Connect with us

Today News

آپریشن غضب للحق، پاک فضائیہ کی کامیاب کارروائی، طالبان کے اہم ٹھکانے اور فوجی تنصیبات تباہ

Published

on



اسلام آباد:

پاکستانی افواج نے آپریشن “غضب للحق” کے تحت 14 اور 15 مارچ کی درمیانی شب افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف بڑی فضائی کارروائی کرتے ہوئے متعدد اہم اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اس کارروائی کی ویڈیو بھی جاری کر دی گئی ہے جس میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملوں کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک افواج نے افغانستان کے شہر قندھار میں افغان طالبان اور فتنہ الخوارج سے منسلک دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے ساتھ ساتھ بعض فوجی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا۔

ان حملوں میں دہشت گردوں کے ٹیکنیکل سپورٹ انفراسٹرکچر اور ایکوپمنٹ اسٹوریج کو مؤثر انداز میں تباہ کر دیا گیا۔

ذرائع کے مطابق تباہ کیے جانے والے انفراسٹرکچر اور اسٹوریج مراکز افغان طالبان اور دہشت گرد عناصر کی جانب سے استعمال کیے جا رہے تھے جہاں سے دہشت گردی کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور معاونت کی جاتی تھی۔

سیکیورٹی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ آپریشن “غضب للحق” کے تحت کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک تمام اہداف حاصل نہیں کر لیے جاتے اور پاکستان کی سرحدی سلامتی کو مکمل طور پر یقینی نہیں بنا لیا جاتا۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

فطرت انسان اور فن اختلاف

Published

on


رب دو جہاں نے کائنات میں لاتعداد اشیا بنائی ہیں ۔ نظر نہ آنے والے بیکٹیریا وائرس سے لے کر تا حد نگاہ وسعت لیے آسمان تک ہر شے قدرت کی بے مثال کاریگری کی گواہ ہے۔ زمین پر پائے جانے والی اشیاء میں تنوع دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔

صدیوں سے انسان کھوج میں لگا ہے اور قدرت کے نت نئے شاہکار متواتر منظر عام پر آ رہے ہیں۔ پھر چاہے کھوج کی سمت افق کی بلندیاں ہوں یا سمندروں کی گہرائیاں، زمین کا حدود اربعہ ہو یا پہاڑوں کے اسرار۔

اور کھوج کا دائرہ کار اگر کرہ ارض سے بڑھ کر فضاؤں تک چلا جائے تو بلیک ہول (Black hole) جیسی اختراع حضرت انسان کے لیے کائنات کے اسرار و رموز کا احاطہ کرنا ناممکن بنا دیتی ہیں۔

جاندار ہو یا بے جان اللہ تعالیٰ نے ہر شے کو ایک علامتی خاصیت بخشی۔ کوئی چیز خوبصورتی کا استعارہ ہے تو کوئی طاقت کا۔ کوئی کمزوری کی علامت ہے تو کوئی شے سب سے بڑھ کر کار آمد۔

اسی تناظر میں انسان کا بحیثیت ابداع جائزہ لیا جائے تو یہ سپیشی(Specie) بیک وقت کئی متاثر کن خصوصیات کی حامل ہے۔ مالک دو جہان نے اپنی اس تخلیق کو دنیا میں بحیثیت نائب چنا اور آج وہ دنیا پر حکمرانی کرتا نظر آتا ہے۔

تاہم وہ خاص ودیعت الٰہی جس کی وجہ سے انسان دیگر تمام مخلوق سے ممتاز ہے وہ ’’سوچ کا اختیار، شعور یا آزاد مشیت‘‘ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جینیاتی ساخت و ترکیب (Genotype) سے لے کر ظاہری خصائص (Phenotype) تک ہر انسان کو دوسرے سے الگ بنایا۔

انسان کو شعور دے کر اس شعور کے مطابق عمل سر انجام دینے کا ایک محدود مدت کے لیے محدود اختیار تفویض کیا اور دیگر اوصاف کی طرح اس خاصیت میں بھی ہر بشر کو انفرادیت بخشی۔

مقام افسوس یہ ہے کہ انسان درج بالا نعمتوں کا استعمال انتشار پھیلانے اور بے سکونی و تنگی پیدا کرنے کے لیے کر رہا ہے۔ معاشرتی نظام کی سب سے چھوٹی اکائی یعنی گھر کی بات کی جائے تو اس کے افراد کے مابین بھی سوچ اور نظریات میں اختلاف پایا جاتا ہے یہاں تک کہ محض دو افراد کو بھی پرکھا جائے تو ان کا بھی ایک دوسرے کی ہر بات سے اتفاق کرنا ممکن نہیں۔

معاشرتی سطح پر عموماً کسی بھی نوعیت کے بحث و مباحثے میں اس حقیقت کو مطلقاً پس پشت ڈال دیا جاتا ہے کہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کے تحت ہر فرد اپنی رائے رکھتا ہے۔

جب اختلاف میں اخلاقیات کو بلائے طاق رکھ دیا جاتا ہے تو گویا انسانی ذات میں ان اوصاف کی نفی کی جاتی ہے کیونکہ بصورت دیگر حقیقت تسلیم کر لینے پر دوسروں کی رائے کا احترام نہ کرنے یا اپنے نظریات دوسروں پر مسلط کرنے والے شدت پسند عمل کا کوئی جواز نہیں بچتا۔

اللہ پاک نے انسان کی فطرت جھگڑالو بیان کی ہے۔ سورہ الکہف کی آیت نمبر 54 میں فرمایا گیا ہے۔ اور بیشک ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لیے ہر طرح کی مثال کو (انداز بدل بدل کر) بار بار بیان کیا ہے، اور انسان جھگڑنے میں ہر چیز سے بڑھ کر ہے۔

اسی طرح اللہ پاک کا حضرت آدم علیہ السلام کو دنیا میں نائب بنا کر بھیجنے کا فیصلہ جان کر فرشتوں نے بھی اپنے محدود علم کی بنیاد پر یہ خدشہ ظاہر کیا تھا کہ یہ تو زمین میں فساد برپا کرے گا۔ سورہ بقرہ آیت نمبر 30 ہے:

’’اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا: میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں، فرشتوں نے کہا: کیا تو زمین میں ایسے کو خلیفہ بنائے گا جو اس میں فساد پھیلائے گا اور خون ریزی کرے گا؟‘‘

حضرت ہابیل کے قتل سے شروع ہونے والا پراگندگی اور ظلم و ناانصافی کا سلسلہ آج تک چلا آ رہا ہے۔ انسان ناشکری کی انتہا کرتے رب کی بہترین عطا یعنی اپنی صوابدید پر کام کرنے کی صلاحیت کا استعمال اپنی جدل کرنے والی فطرت کی تسکین کے لیے کر رہا ہے۔

اگر اختلاف رائے سیاست سے متعلقہ ہو تو معاملہ مزید گمبھیر ہو جاتا ہے۔ صورتحال کو بدتر پاکستانی عوام کی دل پسند سیاست دانوں کو سیاہ یا سفید دیکھنے کی عادت بناتی ہے جب کہ اس وقت اکثریت سرمئی ہے۔

عوام کے سیاسی نظریات میں حقائق سے زیادہ جذبات کا عمل دخل ہوتا ہے. وہ چرب زبان سیاست دانوں کے کھوکھلے لفظوں اور بناوٹی لہجوں سے متاثر ہو کر عقلی طور پر قائل ہونے سے زیادہ جذباتی وابستگی بنا لیتے ہیں۔

اس کی وجہ بھلے عوام کی سادہ لوحی، کم علمی یا سوچ کی ناپختگی ہو لیکن کسی کو سو فیصد غلطیوں سے مبرّا سمجھنے والا طرزِ عمل خطرناک ہے۔ اور اس سے زیادہ خطرناک اپنے پسندیدہ رہنما کے خلاف دوسروں کی رائے سننے کی برداشت نہ رکھنا ہے۔

اندھی عقیدت میں لوگ نہ اپنی منتخب کردہ پارٹی کی غلطیاں دیکھ سکتے ہیں اور نہ اپوزیشن کی اچھائیاں۔ حضرت انسان کی ذات کا ایک اہم پہلو اس کی تغیر کی دلدادہ ذات ہے۔

انسان سدا ایک سا نہیں رہتا۔ حالات و واقعات اسے بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں یہاں تک کہ باہر کسی خاطرخواہ تبدیلی کے بغیر بھی انسان کے اندر رونما ہونے والی تبدیلیوں کا عمل جاری و ساری رہتا ہے۔

سائنس انسان کی اس خصوصیت کی مداح ہے اور ہر لحظہ بدلتی کائنات میں انسان کی بقا کا سہرا اسی جبلت کے سر سجاتی ہے۔ لیکن لوگ شخصیت پرستی میں یہ تک بھول جاتے ہیں کہ بدلاؤ انسان کا خاصہ ہے۔

عین ممکن ہے جس لیڈر کے ایک اچھے عمل کی بنا پر اسے سراہا جاتا ہو وقت رہتے اس نے اپنی اس اچھائی کو کھو دیا ہو۔ ہر لمحہ بدلتی عالمی صورتحال اب بے یقینی کی صورت اختیار کر چکی ہے۔

گزرتا وقت چہروں سے نقاب اتارتے کسی کا مکروہ چہرہ عیاں کر رہا ہے تو یہی وقت کسی کو بے گناہ ثابت کر رہا ہے۔ سماج میں بہتری لانے کے لیے سماجی اکائیوں کا اس صورتحال میں اپنی ’’آئیڈیل‘‘ شخصیات کے نت نئے چہروں کو پہچاننا اور قبول کرنا ضروری ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

ہنری کسنجر بمقابلہ پروفیسر جیانگ

Published

on


حالیہ مشرق وسطی جنگ کے حوالے سے ذرائع ابلاغ میں ہنری کسنجر اور چینی پروفیسر جیانگ کی پیش گوئیوں کا بڑا چرچا ہے۔

دونوں کی کم از کم دو دو پیش گوئیاں درست ثابت ہوچکی ہیں لیکن تیسری پیش گوئی دونوں کی ایک دوسرے سے بالکل متضاد ہے اور اب یہ وقت ہی بتائے گا کہ دونوں میں سے کون درست ثابت ہوتا ہے۔

ہم پہلے ہنری کسنجرکی پیش گوئیوں کا جائزہ لیتے ہیں۔ ہنری کسنجر نے کہا تھا کہ اگر آپ کے کان تیسری عالمی جنگ کے نقارے نہیں سن رہے تو آپ بہرے ہیں۔ اس نے یہ بھی کہا تھا کہ دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پرکھڑی ہے۔

یہ جنگ مشرق وسطیٰ سے شروع ہوگی اور ایران اس کا نقطہ آغاز ہوگا۔ اب مشرق وسطیٰ سے جنگ تو شروع ہوچکی ہے اور اس کا آغاز بھی ایران سے ہوا ہے لیکن یہ جنگ تیسری عالمی جنگ میں تبدیل ہوتی ہے یا نہیں؟ اس کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔

مشرق وسطی کے حالیہ فدویانہ بلکہ غلامانہ کردار کے بعد امید نہیں تھی کہ جنگ کا آغاز مشرق وسطیٰ سے ہوگا۔ ویسے تو اسرائیل کے قیام کے بعد جنگ کبھی بھی مشرق وسطی سے کی ہی نہیں تھی لیکن ایک ایسی جنگ کہ جس میں تقریباً پورا مشرق وسطیٰ جلنے لگے، اس کے آغازکی بھی امید نہیں تھی ویسے تو امن کو جنگوں کے درمیان وقفہ ہی قرار دیا جاسکتا ہے اور لگتا ہے کہ ’’ تجارتی وقفہ‘‘ اب ختم ہوگیا ہے۔

اندازے تو یہ بھی تھے کہ امریکا کبھی بھی ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔ سب کے اندازے غلط ثابت ہوئے اور ہنری کسنجر نے ان دو پیش گوئیوں میں جو کہا تھا وہ حرف بحرف پورا ہوا۔ ہنری کسنجر نے اپنی پیش گوئی میں آگے یہ بھی کہا تھا کہ اس جنگ کے نتیجے میں عرب بہت بڑی تعداد میں ہلاک ہوجائیں گے اور اسرائیل مشرق وسطیٰ کے ایک بڑے حصے پر قابض ہوجائے گا۔

اب ان حالات میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس کی پیش گوئی کا یہ حصہ بھی پورا ہوگا؟ یا کچھ نیا ہونے جارہا ہے؟اب ہم پروفیسر جیانگ کی پیش گوئیوں کی طرف آتے ہیں۔ یہ پروفیسر جیانگ وہی ہے کہ جنھوں نے پچھلے امریکی چناؤ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے جیتنے کی پیش گوئی کی تھی جب کہ پوری دنیا کو امید تھی کہ کملا دیوی ہیرس جیتے گی۔

پروفیسر جیانگ نے یہ بھی پیش گوئی کی تھی کہ چناؤ جیتنے کے بعد صدر ٹرمپ ایران پر حملہ کریں گے اور ایسا ہی ہوا۔ اب یہاں تک تو ان کی بھی دو پیش گوئیاں درست ہوچکی ہیں لیکن مستقبل قریب کی صورتحال پیچیدہ ہے۔

پروفیسر جیانگ نے کہا ہے کہ اس جنگ میں امریکا کو شکست ہوگی، مشرق وسطیٰ کا نقشہ تبدیل ہوجائے گا اور پیٹرو ڈالر معاہدہ ختم ہوجائے گا۔ آپ پہلے ہی پڑھ چکے ہیں کہ ہنری کسنجر نے اس جنگ میں عربوں کی بڑی تعداد میں ہلاکت اور اسرائیل کی بڑے حصے پر قبضے کی پیش گوئی کی ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آگے کیا ہوگا؟ میری ذاتی رائے میں ہنری کسنجر اپنی آخری پیش گوئی میں یہودی مدبر سے صرف یہودی ہوگئے تھے اور ان کی پیش گوئی کے اس حصے کو آپ ان کی پیش گوئی سے زیادہ ان کی خواہش سمجھ سکتے ہیں۔

میرے خیال سے دنیا اس وقت تیسری عالمی جنگ کے لیے بالکل بھی تیار نہیں ہے۔ آپ موجودہ جنگ کو تیسری عالمی جنگ سے پہلے آخری بڑی جنگ قرار دے سکتے ہے۔

چین دنیا کا سپر پاور بننا چاہتا ہے اور یہ بھی چاہتا ہے کہ امریکا ایشیا اس کے لیے چھوڑ دے لیکن امریکا کو بھی پتہ ہے کہ اس کی ساری عیاشی عربوں کی مرہون منت اور عربوں کو ڈرانے کے لیے پہلے وہ اسرائیل کا استعمال کرتا رہا ہے اور بعد میں اس نے ایران کو بھی استعمال کیا کہ جس کی وجہ سے ایران کے بارے میں غلط فہمی کا آغاز ہوا۔

ہم دوبارہ چین کی طرف آتے ہیں۔ موجودہ حالات میں چین اپنے اہداف تیسری عالمی جنگ کے بغیر زیادہ بہتر اور سرعت انداز میں حاصل کر رہا ہے تو اس کو کیا ضرورت پڑی کہ خواہ مخواہ تیسری عالمی جنگ کے جھمیلے میں پڑے۔

چین کا مقصد امریکا کو معاشی اور عسکری طور پرکمزورکرنا ہے تاکہ اس کو نہ صرف ایشیا چھوڑنے پر آمادہ کیا جاسکے بلکہ اس پر بھی آمادہ کیا جاسکے کہ وہ چین کو سپر پاور تسلیم کرتے ہوئے اس کے لیے جگہ چھوڑے اور وہ یہ سب جنگ کے بغیر ہی حاصل کر رہا ہے اور زیادہ بہتر انداز سے حاصل کررہا ہے۔

یہ تو دنیا جانتی ہے کہ امریکا یہ بات آسانی سے مانے گا نہیں تو خطرہ امریکا سے ہے کہ کہیں وہ اپنی حماقت یا بے صبری میں ایسا کچھ کرسکتا ہے کہ جو تیسری عالمی جنگ کا نقطہ آغاز ہوسکتا ہے۔

اس کے لیے چین، شمالی کوریا یا روس کے کسی شہر پر پرل ہاربر جیسا حملہ ہوسکتا ہے اور وہ کون کرسکتا ہے، یہ میں آپ کے قیاس پر چھوڑتا ہوں۔ ویسے چین پر حملے والا کام اسرائیل اور ہمارا پڑوسی مل کر بھی کرسکتے ہیں، اگر ہمارے پڑوسی کو اس کی مناسب قیمت دی جائے اور قیمت پاکستان کی صورت میں بھی ہوسکتی ہے۔

اس صورتحال میں تو تیسری عالمی جنگ کا آغاز یقینی ہے۔ اس کے علاوہ حالیہ مشرق وسطیٰ جنگ تیسری عالمی جنگ میں تبدیل ہوتی نہیں نظر آرہی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حالیہ جنگ کا انجام کیا ہوگا؟

ایک بات تو طے ہے کہ امریکا نے نہ صرف اس جنگ کے بارے میں غلط اندازہ لگایا تھا اور وہ اب تک اپنے اہداف بھی حاصل کرنے میں ناکام ہے۔ جنگ کی حکمت عملی کے حوالے سے بھی اس کے اور اسرائیل کے درمیان اختلافات کی خبریں آرہی ہیں۔

اب تک ایران بہت ہی موثر انداز میں یہ جنگ روسی انٹیلیجنس، چینی اورکورین میزائل اور ٹیکنالوجی کے ساتھ لڑرہا ہے اور کامیاب بھی ہے۔ جنگ میں شمالی کوریا کو شامل کرنے کے لیے امریکا کے قومی سیکیورٹی مشیر جان بولٹن نے الزام لگایا ہے کہ ایران شمالی کوریا سے جوہری اسلحہ یا جوہری ٹیکنالوجی حاصل کر سکتا ہے۔

جنگ میں اسلحہ کس ملک کا ہوتا ہے یہ تو جنگ کے بعد پتا چلتا ہے۔ ہم دوبارہ جنگ کی طرف آتے ہیں۔ امریکا نے پہلے اسے دنوں کی جنگ قرار دیا پھر ہفتوں اور اب وہ مہینوں پرآگیا ہے۔ ان حالات میں اب امریکا ایران سے نکلنا چاہے گا اور وہ کوئی بھی چھوٹی موٹی فتح کو اپنی فتح قرار دیکر یہاں سے نکل سکتا ہے۔

یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ ایران کو توڑ کرکسی حصے پر اپنی کٹھ پتلی حکومت بنا کر بھاگ جائے۔ یوں سمجھ لیجیے کہ وہ چاہے گا کہ ایران کو غیر مستحکم اور افراتفری کے ماحول میں چھوڑکر بھاگ جائے لیکن روس، چین اور ایرانی قوم ایسا ہونے نہیں دیں گی کیونکہ اگر ایسا ہونا ہوتا تو اب تک ہوچکا ہوتا۔

مشرق وسطیٰ کا مستقبل یقینی طور پر تاریک ہے اور اس جنگ کے بعد بھی مشرق وسطیٰ پہلے والا مشرق وسطیٰ نہیں بن سکے گا۔ عربوں کی باہمی چپقلش آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہوگی اور عربوں کو بالخصوص اور مسلمانوں کو مشرق وسطی کی حکومتوں کے غیر حقیقت پسندانہ عزائم کی قیمت چکانا ہوگی۔

جیسا کہ پروفیسر جیانگ نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کا نقشہ تبدیل ہوجائے گا اور وہ کیا ہوگا؟ پروفیسر جیانگ نے تو بحرین، متحدہ عرب امارات اور دیگر عرب ممالک کے بارے میں پیش گوئی بھی کی ہے لیکن حقیقت میں کیا ہوگا یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

پاکستان کے لیے آنے والے دن ہر لحاظ سے بہت مشکل ہیں کیونکہ ہم نے ڈالروں کے لیے کچھ ایسے معاہدے کیے ہوئے ہیں جو ہماری سالمیت اور بقا کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔

ہر مشکل صورتحال کا کوئی نہ کوئی مثبت پہلو ضرور ہوتا ہے تو اس میں ہمارے لیے مواقع بھی ہے لیکن ہماری اشرافیہ ابھی تک ٹینکر بیچنے اور سڑکوں کی تعمیر میں کمیشن سے آگے نہیں بڑھ رہی، حالانکہ دنیا کو اس وقت ایک محفوظ اور مضبوط سرمایہ کاری کے خطے کی ضرورت ہے اور پاکستان یہ کردار بآسانی اور بخوبی ادا کرسکتا ہے۔

اگر ہماری قیادت اس فراست اور تدبرکا مظاہرہ کریں جو اس کا متقاضی ہے۔ اب ہماری قیادت اس کی اہل ہے یا نہیں؟ یہ میں آپ کی صوابدید پر چھوڑتا ہوں۔ آنے والے دن سب کے لیے بہت مشکل ہے، مہنگائی کا جن بے قابو رہے گا۔

مشرق وسطیٰ کے حالات کے بعد ہوسکتا ہے کہ ملک میں بیروزگاری میں مزید اضافہ ہوجائے کہ جس کے نتیجے امن و امان کی مخدوش صورتحال مزید مخدوش ہوسکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ (آمین)





Source link

Continue Reading

Today News

سنک ہولز خطرے کی علامت

Published

on


چند برس پہلے ہی پڑھا تھا کہ ایران میں زیادہ مقدار میں زیر زمین پانی نکالنے کے باعث زمین دھنس جانے کے واقعات رونما ہو رہے ہیں، ابھی کچھ عرصہ قبل ایسا ہی کچھ ترکیہ کے بارے میں سنا جب کہ پاکستان میں بھی خاص کر کراچی میں زمین دھنس جانے کے بارے میں سنا ہے۔

زمین کی سطح پر اچانک بننے والے ایسے گڑھے سنک ہولزکہلاتے ہیں جن کی وجہ سے زمین اپنی سطح سے نیچے دھنس جاتی ہے، یہ زیر زمین چٹانوں کے پانی میں حل ہونے کے باعث یا کٹاؤ کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔

جب زیر زمین پانی کو کثرت سے نکالا جائے تو چونے کے پتھر یا نمکیات کا کٹاؤ پیدا ہوتا ہے۔ یہ قدرتی طور پر پیدا ہو سکتے ہیں یا کان کنی اور دیگر تعمیراتی کاموں کی وجہ سے بھی بنتے ہیں۔

حال ہی میں ترکیہ کے حوالے سے ایسے دیوہیکل سنک ہولز کے پھیلاؤ کے بارے میں پڑھا جہاں تیزی سے شدید گرمی میں زمین بیٹھنے کے واقعات رونما ہو رہے ہیں جس سے کسانوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں، ہر رات وہ اسی خوف کے ساتھ سوتے ہیں کہ ان کا گھر زمین میں نہ سما جائے۔

یہ ترکیہ کے وسطی اناطولیہ کے زرعی خطے میں خاص تعداد میں پائے جا رہے ہیں اور ان کی تعداد میں مستقل اضافہ ہی ہو رہا ہے۔ زراعت کے حوالے سے ماہرین کسانوں کو کم پانی والی فصلوں پر زور دے رہے ہیں۔

پاکستان میں پانی کے حوالے سے مسائل تو رہے ہیں لیکن شہری علاقوں میں استعمال اور پینے کے صاف پانی کے لیے ذرائع نت نیا رخ اختیار کرتے چلے گئے اور حال یہ ہے کہ ہر گلی محلے میں پینے کا پانی فراہم کرنے والے آر او پلانٹ نے مسائل تو حل کر دیے ہیں لیکن بڑے مسائل مستقبل کے لیے تیار کھڑے ہیں جس کے نتائج ابھی سے نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔

ان آر او پلانٹ کے لیے پانی کی فراہمی کے لیے زیر زمین پانی کو استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی پانی کے حصول کو رواں رکھنے کے لیے عام عوام بھی کنویں کی کھدائی کے حصول میں جتی رہتی ہے، اب چاہے پانی کم کھارا ہو یا زیادہ کھارا، ضرورت تو رہتی ہے۔

اس تمام صورت حال میں اگر قصور وار کوئی ہے تو وہ ذمے دار ادارے ہیں جو اپنے فرائض میں کوتاہی اور غفلت کے باعث ایک بڑے دیوہیکل مسئلے کو نمو دے رہے ہیں۔

آج سے دس بیس سال بعد کیا آسمان جیسے بلند و بالا اپارٹمنٹس، عمارات اور مالز اپنے وجود پر قائم رہ سکیں گے۔ زیر زمین پانی کی موجودگی قدرت کی جانب سے ایک خاص فارمولے کے تحت زمین کو ایک دوسرے سے جوڑے رکھتی ہے اور اس میں بگاڑ کے باعث زمین میں سنک ہولز بن جاتے ہیں جو زمین کو بٹھا دیتے ہیں۔

اب چاہے اس پر گھر بنے ہوں یا بلند و بالا عمارات اپنے ساتھ دھنسا دیتے ہیں یہ چند انچ کا زمینی دھنساؤ اپنے اندر کس قدر خطرات رکھتا ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے، خاص کر انسانی جانوں کے حوالے سے یہ صورت حال خوفناک ہے۔

کراچی کی زیر زمین چٹانیں چونے کے پتھر، ریت اور چکنی مٹی پر مشتمل ہیں۔ یہاں پانی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے کنوؤں کی کھدائی کا کام بڑے پیمانے پر کیا جا رہا ہے۔ یہاں تک کہ بڑے بڑے مالز اور اپارٹمنٹس میں کنویں اور میٹھے پانی کی فراہمی جاری ہے۔

کم بارش کے باعث بھی زیر زمین پانی میں کمی پیدا ہوتی ہے سنک ہولز کے پیدا ہونے میں ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے یا مختصر وقت میں بارش کا بہت زیادہ ہونا بھی ہے۔

دونوں صورتوں میں انتہائی کمی یا انتہائی زیادتی ہے۔ساحل سمندر کے حوالے سے بپھرتا ہوا بے باک لہروں سے اچھلتا یا خاموش لہروں سے اپنی ہی سوچ میں محو سمندر ابھرتا ہے پر حالیہ چند برسوں میں کراچی کے باسی ساحل سمندر کے ماڈل کو دیکھ رہے ہیں، سمندر تو دور بہتا انسانی فطرت کے چلبلے، حریصانہ رویے پر حیران اپنی روش پر چلا جا رہا ہے لیکن حضرت انسان قدرت کے اس انمول تحفے سے مستقل ناشکری کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

’’ارے یہ کیا۔۔۔‘‘ برسوں بعد سمندری علاقے سے گزرتے سمندر کی راہ گزر پر تعمیرات دیکھی تھیں۔

’’یہ تم نے اب دیکھا ہے، اسے تو بنے کافی عرصہ ہو گیا۔ لوگ چیخ کر بھی خاموش ہو چکے ہیں۔‘‘ حیرت انگیز فکر کا انتہائی دکھی جواب۔

قدرت کی جانب سے کراچی کے پہاڑ، ساحل اور میدان ایک تحفہ ہی ہیں جسے بے دردی سے مسخ کرتے آگے بڑھا جا رہا ہے، کیا اسے ترقی کی طرف قدم بڑھانا کہا جائے گا یا اپنے ہی بچوں کے مستقبل کو خطرے سے آلودہ کرنا سمجھا جائے؟

کیونکہ پہاڑ زمین پر میخوں کی طرح ہیں اور سمندر خوش بختی کی علامت جو زندگی کو رواں دواں رکھتے آگے بڑھانے میں مگن رہتا ہے تاریخ گواہ ہے کہ ہمیشہ پانی کے قریب آبادیاں نمو پاتی اور ترقی کرتی ہیں، خشک اور بنجر علاقے بیابان اور سنسان غیر ترقی یافتہ رہ جاتے ہیں پر ہمارے یہاں پانی کو دھکیلنا ہی نہیں بلکہ ساحل پر ریت کو خشک کرکے بلند و بالا عمارتیں بھی بنائی گئی ہیں، ایسے میں ریت میں چھوٹے چھوٹے خلا بن جاتے ہیں جو سنک ہولز کا موجب ثابت ہو سکتے ہیں۔

زیر زمین پانی کی مقدار خطرناک حد تک گر رہی ہے۔ زیر زمین پانی کے ذخائر کو ایکوافرز کہا جاتا ہے۔ بھارت، ایران، ترکیہ، شمالی افریقہ اور پاکستان میں بھی ایکوافرز کی حالت شکستگی کی جانب بڑھ رہی ہے، اس سے زمین کے دھنساؤ کے واقعات رونما ہوتے ہیں اور زرخیزی اثرانداز ہوتی ہے۔

یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ڈیفنس، لانڈھی اور کورنگی میں آنے والے معمولی زلزلوں کی وجہ ان زیر زمین پانی کے ذخائر میں کمی اور تبدیلیوں کا نتیجہ ہے۔ امریکا کا میکسیکو سطح سمندر سے تقریباً سات ہزار فٹ سے زائد کی بلندی پر آباد ہے یہ بلند ترین شہر دو کروڑ سے زائد نفوس کی آبادی پر مشتمل ہے۔

یہ شہر رفتہ رفتہ دھنس رہا ہے۔ 1950 میں اس شہر کے وسطی علاقے کئی فٹ بلند سیلابی پانی میں ڈوب گئے۔ بیس برس تک یہ زمین میں بیس فٹ تک دھنس گئے تھے۔ عمارتیں جھکنے لگیں لہٰذا منہدم کرنا پڑیں۔

1935 کا بنا پیلس آف فائن آرٹس سنگ مرمر سے تعمیر ہوا، اس قدر زمین میں دھنسا کہ اس کی دوسری منزل سطح زمین تک آ پہنچی تھی۔ایسے علاقوں میں ہنگامی صورت حال کے طور پر تدابیر کے ساتھ مختلف پودوں کو بھی کاشت کیا گیا جن کی جڑیں بہت تیزی سے زمین سے پانی جذب کرتی ہیں۔

اس طرح کے پودے کچھ عرصہ قبل کراچی کے ان علاقوں میں بھی لہلہاتے دیکھے گئے تھے جو پانی کی زیادتی نہیں بلکہ کمی کا شکار تھے۔

بہرحال ضرورت اس بات پر ہے کہ ہمیں دیگر ممالک کی طرح سنک ہولز کے خطرات سے کس طرح نبرد آزما ہونا ہے اور ایسے حالات پر قابو پانا کس قدر ضروری ہے جو ہماری زمین کو بنجر اور دھنسانے کے عمل پر جتی ہوئی ہے اس میں شخصی کارروائیوں کی روک تھام اشد ضروری ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ جس مایا کے حصول کے لیے اونچے محل تعمیر کیے جا رہے ہوں وہی بیٹھ جائیں جو مالی اور جانی نقصان کا باعث ہو۔





Source link

Continue Reading

Trending