Connect with us

Today News

عالمی یوم القدس، مزاحمت کا استعارہ ہے

Published

on


دنیا بھر میں رمضان المبارک کا آخری جمعہ قبلہ اول بیت المقدس یعنی القدس شریف کے نام سے منسوب ہے۔ دنیا بھر میں لوگ اس دن کو یوم القدس مناتے ہیں۔

دنیا بھر میں ہر سال ماہِ رمضان کے آخری جمعہ کو منایا جانے والا یوم القدس صرف ایک علامتی دن نہیں ہے بلکہ ایک عالمی بیداری، مزاحمت اور مظلوموں سے یکجہتی کی علامت بن چکا ہے۔

اس دن کا آغاز ایران میں اسلامی انقلاب کے بانی حضرت امام خمینی ؒ کے حکم پر شروع ہوا تھا۔ امام خمینی نے رمضان کے آخری جمعہ کو یوم القدس قرار دیا اور دنیا بھر کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اس ایک دن کو فلسطین کی آزادی اور قدس کی بازیابی کے لیے متحد ہوکر ہم آواز ہوجائیں اور دنیا کو پیغام دیں کہ فلسطین کی آزادی کے لیے مسلمان دنیا بھر میں متحد ہیں۔

امام خمینی ؒ کی اس اپیل پر آج بھی دنیا بھر میں بالخصوص فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں بھی رمضان کے آخری جمعہ یوم القدس منایا جاتا ہے۔

یہ دن مسلمانوں کے لیے اتحاد کی علامت بن چکا ہے اور دنیا بھرکے حریت پسندوں کے لیے ایک مرکزی دن کی حیثیت اختیارکرچکا ہے۔

اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ دنیا کے مسلمان اور آزادی پسند افراد فلسطین کے مسئلے کو زندہ رکھیں اور مقبوضہ فلسطین و القدس کی آزادی کے لیے اپنی آواز بلندکریں۔

امام خمینی نے اپنے فرامین میں لوگوں کو تاکید کی کہ یوم القدس ایک عام دن نہیں۔ انھوں نے اس دن کو ظالم طاقتوں کی نابودی کا دن قرار دیا۔ انھوںنے یوم القدس کو فلسطین کی آزادی کا دن قرار دیا اورکہا کہ اسرائیل عالم اسلام کے قلب میں ایک خنجر کی مانند ہے۔

گزشتہ کئی دہائیوں سے یوم القدس دنیا کے مختلف ممالک میں جلسوں، ریلیوں اورکانفرنسوں کی صورت میں منایا جاتا رہا ہے، تاہم 7 اکتوبر 2023 کے بعد اس دن کی اہمیت میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

اس تاریخ کو حماس کی جانب سے اسرائیل کے خلاف شروع ہونے والی بڑی دفاعی کارروائی جسے طوفان الاقصیٰ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، نے پورے خطے کی سیاست کو بدل کر رکھ دیا۔

اس کے بعد غزہ میں جاری جنگ نے دنیا کو ایک مرتبہ پھر فلسطین کے مسئلے کی سنگینی کا احساس دلایا۔7 اکتوبر کے بعد سامنے آنے والی صورتحال نے یہ واضح کر دیا کہ فلسطین کا مسئلہ محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ ایک انسانی اور عالمی مسئلہ ہے۔

غزہ میں جاری جنگ، ہزاروں شہریوں کی شہادت اور انسانی بحران نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یوم القدس اب پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکا ہے کیونکہ یہ دن صرف فلسطینیوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار نہیں بلکہ ظلم کے خلاف اجتماعی آواز بلند کرنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔

حالیہ رمضان المبارک میں آنے والا یوم القدس جوکہ 23رمضان المبارک کو دنیا بھر میں منایا گیا۔ ایسے حالات میں آیا کہ جب امریکا و اسرائیل اور مغربی دنیا نے فلسطین اور لبنان میں نسل کشی کے بعد اب ایران کا رخ کر رکھا ہے۔

ایران خطے میں گریٹر اسرائیل کے راستے کا ایک مضبوط پتھر اور رکاوٹ ہے جسے امریکا و اسرائیل اور ان کے حواری گرانا چاہتے ہیں، اگر آج ایران کو شکست ہوئی تو پھر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ فلسطین پر اسرائیل کا مکمل قبضہ آسان ہوجائے گا اور ساتھ ساتھ خطے میں دیگر ممالک میں بھی گریٹر اسرائیل کی سرحدیں کھینچ دی جائیں گی۔

یوم القدس کا اصل پیغام مزاحمت، استقامت اور عوامی بیداری ہے۔ فلسطینی عوام نے گزشتہ کئی دہائیوں میں جس صبر اور حوصلے کے ساتھ اپنی سرزمین کے دفاع کی جدوجہد جاری رکھی ہے، وہ دنیا کے مظلوم عوام کے لیے ایک مثال بن چکی ہے۔

غزہ اور مغربی کنارے کے عوام سمیت لبنان کے عوام نے یہ ثابت کیا ہے کہ محدود وسائل کے باوجود آزادی کی جدوجہد کو زندہ رکھا جا سکتا ہے۔ آج غزہ وفلسطین سمیت لبنان اور یمن کے عوام نے القدس کی آزادی کے لیے بیش بہا قربانیاں دی ہیں۔

حال ہی میں ان قربانیوں میں ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور ان کے رفقاء اور اہل و عیال نے بھی اس راستے میں جام شہادت نوش کرلیا ہے۔

یہ ایک روشن حقیقت ہے کہ کسی بھی تحریک کی کامیابی صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ عوامی شعور اور عالمی رائے عامہ میں بھی طے ہوتی ہے۔ 7 اکتوبر کے بعد دنیا کے مختلف ممالک میں فلسطین کے حق میں بڑے پیمانے پر مظاہرے دیکھنے میں آئے۔

یورپ، امریکا، ایشیا اور افریقہ کے کئی شہروں میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہارکیا۔ یہ عالمی بیداری اس بات کا ثبوت ہے کہ یوم القدس کا پیغام سرحدوں سے بالاتر ہو چکا ہے۔

عوام کا کردار اس جدوجہد میں انتہائی اہم ہے۔ حکومتوں کی پالیسیوں کے باوجود عوامی دباؤ اکثر بین الاقوامی سیاست کا رخ بدل دیتا ہے۔ اسی لیے یوم القدس کو منانے کا مقصد صرف احتجاج نہیں بلکہ شعور پیدا کرنا، نئی نسل کو مسئلہ فلسطین سے آگاہ کرنا اور عالمی ضمیرکو بیدار رکھنا بھی ہے۔

جب دنیا کے مختلف ممالک میں لاکھوں افراد فلسطین کے حق میں آواز بلند کرتے ہیں تو یہ پیغام واضح طور پر سامنے آتا ہے کہ حق کی جدوجہد کو دبایا نہیں جا سکتا۔ یہ بات ہمارے تمام شہداء نے تکرارکی ہے کہ حق کی آوازکو دبایا نہیں جا سکتا۔

آج یوم القدس حق کی آواز ہے جو گونج رہی ہے اور دنیا کے با ضمیر انسانوں کو بیدارکرنے کا کام کر رہی ہے، اگرچہ آج ہمارے درمیان امام خمینی اور امام خامنہ ای کی شخصیات موجود نہیں ہیں لیکن ان کے افکار موجود ہیں۔

ان کا راستہ ہمارے لیے واضح ہے، اگر آج اس راستے میں اسماعیل ہانیہ، یحیٰ سنوار، محمد ضیف اور حسن نصر اللہ سمیت ہاشم صفی الدین اور دیگر اہم رہنماؤںنے اپنی جان قربان کر دی ہے لیکن پھر بھی راستہ وہی ہے اور ہدف بھی واضح اور دقیق ہے کہ اس خون کی برکت سے اسرائیل کی نابودی۔

یوم القدس حقیقت میں شہدائے اسلام کے خون کا تسلسل ہے۔یہی وہ پس منظر ہے جس میں یوم القدس کی اہمیت کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ آج یوم القدس صرف ایک مذہبی یا سیاسی دن نہیں بلکہ عالمی ضمیرکی بیداری کا دن بن چکا ہے۔

یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ فلسطین کی سرزمین پر جاری ظلم کے خلاف خاموش رہنا دراصل ظلم کا ساتھ دینے کے مترادف ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ آج جب دنیا ایک نئے سیاسی دور سے گزر رہی ہے اور خطے میں طاقت کا توازن تیزی سے بدل رہا ہے، ایسے میں یوم القدس کا پیغام پہلے سے کہیں زیادہ واضح ہے۔

ظلم کے خلاف مزاحمت، مظلوموں کے ساتھ یکجہتی اور انصاف کے لیے اجتماعی جدوجہد جاری رکھی جائے یہی یوم القدس اور امام خمینی کا عالمگیر پیغام ہے۔ پاکستان سمیت مسلم دنیا کے ممالک میں یوم القدس کی تقریبات خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔

پاکستان میں یہ دن تمام شہروں میں بھرپور مذہبی عقیدت اور جذبہ کے ساتھ منایا جاتا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستان کے غیور عوام فلسطین اور مزاحمت کے ساتھ ہیں۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ٹرمپ دلدل میں پھنس گئے؟

Published

on


اسرائیلی حکمران سابق امریکی صدورکو ایران پر حملہ کرنے کا مشورہ دیتے رہے ہیں مگر کسی بھی امریکی صدر نے اسرائیل کے جھوٹے بیانیے پرکان نہیں دھرے۔

اب صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کے ایران مخالف بیانیے کو نہ صرف مان لیا ہے بلکہ ایران پر حملہ آور بھی ہو چکے ہیں۔ یہ شاید اس لیے کہ وہ شروع سے ہی ایران مخالف رویہ رکھتے تھے،کیونکہ ان کے نزدیک ایران کی ایٹمی صلاحیت اسرائیل کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔

جب وہ 2016 میں پہلی دفعہ امریکا کے صدر منتخب ہوئے تھے انھوں نے اپنے سے پہلے صدر اوباما کے ایران کے ساتھ کیے گئے امن معاہدے کو فوراً ختم کر دیا تھا اور ایران کو پہلے کی طرح امریکی ہٹ لسٹ میں شامل کر لیا تھا۔

وہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا ارادہ رکھتے تھے مگر 2020 میں وہ بائیڈن کے مقابلے میں صدارتی الیکشن ہار گئے اور اس طرح وہ ایران کے خلاف اپنی پالیسی پر عمل نہیں کر سکے۔

البتہ انھوں نے اپنی صدارت کے زمانے میں اسرائیل کو تسلیم کرانے کی زبردست مہم چلائی جس کے نتیجے میں کئی ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کر لیا تھا وہ تو تمام عرب سے بھی اسرائیل کو تسلیم کرا لیتے مگر انھیں اس کے لیے وقت نہیں ملا کیونکہ ان کی پہلی صدارت کا وقت ختم ہو چکا تھا۔

اب جب سے وہ دوبارہ امریکی صدر منتخب ہوئے ہیں ایران کی جوہری صلاحیت انھیں کانٹے کی طرح چبھ رہی ہے گو کہ ایران نے ابھی تک ایٹم بم نہیں بنایا ہے مگر وہ چاہتے ہیں کہ اسے اس حد تک پہنچنے سے پہلے ہی روک دیا جائے یعنی کہ اس کی جوہری تنصیبات کو تباہ کر دیا جائے تاکہ وہ اسرائیل کے لیے خطرہ نہ بن سکے۔

وہ ایران کے سخت مخالف ضرور ہیں مگر ابھی تک انھوں نے ایران پر کوئی حملہ نہیں کیا تھا۔ امریکی اخبار لکھ رہے ہیں کہ نیتن یاہو وہ واحد اسرائیلی وزیر اعظم ہے جس نے ٹرمپ کو ایران پر حملہ کرنے کے لیے آمادہ کیا ہے۔

ٹرمپ نے ایران پر گزشتہ سال کے آخر میں ایرانی جوہری تنصیبات پر حملہ کیا اور یہ دعویٰ کیا کہ انھوں نے ایران کی جوہری صلاحیت کو ختم کر دیا ہے مگر اب اس نئے سال کی 28 فروری کو ایران پر بھرپور حملہ کر دیا اور اسرائیل کو اس جنگ میں شامل رکھا ہے۔

امریکا کا ایران پر یہ حملہ کسی کی سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کیونکہ اگر اسرائیل کی جوہری تنصیبات ان کا اصل ٹارگٹ ہیں تو انھیں تو وہ پہلے ہی تباہ کر چکے ہیں مگر اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایرانی ایٹمی صلاحیت کی آڑ میں وہ ایرانی حکومت کو ختم کرکے وہاں اپنی مرضی کی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں۔

اس سے پہلے سابق امریکی صدر جونیئر بش بھی نائن الیون کے وقت عراق کے پاس مہلک ہتھیاروں کی موجودگی کے غلط بیانیے کے ساتھ عراق پر حملہ آور ہوئے تھے اور اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی۔

صدر ٹرمپ کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ وہ ظاہری طور پر ضرور ایک آزاد خیال انسان نظر آتے ہیں مگر اندر سے وہ بھی کٹر مذہبی شخص ہیں جس کی ایک مثال گزشتہ دنوں وہائٹ ہاؤس میں نظر آئی جب پادریوں کے ایک وفد نے صدر ٹرمپ کے سر اور بازوؤں پر ہاتھ رکھ کر ان کی کامیابی کے لیے دعا کی۔

اس دوران ٹرمپ اپنی کرسی پر سر جھکائے بڑی سعادت مندی سے بیٹھے رہے اور اپنے اوپر جھاڑ پھونک کرواتے رہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ان کی ایران سے دشمنی کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی کیونکہ امریکا کو ایران سے کوئی خطرہ نہیں ہے ، اگر امریکا کو ایران سے واقعی کوئی خطرہ ہوتا تو امریکی عوام اور حزب اختلاف ضرور ان کا ساتھ دیتے مگر عوام اور پوری ڈیموکریٹ پارٹی ٹرمپ کی ایران کے خلاف جنگجویانہ مہم سے بے زار ہیں۔

جس کی مثال حال ہی میں امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹس کی جانب سے صدر ٹرمپ کو دھمکی دی گئی ہے کہ جب تک وہ ایران پر امریکی حملے کی وجہ نہیں بتاتے وہ سینیٹ میں کوئی قانون پاس نہیں ہونے دیں گے۔

اب ٹرمپ ایران پر حملہ آور ہونے کی اصل وجہ بتا نہیں سکتے کیونکہ ایران پر حملے کی وجہ ان کا اپنا مائنڈ سیٹ اور دولت مند یہودیوں سے ان کے کاروباری معاملات ہیں۔

بہرحال ایران پر ٹرمپ کے حملے کو امریکی نفرت کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک یہ جنگ امریکا کے مفاد میں نہیں بلکہ سراسر اسرائیلی مفاد میں ہے۔

اس جنگ میں امریکا کا کھربوں ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے اور امریکی ساکھ کو بہت نقصان پہنچا ہے کیونکہ اس جنگ نے امریکا کو ایکجارح اسٹیٹ ثابت کر دیا ہے کہ وہ کبھی بھی کسی ملک پر حملہ کرکے اسے نقصان پہنچا سکتا ہے۔

پہلے امریکا اگر کسی حکومت کو اپنے لیے ناپسندیدہ سمجھتا تھا تو اسے سی آئی اے کے ذریعے گرا دیا جاتا تھا مگر اب تو ٹرمپ بحیثیت امریکی صدر اپنے ناپسندیدہ ملک کی حکومت کو گرانے کے لیے خود کارروائی کر رہے ہیں۔

وینزویلا کے بعد اب ایران پر ان کے حملے نے پوری دنیا میں ڈر و خوف کا ماحول پیدا کر دیا ہے جس سے امریکا کے طاقتور دشمنوں کی ہمت افزائی ہو رہی ہے کہ وہ بھی اپنی مرضی کے مطابق طاقت کے زور پر اپنے مفادات کو حاصل کر سکتے ہیں۔

افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ ٹرمپ نے اپنی نئی صدارت کا حلف اٹھاتے ہی دھونس اور دھمکیوں کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔ وہ کسی ملک پر پابندیاں لگانے لگے تو کسی پر قبضہ کرنے کی تیاری کرنے لگے۔

گویا وہ خود کو ہی سب کچھ سمجھنے لگے اور اقوام متحدہ کی ان کے نزدیک کوئی وقعت نہیں رہی، ان کی اس انتہا پسندانہ پالیسی نے صرف دنیا کو ہی خوفزدہ نہیں کیا بلکہ امریکی عوام میں بھی ان کی مقبولیت میں کمی آنے لگی۔

اب ایک تجزیے کے مطابق امریکی عوام میں ان کی مقبولیت 30 سے 40 فی صد ہی باقی رہ گئی ہے اور اگر یہی حال رہا تو آگے چل کر ان کی حکومت خطرے کا شکار ہو سکتی ہے۔

ایران پر حملہ کرتے وقت وہ بڑے فخر سے کہہ رہے تھے کہ ایران پر ان کے حملے کے نتیجے میں وہاں رجیم چینج کا ہونا لازمی ہے کیونکہ وہاں کے عوام حکومت کے سخت خلاف ہیں اور وہ حکومت کا تختہ پلٹ دیں گے مگر کچھ بھی نہیں ہوا۔

ایرانی حکومت اب بھی قائم و دائم ہے اور انھوں نے ٹرمپ کی دھمکیوں کے باوجود علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا رہبر اعلیٰ مقرر کر دیا ہے۔

ٹرمپ دراصل اپنے مشیروں کے غلط مشوروں کا شکار ہوگئے ہیں، انھوں نے ایرانی حکومت کو گرانے کے لیے کردوں کو بھی ورغلایا تھا مگر انھوں نے بھی امریکا کا ساتھ نہیں دیا۔

گوکہ امریکا نے اسرائیل کی محبت میں ایران پر ہر قسم کی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں مگر اس کے باوجود ایرانی حکومت کا وجود قائم ہے۔

اب ٹرمپ اپنے مقاصد میں بری طرح ناکام ہو گئے ہیں اور وہ اس جنگ سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں مگر اب ایران انھیں جنگ سے نکلنے نہیں دے رہا ہے کیونکہ وہ برابر اب بھی امریکی فوجی اڈوں اور اسرائیل پر بھیانک حملے کر رہا ہے۔

اس طرح کہہ سکتے ہیں کہ ٹرمپ خود ہی تباہی کی دلدل میں پھنس گئے ہیں اور اب اس سے نجات کے لیے اپنے پرانے دشمن روس سے مدد مانگ رہے ہیں جس سے یقینا ان کی جگ ہنسائی ہو رہی ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

ایران جنگ خاتمہ کب اورکیسے؟

Published

on


ایران جنگ کا خاتمہ کس طرح سے ہوتا ہے اورکب ہوتا ہے، یہ حقیقت اپنی جگہ پر لیکن کیا امریکا دنیا کی وہ عظیم طاقت ہے جو سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد بنی تھی؟ روس کی مدد کے بغیرکیا ایران یہ جنگ لڑ سکتا تھا؟ ماضی کی ایک مثال ہمارے سامنے ہے۔

یہ نہیں معلوم کہ یہ مثال آج کی صورتحال سے مطابقت رکھتی بھی ہے کہ نہیں لیکن ایک حقیقت ضرور ہے کہ جب سوویت یونین، جنگ کے لیے افغانستان میں داخل ہوا، تو امریکا نے سوویت یونین کو شکست دینے کے لیے افغانستان کو میدان جنگ اور پاکستان کو فرنٹ لائن اسٹیٹ کے طور پر استعمال کیا۔

جب کہ افغانستان کی ظاہرشاہی اشرافیہ ، افغان مذہبی جماعتوں کو اس جنگ میں ایندھن استعمال کیاجب کہ افغانستان کا ترقی پسند طبقہ سوویت یونین کا حامی تھا اور حکومت پر قابض تھا، وہ بھی اس جنگ کا ایندھن بنا۔

ادھر اسلامی ممالک میں سرگرم مجاہدین بھی اس جنگ کا ایندھن بننے کے لیے افغانستان میں پہنچائے گئے۔ یہی کام ایک لحاظ سے آج روس کر رہا ہے۔

یقینا آج جنگ کی صورتحال انتہائی مختلف ہے، یہ روس کے ریڈار سسٹم ہی تھے جو ایران کو ان کے ہدف اور ٹھکانوں کی نشاندہی کر رہے تھے اور ٹھیک ان ٹھکانوں کو ایران نے اپنا نشانہ بنایا۔

ایران نے نہ صرف ان اہداف کو نشانہ بنایا بلکہ بحرین، اردن اور اسرائیل میں نصب کردہ اسرائیل اور امریکی ریڈار سسٹم کو بھی ناکارہ بنا دیا۔

نوبت یہ آئی کہ امریکا کو اپنے دو بڑے جنگی بیڑے دور لے جانے پڑے کہ کہیں ان کو بھی کوئی نقصان پہنچے۔ مغرب کا میڈیا جو ایک آزاد میڈیا، آزادی رائے اور حقیقی خبروں کا دعویدار ہے وہ اس دفعہ اسرائیل کی شکست اور پسپائی کی واضح تصویر دنیا کو نہیں دکھا سکا اور نہ ہی سوشل میڈیا یا کسی با وثوق ذرائع سے کوئی خبر مل سکی۔

اس جنگ کا سلسلہ ابھی جاری ہے، جنگ ختم نہیں ہوئی بلکہ ایسا کہہ سکتے ہیں ختم ہونے کی بجائے یہ دراصل دوسرے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔

عرب ممالک اس بات پر اب ضرور غورکریں گے کہ ان کے ملک میں موجود امریکی دفاعی اڈے ان کی حفاظت نہیں کرسکے۔ سوال یہ بھی اہم ہے کہ امریکا نے عرب ریاستوں کو اپنا مضبوط فوجی نظام نہیں بنانے دیا، وہ اس لیے کہ عرب ریاستیں دفاعی صورتحال میں ہمیشہ امریکا کی محتاج رہیں۔

سوال یہ بھی اہم ہے کہ کیا عرب ریاستیں فطری طور پر آپس میںجڑی ہوئی ہیں؟ اگر ان کی زبان، ثقافت، تہذیب، جغرافیہ اور تاریخ ایک ہے تو عرب ریاستیں درجنوں میں کیوں، ایک کیوں نہیں؟

کیونکہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد مغربی طاقتیں اپنے مقاصد کے حصول کے لیے ایسا چاہتی تھیں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے کوشش کی کہ تمام عرب ریاستوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا جائے اور ایک اسلامی اتحاد قائم کیا جائے ۔

اس کا انجام ہمارے سامنے ہے۔ بھٹو صاحب بھی مارے گئے اور شاہ فیصل بھی۔ البتہ مشرقِ وسطیٰ نے اپنی تقدیر ضرور بدل ڈالی۔ متحدہ عرب امارات کو متحد کرنے والے تھے، ذوالفقار علی بھٹو! سترکی دہائی کا پسماندہ متحدہ عرب امارات آج کہاں پہنچ چکا ہے۔

عرب ریاستوں کا طرزِ حکومت جمہوری اقدار پر نہیں ہے۔2011 میں کچھ عرب ریاستوں میں عرب بہار Spring Revolution کی لہر آئی تھی، جس نے تیونس، مصر، لیبیا اور یمن کو اپنی لپیٹ میں لیا تھا۔

مصر میں تحریر اسکوائر نے وہاں کی آمریت کی بنیادیں ہلادیں۔ جب وہاں کی مذہبی جماعت نے بائیں بازوکو اقتدار میں شراکت نہیں دی تو اس ٹکراؤ کا فائدہ ایک فوجی آمر نے اٹھایا۔ ایران میں بھی شہنشاہ ایران کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد وہاں کے ترقی پسندوں کی آواز کو دبا دیا گیا۔

ایران جنگ کا خاتمہ بھی اتنی آسانی سے نہیں ہوگا۔ امریکا، ایران میں رجیم تو نہیں بدل سکا، لیکن موجودہ رجیم کا رہنا بھی اب اتنا آسان نہیں رہا۔

ایران کو اپنی معیشت مستحکم کرنا ہوگی۔ ان کے خلاف داخلی طور پر ہر اٹھنے والی آ وازکو دبایا نہیں جاسکتا۔ اب ایران کے اندر ریفارمزکا ہونا انتہائی ضروری ہے۔

ایران جنگ کے بعد عرب ریاستوں کو بھی اندازہ ہوچکا ہے کہ وہ محض امریکا کے بھروسے نہیں رہ سکتے۔ سعودی عرب نے اپنے دفاع کے لیے صحیح اور بہتر قدم اٹھایا اور پاکستان سے دفاعی معاہدہ کر لیا۔ پاکستان کا دفاعی نظام بہت مضبوط ہے۔

پاکستان کا اہم مسئلہ اس کی کمزور معیشت ہے۔ اس معیشت کا مضبوط ہونا، پاکستان کی سالمیت کے لیے اشد ضروری ہے۔ ایران جنگ سے دو دن پہلے مودی صاحب اسرائیل پہنچ گئے اور ہماری تشویش میں مزید اضافہ ہوا، جب انھوں نے افغانستان کو اپنا اتحادی قرار دیا۔

ہم نے بلا تاخیر، افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے اڈوں کے خاتمے کے ساتھ کارروائی شروع کردیاکیونکہ یہ سوال تھا، ملک کی ساخت اور سالمیت کا کیونکہ افغانستان کی طالبان رجیم کھل کر پاکستان کے دشمنوں کے ساتھ مل چکی ہے۔

امریکا اور اسرائیل نے جنگ کا جو نقشہ کھینچا ہوا تھا کہ اگر ایران پر رضا شاہ پہلوی کی حکومت بنا دی جاتی تو ایران کو تین حصوں میں بانٹ دیا جاتا اور ہوتا کیا؟ یقینا آبنائے ہرمز پر اسرائیل اور امریکا کا قبضہ ہو جاتا۔ چین، ہندوستان، پاکستان سے لے کر جاپان اور پھر تمام عرب ریاستوں کی تیل کی رسد اور ایران کے تیل پر اسرائیل اور امریکا کی اجارہ داری قائم ہو جاتی۔

اس کے دور رس اثرات تمام ممالک کی آزاد خارجہ پالیسی پر ہوتے۔ کوئی ملک اپنی آزاد خارجہ پالیسی مرتب نہیں دے پاتا۔کوئی ملک امریکا کی مخالفت نہیں کرسکتا تھا اور چاہتے نہ چاہتے ہوئے امریکا کا مخالف نہیں بن سکتا تھا۔

دوسری طرف ایران سے آزاد ہوکرد علاقہ ترکیہ کے لیے مسائل کا باعث بنتا۔ آزاد سیستان، پاکستان کے لیے مشکلات پیدا کرتا اور ایسے حالات میں ہندوستان ہمیں نقصان پہنچاتا، لیکن ایسا نہیں ہوا، مگر یہ خطرات اب بھی باقی ہیں۔

ہم ان حالات میں زیادہ بول بھی نہیں سکتے کیونکہ اپنی کمزور معیشت کی وجہ سے کئی مصلحتوں کا شکار ہے۔

چین اب BRICS کی مہم کو تیزکردے گا جس میں مشکلات پیدا کی جا رہی تھیں۔BRICS کے وجود سے امریکا خائف ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ BRICS کی تشکیل سے امریکی ڈالرکے لیے نئے چیلینجز پیدا ہو جائیں گے۔

BRICS کی تشکیل سے دو بڑے مالیاتی ادارے وجود میں آئیں گے جو ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کی طرزکے ہوںگے۔ طاقت کا توازن تبدیل ہو جائے گا۔ اس صورتحال کو روکنے کے لیے ہی امریکا نے ایران جنگ کا آغاز کیا لیکن اب تک کوئی خاطر خواہ نتیجہ امریکا کے حق میں نہیں آیا۔

اب دنیا آہستہ آہستہ Multi Polar System میں تبدیل ہو رہی ہے۔1971 اور1965 کی جنگوں میں جب پاکستان ہندوستان سے لڑ رہا تھا تو چین کے پاس جدید دفاعی ٹیکنالوجی نہیں تھی اور اس وقت ہم امریکا کے اتحادی بھی تھے۔

مئی 2025 میں چین کی جنگی ٹیکنالوجی پاکستان کے لیے انتہائی مددگار ثابت ہوئی۔ اسی طرح ایران نے بھی روس اور چین کی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھایا ہے۔ جس کی وجہ سے ایران نے امریکا اور اسرائیل کی جارحیت کا جواب دیا ہے ۔





Source link

Continue Reading

Today News

دہشت گردوں کیخلاف کامیاب کارروائیاں

Published

on


پاکستان کی افواج افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہی ہیں اور آپریشن غضب للحق کے تحت دہشت گردوں کا تعاقب جاری ہے۔

افغانستان کی طالبان رجیم دہشت گردوں کو مسلسل پناہ بھی دیئے ہوئے ہے اور دیگر پاکستان مخالف قوتوں کے ساتھ مل کر پاکستان کے اندر مسلسل دہشت گردی کی کارروائیوں میں مصروف ہے۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغانستان کی طالبان رجیم دوحہ معاہدے سے بھی انحراف کر رہی ہے اور نہ صرف دہشت گردوں کو اپنے ملک میں پناہ دیئے ہوئے ہے بلکہ دہشت گردی کو دوسرے ملکوں میں برآمد کرنے میں بھی ملوث ہے۔

اگلے روز بھی پاکستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کی کوششیں ہوئی ہیں۔ مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز، انتظامیہ اور پولیس نے اینٹی ڈرون سسٹم اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے افغانستان سے فتنہ خوارج کی طرف سے بھیجے گئے 6 ڈرونز مار گرائے ہیں۔

وفاقی وزارت اطلاعات کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے راولپنڈی میں افغان طالبان کی زیرسرپرستی فتنہ خارج کی طرف سے بھیجے گئے دو ڈرونز کو جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ناکارہ بنا دیا۔

کسی فوجی تنصیب کو کوئی نقصان نہیں پہنچا البتہ ان ڈرونزکا ملبہ گرنے سے معمولی نقصان ہوا۔ یہ ڈرونز دیسی ساختہ بتائے جاتے ہیں۔ بہرحال افغان طالبان کی ان حرکتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ فتنہ خوارج اور فتنہ ہندوستان کی ماسٹر پراکسی ہیں۔

وہ جو دعوے کرتے ہیں اس کا کوئی ثبوت نہیں دیتے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق 13 مارچ 2026 کو افغان طالبان نے پاکستان میں خوف و ہراس پھیلانے کی غرض سے چند ابتدائی نوعیت کے ڈرونز استعمال کیے۔

سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ان ڈرونز کو سافٹ اور ہارڈ کِل طریقوں کے ذریعے تباہ کر دیا جس کے باعث وہ اپنے ہدف تک نہ پہنچ سکے جب کہ تباہ کیے گئے ڈرونز کا ملبہ گرنے سے کوئٹہ میں دو بچے جب کہ کوہاٹ اور راولپنڈی میں ایک ایک شہری زخمی ہوا۔

افغان طالبان جو کچھ کر رہے ہیں، وہ کسی ذمے دار حکومت کا کام نہیں ہے۔ مشرق وسطیٰ کی صورت حال کے تناظر میں جو حالات پیدا ہوئے ہیں، ان کا تقاضا تو یہ تھا کہ افغانستان کے طالبان ہوش مندی اور ذمے داری کا مظاہرہ کرتے لیکن افغان طالبان نے ان نازک حالات میں بھی دہشت گردوں کی سرپرستی کو جاری رکھا ہوا ہے بلکہ وہ خود بھی دہشت گردوں کے ساتھ مل کر پاکستان مخالف سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

صدر مملکت آصف علی زرداری نے اس حوالے سے واضح طور پر کہا ہے کہ افغانستان کی حکومت نے پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنا کر سرخ لکیر پار کردی ہے۔

انھوں نے پاکستان کے شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کے لیے افغان طالبان کے ڈرون حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ دہشت کے ذریعے افغانستان میں قائم غیر قانونی حکومت مسلسل اپنی ذمے داریوں سے فرار ہورہی ہے اور افغان حکومت دہشت گرد گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم نہ کرنے کی یقین دہانیوں کو نظر انداز کر رہی ہے۔

اب اس حکومت میں اسلامی دنیا کی ایک بڑی فوجی طاقت کو چیلنج کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ صدر مملکت کا کہنا تھا کہ افغان حکومت ایک طرف دوست ممالک سے مذاکرات کی کوشش کر رہی ہے اور دوسری طرف اس نے پاکستان کے شہریوں کو نشانہ بنا کر سرخ لکیر پار کر دی ہے۔

صدر نے کوئٹہ، کوہاٹ اور راولپنڈی میں ڈرون حملوں سے زخمی ہونے والے بچوں اور دیگر شہریوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا بھی کی۔ انھوں نے اس بات کو دہرایا کہ پاکستان کی مسلح افواج اور سیکیورٹی ادارے ملک کے دفاع اور عوام کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

افغانستان میں چاہے کوئی بھی حکومت ہو، اس کے خمیر میں پاکستان کی مخالفت گندھی ہوئی ہے۔ موجودہ حالات میں افغان طالبان مکمل طور پر بھارت کی گود میں بیٹھے ہیں۔

بلاشبہ افغانستان کی حکومت کو اپنے غیرملکی تعلقات بنانے میں آزادی حاصل ہے لیکن کسی کی پراکسی یا ایجنٹ بن کر ہمسایہ ممالک میں گڑبڑ پھیلانے کی انھیں کسی طرح بھی اجازت حاصل نہیں ہے۔ یہ شرپسندی اور دہشت گردی کے زمرے میں آتی ہیں۔

اگلے روز خیبرپختونخوا کے ضلع لکی مروت میں پولیس موبائل کے قریب بم دھماکے میںایس ایچ او سمیت 7 اہلکار شہید ہوئے ہیں۔

مقامی پولیس کے مطابق دہشت گردوں نے دیسی ساختہ بم سڑک کنارے نصب کر رکھا تھا، پولیس حکام کے مطابق علاقے شادی خیل بیٹنی میں اس وقت پیش آیا جب پولیس موبائل رسول خیل چیک پوسٹ کے قریب معمول کے گشت پر تھی۔ اسی دوران سڑک کنارے نصب دیسی ساختہ بم زور دار دھماکے سے پھٹ گیا، تھانہ صدر کے ایس ایچ او سمیت 7 اہلکار موقع پر ہی شہید ہو گئے جن میں انسداد دہشت گردی فورس کے تین اہلکار بھی شامل ہیں جو پولیس کے ساتھ گشت پر تھے۔

ضلع کوہاٹ کے ڈی پی او نے اگلے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز، انتظامیہ اور پولیس نے افغانستان سے فتنہ خوارج کی طرف سے بھیجے گئے 4 ڈرونز کو جام کر کے ناکارہ بنادیا ، اینٹی ڈرون سسٹم اور فورسز کی بروقت کارروائی کی بدولت نہ صرف دشمن کے مضموم ارادے خاک میں ملے بلکہ کسی قسم کا نقصان بھی نہیں ہوا۔

سیکیورٹی حکام گرائے گئے ڈرونز کے ملبے کا تکنیکی جائزہ لے کر اس کی ساخت اور دیگر معلومات حاصل کر رہے ہیں۔ سابقہ فاٹا کے ضلع باجوڑ سے ایک روز قبل اغوا ہونے والے پولیس اہلکار کو قتل کر دیا گیا۔ یہ پولیس اہلکار چھٹی پر اپنے گھر آیا ہوا تھا۔

ضلع خیبر کی تحصیل لنڈی کوتل کے علاقے اشخیل میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے ایک پولیس اہلکار شہید ہوگیا۔ شہید اہلکار تراویح کی نماز ادا کرنے کے بعد مسجد سے اپنے گھر جا رہا تھا کہ نامعلوم دہشت گردوں نے فائرنگ کی اور فرار ہوگئے۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں فتنہ الخوارج کے دہشت گرد مقامی سہولت کاری سے فائدہ اٹھا کر بے گناہ لوگوں کو شہید کر رہے ہیں۔ ادھر سی ٹی ڈی بنوں ریجن نے ضلع لکی مروت تھانہ گمبیلا کی حدود شاگئی کے علاقے میں کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا، اس آپریشن میں فتنہ الخوارج کے 6دہشت گرد مارے گئے ہیں۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق جہنم واصل ہونے والے دہشت گردوں کے قبضہ سے بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد ہوا ہے۔ خیبرپختونخوا کے آئی جی پولیس ذوالفقار حمید نے اس کامیاب کارروائی پر سی ٹی ڈی ٹیم کو شاباش دی۔

خیبرپختونخوا کی پولیس کی کارکردگی روزبروز بہتر ہو رہی ہے۔ تاہم ابھی مقامی سطح پر بروقت انٹیلی جنس کے سسٹم کو مزید بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ خیبرپختونخوا کی حکومت کو اس حوالے سے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

جب تک مقامی سہولت کاری کا خاتمہ نہیں ہوتا، دہشت گردوں کا خاتمہ ممکن نہیں ہو گا۔ بہرحال پاک فوج کا آپریشن غضب للحق کے تحت افغانستان میں دہشت گرد ٹھکانوں پر کامیاب فضائی حملے کیے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق 12 اور 13مارچ کی درمیانی شب پاک افواج نے افغان طالبان اور دہشت گردوں کے 4 ٹھکانوں بشمول فوجی تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا، کابل میں 313 کور کے انفراسٹرکچر کو تباہ کردیا۔

قندھار میں تراوو دہشت گرد کیمپس کو بھی کامیابی سے نشانہ بنایا گیا، موثر فضائی کارروائیوں کے دوران قندھار میں ایئر فیلڈ کی آئل اسٹوریج سائٹ اوراس سے ملحقہ لاجسٹک انفراسٹرکچر بھی تباہ کر دیا گیا۔

اس حوالے سے دستیاب ویڈیو میں حملوں سے پہلے اور بعد کے مناظر واضح طور پر دکھائے گئے ہیں، جن سے کارروائی کی شدت اور مؤثر نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ یہ آئل اسٹوریج سائٹس افغان طالبان اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں استعمال کر رہی تھیں۔

ادھر ایک اور فضائی حملے میں صوبہ پکتیا میں شیرِنا دہشت گرد کیمپ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات عطاء اللہ تارڑ کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق اب تک 663افغان طالبان کے کارندوں کو جہنم واصل کیا جاچکا ہے، 249افغان پوسٹیں تباہ کردی گئی ہیں، 44پوسٹیں افواج پاکستان کے قبضے میں ہیں جب کہ افغان طالبان کے 224ٹینک مسلح گاڑیاں اور آرٹلری گنز کو بھی تباہ کر دیا گیا ہے۔

پاکستان جس انداز میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کر رہا ہے، اس سے پاکستان کی برتری واضح ہو جاتی ہے تاہم ابھی پاکستان کو بہت سے اندرونی چیلنجز کا سامنا ہے۔ مشرق وسطیٰ کی صورت حال بھی دن بہ دن گھمبیر ہوتی جا رہی ہے۔

ایسے حالات میں پاکستان کی سیاسی قیادت کو بھی واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کرنا چاہیے جب کہ پاکستان کے دیگر سٹیک ہولڈرز کو بھی پاکستانی عوام کے مفادات کو سامنے رکھ کر دہشت گردی کے خلاف دوٹوک اور غیرمبہم مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔





Source link

Continue Reading

Trending