Connect with us

Today News

پاکستان ریلوے کی شالیمار ایکسپریس خوفناک حادثے کا شکار

Published

on



پاکستان ریلوے کی شالیمار ایکسپریس اور مال گاڑی میں لاکھا روڈ اسٹیشن پر خوف ناک تصادم ہوا تاہم جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

ایکسپریس نیوز کےمطابق لاکھا روڈ ریلوے اسٹیشن کی لوپ لائن پر پہلے سے کھڑی مال گاڑی کو پیچھے سے آنے والی 27 اپ شالیمار ایکسپریس نے ٹکر مار دی اور ابتدائی طور پر حادثہ ممکنہ طور پر پوائنٹ یا کانٹے کے مسئلے کے باعث پیش آیا، جس کی تحقیقات جاری ہیں۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ حادثے کے باوجود ریلوے کا ڈرائیور اور اسسٹنٹ ڈرائیور معجزانہ طور پر محفوظ رہے جبکہ گارڈ کو بھی کافی مشکل کے بعد بوگی سے باہر نکال لیا گیا۔

تصادم کے نتیجے میں انجن اور لگیج وین کو شدید نقصان پہنچا ہے، تاہم خوش قسمتی سے اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

ریلوے حکام نے بتایا کہ واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے مکمل انکوائری شروع کر دی گئی ہے تاکہ حادثے کی اصل وجوہات سامنے لائی جا سکیں۔

وفاقی وزیر ریلوے نے شالیمار ایکسپریس حادثہ کا نوٹس کیا اور ذمہ داران کا تعین کرنے کے لیے اعلیٰ سطح کی انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔

انہوں نے انکوائری رپورٹ تین روز میں وزارت میں جمع کروانے کی ہدایات کرتے ہوئے ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دینے کی تاکید ہے۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

راہِ فرار اختیار کرتے دہشت گرد افغان طالبان

Published

on


اسلامی جمہوریہ پاکستان اور پاکستانی عوام پچھلے 45برسوں سے افغانستان ، افغان عوام اور افغان طالبان پر جتنے بھی مسلسل احسانات کرتے چلے آ رہے ہیں، افغان طالبان نے اِن سب پر اپنے احسان فراموش اقدامات اور اپنی محسن کش وارداتوں سے پانی پھیر دیا ہے ۔اِس بارے جس کسی کو ذرا سا بھی شک تھا، بھارت و اسرائیل کی گود میں جا بیٹھنے والے افغان طالبان نے سب کے شک دُور کر دیے ہیں ۔

ویسے تو پاکستان بننے کے بعد سے ہی افغانستان میں آنے والا ہر حکمران ، مختلف انداز و اطوار سے ، پاکستان اور پاکستانی عوام کا معاند رہا ہے ، لیکن افغان طالبان نے معاندت و دشمنی کی ہر حد پار کر لی ہے ۔افغانستان کے شاہر ظاہ‘ سردار داؤد ، حفیظ اللہ امین ، نور محمد ترکئی ، ببرک کارمل ، نجیب اللہ ، حامد کرزئی اور اشرف غنی نے اپنے اپنے دَور میں اور اپنے اپنے انداز میں پاکستان اور پاکستانی عوام کو نقصان پہنچانے کی (ناکام)کوششیں کیں ، لیکن مُلّا عمر اور مُلّا ہیبت اللہ کی طالبان حکومتوں نے پاکستان کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ ویسے تو مُلّا عمر کی طالبان حکومت ہی سے ہمارے صاحبانِ اختیار کو سبق سیکھ لینا چاہیے تھا کہ یہ طالبان قابلِ اعتبار اور قابلِ اعتماد لوگ نہیں ہیں ۔

مُلّا ہیبت اللہ اخونزادہ تو ہر حد سے متجاوز ہو گیا ہے۔ اِس شخص کی حکومت کا ہر وزیر پاکستان کا یوں مقروض اور زیر بارِ احسان ہے کہ سبھی نے پاکستان کی مفت روٹیاں کھائی ہیں ۔ اِن کی اولادیں پاکستان میں پیدا ہُوئیں ، یہاں پلی بڑھیں اور یہاں تعلیم حاصل کی ، لیکن اب یہ سبھی احسانات بھُلا کر بھارت اور اسرائیل کی گود میں جا بیٹھے ہیں ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پچھلی تین چار پریس کانفرنسوں کا ڈیٹا نکال کر ایک بار پھر سُنیں اور دیکھیں تو افغان طالبان ( خواہ وہ ٹی ٹی اے ہو یا ٹی ٹی پی) کی طرف دیکھنے اور اُن کا کسی بھی صورت میں ذکر اذکار کرنے کو جی نہیں چاہتا ۔  افسوس اور دکھ کی بات یہ ہے کہ ہمارے اندر اب بھی ایسے مدارس ، گروہ ، شخصیات اور تنظیمیں موجود ہیں جو اِن پاکستان دشمن دہشت گرد افغان طالبان بارے نرم گوشہ رکھتے ہیں ۔

مثال کے طور پر پچھلے ہفتے پاکستان سے تین افراد افغان طالبان سے ملاقاتیں کرنے کے لیے کابل گئے۔ یہ تینوں افراد سابقہ افغان جہاد کی باقیات بھی کہلاتی اور گردانی جاتی ہیں۔ حیرانی کی بات ہے کہ پچھلے چار مہینوں سے پاکستان و افغانستان میں آنا جانا مسدود ہو چکا ہے ، باہمی تجارت تک بند ہے ، اِن لوگوں کو کابل تک رسائی کیسے مل گئی ؟ اب جب کہ بی بی سی اور پاکستان کے سوشل میڈیا میں اِن تینوں بارے بہت سی باتیں سامنے آ چکی ہیں ، اب ایک مختصر سا بین السطور بیان یوں سامنے آیا ہے :’’ تینوں شخصیات کا دَورئہ کابل نجی تھا ۔‘‘

مذکورہ تینوں شخصیات اب واپس پاکستان آ چکی ہیں ، مگر تینوں مہر بہ لب ہیں ۔ تینوں کسی کو بتا نہیں رہے کہ انھیں کابل میں کس نے بلایا تھا؟ کابل میں اُن کی کن سے ملاقاتیں ہُوئیں؟ اور وہاں سے وہ پاکستانی عوام کے لیے کیا خوشخبری اور امن کا کیا پیام لائے ہیں ؟ مذکورہ تینوں افراد جونہی واپس پاکستان آئے، افغان طالبان نے ایک بار پھر پاکستان پر خونریز حملہ کر دیا ۔ 13مارچ2026کو لکی مروت ( کے پی کے) میں پولیس پر آئی ای ڈی حملے میں پولیس کے 7 جوان شہید ہو گئے۔

یہ تازہ واردات افغان طالبان کی کارستانی اور شیطانی ہے ۔ یہ واردات ایسے لمحات میں ہُوئی ہے جب پاکستان افغان طالبان کے خلاف ’’آپریشن غضب للحق‘‘ جاری رکھے ہُوئے ہے۔ پاکستان، اِس آپریشن کے تحت، اب تک 650سے زائد دہشت گرد افغان طالبان کو جہنم واصل کر چکا ہے۔ لکی مروت میں تازہ واردات کے بعد خیبر پختونخوا کی انسدادِ دہشت گرد فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے تحت نصف درجن سے زائد خوارج کو بھی جہنم رسید کیا ہے ۔ تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق، پاکستان نے دہشت گرد افغان طالبان کا جس شدت سے تعاقب جاری رکھا ہُوا ہے،اب یہ جانیں بچانے اور محفوظ مقامات کی تلاش میں راہِ فرار اختیار کررہے ہیں ۔

مصدقہ اطلاعات کے مطابق ،دہشت گرد افغان طالبان کابل و قندھار سے فرار ہو کر دُور بامیان کے پہاڑوں میں پناہ لے رہے ہیں ۔ افغان طالبان نے اپنے اعمال و افعال سے ثابت کیا ہے کہ: لاتوں کے بھوت باتوں سے ہر گز نہیں مانتے ۔ یہ مکالمے اور شرافت کی زبان سے ناآشنا ہیں۔ماضی میں جماعت اسلامی کے سابق امیر جناب سراج الحق ، جمعیت العلمائے اسلام کے حضرت مولانا فضل الرحمن اورکراچی کے مفتی تقی عثمانی صاحب ایسے جید اور محترم لوگ بھی طالبان کے افغانستان تشریف لے گئے ، سبھی نے طالبان قیادت سے مقدور بھر ملاقاتیں کیں ، مگر نتیجہ صفر نکلا ہے۔طالبان نے احسان فراموشی کرتے ہُوئے نہ ہمسائیگی کی لاج رکھی اور نہ جید اساتذہ کا اکرام کیا۔باقی کیا بچتا ہے ؟ یعنی:بھارتی روپے و اسرائیلی شیکل (Shekel) میں اتنی طاقت ہے کہ مقتدر افغان طالبان نے اپنے سب محسنین کی مہربانیاں و شفقتیں پسِ پشت بھی ڈال دی ہیں اور اپنے متنوع لالچوں سے مغلوب ہو کر اپنی آنکھیں بھی ماتھے پر رکھ لی ہیں ۔

پاک،افغان بڑھتے تناؤ میں چین کے نمایندہ خصوصی برائے افغانستان Yue Xiaoyongنے بھی12مارچ2026کو کابل کا دَورہ کیا ۔ پاکستان کے وزیر خارجہ ، اسحق ڈار، اب تک پانچ بار افغان قیادت و نمائندگان سے ملاقاتیں کر چکے ہیں ۔ قطر، سعودیہ اور ترکیہ کی ثالثی میں پاک ، افغان مذاکرات ہو چکے ہیں تاکہ کشیدگی کم کی جا سکے ۔ پاکستان کا صرف ایک ہی مطالبہ ہے کہ ’’ دہشت گرد افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ کریں ۔‘‘لیکن بھارت و اسرائیل کی انگلیوں پر رقص کناں دہشت گرد افغان طالبان ڈھب پر نہ آسکے ؛ چنانچہ پاکستان کو اپنی سرزمین اور اپنے عوام کے تحفظ کے لیے بجا طور پر ’’آپریشن غضب للحق‘‘ کرنا پڑ رہا ہے ۔

اِس کے خاطر خواہ اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں ۔ وطنِ عزیز میں دہشت گردی کا گراف نیچے آیا ہے ۔ پھر بھی بھارتی و اسرائیلی پراکسیز اپنے آقاؤں کی نظروں میں سرخرو ہونے کے لیے پاکستان میں کہیں نہ کہیں دہشت گردی کی وارداتیں کر ہی ڈالتے ہیں۔ 13مارچ کو لکی مروت میں IED بم دھماکہ اور کوئٹہ ، کوہاٹ اور اسلام آباد /راولپنڈی میں ڈرونز بھیج کر ناکام حملہ کرنا افغان طالبان کی تازہ ترین وارداتیں ہیں۔ ہماری الرٹ فورسز نے نہائت سرعت اور بیدار مغزی سے جملہ افغان ڈرونز کو ہدف پر پہنچنے سے پہلے ہی مار گرایا ۔ مبینہ طور پر یہ ڈرونز اسرائیل ساختہ تھے ۔ اندازے یہی ہیں کہ براستہ بھارت یہ دہشت گرد افغان طالبان تک پہنچے ۔ اِن(ناکام) ڈرونز حملوں کا ایک مطلب یہ بھی لیا جارہا ہے کہ افغان طالبان نے اپنے لیے مزید بد بختی کو آواز دے ڈالی ہے؛ چنانچہ ’’ آپریشن غضب للحق‘‘ میں مزید سختی اور شدت آئی ہے۔فرار ہوتے دہشت گرد افغان طالبان کا گرم تعاقب کیا جارہا ہے ۔





Source link

Continue Reading

Today News

سرخ لکیر اور خطے کا مستقبل

Published

on


صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ افغان حکومت نے پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنا کر سرخ لکیر پار کردی ہے۔ افغان حکومت دہشت گرد گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم نہ کرنے کی یقین دہانیوں کو نظر انداز کر رہی ہے۔ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے مصروف عمل ہے۔

دوسری جانب چین نے ہمسایہ ممالک پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی کشیدگی کم کرانے کے لیے متحرک سفارتی کوششیں بھی تیز کر دی ہیں، چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی سے ٹیلی فون پر رابطہ کر کے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ تنازع اور مسائل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات اورمکالمے کے ذریعے طے کریں۔

حالیہ دنوں میں افغان سرزمین سے پاکستان کے شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کے مبینہ ڈرون حملوں اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کشیدگی نے ایک مرتبہ پھر دونوں ممالک کے تعلقات کو ایک نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ صدر مملکت آصف علی زرداری کا یہ بیان کہ افغان حکومت نے پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنا کر’’ سرخ لکیر‘‘ عبور کر لی ہے، دراصل پاکستان کے اندر پائی جانے والی شدید تشویش اور غم و غصے کی عکاسی کرتا ہے۔

کسی بھی ریاست کے لیے اس کے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ سب سے پہلی ذمے داری ہوتی ہے، اگرکسی دوسرے ملک کی سرزمین سے ایسے اقدامات کیے جائیں جو شہری آبادی کو نشانہ بنائیں تو یہ نہ صرف بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ دو ہمسایہ ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا کو بھی بری طرح متاثرکرتا ہے۔ پاکستان کی قیادت کا یہ واضح پیغام کہ ملک کی مسلح افواج اور سیکیورٹی ادارے ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں، اس بات کی علامت ہے کہ قومی سلامتی کے معاملے میں پاکستان کسی قسم کی کمزوری دکھانے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

دوسری جانب افغان حکومت کی طرف سے یہ مؤقف پیش کیا گیا ہے کہ افغانستان کسی بھی ملک کے ساتھ فوجی تصادم نہیں چاہتا اور اس کی سرزمین کسی ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔ افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کے بیانات میں بظاہر کشیدگی کم کرنے کی خواہش جھلکتی ہے، تاہم زمینی حقائق اس سے مختلف نظر آتے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان نے متعدد مرتبہ یہ شکایت کی ہے کہ افغان سرزمین پر موجود بعض شدت پسند گروہ پاکستان کے اندر دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ ان گروہوں کو سرحد پار محفوظ پناہ گاہیں حاصل ہونے کے شواہد بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سرحدی علاقوں میں عدم استحکام اور سیکیورٹی کے مسائل ایک مستقل چیلنج بن چکے ہیں۔

افغانستان کی موجودہ صورتحال کو سمجھنے کے لیے اس کے تاریخی پس منظر کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ گزشتہ چار دہائیوں کے دوران افغانستان مسلسل جنگ، بیرونی مداخلت اور سیاسی عدم استحکام کا شکار رہا ہے۔ سوویت یونین کی مداخلت سے لے کر خانہ جنگی، طالبان کے پہلے دور حکومت، نائن الیون کے بعد امریکی قیادت میں نیٹو افواج کی موجودگی اور پھر 2021 میں امریکی انخلا کے بعد طالبان کی دوبارہ اقتدار میں واپسی تک افغانستان نے مسلسل ہنگامہ خیز حالات کا سامنا کیا ہے۔

اس طویل عرصے میں افغان ریاستی ادارے کمزور ہوتے گئے اور ملک کی معیشت اور سماجی ڈھانچہ بھی بری طرح متاثر ہوا۔ پاکستان اس پورے عرصے میں افغانستان کے حالات سے براہ راست متاثر ہوتا رہا ہے۔ لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی، سرحدی سکیورٹی کے مسائل اور دہشت گردی کے خطرات پاکستان کے لیے مستقل چیلنج بنے رہے ہیں۔ اس کے باوجود پاکستان نے ہمیشہ افغانستان میں امن و استحکام کے قیام کے لیے مثبت کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ مختلف ادوار میں پاکستان نے افغان مفاہمتی عمل کی حمایت کی اور عالمی برادری کے ساتھ مل کر افغانستان میں امن کے لیے سفارتی کوششیں بھی کیں۔

تاہم موجودہ حالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان بڑھتا جا رہا ہے، افغان سرزمین سے پاکستان کے شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کی جو کوششیں ہوئی ہیں تو یہ ایک انتہائی تشویشناک پیش رفت ہے۔ ایسے اقدامات نہ صرف پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں ۔ عالمی برادری پہلے ہی طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کے معاملے میں محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے، افغانستان اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ کشیدگی میں ملوث ہے تو اس سے اس کی سفارتی تنہائی مزید بڑھ سکتی ہے۔

اس تناظر میں چین کا کردار انتہائی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ چین نہ صرف پاکستان کا قریبی دوست اور اسٹرٹیجک شراکت دار ہے بلکہ افغانستان کے ساتھ بھی اس کے سفارتی روابط موجود ہیں۔ چینی وزیر خارجہ وانگ ای کا افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی سے رابطہ اور دونوں ممالک کو مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی تلقین اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ چین خطے میں استحکام کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔

چین کی خارجہ پالیسی کا بنیادی اصول علاقائی تعاون اور اقتصادی ترقی کو فروغ دینا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ جنوبی اور وسطی ایشیا میں امن کے بغیر ترقی کے بڑے منصوبے کامیاب نہیں ہو سکتے۔چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) اس خطے کا ایک اہم منصوبہ ہے جس کے ذریعے پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی روابط کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ پورے خطے کو تجارتی اور اقتصادی مواقع فراہم کیے جا سکتے ہیں، اگر افغانستان میں امن اور استحکام قائم ہو جائے تو یہ ملک بھی علاقائی رابطوں اور تجارت کا اہم مرکز بن سکتا ہے۔

چین اس امکان کو مدنظر رکھتے ہوئے افغانستان کو علاقائی اقتصادی نظام میں شامل کرنے کا خواہاں ہے۔ تاہم اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ افغانستان اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن تعلقات قائم کرے اور خطے میں دہشت گردی کو فروغ نہ دے۔افغانستان کو اپنے علاقے میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ختم کرنا ہوں گی۔اگر افغانستان نے دہشت گردوں کی پشت پناہی کے حوالے سے اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی نہ کی تو افغانستان پورے خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ بنا رہے گا اور خطے کے دیگر ممالک اس صورتحال کو زیادہ دیر تک برداشت نہیں کریں گے۔

پاکستان کے لیے یہ ایک حساس مرحلہ ہے۔ ایک طرف اسے اپنی قومی سلامتی کا تحفظ یقینی بنانا ہے تو دوسری طرف خطے میں امن اور استحکام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھنی ہیں۔ صدر آصف علی زرداری کا بیان اسی توازن کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک جانب انھوں نے افغان حکومت کو واضح پیغام دیا ہے کہ پاکستان کے شہریوں کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے، اور دوسری جانب انھوں نے اس عزم کا بھی اظہارکیا ہے کہ پاکستان خطے میں امن کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔موجودہ صورتحال میں سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ افغانستان دہشت گردی کے حوالے سے علاقائی ممالک کے لیے مسائل نہ پیدا کرے اور پورے خطے میں امن قائم کرنے کے لیے مثبت کردار ادا کرے۔ سرحدی سلامتی، دہشت گردی کے خطرات اور باہمی اعتماد کے مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک جامع میکنزم تشکیل دیا جانا چاہیے۔ علاقائی طاقتوں، خصوصاً چین کی سفارتی معاونت بھی کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

میڈیا اور عوامی حلقوں کی ذمے داری بھی اس موقع پر کم نہیں ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے عوام کے مفادات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔افغان حکومت کو اس امر کا ادراک ہونا چاہیے کہ دہشت گردوں کی پشت پناہی کر کے افغانستان کبھی ترقی نہیں کرسکتا،اگر افغانستان نے ترقی کرنا اور تجارت کو فروغ دینا ہے تو اسے خطے کے ممالک کے ساتھ خوشگوار تعلقات قائم کرنا ہوں گے۔آخرکار یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان پائیدار امن دونوں ممالک کے عوام کے بہتر مستقبل کے لیے ناگزیر ہے۔ جنگ اور کشیدگی نے پہلے ہی اس خطے کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ افغانستان دہشت گردی کے خاتمے میں تعاون کر کے پورے خطے میں ایک ایسے مستقبل کی بنیاد رکھ سکتا ہے جس سے امن، ترقی اور خوشحالی کو فروغ حاصل ہو۔

 عالمی سیاست تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ معاشی تعاون، علاقائی رابطے اور مشترکہ ترقی اب بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی ستون بن چکے ہیں، اگر افغانستان اس بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں مثبت کردار ادا کرے تو نہ صرف اس کے اپنے عوام کو فائدہ ہوگا بلکہ پورا خطہ بھی استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو موجودہ کشیدگی کے بادلوں کو چھانٹ کر ایک روشن اور پرامن مستقبل کی نوید دے سکتا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

تیسرا ون ڈے؛ بنگلا دیش سے شکست کے بعد شاہین آفریدی کا بیان سامنے آگیا

Published

on



پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان شاہین آفریدی نے بنگلا دیش کے خلاف ون ڈے سیریز کے تیسرے اور آخری میچ میں شکست کے بعد بیان سامنے آگیا۔

میچ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہین آفریدی نے بتایا کہ ٹیم کی کارکردگی توقع کے مطابق نہ رہ سکی، خاص طور پر بیٹنگ لائن بہت کمزور دکھائی دی جس کی وجہ سے سیریز جیتنے میں ناکامی ہوئی۔

شاہین آفریدی نے کہا کہ ٹیم نے کھیل کے اہم لمحات میں صورتحال کو قابو میں نہ رکھا اور کئی مواقع ضائع ہوئے جس کی وجہ سے سیریز بنگلا دیش کے ہاتھوں گنوا دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ ٹیم ابھی ترقی کے مراحل میں ہے اور آئندہ مقابلوں کے لیے تجربہ حاصل کرنا ضروری ہے۔

واضح رہے کہ ڈھاکا میں کھیلے گئے میچ میں بنگلادیش کے 291 رنز کے جواب میں پاکستان ٹیم 9 وکٹوں کے نقصان پر 279 رنز تک محدود رہی اور یوں میزبان ٹیم نے سیریز 1-2 سے اپنے نام کرلی۔

قومی ٹیم کے کپتان نے کہا کہ بنگلا دیش نے اچھی کرکٹ کا مظاہرہ کیا جس پر انہیں مبارکباد دیتا ہوں، انٹرنیشنل کرکٹ میں ہمیشہ کچھ نیا سیکھنے کو ملتا ہے، ہماری ٹیم میں نوجوان کھلاڑی تھے پھر بھی اچھی فائٹ کی۔



Source link

Continue Reading

Trending