Connect with us

Today News

آئی ٹی کورس، طلبہ کا مستقبل داؤ پر نہیں لگنے دوں گا،عید کے بعد شیڈول کا اعلان کروں گا، کامران ٹیسوری

Published

on



سابق گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے کہا ہے کہ گورنر ہاؤس میں انفارمیشن ٹیکنالوجی پروگرام سرکاری خرچ پر نہیں بلکہ اپنے ذاتی مالی وسائل سے چلارہا تھا اور اب گورنر کے عہدے پر نہیں ہوں لیکن دو سال تک کلاس لینے والے  50 ہزار طلبہ کا مستقبل داؤ پر نہیں لگنے دوں گا اور عیدالفطر کے بعد شیڈول کا اعلان کروں گا۔

سعودی عرب سے ٹیلی فونک رابطے میں سابق گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا کہ مفت آئی ٹی کورس کے 50 ہزار طلبہ کا مستقبل داؤ پر نہیں لگنے دوں گا، اب فلاحی اداروں اور مخیر دوستوں کے ساتھ مل کر جلد یہ آئی ٹی پروگرام شروع کروں گا، کورس کی تکمیل تک ان پڑھنے والے طلبا و طالبات کو مفت آئی ٹی کورس کی تعلیم فراہم کی جائے گی اور عید الفطر کے بعد کلاسز کی جگہ اور شیڈول کا اعلان کروں گا۔

انہوں نے بتایا کہ میرا قصور یہ ہے کہ میں نے کراچی سمیت صوبہ بھر کے بچوں کے لیے آئی ٹی پروگرام شروع کیا، جس میں ہر مذہب اور قومیت کے بچے کو ٹیسٹ کے ذریعے میرٹ پر داخلہ دیا گیا اور 50 ہزار طلبا و طالبات مختلف آئی ٹی کورسز میں زیر تعلیم تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ رمضان کی وجہ سے کلاسز معطل تھیں اور اس دوران مجھے گورنر کے منصب سے ہٹادیا گیا، میں اگلے روز عمرے پر سعودی عرب روانہ ہوگیا، اس دوران جس کمپنی نے ایجوکیشن سٹی کی مارکی لگائی تھی، جس کے بارے میں مجھے اطلاع ملی کہ انہوں نے سامان اٹھانا شروع کردیا ہے لیکن پھر یہ اطلاع ملی ہے کہ ایجوکیشن ٹینٹ سٹی والوں کو گورنر ہاؤس نے فی الحال روک دیا ہے۔

کامران ٹیسوری نے کہا کہ  اب گورنر ہاؤس میں آئی ٹی پروگرام جاری رکھنا نئے گورنر سندھ پر منحصر ہے، اگر وہ آئی ٹی پروگرام جاری رکھنا چاہتے ہیں تو یہ اچھا اقدام ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اس آئی ٹی پروگرام کا ماہانہ خرچہ سوا کروڑ تھا جو سرکاری نہیں بلکہ اپنے وسائل سے پورا کررہا تھا۔

سابق گورنر سندھ نے کہا کہ طلبہ کا کورس مکمل ہونے تک آئی ٹی پروگرام ہر صورت جاری رکھنے کے لیے اقدامات کر رہا ہوں اور اس پروگرام کو جاری رکھنے کے لیے جے ڈی سی، سیلانی اور بدر ایکسپو سے رابطہ کیا ہے اور ان زیر تعلیم طلبا وطالبات کے لیے کلاسز بحالی کےشیڈول کا اعلان جلد کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ وطن واپسی جلد ہوگی اور پھر فلاحی کام کے ساتھ سیاسی وعوامی رابطے کروں گا جبکہ امید رمضان دستر خوان ڈیفینس خیابان شجاعت میں اپنی رہائش گاہ پر شروع کردیا ہے۔

سابق گورنر سندھ نے کہا کہ یہ یقینی بنایا ہے کہ نئے گورنر پر آئی ٹی کورس جاری رکھنے کا مالی بوجھ نہ پڑے، ان کا مزید کہنا ہے کہ کراچی کے یہی طلبہ آئی ٹی امتحان پاس کریں گے تو ہزاروں ڈالر ماہانہ کمائیں گے۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

شبِ نزولِ قرآن حکیم

Published

on



رمضان المبارک ہمارے پاس چند دنوں کا مہمان ہے، جس نے اس کی جتنی قدر کی ہوگی وہ خوب عیش میں ہوگا اور جو سستی کا شکار رہے ان کے لیے ابھی بھی موقع ہے کہ وہ ماہ مہمان کی آخری گھڑیوں میں عبادات کا اہتمام کریں اور اس وقت کو خوب مفید تر بناکر اپنی مغفرت کا سامان کریں، یہی ہمارا مقصود رمضان ہے۔

سیدنا ابُو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول کریمؐ نے فرمایا، مفہوم: ’’بے شک! اﷲ تعالیٰ رمضان میں ہر دن اور رات میں لوگوں کو جہنّم سے آزاد فرماتا ہے اور رمضان کے ہر روز و شب میں ہر مسلمان کے لیے ایک دعا ہے، جسے قبولیت سے نوازا جاتا ہے۔‘‘

آخری عشرے میں خاص بات جو بہت اہمیت و فضیلت کی حامل ہے وہ اِعتکاف ہے۔ جو مسلمان اپنی تمام مصروفیات ترک کرکے محض اﷲ تعالی کی عبادت کی نیّت سے مسجد میں آکر ٹھہرے اس کو اعتکاف کہتے ہیں۔ یہ مبارک عمل نبی کریمؐ سے ثابت ہے۔ آپؐ ہر سال مسجد میں اعتکاف فرماتے تھے۔ اعتکاف کی بہت فضیلت ہے۔ رسولِ کریم ﷺ کے متعلق سیّدنا ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ آپؐ خیر کے کاموں میں سب سے زیادہ سخی تھے۔ رمضان میں آپؐ تیز ہوا سے بھی زیادہ صدقہ کیا کرتے اور خیر کے کاموں کی طرف سبقت لے جاتے تھے۔ (بخاری)

رمضان المبارک کا سارا مہینہ ہی رب تعالی کی رحمتوں اور برکتوں سے بھرا ہُوا ہے مگر اس کے آخری دس دن بہت ہی زیادہ فضیلت کے حامل ہیں۔ رمضان کے آخری عشرے کو باقی دو عشروں سے ممتاز کرنے والی لیلۃ القدر یعنی شب ِقدر ہے، جسے قرآن میں لیلۃ مبارکۃ بھی کہا گیا ہے۔ اس رات کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اﷲ تعالیٰ نے فرمایا، مفہوم: ’’حٰم! قسم ہے اس وضاحت والی کتاب کی، یقیناً ہم نے اسے بابرکت رات میں اُتارا ہے۔ بے شک! ہم ڈرانے والے ہیں، اسی رات میں ہر ایک مضبوط کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ ہمارے پاس سے حکم ہوکر، ہم ہی رسول بنا کر بھیجنے والے ہیں۔‘‘ ( الدخان)

ایک دوسرے مقام پر یوں ارشاد فرمایا، مفہوم: ’’یقیناً ہم نے ہی اسے یعنی قرآن کو شب ِقدر میں نازل فرمایا، تم کیا جانو کہ شب ِقدر کیا ہے؟ شب ِقدر ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اس میں ہر کام کے سرانجام دینے کو اپنے ربّ کے حکم سے فرشتے اور روح (جبریلؑ) اُترتے ہیں۔ یہ رات سراسر سلامتی کی ہوتی ہے اور فجر کے طلوع ہونے تک رہتی ہے۔‘‘ (سورۃ القدر)

سیدنا ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا، مفہوم:

’’جس شخص نے شب ِقدر کا ِایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے قیام کیا، اس کے گزشتہ گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔‘‘ (صحیح بخاری)

سیدنا ابوبکر صدیقؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لیلۃ القدر آخری عشرے میں ہے اور یہ بھی سنا: ’’جب نو، سات، پانچ یا تین یا آخری رات باقی رہ جائے تو اسے تلاش کرو۔‘‘

 (جامع ترمذی)

سیدنا ابوبکرؓ رمضان کی پہلی بیس راتوں میں معمول کے مطابق نماز پڑھتے لیکن جب آخری عشرہ شروع ہوتا تو عبادت میں خوب محنت کرتے تھے۔ مبارک ماہ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں سے کوئی ایک رات قدر والی ہے ہمیں آخری عشرے کی طاق راتوں میں خوب عبادت کرکے اس رات کی فضیلت کو پانا چاہیے۔ شب ِقدر کی چند علامات بھی ہیں۔ شب ِقدر کی صبح سورج یوں طلوع ہوتا ہے کہ اس کی شعاعیں نہیں ہوتیں۔ (مسلم) شب ِقدر میں جب چاند نکلتا ہے تو ایسے ہوتا ہے جیسے بڑے تھال کا کنارہ۔ (صحیح مسلم) شب ِقدر ایک خوش گوار رات ہے جس میں نہ گرمی ہوتی ہے اور نہ سردی۔ اس صبح کا سورج اس طرح طلوع ہوتا ہے کہ اس کی سرخی مدھم ہوتی ہے۔ (ابن خزیمہ)

شب ِقدر میں آدمی حسب ِمعمول جو دعا چاہے مانگ سکتا ہے۔ تاہم اس رات کو جو خاص دعا ہے، اسے ضرور مانگنا چاہیے اور وہ دعا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے یہ بتائی ہے: ’’اے اﷲ! بے شک آپ معاف کرنے والے، کرم فرمانے والے ہیں، معافی کو پسند فرماتے ہیں لہٰذا مجھے معاف فرما دیں۔‘‘ (جامع ترمذی)

اﷲ کے رسول ﷺ کے حکم کے مطابق ماہ رمضان کے اختتام پر روزوں کے مکمل ہونے کی خوشی میں صدقۂ فطر ادا کیا جاتا ہے۔ صدقۂ فطر کو نماز عید سے پہلے ادا کرنا چاہیے۔ اﷲ تعالی ہمیں رمضان میں اپنی بخشش کروانے کی توفیق دے، ہمیں ایسا بنا دے کہ ہم اسے پسند آجائیں اور اﷲ ہم سے راضی ہو۔ آمین



Source link

Continue Reading

Today News

قومی ٹی ٹونٹی کپ، کراچی وائٹس اور لاہور وائٹس نے سیمی فائنلز کے لیے کوالیفائی کر لیا۔

Published

on



پشاور:

قومی ٹی ٹونٹی کپ کے مقابلوں میں کراچی وائٹس اور لاہور وائٹس نے بالترتیب چھ اور پانچ پوائنٹس حاصل کر کے سیمی فائنلز میں جگہ بنا لی ہے۔

ٹورنامنٹ کے شیڈول کے مطابق پہلے میچ میں لاہور وائٹس اور کراچی وائٹس کے درمیان مقابلہ ہونا تھا، جبکہ دوسرے میچ میں پشاور اور بہاولپور کی ٹیمیں آمنے سامنے آنے والی تھیں۔

دوسری جانب آج گروپ بی کے میچوں کے بعد سیمی فائنل کی مزید دو ٹیموں کا فیصلہ بھی ہو جائے گا۔

آج کے میچز میں ایبٹ آباد کی ٹیم لاہور بلیوز کے مدمقابل ہوگی جبکہ سیالکوٹ اور ملتان کی ٹیمیں بھی آمنے سامنے آئیں گی۔

ان مقابلوں کے نتائج کے بعد قومی ٹی ٹونٹی کپ کے سیمی فائنلز کی چاروں ٹیمیں مکمل ہو جائیں گی۔





Source link

Continue Reading

Today News

سیفی جیسا کوئی نہیں – ایکسپریس اردو

Published

on


گھر کی بالکونی کا دروازہ کھلا اور ایک شخص نمودار ہوا، وہ کوئی سیاسی لیڈر نہیں تھا لیکن پوری گلی اس کی ایک جھلک دیکھتے کیلیے بھری ہوئی تھی، جیسے ہی اس نے ٹرافی تھامے ہاتھ اوپر اٹھائے ہزاروں افراد خوشی سے جھوم اٹھے، فضا پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھی۔

وہ نوجوان سرفراز احمد تھا جس کی قیادت میں ٹیم نے چیمپئنز ٹرافی2017 جیتی تھی،اس وقت کراچی کے ہر نوجوان کی یہی کوشش تھی کہ کسی طرح سرفراز کے گھر بفرزون پہنچ جائے۔ 

یہ کارنامہ بھی بہت بڑا تھا پاکستان ٹیم نے لندن میں بھارت کو شکست دے کر ٹرافی اپنے نام کی تھی، عمران خان کے بعد سرفراز دوسرے کپتان بنے جنھوں نے 50 اوورز کا کوئی آئی سی سی ٹائٹل جیتا۔

اس سے پہلے سرفراز ٹیم کو2006 میں انڈر 19 ورلڈ چیمپئن بھی بنوا چکے تھے،ان کی کپتانی میں پاکستان نے مسلسل 11 ٹی ٹوئنٹی سیریز بھی جیتیں، ٹیسٹ اور ون ڈے میں بھی کارنامے سرانجام دیے،اب بھی لوگ ان کے دور قیادت کو یاد کرتے ہیں۔ 

جب سے انھیں کپتانی سے ہٹایا گیا ہماری ٹیم دوبارہ سیٹ نہ ہو سکی، کئی کپتان آئے گئے لیکن سیفی والی بات کسی میں نہ تھی، خود غرض نہ ہونا ان کی سب سے بڑی خوبی رہی جو بعد میں خامی بن گئی، وہ ٹیم کو ترجیح دیتے ہوئے اکثر بیٹنگ آرڈر میں تاخیر سے آنے لگے۔ 

فارم متاثر ہوئی تو مخالفین کو تنقید کا موقع مل گیا، ان کی سب سے بڑی’’غلطی ‘‘ ورلڈ کپ میں سامنے آئی، جب ایک اعلیٰ شخصیت نے کوئی مشورہ دیا جس پر عمل نہ ہوا تو انھیں کپتانی سے ہٹانے کا حکم صادر ہو گیا۔ 

سرفراز کو چیئرمین احسان مانی کے نائب وسیم خان نے ڈومیسٹک ایونٹ کے دوران کہا کہ ’’ہم آپ کو قیادت سے ہٹا رہے ہیں، خود استعفیٰ دے دیں تو اچھا رہے گا‘‘ شاید وہ پہلا موقع تھا جب سرفراز نے بورڈ نے بات نہ مانی اور جواب دیا کہ وہ خود مستعفی نہیں ہوں گے، اگر ہٹانا ہے تو ہٹا دیں، اسی شام ان کی برطرفی کا پروانہ جاری ہو گیا۔ 

پاکستان کرکٹ کیلیے وہ یوم سیاہ تھا اور ٹیم اب تک اس غلط فیصلے کے نتائج بھگت رہی ہے، سرفراز کو قریبی دوست یہی مشورے دیتے رہے کہ اپنے کھیل پر بھی توجہ دو، اوپر کے نمبر پر بیٹنگ کرو جب تک ٹیم جیت رہی ہے کوئی کچھ نہیں کہے گا جہاں ایک سیریز ہارے سب ڈنڈا لے کر پیچھے پڑ جائیں گے۔

لیکن انھوں نے کسی کی بات نہ سنی اور یہی کہتے رہے کہ ٹیم کیلیے جو اچھا ہے وہی کروں گا،اس کا انھیں نقصان اٹھانا پڑا، پاکستان میں کھلاڑیوں کو زبردستی کپتان بنایا جاتا ہے لیکن سرفراز نیچرل کپتان تھے، انھوں نے جونیئر لیول سے ہی قیادت سنبھالی ، پھر پاکستان ٹیم کو نئی بلندیوں پر لے کر گئے۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کیلیے پی ایس ایل میں بھی اچھا پرفارم کیا اور ٹائٹل بھی جیتا، اگر آپ شاداب خان، حسن علی یا اس وقت ڈیبیو کرنے والے کسی اور کرکٹر سے پوچھیں تو وہ سرفراز کو ہی اپنا پسندیدہ کپتان قرار دیں گے۔

بابر اعظم کو گروم کرنے میں بھی ان کا اہم کردار رہا، وہ سب کو ساتھ لے کر چلتے رہے لیکن جب مشکل آئی تو کوئی ساتھ کھڑا نہ ہوا، ’’بچے‘‘ بڑے ہو کر خود کپتان بننے کے خواب دیکھنے لگے اور سیفی بھائی کے احسان بھول گئے۔

لیکن انھوں نے کبھی کوئی شکوہ نہ کیا اور ہمیشہ مسکرا کر سب سے ملتے رہے، حد تو اس وقت ہوئی جب ’’بھیا بھیا‘‘ کہنے والے لوگوں نے بھی سلیکٹر بن کر آنکھیں پھیر لیں۔ 

خیر یہ سرفراز کا بڑا پن ہے کہ آج بھی کسی کیخلاف کوئی بات نہیں کرتے، کرکٹ کی جتنی سمجھ انھیں ہے شاید ہی کسی اور کو ہو، آج کل کرکٹرز جیسے ہی تھوڑا نام بنائیں کلب کرکٹ تو دور کی بات ہے ڈومیسٹک میچز بھی نہیں کھیلتے۔ 

البتہ سرفراز نے ہمیشہ کھیل کو عزت دی، اعظم خان نے جب انھیں پاکستان کرکٹ کلب کے میچ کا بتایا وہ ہمیشہ حاضر ہوتے، کپتانی میں سرفراز کا جارحانہ انداز بھی اکثر موضوع بحث رہتا۔ 

وہ فیلڈ میں کھلاڑیوں سے ڈانٹ ڈپٹ کرتے رہتے لیکن اچھی بات یہ ہے کہ پلیئرز ان کا مزاج سمجھتے تھے، انھیں پتا تھا کہ ابھی سیفی بھائی سے ڈانٹ پڑی ہے تو رات کو وہ کندھے پر ہاتھ رکھ کر گانے سناتے ہوئے کھانا کھلانے بھی لے جائیں گے،اسی لیے آج بھی ان کی عزت ہے۔

پاکستان میں کوئی کھلاڑی ایک بار اچھا پرفارم کرلے تو اس کا انداز ویراٹ کوہلی والا ہو جاتا ہے لیکن سرفراز ہمیشہ عوامی شخصیت رہے، بقرعید کے دنوں میں اکثر وہ گلیوں میں گائے ٹہلاتے نظر آتے، عام دنوں میں موٹر سائیکل پر گھومتے دکھائی دیتے۔ 

آپ نے کبھی کسی سے نہیں سنا ہو گا کہ سرفراز نے بدتمیزی کی، وہ سب سے خندہ پیشانی سے ہی ملتے ہیں، پاکستان میں بڑے کرکٹر اور اچھے انسان کا کمبی نیشن کم ہی نظر آتا ہے، سرفراز ان چند افراد میں سے ایک ہیں۔ 

ان کی ایک خامی جارحانہ بیٹنگ سے ہم آہنگ نہ ہونا بنی، ندیم عمر جیسی قریبی شخصیات انھیں پاور ہٹنگ میں مہارت لانے یا اوپننگ کرنے جیسے مشورے دیتی رہیں لیکن انھوں نے ان پر عمل نہ کیا، خیر سرفراز نے جتنی کرکٹ کھیلی عزت سے کھیلی، پاکستان کے بہترین کپتانوں کا جب بھی نام لیا جائے وہ نمایاں ہی ہوں گے۔ 

سرفراز نے جونیئر لیول کے کرکٹرز کی رہنمائی تو شروع کر دی تھی،اب انھیں ٹیسٹ ٹیم کا کوچ بنانے کی باتیں بھی ہو رہی ہیں، چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کو اچھے لوگوں کی پرکھ ہے، سرفراز جیسے ایماندار اور بے لوث افراد انھیں پسند ہیں، اسی لیے وہ ان کو قومی سیٹ اپ میں رکھنا چاہتے ہیں۔ 

وہ پیسے کی پیچھے نہیں بھاگتے، سادہ لائف اسٹائل ہے، پاکستان میں کسی کے پاس تھوڑا سا پیسہ آ جائے وہ ڈیفنس کی طرف بھاگتا ہے سرفراز اب بھی بفرزون کا وہی لڑکا ہے جو گلی میں بچوں کے ساتھ ٹیپ بال سے بھی کرکٹ کھیلتا ہے، ہر کرکٹر کو ایک نہ ایک دن ریٹائر ہونا ہی پڑتا ہے سرفراز کے کیریئر میں بھی وہ وقت آ گیا۔ 

امید یہی ہے کہ جس طرح انھوں نے بطور وکٹ کیپر بیٹر اور کپتان ملک کیلیے کارنامے سرانجام دیے اسی طرح سلیکٹر اور کوچ کی حیثیت سے بھی نام کمائیں گے اور لوگ یہی کہیں گے کہ ’’سیفی جیسا کوئی نہیں‘‘۔





Source link

Continue Reading

Trending