Today News
پٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی اولین ترجیح، وزیر خزانہ
اسلام آباد:
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت کی اولین ترجیح ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانا اور عوام پر بوجھ ممکنہ حد تک کم رکھنا ہے۔
اپنی زیر صدارت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی نگران کمیٹی کے وڈیو لنک اجلاس میں انھوں نے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کے باوجود پاکستان میں پٹرولیم سپلائی مستحکم ہے، اس کی وجہ بروقت منصوبہ بندی اور متعلقہ اداروں کے درمیان موثر رابطہ ہے۔
اجلاس میں علاقائی کشیدگی اور عالمی نرخوں میں اتار چڑھائو کا تفصیلی جائزہ، ملکی ذخائر، درآمدی انتظامات اور سپلائی چین کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔
حکام نے بتایا کہ کارگوز کی بروقت آمد، ریفائنریز کی پیداواری صلاحیت برقرار رکھنے اور بلا تعطل سپلائی چین کیلئے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
اجلاس میں وزیرِ پٹرولیم، وزیرِ قومی غذائی تحفظ ، وزیرِ مملکت برائے خزانہ، گورنرسٹیٹ بینک اور متعلقہ وزارتوں کے اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔
Today News
پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے، وزیر خزانہ
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ تیل کی مزید کھیپ راستے میں ہے، ذخائر مزید مضبوط ہوں گے، ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی یقینی بنانااور عوام پر ممکنہ حد تک بوجھ کم رکھنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ہونیوالے اجلاس میں ملک میں پٹرولیم مصنوعات کے ذخائر تسلی بخش قرار دیئے گئے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ پٹرول اور ڈیزل کی فراہمی میں کسی تعطل کا خدشہ نہیں ہے اجلاس میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاوٴ کا جائزہ لیا گیا۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت توانائی مارکیٹ کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی یقینی بنانا اور عوام پر ممکنہ حد تک بوجھ کم رکھنا اولین ترجیح ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عالمی توانائی منڈی میں غیر یقینی صورتحال کے باوجود پاکستان میں پیٹرولیم سپلائی مستحکم ہے جس کی وجہ بروقت منصوبہ بندی اور متعلقہ اداروں کے درمیان موٴثر رابطہ ہے۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ اس وقت ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر تسلی بخش سطح پر موجود ہیں اور سپلائی کا نظام معمول کے مطابق کام کر رہا ہے اور مزید کارگوز راستے میں ہیں جبکہ قومی ذخائر کو مزید مستحکم بنانے کے لیے اضافی درآمدی انتظامات بھی کئے جارہے ہیں۔
کمیٹی کی جانب سے ریفائنریز اور آئل کمپنیوں میں قریبی رابطے کی ہدایت کی گئی، ڈیزل، پٹرول، ایل پی جی اور جیٹ فیول سپلائی کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں تیل کے استعمال میں بچت کیلئے اقدامات پر غور کیا گیا پٹرولیم سپلائی مانیٹرنگ کیلئے ڈیجیٹل ڈیش بورڈ کی تیاری کی جائے گی۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ توانائی صورتحال پر کمیٹی کا روزانہ اجلاس جاری رہے گا۔
Today News
ماں – ایکسپریس اردو
ماں کہنے کو تو تین حروف کا مجموعہ ہے لیکن یہ لفظ اپنے اندر کل کائنات سموئے ہوئے ہے۔ ہر رشتے کی محبت کو الفاظ میں بیان کیا جاسکتا ہے مگر ماں کی محبت ناقابلِ بیاں ہے۔
ماں کی عظمت اور بڑائی کا ثبوت اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ بھی انسان سے اپنی محبت کے اظہار کے لیے ماں ہی کو مثال بناتا ہے۔
ماں مجسم محبت اور تحفظ ہے۔ میری والدہ محترمہ 29 رمضان المبارک 2015 (جمعتہ الواع) کو تہجد کے وقت تقریباً پونے دوبجے صبح اس جہاں فانی میںایک سو ایک سال، چھ ماہ اور سولہ دن گزار کر ابدی زندگی کے لیے روانہ ہوئیں۔
رب ذوالجلال و اکرام ان کی مغفرت فرمائے اور درجات کی بلندی سے نوازے۔ ( آمین) ماں سے جدائی ایک ایسا خلا ہے جو کبھی پر نہیں ہو سکتا۔
ماں ایک ایسی ہستی ہے جس کا نعم البدل دنیا بھر میں کوئی نہیں۔ ماں کی کوئی عمر نہیں ہوتی۔ ماں اٹھارہ، بیس سال کی بھی ہوتی ہے اور سو سال کی بھی۔ اولاد کی جنت ماں کے قدموں میں قرار دی گئی ہے۔
ایک صاحب نظربتا رہے تھے کہ ’’حسد کی آگ کو کوئی وظیفہ نہیں کاٹ سکتا حتیٰ کہ مرشد کی دعائیں بھی حسد کا علاج نہیں لیکن ماں کی دعا میں یہ تاثیر ہے کہ وہ حسد کی آگ کو بھی بجھا سکتی ہے۔‘‘
اولاد کے لیے ماں کے مقام اور احترام کے حوالے سے محدثین نے بیان کیا ہے کہ نبی پاکؐ نے فرمایا میری ماں چھ سال کی عمر میںرحلت فرما گئیں۔
اگروہ زندہ ہوتیں اور مجھے کسی کام سے آواز دے کر بلاتیں اور میں نماز کی ادائیگی کر رہا ہوتا تو نماز توڑ کر ان کی بات سنتا۔ پھر آ کر دوبارہ نما زکی نیت کرتا۔ نبی پاکؐ کا یہ فرمان ماں کے درجے اور اس ہستی کے احترام کے لیے ابدی پیغا م ہے۔
حضرت موسی علیہ السلام نے ایک بار اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ جنت میں میرے ساتھ کون ہوگا؟ ارشاد ہوا فلاں قصاب ہوگا۔
آپ حیران ہوئے اور اس قصاب کی تلاش میں چل پڑے۔ آپ نے دیکھا کہ اس قصاب نے جب اپنا کاروبار ختم کرلیا تو نرم گوشت کے ایک ٹکرے کو کپڑے میں لپیٹا اور گھر کی طرف روانہ ہوگیا۔
حضرت موسی علیہ السلام نے بطور مہمان اس کے گھر چلنے کی اجازت چاہی۔ گھر پہنچ کر قصائی نے گوشت کو پکایا اور روٹی کے ٹکڑے شوربے میں نرم کیے اور دوسرے کمرے میں چلا گیا جہاں ایک نہایت کمزور بڑھیا پلنگ پر لیٹی ہوئی تھی۔
قصاب نے بمشکل اسے سہارا دے کر اٹھایا اور ایک ایک لقمہ کر کے اسے کھانا کھلایا اور اس کا منہ صا ف کیا۔
بڑھیا نے قصاب کے کان میں کچھ کہا جسے سن کر قصاب مسکرایا اور بڑھیا کو واپس لٹا کر باہر آگیا۔ حضرت موسی علیہ السلام یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے۔
آپ نے قصاب سے پوچھا یہ عورت کون ہے اور اس نے تیرے کان میں ایسا کیا کہا کہ جس پر تو مسکرادیا؟ قصاب بولا یہ بوڑھی عورت میری ماں ہے۔
گھر پر آنے کے بعد میں سب سے پہلے اس کے کام کرتا ہوں۔ یہ روز خوش ہوکر مجھے دعا دیتی ہے کہ اللہ تجھے جنت میں حضرت موسی علیہ السلام کے ساتھ رکھے گا جس پر میں مسکرا دیتا ہوں کہ بھلا میں کہاں اور موسی کلیم اللہ کہاں۔
بوعلی سینا نے کہا اپنی زندگی میں محبت کی سب سے اعلی مثال میں نے تب دیکھی جب سیب چار تھے اور ہم پانچ، تب میری ماں نے کہا مجھے سیب پسند ہی نہیں ہیں۔
ماں خود بھوکا رہ کر اپنے بچوں کو پیٹ بھر کر کھانا کھلاتی ہے۔ سرد راتوں میں جب اس کا بچہ بستر گیلا کردیتا ہے، وہ ساری رات گیلی جگہ پر سوجائے گی لیکن اپنے بچے کو خشک جگہ پر سلائے گی۔
بچہ اگر گھر دیر سے پہنچے تو اس کی حالت ریت پر پڑی مچھلی کی مانند ہو جاتی ہے۔ والدین جب بڑھاپے کو پہنچتے ہیں تو اولاد کی اصل آزمائش ہوتی ہے۔
وہ لوگ خوش نصیب کہلاتے ہیں جنھیں والدین کی خدمت کا موقع ملے۔ بڑھاپے میں دل وجان سے ماں باپ کی خدمت کرنے والے لوگوں کی دنیا اور آخرت دونوں سنور جاتی ہیں۔
قرآن پاک میں ہے کہ جب تم اپنے والدین کو بڑھاپے میں پاؤ تو ان کو اُف تک نہ کہو۔ ان کا اس طرح خیال رکھو جس طرح انھوں نے بچپن میںتمہارا خیال رکھا۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے جو رشتے بنائے ہیں ان میں سب سے عظیم رشتہ ماں ہی کا ہے۔ رشتے دو قسم کے ہوتے ہیں، ایک وہ جو ہمیں پیدائش سے ہی وراثت میں ملتے ہیں۔
پیدائشی رشتے خون کے رشتے ہوتے ہیں، ماں، باپ، بہن، بھائی یہ رشتے بنے بنائے ہوتے ہیں۔ یہ رشتے نہ جوڑنے سے جڑتے ہیں اور نہ توڑنے سے ٹوٹتے ہیں۔
یہ دائمی رشتے ہیں۔ دوسرے رشتے ہم خود بناتے ہیںجن میں ہمارے دوست،ہمارے کلاس فیلو آفس فیلو، کاروباری تعلقات، سیاسی رفقاء، مخالف، مداح، اساتذہ، ہمارے شاگرد۔ اس طرح ہماری زندگی ان رشتوں میں بٹی ہوتی ہے۔
ہم باراتوں اور جنازوں میں شرکت کرتے رہتے ہیں اور ایک دن خود بھی رخصت ہو جاتے ہیں۔ ضروری ہے کہ ہم ان رشتوں کا احترام کریں اور خاص طور پر ماں کے رشتے کا کہ جس کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔
مفسرین کا کہنا ہے کہ اگر والدین اس عمر کو پہنچ جائیں کہ جب وہ چلنے اور بولنے کی سکت کھو دیں تو یہ ایام اولاد کے لیے انتہائی قیمتی ہوتے ہیں۔
ان ایام میں ان کی خدمت دین اور دنیا، دونوں جہانوں میں اولاد کے لیے انعام و اکرام کو بڑھا دیتا ہے۔ ان ایام میں ماں، باپ کے حضور حاضری بھی آپ کے مسائل اور مشکلات کو کم کر دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں والدین کی خدمت کے لائق رکھے۔ (آمین)
Today News
امریکا، اسرائیل، ایران جنگ: عالمی نظام اور پاکستان
امریکا اور اسرائیل کی شروع کی گئی جنگ اپنی تباہ کاریوں کے ساتھ تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی۔ رعونت اور کروفر کے ساتھ روزانہ بیان ہوتا ہے کہ اب تک اتنے ہزار ٹارگٹ بمباری ہو چکی۔
اب کوئی خاص ٹارگٹس بچے نہیں۔ دوسری جانب ایران کی جانب سے مزاحمت نے جارح حکومتوں سمیت دنیاکو بھی حیران کر دیا ہے۔
امریکی اڈوں کے میزبان ممالک پر ایران کی جوابی کارروائیوں نے انرجی مارکیٹ اور ان ممالک کی اقتصادی ترقی کے ماڈل کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اسرائیل نے دوسری جانب بیروت کو غزہ 2 بنانے کا عمل شروع کر رکھا ہے۔
امریکا کو واحد پشیمانی یا رکاوٹ عالمی انرجی مارکیٹ کی سپلائی چین تہ و بالا ہونے سے ہوئی کہ امریکی شہریوں کو تیل کی قیمتوں نے چکرا کر رکھ دیا ہے۔
فنانشل مارکیٹوں کے اضطراب نے امریکا کو پریشان ضرور کیا ہے لیکن اب تک بدقسمتی سے دیگر عالمی طاقتوں کی جانب سے جنگ بندی کی کوششیں نمایاں نہیں ہیں۔
جنگ میں ایران تو تباہی کا شکار ہوا ہے لیکن عالمی نظام بھی تباہی کا سامنا کر رہا ہے۔ رول بیسڈ ورلڈ کا ڈھانچہ بھی لڑکھڑا رہا ہے۔
عالمی طاقتوں کی ترجیحات، ان کی اوڑھی ہوئی انسانی حقوق، عالمی قوانین کی اوڑھنی اور عالمی اداروں کی تقدیس کے سالہاسال کے بھاشن بھی بارود کی نذر ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔
تاریخی شعور کے مطابق عالمی سیاست کے مضبوط نظر آنے والے ڈھانچے اکثر بڑے بحرانوں کے دوران اپنی کمزوریاں دکھا دیتے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ بھی یہی منظر پیش کر رہی ہے۔ یہ صرف علاقائی جنگ نہیں بلکہ عالمی جیوپولیٹیکل نظام کی عیاریوں اور منافقت کو بے نقاب کر رہی ہے۔
توانائی کی سپلائی چین سے لے کر عالمی مالیاتی منڈیوں تک ہر سطح پر بے یقینی ہے اور اس کا اثر پاکستان جیسے ممالک تک براہِ راست ہو رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ عالمی توانائی کا مرکز ہے۔
عالمی تیل کی تجارت کا تقریباً بیس فیصد حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے، جہاں سے روزانہ تقریباً بیس ملین بیرل تیل عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔
قطر اور دیگر خلیجی ممالک کی مائع گیس بھی اسی راستے سے ایشیا اور یورپ تک جاتی ہے۔ کشیدگی بڑھنے پر عالمی معیشت پر بھی دباؤ بڑھتا ہے۔
عالمی توانائی منڈیوں میں اضطراب اور بے یقینی ہے۔ برینٹ کروڈ آئل 100 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گیا۔ تیل مہنگا اور ترسیل مشکل ہو رہی ہے۔
عالمی معیشت جہاں پہلے ہی بلند شرح سود اور سست روی کا شکار ہے، وہاں بڑھتی قیمتیں مہنگائی کے دباؤ کو مزید بڑھا رہی ہیں۔ انرجی بحران سے امریکا بھی محفوظ نہیں۔
گیسولین کی قیمت چار ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے، بنیادی خوراک کی قیمتیں پچھلے سال کے مقابلے میں تیزی سے بڑھ چکی ہیں، یوں امریکی شہریوں کے روزمرہ اخراجات شدید متاثر ہو رہے ہیں۔
یورپ کا سیاسی اور سیکیورٹی معاملہ پیچیدہ ہے۔ وہ جنگ میں شامل نہیں، مگر امریکا کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے مکمل غیرجانبدار بھی نہیں۔
روس، یوکرین جنگ کے بعد توانائی کے بحران سے پہلے ہی دوچار ہے اور اب مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی نے مزید غیریقینی پیدا کر دی ہے۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی (IEA) کے اعداد وشمار کے مطابق یورپی یونین کے گیس ذخائر گزشتہ پانچ سال کی اوسط سے کم ہیں، اس لیے توانائی کی قیمتیں یورپ میں بھی بلند ہیں۔
اس پس منظر میں معروف فرانسیسی ماہر معاشیات Thomas Piketty نے معروف اخبار Le Monde کے اپنے حالیہ مضمون میں عالمی نظام کی موجودہ کمزوریوں پر روشنی ڈالی۔
پکیٹی، جو اپنی کتاب Capital in the Twenty First Century کے ذریعے عالمی معاشی عدم مساوات پر بحث لے کر آئے، کہتے ہیں کہ یورپ کو محض تماشائی نہیں رہنا چاہیے بلکہ اپنی اقتصادی اور سیاسی قوت کو منظم کرنا ہوگا تاکہ عالمی نظام میں متوازن کردار ادا کر سکے۔
پکیٹی کے مطابق موجودہ بحران کسی ایک حکومت کی پالیسی تک محدود نہیں۔ یہ عالمی طاقت کے توازن میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔
بڑی طاقتیں جب داخلی دباؤ اور سیاسی تقسیم اور انتشار کا شکار ہوں، تو اکثر بیرونی محاذوں پر طاقت کا اظہار کرتی ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ایسے لمحات میں عالمی توازن میں نئی ترتیب بنتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اثرات یکساں نہیں۔ China اور India سمیت ایشیا کی بڑی معیشتیں وقتی طور پر توانائی کی قیمتوں اور سپلائی چین کی بے یقینی سے متاثر ضرور ہوئی ہیں مگر خاموشی سے اپنی صنعتی و تجارتی ترقی پر فوکس کیے ہوئے ہیں۔
عالمی اقتصادی نمو کا دوتہائی حصہ اب ایشیا سے آ رہا ہے۔ اگر امریکا طویل عرصے تک جنگوں میں الجھا رہا، تو عالمی توازن غیرمحسوس انداز میں ایشیا کے حق میں مزید تیزی سے جھکے گا۔
جدید معیشت کی اصل قوت صرف عسکری نہیں بلکہ ٹیکنالوجی، تحقیق اور صنعتی حکمت عملی ہے اور اس کے لیے پائیدار امن ضروری ہے جس کا اصل فائدہ ایشیائی ممالک اٹھا سکتے ہیں۔
پاکستان پر اثرات کئی جہتوں میں ہیں۔ توانائی کی ضروریات کا تقریباً ستر فیصد حصہ درآمدات سے پورا ہوتا ہے۔ ملک پہلے ہی بیرونی ادائیگیوں اور مالیاتی توازن کے مسائل سے دوچار ہے۔
مزید برآں پاکستان ایک پیچیدہ مگر اہم سفارتی توازن سنبھالنے کی کوشش میں ہے۔ پاکستان کی سالانہ برآمدات تقریباً تیس ارب ڈالر ہیں جن میں پینتیس فیصد یورپی یونین اور اٹھارہ فیصد امریکا کو جاتی ہیں۔
بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر خلیجی ممالک سے تقریباً تیس ارب ڈالر ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان عالمی اقتصادی جال میں مشرقِ وسطیٰ، یورپ اور امریکا کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔
مشرق وسطیٰ ممالک کے ساتھ تعلقات بہت قریبی بھی ہیں اور ضرورتوں کے ساتھ بھی بندھے ہوئے ہیں۔ یوں خطے میں طویل کشیدگی توانائی، سفارت اور تجارت تینوں پر اثر ڈال سکتی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشیدگی صرف جنگ نہیں بلکہ عالمی نظام کے نئے مرحلے کی علامت ہے۔ توانائی کی منڈیوں کی بے چینی، مالیاتی غیریقینی اور بڑی طاقتوں کی عسکری کشمکش اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دنیا ایک نئے توازن کی طرف بڑھ رہی ہے۔
پاکستان کو سیاسی، علاقائی اور معاشی توازن کر برقرار رکھنا لازمی ہے جو عملاً اتنا آسان نہیں۔ پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ اور امریکا کے ساتھ تعلقات میں توازن برقرار رکھنا ہوگا تاکہ کسی بھی تنازع میں الجھنے سے بچا جا سکے۔
اندرونی سطح پر بھی ضروری ہے کہ سیاسی استحکام، بہتر گورننس، اقتصادی استحکام اور سرحدوں پر امن و سکون ہو۔
ان اقدامات سے پاکستان نہ صرف مزید محفوظ ہوگا بلکہ اسے ایک مضبوط، فعال اور متوازن عالمی کھلاڑی کے طور پر اپنا وجود منوانے اور کردار ادا کرنے کا موقع ملے گا۔
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Chasing the forgotten stars
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: THE RAMAZAN EXCEPTION – Newspaper
-
Magazines1 week ago
Story Time: Culinary Disasters – Newspaper
-
Entertainment2 weeks ago
Ali Ansari On Falling in Love With More Than One Person
-
Magazines2 weeks ago
Story time: The diary of an octopus
-
Business2 weeks ago
Privatisation Commission board recommends Fauji Fertiliser’s inclusion in consortium that won PIA auction – Pakistan
-
Sports2 weeks ago
Samson’s 97 puts India into T20 World Cup semi-final against England – Sport
-
Magazines2 weeks ago
THE ICON INTERVIEW: THE FUTURE’S ALWAYS BRIGHT FOR HIM – Newspaper