Today News
طبقاتی دیواریں – ایکسپریس اردو
انسانی تہذیب کی پوری تاریخ کو اگرگہری نظر سے دیکھا جائے تو یہ صرف فتوحات، ایجادات یا عظیم الشان عمارتوں کی داستان نہیں ہے، بلکہ یہ ان طبقاتی دیواروں کا نوحہ بھی ہے جو صدیوں سے معاشروں کو دو متوازی دنیاؤں میں تقسیم کیے ہوئے ہیں۔
ایک وہ دنیا ہے جو سطح پر نظر آتی ہے جہاں روشنی،آسائش، نفیس گفتگو کے آداب اور اقتدارکی چکا چوند ہے۔ جب کہ دوسری وہ دنیا ہے جو بنیادوں میں دبی ہوئی ہے، جہاں اندھیرا، حبس، پسینہ اور بقا کی ایک لامتناہی جنگ جاری رہتی ہے۔
یہی وہ دنیا ہے جس کی محنت اور قربانیوں پر اوپرکی دنیا کی شان و شوکت قائم ہوتی ہے، مگر اس کا ذکر تاریخ کے اوراق میں کم ہی ملتا ہے۔
یہ تقسیم محض اتفاقیہ نہیں بلکہ ایک منظم اور سوچے سمجھے استحصالی ڈھانچے کا حصہ ہے جو انسانیت کو حکمران اور محکوم کے خانوں میں بانٹ کر ایک مخصوص طبقے کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے۔ ہر دور میں طاقت اور وسائل ایک محدود طبقے کے ہاتھوں میں مرتکز رہے ہیں، جب کہ اکثریت محنت اور جدوجہد کے باوجود بنیادی ضروریات کے لیے ترستی رہی ہے۔
اس طبقاتی نظام کو برقرار رکھنے کے لیے صرف معاشی طاقت ہی نہیں بلکہ سماجی اور نفسیاتی حربے بھی استعمال کیے جاتے ہیں، تاکہ نچلے طبقے کو اپنی حالت کو فطری اور ناگزیر سمجھنے پر مجبورکیا جا سکے۔
اشرافیہ یا بالادست طبقے کی نفسیات کا سب سے بڑا المیہ وہ کیفیت ہے جسے ’’ ارادی غفلت‘‘ کہا جا سکتا ہے۔ جب یہ طبقہ اقتدار اور وسائل کی پرتعیش میز پر بیٹھ کر اپنی کامیابیوں کا جشن مناتا ہے تو وہ ان لاکھوں ہاتھوں کو فراموش کردیتا ہے جنھوں نے اس میزکو اپنے کندھوں پر اٹھا رکھا ہوتا ہے۔
ان کے نزدیک ان کی آسائش اور رتبہ محض ان کی ذہانت، قابلیت یا پیدائشی حق کا نتیجہ ہوتا ہے۔ وہ اس حقیقت سے آنکھیں چرا لیتے ہیں کہ ان کی ہرکامیابی کے پیچھے ایک ایسا انسانی نظام کار فرما ہے جو نچلے طبقات کی انتھک محنت اور قربانیوں پر قائم ہے۔
یہ نفسیاتی لاتعلقی دراصل ایک دفاعی میکانزم ہے جو بالادست طبقے کے ضمیر کو بے چین ہونے سے بچاتا ہے،کیونکہ اگر وہ اس مشقت اور دکھ کو تسلیم کر لیں جو ان کے طرزِ زندگی کی بنیاد ہے تو ان کا سکون غارت ہو جائے گا۔
اسی لیے معاشرتی نظام کو اس طرح ترتیب دیا جاتا ہے کہ طبقات کے درمیان ایک مضبوط دیوار کھڑی ہو جائے، جہاں ہمدردی اور احساسِ ذمے داری کے تمام راستے مسدود ہو جائیں۔ اوپر بیٹھا ہوا طبقہ صرف منافع اور ترقی کے اعداد وشمار دیکھتا ہے، مگر اس انسانی قیمت کا حساب نہیں رکھتا جو ان اعداد و شمار کے پیچھے ادا کی جاتی ہے۔
معاشی ناانصافی اسی استحصال کی بنیادی جڑ ہے جو دولت کو چند ہاتھوں میں مرتکز کردیتی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام بظاہر مواقع کی برابری کا دعویٰ کرتا ہے، مگر عملی طور پر یہ برابری بہت حد تک ایک فریب ثابت ہوتی ہے۔
نچلے طبقے کے افراد کو اکثر ایسی اجرت دی جاتی ہے جو صرف ان کی بقا کے لیے کافی ہوتی ہے، جب کہ ان کی محنت سے پیدا ہونے والی زائد قدر طاقتور طبقات کی دولت میں اضافہ کرتی رہتی ہے۔ اس طرح غربت صرف ایک وقتی حالت نہیں رہتی، بلکہ ایک ایسا چکر بن جاتی ہے جو نسل در نسل جاری رہتا ہے۔
غریب کی اولاد اکثر وہی محدود مواقع حاصل کر پاتی ہے، جو اس کے والدین کو ملے تھے، جب کہ امیر طبقے کی اولاد کو تعلیم، وسائل اور سماجی روابط کی وہ سہولتیں میسر ہوتی ہیں جو انھیں زندگی کی دوڑ میں بہت آگے لے جاتی ہیں۔
یوں معاشرے میں ایک ایسا غیر مرئی مگر طاقتور نظام قائم ہو جاتا ہے جس میں دولت اور طاقت ایک ہی دائرے میں گردش کرتی رہتی ہیں، جب کہ محروم طبقات اس دائرے سے باہر رہ جاتے ہیں۔
معاشرتی انصاف کے فقدان نے اس خلیج کو مزید گہرا کردیا ہے۔ ریاست اور اس کے اداروں کا بنیادی مقصد شہریوں کے حقوق کا تحفظ اور وسائل کی منصفانہ تقسیم ہونا چاہیے، مگر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ریاستی پالیسیاں براہِ راست یا بالواسطہ طور پر اشرافیہ کے مفادات کی حفاظت کرتی ہیں۔
تعلیم اور صحت کے دہرے نظام اس حقیقت کی واضح مثال ہیں۔ ایک طرف وہ تعلیمی ادارے ہیں جہاں عالمی معیارکی سہولتیں موجود ہیں، جب کہ دوسری طرف ایسے سرکاری ادارے ہیں جہاں بنیادی وسائل تک کی کمی ہوتی ہے۔
اسی طرح صحت کے شعبے میں بھی ایک واضح تقسیم دکھائی دیتی ہے۔ امیر افراد مہنگے نجی اسپتالوں میں بہترین علاج حاصل کر سکتے ہیں، جب کہ غریب افراد سرکاری اسپتالوں کی طویل قطاروں اور محدود سہولتوں کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔
جب معاشرے میں بنیادی خدمات تک رسائی طبقاتی بنیادوں پر تقسیم ہو جائے تو یہ صرف معاشی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ یہ انسانی وقار اور مساوات کے اصولوں کی کھلی نفی بن جاتا ہے۔
اس پورے عمل میں نچلے طبقے کی ڈی ہیومنائزیشن یعنی انسانیت سے محرومی سب سے ہولناک پہلو ہے۔ جب انسان کو ایک جیتا جاگتا وجود سمجھنے کے بجائے محض ایک اقتصادی اکائی یا مشین کے پرزے کے طور پر دیکھا جانے لگے تو معاشرتی توازن شدید متاثر ہوتا ہے۔
مزدوروں اور ملازمین سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ مخصوص اہداف پورے کریں، اپنی تھکن یا مشکلات کا ذکر نہ کریں اور مسلسل پیداواری عمل کا حصہ بنے رہیں۔ اس عمل کے نتیجے میں انسان اپنی ذات سے بیگانہ ہو جاتا ہے اور اس کی تخلیقی صلاحیتیں بھی محدود ہو جاتی ہیں۔
جدید کارپوریٹ کلچر بھی اسی قدیم طبقاتی نظام کا ایک مہذب اور سفید پوش روپ معلوم ہوتا ہے۔ چمکتے ہوئے شیشے کے بلند و بالا دفاتر بظاہر ترقی اور کامیابی کی علامت ہیں، مگر ان کے پیچھے لاکھوں کارکنوں کی محنت، دباؤ اور غیر یقینی صورتحال پوشیدہ ہوتی ہے۔
آج کا ملازم بظاہر آزاد دکھائی دیتا ہے مگر حقیقت میں وہ معاشی ضرورتوں کی ایسی زنجیروں میں جکڑا ہوتا ہے جن سے نکلنا آسان نہیں ہوتا۔
ڈیجیٹل دور نے اس نظام کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اسمارٹ فون، انٹرنیٹ اور جدید ٹیکنالوجی نے کام اور ذاتی زندگی کے درمیان حد فاصل کو تقریباً ختم کر دیا ہے۔
ملازمین سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ہر وقت دستیاب رہیں، ای میلز اور پیغامات کا فوری جواب دیں اور مسلسل کارکردگی دکھاتے رہیں۔ یہ ایک ایسی جدید غلامی کی شکل اختیار کرچکی ہے جس میں زنجیریں نظر نہیں آتیں مگر انسان کی آزادی محدود ہو جاتی ہے۔
تاریخ ہمیں بار بار یہ سبق دیتی ہے کہ جب معاشروں میں عدم مساوات حد سے بڑھ جاتی ہے تو سماجی اور سیاسی بحران جنم لیتے ہیں۔ جب اوپر اور نیچے کی دنیاؤں کے درمیان فاصلہ بہت زیادہ ہو جائے تو نظام کے اندر بے چینی پیدا ہونے لگتی ہے۔
تاریخ کے کئی بڑے انقلابات دراصل اسی عدم توازن کا نتیجہ تھے، جہاں محروم طبقات نے اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھائی اور پورے نظام کو چیلنج کیا۔
اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ کوئی بھی معاشرہ اس وقت تک مستحکم نہیں رہ سکتا جب تک اس کے تمام طبقات کو ترقی کے مساوی مواقع حاصل نہ ہوں۔
حقیقی ترقی وہ نہیں جو صرف چند لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنا دے، بلکہ وہ ہے جو معاشرے کے پسماندہ ترین افراد کی زندگیوں میں بھی بہتری لائے۔ جب معاشی، سماجی اور تعلیمی مواقع سب کے لیے یکساں ہوں تو ہی ایک متوازن اور پائیدار معاشرہ تشکیل پا سکتا ہے۔
انسانی تہذیب کی بقا کا دارومدار اسی توازن پر ہے، اگر طاقت اور وسائل مسلسل ایک محدود طبقے کے ہاتھوں میں مرتکز رہیں گے تو معاشرتی ڈھانچہ اندر سے کمزور ہوتا جائے گا۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب نچلے طبقے کی برداشت ختم ہو جاتی ہے تو وہی طبقہ جو صدیوں تک نظام کا بوجھ اٹھاتا رہا ہے، اسی نظام کو ہلا دینے کی طاقت بھی رکھتا ہے۔ اس لیے ایک منصفانہ اور مساوی معاشرہ محض اخلاقی ضرورت نہیں بلکہ تہذیبی بقا کی بنیادی شرط بھی ہے۔
Today News
ایران کے نئے سپریم لیڈر کی موت کی خبریں محض افواہ بھی ہو سکتی ہیں، ٹرمپ
واشنگٹن:
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کئی حیران کن دعوے کرتے ہوئے خطے کی صورتحال کو مزید سنجیدہ قرار دے دیا ہے۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر کی موت کی خبریں محض افواہ بھی ہو سکتی ہیں جبکہ ایران اب تک امریکا کی شرائط ماننے کے لیے تیار نہیں۔
امریکی صدر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران نے ممکنہ طور پر آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھا دی ہیں تاہم اس بارے میں ابھی مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز سے تیل حاصل کرنے والے ممالک کو اس اہم سمندری راستے کی سیکیورٹی یقینی بنانا ہوگی۔
ٹرمپ کے مطابق ایران کے اہم آئل ٹرمینل واقع خارگ جزیرے کا زیادہ تر حصہ حملوں میں تباہ ہو چکا ہے۔
انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اس جزیرے پر تفریح کے لیے شاید مزید حملے بھی کیے جا سکتے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
دوسری جانب امریکی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل کو اپنے دفاعی نظام کے لیے انتہائی اہم میزائل انٹرسیپٹرز کی شدید کمی کا سامنا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق اسرائیل کئی ماہ سے اپنی محدود دفاعی صلاحیت کے بارے میں امریکا کو آگاہ کر رہا تھا۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حکام نے ہفتے کے روز امریکا کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا کہ بیلسٹک میزائل روکنے کے لیے استعمال ہونے والے انٹرسیپٹرز کی تعداد تیزی سے کم ہو گئی ہے، جس کے باعث اسرائیل کے دفاعی نظام پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
Today News
اسرائیلی حملے میں ایرانی فوج کے بریگیڈیئر جنرل عبداللہ جلالی شہید
تہران:
ایران پر ہونے والے اسرائیلی حملوں کے دوران ایک اور اعلیٰ فوجی کمانڈر شہید ہو گئے۔ ایرانی فوج نے خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی حملے میں بریگیڈیئر جنرل عبداللہ جلالی شہید ہوگئے ہیں۔
ایرانی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ صیہونی ادارے کی جانب سے کیے گئے حملے کے بعد وطن کے دفاع کے دوران بریگیڈیئر جنرل عبداللہ جلالی نے جامِ شہادت نوش کیا۔
حکام کے مطابق وہ دشمن کے حملے کے وقت دفاعی کارروائیوں کی قیادت کر رہے تھے۔
ایران کا کہنا ہے کہ جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک متعدد اعلیٰ فوجی کمانڈرز اور سیکیورٹی افسران شہید ہو چکے ہیں، جن کی شہادت کی باضابطہ تصدیق بھی کی گئی ہے۔
حکام کے مطابق اسرائیلی حملوں کے باوجود ایران کی دفاعی صلاحیت اور جوابی کارروائیاں جاری ہیں۔
دوسری جانب ایران نے واضح کیا ہے کہ اپنے فوجی کمانڈروں کی شہادت کے باوجود دشمن کے خلاف مزاحمت جاری رکھی جائے گی اور ملکی دفاع میں کوئی کمی نہیں آنے دی جائے گی۔
Today News
پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے، وزیر خزانہ
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ تیل کی مزید کھیپ راستے میں ہے، ذخائر مزید مضبوط ہوں گے، ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی یقینی بنانااور عوام پر ممکنہ حد تک بوجھ کم رکھنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ہونیوالے اجلاس میں ملک میں پٹرولیم مصنوعات کے ذخائر تسلی بخش قرار دیئے گئے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ پٹرول اور ڈیزل کی فراہمی میں کسی تعطل کا خدشہ نہیں ہے اجلاس میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاوٴ کا جائزہ لیا گیا۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت توانائی مارکیٹ کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی یقینی بنانا اور عوام پر ممکنہ حد تک بوجھ کم رکھنا اولین ترجیح ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عالمی توانائی منڈی میں غیر یقینی صورتحال کے باوجود پاکستان میں پیٹرولیم سپلائی مستحکم ہے جس کی وجہ بروقت منصوبہ بندی اور متعلقہ اداروں کے درمیان موٴثر رابطہ ہے۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ اس وقت ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر تسلی بخش سطح پر موجود ہیں اور سپلائی کا نظام معمول کے مطابق کام کر رہا ہے اور مزید کارگوز راستے میں ہیں جبکہ قومی ذخائر کو مزید مستحکم بنانے کے لیے اضافی درآمدی انتظامات بھی کئے جارہے ہیں۔
کمیٹی کی جانب سے ریفائنریز اور آئل کمپنیوں میں قریبی رابطے کی ہدایت کی گئی، ڈیزل، پٹرول، ایل پی جی اور جیٹ فیول سپلائی کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں تیل کے استعمال میں بچت کیلئے اقدامات پر غور کیا گیا پٹرولیم سپلائی مانیٹرنگ کیلئے ڈیجیٹل ڈیش بورڈ کی تیاری کی جائے گی۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ توانائی صورتحال پر کمیٹی کا روزانہ اجلاس جاری رہے گا۔
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Chasing the forgotten stars
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: THE RAMAZAN EXCEPTION – Newspaper
-
Magazines1 week ago
Story Time: Culinary Disasters – Newspaper
-
Magazines2 weeks ago
Story time: The diary of an octopus
-
Entertainment2 weeks ago
Ali Ansari On Falling in Love With More Than One Person
-
Business2 weeks ago
Privatisation Commission board recommends Fauji Fertiliser’s inclusion in consortium that won PIA auction – Pakistan
-
Sports2 weeks ago
Samson’s 97 puts India into T20 World Cup semi-final against England – Sport
-
Magazines2 weeks ago
THE ICON INTERVIEW: THE FUTURE’S ALWAYS BRIGHT FOR HIM – Newspaper