میدان ایک تحفہ ہی ہیں جسے بے دردی سے مسخ کرتے آگے بڑھا جا رہا ہے، کیا اسے ترقی کی طرف قدم بڑھانا کہا جائے گا یا اپنے ہی بچوں کے مستقبل کو خطرے سے آلودہ کرنا سمجھا جائے؟

کیونکہ پہاڑ زمین پر میخوں کی طرح ہیں اور سمندر خوش بختی کی علامت جو زندگی کو رواں دواں رکھتے آگے بڑھانے میں مگن رہتا ہے تاریخ گواہ ہے کہ ہمیشہ پانی کے قریب آبادیاں نمو پاتی اور ترقی کرتی ہیں، خشک اور بنجر علاقے بیابان اور سنسان غیر ترقی یافتہ رہ جاتے ہیں پر ہمارے یہاں پانی کو دھکیلنا ہی نہیں بلکہ ساحل پر ریت کو خشک کرکے بلند و بالا عمارتیں بھی بنائی گئی ہیں، ایسے میں ریت میں چھوٹے چھوٹے خلا بن جاتے ہیں جو سنک ہولز کا موجب ثابت ہو سکتے ہیں۔

زیر زمین پانی کی مقدار خطرناک حد تک گر رہی ہے۔ زیر زمین پانی کے ذخائر کو ایکوافرز کہا جاتا ہے۔ بھارت، ایران، ترکیہ، شمالی افریقہ اور پاکستان میں بھی ایکوافرز کی حالت شکستگی کی جانب بڑھ رہی ہے، اس سے زمین کے دھنساؤ کے واقعات رونما ہوتے ہیں اور زرخیزی اثرانداز ہوتی ہے۔

یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ڈیفنس، لانڈھی اور کورنگی میں آنے والے معمولی زلزلوں کی وجہ ان زیر زمین پانی کے ذخائر میں کمی اور تبدیلیوں کا نتیجہ ہے۔ امریکا کا میکسیکو سطح سمندر سے تقریباً سات ہزار فٹ سے زائد کی بلندی پر آباد ہے یہ بلند ترین شہر دو کروڑ سے زائد نفوس کی آبادی پر مشتمل ہے۔

یہ شہر رفتہ رفتہ دھنس رہا ہے۔ 1950 میں اس شہر کے وسطی علاقے کئی فٹ بلند سیلابی پانی میں ڈوب گئے۔ بیس برس تک یہ زمین میں بیس فٹ تک دھنس گئے تھے۔ عمارتیں جھکنے لگیں لہٰذا منہدم کرنا پڑیں۔

1935 کا بنا پیلس آف فائن آرٹس سنگ مرمر سے تعمیر ہوا، اس قدر زمین میں دھنسا کہ اس کی دوسری منزل سطح زمین تک آ پہنچی تھی۔ایسے علاقوں میں ہنگامی صورت حال کے طور پر تدابیر کے ساتھ مختلف پودوں کو بھی کاشت کیا گیا جن کی جڑیں بہت تیزی سے زمین سے پانی جذب کرتی ہیں۔

اس طرح کے پودے کچھ عرصہ قبل کراچی کے ان علاقوں میں بھی لہلہاتے دیکھے گئے تھے جو پانی کی زیادتی نہیں بلکہ کمی کا شکار تھے۔

بہرحال ضرورت اس بات پر ہے کہ ہمیں دیگر ممالک کی طرح سنک ہولز کے خطرات سے کس طرح نبرد آزما ہونا ہے اور ایسے حالات پر قابو پانا کس قدر ضروری ہے جو ہماری زمین کو بنجر اور دھنسانے کے عمل پر جتی ہوئی ہے اس میں شخصی کارروائیوں کی روک تھام اشد ضروری ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ جس مایا کے حصول کے لیے اونچے محل تعمیر کیے جا رہے ہوں وہی بیٹھ جائیں جو مالی اور جانی نقصان کا باعث ہو۔





Source link

Continue Reading

Today News

طبقاتی دیواریں – ایکسپریس اردو

Published

on


انسانی تہذیب کی پوری تاریخ کو اگرگہری نظر سے دیکھا جائے تو یہ صرف فتوحات، ایجادات یا عظیم الشان عمارتوں کی داستان نہیں ہے، بلکہ یہ ان طبقاتی دیواروں کا نوحہ بھی ہے جو صدیوں سے معاشروں کو دو متوازی دنیاؤں میں تقسیم کیے ہوئے ہیں۔

ایک وہ دنیا ہے جو سطح پر نظر آتی ہے جہاں روشنی،آسائش، نفیس گفتگو کے آداب اور اقتدارکی چکا چوند ہے۔ جب کہ دوسری وہ دنیا ہے جو بنیادوں میں دبی ہوئی ہے، جہاں اندھیرا، حبس، پسینہ اور بقا کی ایک لامتناہی جنگ جاری رہتی ہے۔

یہی وہ دنیا ہے جس کی محنت اور قربانیوں پر اوپرکی دنیا کی شان و شوکت قائم ہوتی ہے، مگر اس کا ذکر تاریخ کے اوراق میں کم ہی ملتا ہے۔

یہ تقسیم محض اتفاقیہ نہیں بلکہ ایک منظم اور سوچے سمجھے استحصالی ڈھانچے کا حصہ ہے جو انسانیت کو حکمران اور محکوم کے خانوں میں بانٹ کر ایک مخصوص طبقے کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے۔ ہر دور میں طاقت اور وسائل ایک محدود طبقے کے ہاتھوں میں مرتکز رہے ہیں، جب کہ اکثریت محنت اور جدوجہد کے باوجود بنیادی ضروریات کے لیے ترستی رہی ہے۔

اس طبقاتی نظام کو برقرار رکھنے کے لیے صرف معاشی طاقت ہی نہیں بلکہ سماجی اور نفسیاتی حربے بھی استعمال کیے جاتے ہیں، تاکہ نچلے طبقے کو اپنی حالت کو فطری اور ناگزیر سمجھنے پر مجبورکیا جا سکے۔

اشرافیہ یا بالادست طبقے کی نفسیات کا سب سے بڑا المیہ وہ کیفیت ہے جسے ’’ ارادی غفلت‘‘ کہا جا سکتا ہے۔ جب یہ طبقہ اقتدار اور وسائل کی پرتعیش میز پر بیٹھ کر اپنی کامیابیوں کا جشن مناتا ہے تو وہ ان لاکھوں ہاتھوں کو فراموش کردیتا ہے جنھوں نے اس میزکو اپنے کندھوں پر اٹھا رکھا ہوتا ہے۔

ان کے نزدیک ان کی آسائش اور رتبہ محض ان کی ذہانت، قابلیت یا پیدائشی حق کا نتیجہ ہوتا ہے۔ وہ اس حقیقت سے آنکھیں چرا لیتے ہیں کہ ان کی ہرکامیابی کے پیچھے ایک ایسا انسانی نظام کار فرما ہے جو نچلے طبقات کی انتھک محنت اور قربانیوں پر قائم ہے۔

یہ نفسیاتی لاتعلقی دراصل ایک دفاعی میکانزم ہے جو بالادست طبقے کے ضمیر کو بے چین ہونے سے بچاتا ہے،کیونکہ اگر وہ اس مشقت اور دکھ کو تسلیم کر لیں جو ان کے طرزِ زندگی کی بنیاد ہے تو ان کا سکون غارت ہو جائے گا۔

اسی لیے معاشرتی نظام کو اس طرح ترتیب دیا جاتا ہے کہ طبقات کے درمیان ایک مضبوط دیوار کھڑی ہو جائے، جہاں ہمدردی اور احساسِ ذمے داری کے تمام راستے مسدود ہو جائیں۔ اوپر بیٹھا ہوا طبقہ صرف منافع اور ترقی کے اعداد وشمار دیکھتا ہے، مگر اس انسانی قیمت کا حساب نہیں رکھتا جو ان اعداد و شمار کے پیچھے ادا کی جاتی ہے۔

معاشی ناانصافی اسی استحصال کی بنیادی جڑ ہے جو دولت کو چند ہاتھوں میں مرتکز کردیتی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام بظاہر مواقع کی برابری کا دعویٰ کرتا ہے، مگر عملی طور پر یہ برابری بہت حد تک ایک فریب ثابت ہوتی ہے۔

نچلے طبقے کے افراد کو اکثر ایسی اجرت دی جاتی ہے جو صرف ان کی بقا کے لیے کافی ہوتی ہے، جب کہ ان کی محنت سے پیدا ہونے والی زائد قدر طاقتور طبقات کی دولت میں اضافہ کرتی رہتی ہے۔ اس طرح غربت صرف ایک وقتی حالت نہیں رہتی، بلکہ ایک ایسا چکر بن جاتی ہے جو نسل در نسل جاری رہتا ہے۔

غریب کی اولاد اکثر وہی محدود مواقع حاصل کر پاتی ہے، جو اس کے والدین کو ملے تھے، جب کہ امیر طبقے کی اولاد کو تعلیم، وسائل اور سماجی روابط کی وہ سہولتیں میسر ہوتی ہیں جو انھیں زندگی کی دوڑ میں بہت آگے لے جاتی ہیں۔

یوں معاشرے میں ایک ایسا غیر مرئی مگر طاقتور نظام قائم ہو جاتا ہے جس میں دولت اور طاقت ایک ہی دائرے میں گردش کرتی رہتی ہیں، جب کہ محروم طبقات اس دائرے سے باہر رہ جاتے ہیں۔

معاشرتی انصاف کے فقدان نے اس خلیج کو مزید گہرا کردیا ہے۔ ریاست اور اس کے اداروں کا بنیادی مقصد شہریوں کے حقوق کا تحفظ اور وسائل کی منصفانہ تقسیم ہونا چاہیے، مگر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ریاستی پالیسیاں براہِ راست یا بالواسطہ طور پر اشرافیہ کے مفادات کی حفاظت کرتی ہیں۔

تعلیم اور صحت کے دہرے نظام اس حقیقت کی واضح مثال ہیں۔ ایک طرف وہ تعلیمی ادارے ہیں جہاں عالمی معیارکی سہولتیں موجود ہیں، جب کہ دوسری طرف ایسے سرکاری ادارے ہیں جہاں بنیادی وسائل تک کی کمی ہوتی ہے۔

اسی طرح صحت کے شعبے میں بھی ایک واضح تقسیم دکھائی دیتی ہے۔ امیر افراد مہنگے نجی اسپتالوں میں بہترین علاج حاصل کر سکتے ہیں، جب کہ غریب افراد سرکاری اسپتالوں کی طویل قطاروں اور محدود سہولتوں کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔

جب معاشرے میں بنیادی خدمات تک رسائی طبقاتی بنیادوں پر تقسیم ہو جائے تو یہ صرف معاشی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ یہ انسانی وقار اور مساوات کے اصولوں کی کھلی نفی بن جاتا ہے۔

اس پورے عمل میں نچلے طبقے کی ڈی ہیومنائزیشن یعنی انسانیت سے محرومی سب سے ہولناک پہلو ہے۔ جب انسان کو ایک جیتا جاگتا وجود سمجھنے کے بجائے محض ایک اقتصادی اکائی یا مشین کے پرزے کے طور پر دیکھا جانے لگے تو معاشرتی توازن شدید متاثر ہوتا ہے۔

مزدوروں اور ملازمین سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ مخصوص اہداف پورے کریں، اپنی تھکن یا مشکلات کا ذکر نہ کریں اور مسلسل پیداواری عمل کا حصہ بنے رہیں۔ اس عمل کے نتیجے میں انسان اپنی ذات سے بیگانہ ہو جاتا ہے اور اس کی تخلیقی صلاحیتیں بھی محدود ہو جاتی ہیں۔

جدید کارپوریٹ کلچر بھی اسی قدیم طبقاتی نظام کا ایک مہذب اور سفید پوش روپ معلوم ہوتا ہے۔ چمکتے ہوئے شیشے کے بلند و بالا دفاتر بظاہر ترقی اور کامیابی کی علامت ہیں، مگر ان کے پیچھے لاکھوں کارکنوں کی محنت، دباؤ اور غیر یقینی صورتحال پوشیدہ ہوتی ہے۔

آج کا ملازم بظاہر آزاد دکھائی دیتا ہے مگر حقیقت میں وہ معاشی ضرورتوں کی ایسی زنجیروں میں جکڑا ہوتا ہے جن سے نکلنا آسان نہیں ہوتا۔

ڈیجیٹل دور نے اس نظام کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اسمارٹ فون، انٹرنیٹ اور جدید ٹیکنالوجی نے کام اور ذاتی زندگی کے درمیان حد فاصل کو تقریباً ختم کر دیا ہے۔

ملازمین سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ہر وقت دستیاب رہیں، ای میلز اور پیغامات کا فوری جواب دیں اور مسلسل کارکردگی دکھاتے رہیں۔ یہ ایک ایسی جدید غلامی کی شکل اختیار کرچکی ہے جس میں زنجیریں نظر نہیں آتیں مگر انسان کی آزادی محدود ہو جاتی ہے۔

تاریخ ہمیں بار بار یہ سبق دیتی ہے کہ جب معاشروں میں عدم مساوات حد سے بڑھ جاتی ہے تو سماجی اور سیاسی بحران جنم لیتے ہیں۔ جب اوپر اور نیچے کی دنیاؤں کے درمیان فاصلہ بہت زیادہ ہو جائے تو نظام کے اندر بے چینی پیدا ہونے لگتی ہے۔

تاریخ کے کئی بڑے انقلابات دراصل اسی عدم توازن کا نتیجہ تھے، جہاں محروم طبقات نے اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھائی اور پورے نظام کو چیلنج کیا۔

اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ کوئی بھی معاشرہ اس وقت تک مستحکم نہیں رہ سکتا جب تک اس کے تمام طبقات کو ترقی کے مساوی مواقع حاصل نہ ہوں۔

حقیقی ترقی وہ نہیں جو صرف چند لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنا دے، بلکہ وہ ہے جو معاشرے کے پسماندہ ترین افراد کی زندگیوں میں بھی بہتری لائے۔ جب معاشی، سماجی اور تعلیمی مواقع سب کے لیے یکساں ہوں تو ہی ایک متوازن اور پائیدار معاشرہ تشکیل پا سکتا ہے۔

انسانی تہذیب کی بقا کا دارومدار اسی توازن پر ہے، اگر طاقت اور وسائل مسلسل ایک محدود طبقے کے ہاتھوں میں مرتکز رہیں گے تو معاشرتی ڈھانچہ اندر سے کمزور ہوتا جائے گا۔

تاریخ گواہ ہے کہ جب نچلے طبقے کی برداشت ختم ہو جاتی ہے تو وہی طبقہ جو صدیوں تک نظام کا بوجھ اٹھاتا رہا ہے، اسی نظام کو ہلا دینے کی طاقت بھی رکھتا ہے۔ اس لیے ایک منصفانہ اور مساوی معاشرہ محض اخلاقی ضرورت نہیں بلکہ تہذیبی بقا کی بنیادی شرط بھی ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 5 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار

Published

on



کراچی:

کراچی کے مختلف علاقوں میں پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان تین علیحدہ علیحدہ مبینہ مقابلوں کے دوران 5 ملزمان کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔

پولیس کے مطابق ملزمان کے قبضے سے غیر قانونی اسلحہ اور دیگر سامان بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق پہلا مقابلہ جمشید کوارٹرز تھانے کی حدود میں کشمیر روڈ کٹ کے قریب پیش آیا جہاں گشت پر موجود پولیس ٹیم کا مشتبہ ڈاکوؤں سے آمنا سامنا ہوگیا۔

اس دوران دونوں جانب سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں ایک ملزم زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔ زخمی ملزم کی شناخت عامر زیب عرف شینا ولد گل زیب خان کے نام سے ہوئی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم کے قبضے سے وارداتوں میں استعمال ہونے والا غیر قانونی اسلحہ بمعہ ایمونیشن برآمد کر لیا گیا جبکہ اس کے زیر استعمال موٹرسائیکل کو بھی ضابطے کے تحت تحویل میں لے لیا گیا۔

زخمی ملزم کو فوری طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ اس کے سابقہ مجرمانہ ریکارڈ کی جانچ کی جا رہی ہے۔

دوسرا مبینہ پولیس مقابلہ لیاقت آباد کے علاقے تین ہٹی ندی کے قریب پیش آیا جہاں پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے بعد دو ملزمان کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق زخمی ہونے والے ڈاکوؤں کی شناخت حنین اور حارث کے ناموں سے ہوئی ہے۔

تیسرا مقابلہ گلشن اقبال عزیز بھٹی پارک کے قریب ہوا جہاں مبینہ طور پر پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں 2 ملزمان کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔

ریسکیو حکام کے مطابق دونوں زخمی ملزمان کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔





Source link

Continue Reading

Trending