Connect with us

Today News

سرخ لکیر اور خطے کا مستقبل

Published

on


صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ افغان حکومت نے پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنا کر سرخ لکیر پار کردی ہے۔ افغان حکومت دہشت گرد گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم نہ کرنے کی یقین دہانیوں کو نظر انداز کر رہی ہے۔ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے مصروف عمل ہے۔

دوسری جانب چین نے ہمسایہ ممالک پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی کشیدگی کم کرانے کے لیے متحرک سفارتی کوششیں بھی تیز کر دی ہیں، چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی سے ٹیلی فون پر رابطہ کر کے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ تنازع اور مسائل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات اورمکالمے کے ذریعے طے کریں۔

حالیہ دنوں میں افغان سرزمین سے پاکستان کے شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کے مبینہ ڈرون حملوں اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کشیدگی نے ایک مرتبہ پھر دونوں ممالک کے تعلقات کو ایک نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ صدر مملکت آصف علی زرداری کا یہ بیان کہ افغان حکومت نے پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنا کر’’ سرخ لکیر‘‘ عبور کر لی ہے، دراصل پاکستان کے اندر پائی جانے والی شدید تشویش اور غم و غصے کی عکاسی کرتا ہے۔

کسی بھی ریاست کے لیے اس کے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ سب سے پہلی ذمے داری ہوتی ہے، اگرکسی دوسرے ملک کی سرزمین سے ایسے اقدامات کیے جائیں جو شہری آبادی کو نشانہ بنائیں تو یہ نہ صرف بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ دو ہمسایہ ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا کو بھی بری طرح متاثرکرتا ہے۔ پاکستان کی قیادت کا یہ واضح پیغام کہ ملک کی مسلح افواج اور سیکیورٹی ادارے ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں، اس بات کی علامت ہے کہ قومی سلامتی کے معاملے میں پاکستان کسی قسم کی کمزوری دکھانے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

دوسری جانب افغان حکومت کی طرف سے یہ مؤقف پیش کیا گیا ہے کہ افغانستان کسی بھی ملک کے ساتھ فوجی تصادم نہیں چاہتا اور اس کی سرزمین کسی ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔ افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کے بیانات میں بظاہر کشیدگی کم کرنے کی خواہش جھلکتی ہے، تاہم زمینی حقائق اس سے مختلف نظر آتے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان نے متعدد مرتبہ یہ شکایت کی ہے کہ افغان سرزمین پر موجود بعض شدت پسند گروہ پاکستان کے اندر دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ ان گروہوں کو سرحد پار محفوظ پناہ گاہیں حاصل ہونے کے شواہد بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سرحدی علاقوں میں عدم استحکام اور سیکیورٹی کے مسائل ایک مستقل چیلنج بن چکے ہیں۔

افغانستان کی موجودہ صورتحال کو سمجھنے کے لیے اس کے تاریخی پس منظر کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ گزشتہ چار دہائیوں کے دوران افغانستان مسلسل جنگ، بیرونی مداخلت اور سیاسی عدم استحکام کا شکار رہا ہے۔ سوویت یونین کی مداخلت سے لے کر خانہ جنگی، طالبان کے پہلے دور حکومت، نائن الیون کے بعد امریکی قیادت میں نیٹو افواج کی موجودگی اور پھر 2021 میں امریکی انخلا کے بعد طالبان کی دوبارہ اقتدار میں واپسی تک افغانستان نے مسلسل ہنگامہ خیز حالات کا سامنا کیا ہے۔

اس طویل عرصے میں افغان ریاستی ادارے کمزور ہوتے گئے اور ملک کی معیشت اور سماجی ڈھانچہ بھی بری طرح متاثر ہوا۔ پاکستان اس پورے عرصے میں افغانستان کے حالات سے براہ راست متاثر ہوتا رہا ہے۔ لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی، سرحدی سکیورٹی کے مسائل اور دہشت گردی کے خطرات پاکستان کے لیے مستقل چیلنج بنے رہے ہیں۔ اس کے باوجود پاکستان نے ہمیشہ افغانستان میں امن و استحکام کے قیام کے لیے مثبت کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ مختلف ادوار میں پاکستان نے افغان مفاہمتی عمل کی حمایت کی اور عالمی برادری کے ساتھ مل کر افغانستان میں امن کے لیے سفارتی کوششیں بھی کیں۔

تاہم موجودہ حالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان بڑھتا جا رہا ہے، افغان سرزمین سے پاکستان کے شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کی جو کوششیں ہوئی ہیں تو یہ ایک انتہائی تشویشناک پیش رفت ہے۔ ایسے اقدامات نہ صرف پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں ۔ عالمی برادری پہلے ہی طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کے معاملے میں محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے، افغانستان اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ کشیدگی میں ملوث ہے تو اس سے اس کی سفارتی تنہائی مزید بڑھ سکتی ہے۔

اس تناظر میں چین کا کردار انتہائی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ چین نہ صرف پاکستان کا قریبی دوست اور اسٹرٹیجک شراکت دار ہے بلکہ افغانستان کے ساتھ بھی اس کے سفارتی روابط موجود ہیں۔ چینی وزیر خارجہ وانگ ای کا افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی سے رابطہ اور دونوں ممالک کو مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی تلقین اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ چین خطے میں استحکام کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔

چین کی خارجہ پالیسی کا بنیادی اصول علاقائی تعاون اور اقتصادی ترقی کو فروغ دینا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ جنوبی اور وسطی ایشیا میں امن کے بغیر ترقی کے بڑے منصوبے کامیاب نہیں ہو سکتے۔چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) اس خطے کا ایک اہم منصوبہ ہے جس کے ذریعے پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی روابط کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ پورے خطے کو تجارتی اور اقتصادی مواقع فراہم کیے جا سکتے ہیں، اگر افغانستان میں امن اور استحکام قائم ہو جائے تو یہ ملک بھی علاقائی رابطوں اور تجارت کا اہم مرکز بن سکتا ہے۔

چین اس امکان کو مدنظر رکھتے ہوئے افغانستان کو علاقائی اقتصادی نظام میں شامل کرنے کا خواہاں ہے۔ تاہم اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ افغانستان اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن تعلقات قائم کرے اور خطے میں دہشت گردی کو فروغ نہ دے۔افغانستان کو اپنے علاقے میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ختم کرنا ہوں گی۔اگر افغانستان نے دہشت گردوں کی پشت پناہی کے حوالے سے اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی نہ کی تو افغانستان پورے خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ بنا رہے گا اور خطے کے دیگر ممالک اس صورتحال کو زیادہ دیر تک برداشت نہیں کریں گے۔

پاکستان کے لیے یہ ایک حساس مرحلہ ہے۔ ایک طرف اسے اپنی قومی سلامتی کا تحفظ یقینی بنانا ہے تو دوسری طرف خطے میں امن اور استحکام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھنی ہیں۔ صدر آصف علی زرداری کا بیان اسی توازن کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک جانب انھوں نے افغان حکومت کو واضح پیغام دیا ہے کہ پاکستان کے شہریوں کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے، اور دوسری جانب انھوں نے اس عزم کا بھی اظہارکیا ہے کہ پاکستان خطے میں امن کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔موجودہ صورتحال میں سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ افغانستان دہشت گردی کے حوالے سے علاقائی ممالک کے لیے مسائل نہ پیدا کرے اور پورے خطے میں امن قائم کرنے کے لیے مثبت کردار ادا کرے۔ سرحدی سلامتی، دہشت گردی کے خطرات اور باہمی اعتماد کے مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک جامع میکنزم تشکیل دیا جانا چاہیے۔ علاقائی طاقتوں، خصوصاً چین کی سفارتی معاونت بھی کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

میڈیا اور عوامی حلقوں کی ذمے داری بھی اس موقع پر کم نہیں ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے عوام کے مفادات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔افغان حکومت کو اس امر کا ادراک ہونا چاہیے کہ دہشت گردوں کی پشت پناہی کر کے افغانستان کبھی ترقی نہیں کرسکتا،اگر افغانستان نے ترقی کرنا اور تجارت کو فروغ دینا ہے تو اسے خطے کے ممالک کے ساتھ خوشگوار تعلقات قائم کرنا ہوں گے۔آخرکار یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان پائیدار امن دونوں ممالک کے عوام کے بہتر مستقبل کے لیے ناگزیر ہے۔ جنگ اور کشیدگی نے پہلے ہی اس خطے کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ افغانستان دہشت گردی کے خاتمے میں تعاون کر کے پورے خطے میں ایک ایسے مستقبل کی بنیاد رکھ سکتا ہے جس سے امن، ترقی اور خوشحالی کو فروغ حاصل ہو۔

 عالمی سیاست تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ معاشی تعاون، علاقائی رابطے اور مشترکہ ترقی اب بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی ستون بن چکے ہیں، اگر افغانستان اس بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں مثبت کردار ادا کرے تو نہ صرف اس کے اپنے عوام کو فائدہ ہوگا بلکہ پورا خطہ بھی استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو موجودہ کشیدگی کے بادلوں کو چھانٹ کر ایک روشن اور پرامن مستقبل کی نوید دے سکتا ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

لیہ، ڈیوٹی کے دوران نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے پنجاب پولیس کا جوان شہید

Published

on



لیہ:

پنجاب پولیس کا ایک اور جوان فرض کی راہ میں قربان ہوگیا۔ لیہ پولیس کے کانسٹیبل اسد نصیر ہیرا اڈہ کے مقام پر ڈیوٹی کے دوران نامعلوم موٹرسائیکل سوار ملزمان کی فائرنگ سے شہید ہوگئے۔

ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق کانسٹیبل اسد نصیر شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ڈیوٹی انجام دے رہے تھے کہ اس دوران نامعلوم ملزمان نے فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں وہ جام شہادت نوش کر گئے۔

انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس عبدالکریم نے شہید کانسٹیبل اسد نصیر کی عظیم قربانی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے شہریوں کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔

آئی جی پنجاب عبدالکریم نے آر پی او ڈی جی خان اور ڈی پی او لیہ کو واقعے میں ملوث ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ملزمان کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب پولیس شہید کے اہل خانہ کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور ان کی مکمل دیکھ بھال اور ویلفیئر پولیس کی ذمہ داری ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

افغانستان سے مذاکرات، پاکستان کا چین کو انکار

Published

on



اسلام آباد:

پاکستان نے چین سے کہا ہے کہ وہ طالبان حکومت کے ساتھ عدم رابطہ کی اپنی موجودہ پالیسی جاری رکھے گا کیونکہ کابل حکومت کالعدم ٹی ٹی پی اور افغان سرزمین سے کام کرنے والے دیگر دہشت گرد گروپوں کی موجودگی پر اپنا موقف تبدیل کرنے میں ناکام  ہے۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ  افغانستان کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کیلیے  پاکستان  نے  اپنے قریبی اتحادی بیجنگ کی تازہ ترین سفارتی کوششوں کو مسترد کر دیا ہے۔

چین نے حال ہی میں دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان بڑھتی کشیدگی  کم کرنے کیلیے افغانستان کے لیے اپنے خصوصی ایلچی کو کابل اور اسلام آباد بھیج کر  سفارتی  کوششیں تیز کی ہیں۔

خصوصی ایلچی  اس وقت افغانستان اور پاکستان کے درمیان ثالثی کی کوشش میں مصروف ہے۔چین کی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیر خارجہ وانگ ژی  نے افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی سے بھی ٹیلی فون پر بات چیت کی اور صورتحال پر تبادلہ خیال  کیا۔

چین کو امید ہے کہ دونوں فریق صبرو تحمل کا مظاہرہ کریں گے اور جلد از جلد براہ راست ملاقات اورجنگ بندی کر کے تنازعات اور اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کریں گے۔

بیجنگ نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ وہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مفاہمت اور کشیدگی کو کم کرنے کے لیے فعال کوششیں جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔

باخبر ذرائع نے ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ پاکستان نے بحران کو کم کرنے کے لیے چین کی مخلصانہ کوششوں کا اعتراف کرتے ہوئے واضح کیا کہ کابل کے ساتھ معمول کی سفارتی کوششوں کی واپسی زمینی تبدیلیوں کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستانی حکام نے چین کو آگاہ کیا کہ اسلام آباد طالبان حکومت کے حوالے سے اپنی موجودہ پالیسی اپنانے سے پہلے ہی تمام سفارتی راستے ختم کر چکا ہے۔

پاکستان نے دو طرفہ چینلز کے ساتھ ساتھ دوست ممالک کے ذریعے ٹی ٹی پی اور دیگر عسکریت پسند گروپوں کو پناہ دینے والی طالبان حکومت پر تحفظات کا اظہار کیا ۔

تاہم ذرائع نے بتایا کہ چینی ایلچی اور پاکستانی حکام کے درمیان ملاقاتوں کے نتیجے میں اسلام آباد اس نتیجے پر پہنچا کہ طالبان قیادت نے اپنی پوزیشن تبدیل نہیں کی ۔

باخبرذرائع نے بتایا کہ  طالبان حکام نے چینی سفیر کے سامنے اپنا دیرینہ مؤقف  کو دہرایا کہ ٹی ٹی پی کا مسئلہ پاکستان کا اندرونی ایشو ہے،  افغان سرزمین ہمسایہ ممالک کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی تاہم پاکستانی حکام نے طالبان حکومت کے اس دعوے کو مسترد کر دیاجس میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رپورٹس کو بھی بطور ثبوت شامل کیاگیا تھا۔ 

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان میں ٹی ٹی پی دہشت گردوں کی موجودگی اور سرگرمیوں کے حوالے سے اسلام آباد کے موقف کی تصدیق ہوتی ہے۔

ان حالات میں پاکستان نے چین کو آگاہ کیا کہ جب تک کابل اسلام آباد کے تحفظات کو دور کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات نہیں کرتا، بامعنی سفارتی کوششوں کی بہت کم گنجائش ہے۔ 

ہفتہ وار پریس بریفنگ میں دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے تصدیق کی کہ کچھ دوست ممالک کی جانب سے طالبان حکام کے ساتھ بات چیت کے مطالبات کے باوجود پاکستان افغانستان کے حوالے سے اپنی موجودہ پالیسی کو برقرار رکھے گا۔ 

ان کا کہناتھا کہ جہاں تک افغانستان کی صورتحال کا تعلق ہے، صورت حال جوں کی توں ہے۔ ثالثی کی کوششوں کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے افغانستان اور اپنے مذاکرات کاروں  پر زور دیا ہے کہ ہمیں افغانستان کی جانب سے قابل تصدیق یقین دہانی کی ضرورت ہے کہ ان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہوگی چونکہ یقین دہانیاں  نہیں کرائی گئیں اس لیے افغانستان کے حوالے سے موجودہ پالیسی کو جاری رکھا جائیگا۔

اس بات کا امکان ہے کہ جب کہ پاکستان اپنے موقف پر قائم ہے، عید کے دوران دشمنی میں عارضی  وقفہ کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔

دریں اثنا ترجمان طاہراندرابی کا کہنا ہے کہ افغانستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں اور ان کی معاونت کرنے والے مراکز پرپاکستان کی جائز کارروائیوں کے بارے بھارتی موقف مضحکہ خیز ہے۔ 

افغانستان کے اندر دہشتگردوں کے ٹھکانوں کیخلاف اہداف جائز ہیں،افغان سر زمین سے فتنہ الخوارج اورفتنہ الہندوستان پاکستان میں دہشت گرد کارروائیاں کر رہے ہیں،  بھارت افغانستان سمیت خطے میں تخریبی کردار ادا کر رہا ہے۔

بھارت  پاکستان کیخلاف دہشتگردی کرنے سے باز آ جائے، ہندوتوا کی انتہا پسندانہ سوچ کے زیر اثر بھارت اپنے ملک میں اقلیتوں کو منظم انداز میں انکے حقوق سے محروم کر رہا ہے، اسلاموفوبیا کو فروغ دے رہا ہے۔ 

بھارت اقوام متحدہ کے منشور اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر پر غیرقانونی قبضہ جمائے ہوئے ہے اور اس علاقے میں ریاستی دہشت گردی کا مرتکب رہا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

امریکا، اسرائیل اور ایران کشیدگی کے اثرات، پاکستان میں روئی کی قیمتوں میں زبردست تیزی

Published

on



کراچی:

ملک میں معیاری روئی کی محدود دستیابی اور امریکا اسرائیل ایران جنگ سے مشرق وسطی کے کشیدہ حالات دے روئی درآمدی سرگرمیاں معطل ہونے سے گزشتہ ہفتے پاکستان میں روئی کی قیمتوں میں زبردست تیزی کا رحجان رہا جس سے فی من روئی کی قیمت 500روپے کے اضافے سے 17ہزار روپے کی سطح تک پہنچ گئی ہے۔ 

چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے ایکسپریس کو بتایا کہ عالمی منڈیوں میں خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث پولیسٹر  فائبر کی قیمتوں میں غیر معمولی تیزی سے گذشتہ ایک ہفتے کے دوران پاکستان میں بھی پولیسٹر فائبر کی فی کلو قیمت میں 30روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس سے سوتی دھاگے کی قیمت میں تیزی کے باعث روئی کی قیمتوں میں بھی تیزی کا رحجان سامنے آیا ہے۔ 

مقامی ٹیکسٹائل ملز ملیں رواں سال موسم گرما کے ملبوسات کی تیاری کے لئے گذشتہ سالوں کی نسبت معیاری روئی کی خریداری میں زیادہ دلچسپی لے رہی ہیں جسے ابتدائی طور پر اگرچہ درآمدی روئی سے پورا کیا جارہا تھا لیکن جاری عالمی جنگی حالات کے باعث درآمدی روئی کی  شپمنٹس معطل ہونے سے ٹیکسٹائل ملوں نے مقامی کاٹن مارکیٹس سے روئی کی خریداری شروع کردی ہے۔

مقامی مارکیٹوں میں معیاری روئی کی انتہائی محمدود دستیابی کے باعث روئی کی قیمت میں 500روپے فی من اضافہ دیکھا جارہا ہے جس میں رواں ہفتے مزید تیزی متوقع ہے اگر قیمتوں میں اضافے کا تسلسل برقرار رہا تو عید الفطر کے بعد تک فی من روئی کی قیمت 18ہزار روپے کی سطح عبور کرسکتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ نان فرینڈلی صنعتی پالیسیوں کے باعث پاکستان سے ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات میں تسلسل سے کمی برقرار ہے اور توانائی کی قیمتوں میں جاری اضافے کے رحجان سے ملکی برآمدات میں مزید کمی کے خدشات پائے جارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فیڈرل کمیٹی آن ایگریکلچر (ایف سی اے) ہرسال پاکستان میں کپاس کی کاشت اور پیداواری ہدف جاری کرتی ہے لیکن یہ ہدف بالعموم زمینی حقائق کے برعکس ہوتے ہیں۔

ایف سی اے گذشتہ کئی سالوں سے پاکستان میں کپاس کا پیداواری ہدف ایک کروڑ گانٹھوں سے زائد کا اجراء کرتی ہے لیکن گذشتہ 10 سال مجوزہ اہداف حاصل نہیں ہوسکے ہیں۔

ان عوامل کے سبب روئی کی کھپت یا استعمال کرنے والی صنعتوں کو اپنی پیداواری حکمت مرتب کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اپریل کے پہلے ہفتے میں ایف سی اے کا اجلاس منعقد ہورہا ہے جس میں درست اور حقائق پر مبنی اہداف کا تعین وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ اس قومی ادارے پر اسٹیک ہولڈرز کا اعتماد بحال ہوسکے۔

انہوں نے بتایا کہ 12دسمبر 2025 سے کراچی کاٹن ایسوسی ایشن (کے سی اے) کی عمارت سربمہر ہونے کے بعد سے تاحال بحال نہ  ہونے سے روئی کی اسپاٹ قیمت بھی معطل ہے جس کے باعث عالمی مارکیٹوں میں پاکستانی کاٹن کی نمائندگی نہیں ہو رہی جو ملکی تاریخ میں ایک منفرد واقع ہے جس سے کاٹن ٹریڈنگ سیکٹر میں اضطراب کی لہر برقرار ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending