Today News
سیفی جیسا کوئی نہیں – ایکسپریس اردو
گھر کی بالکونی کا دروازہ کھلا اور ایک شخص نمودار ہوا، وہ کوئی سیاسی لیڈر نہیں تھا لیکن پوری گلی اس کی ایک جھلک دیکھتے کیلیے بھری ہوئی تھی، جیسے ہی اس نے ٹرافی تھامے ہاتھ اوپر اٹھائے ہزاروں افراد خوشی سے جھوم اٹھے، فضا پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھی۔
وہ نوجوان سرفراز احمد تھا جس کی قیادت میں ٹیم نے چیمپئنز ٹرافی2017 جیتی تھی،اس وقت کراچی کے ہر نوجوان کی یہی کوشش تھی کہ کسی طرح سرفراز کے گھر بفرزون پہنچ جائے۔
یہ کارنامہ بھی بہت بڑا تھا پاکستان ٹیم نے لندن میں بھارت کو شکست دے کر ٹرافی اپنے نام کی تھی، عمران خان کے بعد سرفراز دوسرے کپتان بنے جنھوں نے 50 اوورز کا کوئی آئی سی سی ٹائٹل جیتا۔
اس سے پہلے سرفراز ٹیم کو2006 میں انڈر 19 ورلڈ چیمپئن بھی بنوا چکے تھے،ان کی کپتانی میں پاکستان نے مسلسل 11 ٹی ٹوئنٹی سیریز بھی جیتیں، ٹیسٹ اور ون ڈے میں بھی کارنامے سرانجام دیے،اب بھی لوگ ان کے دور قیادت کو یاد کرتے ہیں۔
جب سے انھیں کپتانی سے ہٹایا گیا ہماری ٹیم دوبارہ سیٹ نہ ہو سکی، کئی کپتان آئے گئے لیکن سیفی والی بات کسی میں نہ تھی، خود غرض نہ ہونا ان کی سب سے بڑی خوبی رہی جو بعد میں خامی بن گئی، وہ ٹیم کو ترجیح دیتے ہوئے اکثر بیٹنگ آرڈر میں تاخیر سے آنے لگے۔
فارم متاثر ہوئی تو مخالفین کو تنقید کا موقع مل گیا، ان کی سب سے بڑی’’غلطی ‘‘ ورلڈ کپ میں سامنے آئی، جب ایک اعلیٰ شخصیت نے کوئی مشورہ دیا جس پر عمل نہ ہوا تو انھیں کپتانی سے ہٹانے کا حکم صادر ہو گیا۔
سرفراز کو چیئرمین احسان مانی کے نائب وسیم خان نے ڈومیسٹک ایونٹ کے دوران کہا کہ ’’ہم آپ کو قیادت سے ہٹا رہے ہیں، خود استعفیٰ دے دیں تو اچھا رہے گا‘‘ شاید وہ پہلا موقع تھا جب سرفراز نے بورڈ نے بات نہ مانی اور جواب دیا کہ وہ خود مستعفی نہیں ہوں گے، اگر ہٹانا ہے تو ہٹا دیں، اسی شام ان کی برطرفی کا پروانہ جاری ہو گیا۔
پاکستان کرکٹ کیلیے وہ یوم سیاہ تھا اور ٹیم اب تک اس غلط فیصلے کے نتائج بھگت رہی ہے، سرفراز کو قریبی دوست یہی مشورے دیتے رہے کہ اپنے کھیل پر بھی توجہ دو، اوپر کے نمبر پر بیٹنگ کرو جب تک ٹیم جیت رہی ہے کوئی کچھ نہیں کہے گا جہاں ایک سیریز ہارے سب ڈنڈا لے کر پیچھے پڑ جائیں گے۔
لیکن انھوں نے کسی کی بات نہ سنی اور یہی کہتے رہے کہ ٹیم کیلیے جو اچھا ہے وہی کروں گا،اس کا انھیں نقصان اٹھانا پڑا، پاکستان میں کھلاڑیوں کو زبردستی کپتان بنایا جاتا ہے لیکن سرفراز نیچرل کپتان تھے، انھوں نے جونیئر لیول سے ہی قیادت سنبھالی ، پھر پاکستان ٹیم کو نئی بلندیوں پر لے کر گئے۔
کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کیلیے پی ایس ایل میں بھی اچھا پرفارم کیا اور ٹائٹل بھی جیتا، اگر آپ شاداب خان، حسن علی یا اس وقت ڈیبیو کرنے والے کسی اور کرکٹر سے پوچھیں تو وہ سرفراز کو ہی اپنا پسندیدہ کپتان قرار دیں گے۔
بابر اعظم کو گروم کرنے میں بھی ان کا اہم کردار رہا، وہ سب کو ساتھ لے کر چلتے رہے لیکن جب مشکل آئی تو کوئی ساتھ کھڑا نہ ہوا، ’’بچے‘‘ بڑے ہو کر خود کپتان بننے کے خواب دیکھنے لگے اور سیفی بھائی کے احسان بھول گئے۔
لیکن انھوں نے کبھی کوئی شکوہ نہ کیا اور ہمیشہ مسکرا کر سب سے ملتے رہے، حد تو اس وقت ہوئی جب ’’بھیا بھیا‘‘ کہنے والے لوگوں نے بھی سلیکٹر بن کر آنکھیں پھیر لیں۔
خیر یہ سرفراز کا بڑا پن ہے کہ آج بھی کسی کیخلاف کوئی بات نہیں کرتے، کرکٹ کی جتنی سمجھ انھیں ہے شاید ہی کسی اور کو ہو، آج کل کرکٹرز جیسے ہی تھوڑا نام بنائیں کلب کرکٹ تو دور کی بات ہے ڈومیسٹک میچز بھی نہیں کھیلتے۔
البتہ سرفراز نے ہمیشہ کھیل کو عزت دی، اعظم خان نے جب انھیں پاکستان کرکٹ کلب کے میچ کا بتایا وہ ہمیشہ حاضر ہوتے، کپتانی میں سرفراز کا جارحانہ انداز بھی اکثر موضوع بحث رہتا۔
وہ فیلڈ میں کھلاڑیوں سے ڈانٹ ڈپٹ کرتے رہتے لیکن اچھی بات یہ ہے کہ پلیئرز ان کا مزاج سمجھتے تھے، انھیں پتا تھا کہ ابھی سیفی بھائی سے ڈانٹ پڑی ہے تو رات کو وہ کندھے پر ہاتھ رکھ کر گانے سناتے ہوئے کھانا کھلانے بھی لے جائیں گے،اسی لیے آج بھی ان کی عزت ہے۔
پاکستان میں کوئی کھلاڑی ایک بار اچھا پرفارم کرلے تو اس کا انداز ویراٹ کوہلی والا ہو جاتا ہے لیکن سرفراز ہمیشہ عوامی شخصیت رہے، بقرعید کے دنوں میں اکثر وہ گلیوں میں گائے ٹہلاتے نظر آتے، عام دنوں میں موٹر سائیکل پر گھومتے دکھائی دیتے۔
آپ نے کبھی کسی سے نہیں سنا ہو گا کہ سرفراز نے بدتمیزی کی، وہ سب سے خندہ پیشانی سے ہی ملتے ہیں، پاکستان میں بڑے کرکٹر اور اچھے انسان کا کمبی نیشن کم ہی نظر آتا ہے، سرفراز ان چند افراد میں سے ایک ہیں۔
ان کی ایک خامی جارحانہ بیٹنگ سے ہم آہنگ نہ ہونا بنی، ندیم عمر جیسی قریبی شخصیات انھیں پاور ہٹنگ میں مہارت لانے یا اوپننگ کرنے جیسے مشورے دیتی رہیں لیکن انھوں نے ان پر عمل نہ کیا، خیر سرفراز نے جتنی کرکٹ کھیلی عزت سے کھیلی، پاکستان کے بہترین کپتانوں کا جب بھی نام لیا جائے وہ نمایاں ہی ہوں گے۔
سرفراز نے جونیئر لیول کے کرکٹرز کی رہنمائی تو شروع کر دی تھی،اب انھیں ٹیسٹ ٹیم کا کوچ بنانے کی باتیں بھی ہو رہی ہیں، چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کو اچھے لوگوں کی پرکھ ہے، سرفراز جیسے ایماندار اور بے لوث افراد انھیں پسند ہیں، اسی لیے وہ ان کو قومی سیٹ اپ میں رکھنا چاہتے ہیں۔
وہ پیسے کی پیچھے نہیں بھاگتے، سادہ لائف اسٹائل ہے، پاکستان میں کسی کے پاس تھوڑا سا پیسہ آ جائے وہ ڈیفنس کی طرف بھاگتا ہے سرفراز اب بھی بفرزون کا وہی لڑکا ہے جو گلی میں بچوں کے ساتھ ٹیپ بال سے بھی کرکٹ کھیلتا ہے، ہر کرکٹر کو ایک نہ ایک دن ریٹائر ہونا ہی پڑتا ہے سرفراز کے کیریئر میں بھی وہ وقت آ گیا۔
امید یہی ہے کہ جس طرح انھوں نے بطور وکٹ کیپر بیٹر اور کپتان ملک کیلیے کارنامے سرانجام دیے اسی طرح سلیکٹر اور کوچ کی حیثیت سے بھی نام کمائیں گے اور لوگ یہی کہیں گے کہ ’’سیفی جیسا کوئی نہیں‘‘۔
Today News
شب قدر کے فضائل و اعمال
’’امام مالکؒ فرماتے ہیں کہ انھوں نے ایک معتبر اور نیک عالم سے یہ بات سنی کہ رسول اﷲ ﷺ کو اگلے لوگوں کی عمریں بتلائی گئیں جتنا اﷲ کو منظور تھا تو آپؐ نے اپنی امت کے لوگوں کی عمروں کو کم سمجھا اور یہ خیال کیا کہ میری امت کے لوگ (اتنی سی عمر میں) ان کے برابر عمل نہ کر سکیں گے تو اﷲ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو شب قدر عطا فرمائی جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔‘‘ (موطا امام مالک)
ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک دن بنی اسرائیل کے ایک شخص کا ذکر فرمایا کہ وہ ایک ہزار مہینے تک اﷲ کے راستے میں جہاد کرتا رہا۔ صحابہ کرامؓ کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا (ہماری عمریں تو اس کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہیں) اس پر اﷲ تعالیٰ نے شب قدر عطا فرمائی جو ایک ہزار مہینوں سے افضل اور مرتبہ میں بڑھی ہوئی ہے۔
ایک اور حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرامؓ کے سامنے حضرت ایوب، حضرت زکریا، حضرت حزقیل اور حضرت یوشع علیہم السلام، ان چار حضرات کا ذکر فرمایا کہ یہ حضرات اسّی اسّی سال اﷲ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف رہے۔ اور پلک جھپکنے کے برابر بھی اﷲ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی اس پر صحابہ کرامؓ کو تعجب اور رشک ہُوا، اﷲ تعالیٰ نے رحم فرمایا اور شب قدر کا عظیم الشان تحفہ عطا فرمایا اس کے بعد حضرت جبرئیل علیہ السلام تشریف لائے اور سورۂ قدر سنائی جس کا ترجمہ یہ ہے:
’’بے شک! ہم نے قرآن مجید کو شب قدر میں نازل کیا ہے اور آپ کو کچھ معلوم ہے کہ شب قدر کیسی بڑی چیز ہے؟ شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اس رات میں فرشتے اور روح القدس (جبرئیل علیہ السلام) اپنے پروردگار کے حکم سے ہر امر خیر کو لے کر (زمین کی طرف) اترتے ہیں، (وہ رات سراپا) سلام ہے وہ رات (انھی برکتوں کے ساتھ) طلوعِ فجر تک رہتی ہے۔‘‘ (بیان القرآن)
گویا اﷲ تعالیٰ نے یہ بات واضح فرما دی کہ ہمارے نزدیک عمر کی کمی زیادتی کوئی معنی نہیں رکھتی میں اپنی قدرت سے ایک ہی رات کے دامن کو اتنا وسیع کر سکتا ہوں کہ اس کے مقابلے میں ہزار مہینے بھی کوئی حقیقت نہیں رکھتے۔
حق تعالیٰ نے امت محمدیہ ﷺ پر کتنا بڑا انعام فرمایا یہ سرکار دو عالم ﷺ کی غلامی کا صدقہ ہے۔
اس سورہ کا نام سورۂ قدر ہے اس میں شب قدر کی چار خصوصیات ذکر کی گئی ہیں۔
نزول قرآن۔ نزول ملائکہ۔ ہزار مہینوں سے زیادہ فضیلت۔ صبح صادق تک خیر و برکت امن و سلامتی کی بارش ہوتی رہتی ہے۔
حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ شب قدر میں جبرئیل علیہ السلام ملائکہ کی ایک جماعت کے ساتھ اترتے ہیں (یعنی زمین پر) اور ہر اس شخص کے لیے جو (اس رات میں) کھڑے یا بیٹھے اﷲ کا ذکر کر رہا ہو اور عبادت میں مشغول ہو، دعائے رحمت کرتے ہیں۔ اور تفسیر خازن میں یہ بھی ہے کہ ایسے آدمی کے لیے جو اس رات میں مصروفِ عبادت ہو سلامتی کی دعا کرتے ہیں۔ مختصر یہ کہ شب قدر کی بڑی فضیلت ہے اسی وجہ سے اس کو تلاش کرنے کے لیے آنحضرت ﷺ نے پہلے دس دنوں کا اعتکاف فرمایا پھر درمیان کے دس دنوں کا اعتکاف فرمایا پھر آپ ﷺ نے اعتکاف کی جگہ میں سے اپنا سر باہر نکال کر فرمایا میں نے پہلے عشرے میں اعتکاف کیا، پھر دوسرے عشرے میں اعتکاف کیا اس کے بعد مجھے شب قدر عطا کی گئی اور بتلایا گیا کہ وہ (شب قدر) آخری عشرے میں ہے۔
ایک حدیث میں ہے: ’’جس شخص نے شب قدر میں قیام کیا ایمان اور طلب ثواب کے لیے‘ بخش دیے جاتے ہیں اس کے گزشتہ گناہ۔‘‘
حضرت عبداﷲ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے بعض صحابہؓ کو شب قدر رمضان کی آخری سات راتوں میں دکھائی گئی۔ اس پر رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا: ’’ تمہارے خواب آخری سات دنوں پر متفق ہوگئے، پس جو شخص شب قدر کو تلاش کرنا چاہے وہ آخری سات راتوں میں تلاش کرے۔
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ سے دریافت کیا کہ اگر مجھے شب قدر کا پتا چل جائے تو میں اس میں کیا دعا پڑھوں ؟ آپ ﷺ ارشاد فرماتے ہیں ، مفہوم:
’’یااﷲ! تو معاف کرنے والا ہے، معافی چاہنے والے کو پسند کرتا ہے، مجھے بھی معاف فرما دے۔‘‘
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ سجدے میں تھے تو میں نے آپ ﷺ کے پاس جاکر کان لگایا تو آپ ﷺ یہ دعا پڑھ رہے تھے، مفہوم:
’’یااﷲ! میں تیرے عفو کی پناہ چاہتا ہوں تیری سزا سے، اور تیری رضا کی پناہ چاہتا ہوں تیرے غصہ سے، اور پناہ چاہتا ہوں تیری سختیوں سے، یااﷲ! میں آپ کی تعریف کا شمار نہیں کر سکتا، آپ کی ذات ایسی بلند و بالا ہے جیسے آپ نے بیان کی۔‘‘
صبح کو حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا نے جب حضور ﷺ سے ان کلمات کی تصدیق چاہی تو آپ ﷺ نے فرمایا تم خود بھی یاد کر لو اور دوسروں کو بھی یاد کرا دو، یہ کلمے مجھے حضرت جبرئیل علیہ السلام نے سکھائے ہیں اور فرمایا ہے کہ میں سجدے میں انھیں بار بار پڑھا کروں۔
Today News
مشرق وسطیٰ تنازع، درآمدی تیل پر انحصار کم کرنا ہوگا
کراچی:
مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع ایک بار پھر تیل کی قیمتوں میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال اور اتار چڑھاؤ کی نئی لہر پیدا کر رہا ہے۔
اگرچہ یہ تنازع بیرونی ہے، لیکن اس کے اثرات ملکی معیشت کے لیے خاصے اہم ثابت ہو سکتے ہیں،بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں کا ’’پٹرول بم‘‘ پاکستان کی معیشت پر شدید اثر ڈال رہا ہے کیونکہ اس سے نہ صرف مالیاتی توازن متاثر ہونے کا خدشہ ہے بلکہ بیرونی کھاتوں پر بھی دبائو بڑھ سکتا ہے۔
7 مارچ 2026 کو پٹرولیم لیوی میں نظرثانی کے بعد پٹرول پر یہ لیوی 100 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر چکی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے سے تجارتی خسارہ مزید بڑھے گا ،اندازہ ہے کہ ماہانہ درآمدی بل میں تقریباً 60 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوگا، جس سے کرنٹ اکائونٹ خسارہ مزید بگڑ جائے گا۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان، جس نے پہلے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے ایک فیصد سے کم رکھنے کی پیش گوئی کی تھی، اب مہنگائی اور بیرونی کھاتوں کے خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی پیش گوئی پر نظرثانی کر سکتا ہے۔
تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بالواسطہ اثرات کے باعث خوراک اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے سے مہنگائی کی شرح میں بھی اضافہ متوقع ہے۔
بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر، جو حالیہ عرصے میں غیر معمولی سطح تک پہنچ گئی تھیں، ان میں بھی غیر یقینی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے ،بین الاقوامی تجارتی مرکز کے Trademap.org کے مطابق 2024 میں عالمی سطح پر تجارت ہونے والی تقریباً 3 ٹریلین ڈالر مالیت کی معدنی مصنوعات میں سے 560 ارب ڈالر کی برآمدات خلیجی ممالک سے ہوئیں۔
ان میں سے تقریباً 210 ارب ڈالر کی برآمدات متحدہ عرب امارات اور قطر سے کی گئیں۔ قطر دنیا کا سب سے بڑا ایل این جی برآمد کرنے والا ملک ہے اور پاکستان نے 2024 میں قطر سے 3.5 ارب ڈالر سے زائد مالیت کی ایل این جی درآمد کی، جو اس کی مجموعی ایل این جی درآمدات کا تقریباً 90 فیصد بنتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ چین، جنوبی کوریا اور بھارت کے بعد پاکستان قطر کی ایل این جی کے اہم خریداروں میں شامل ہے۔ قدرتی گیس کی قیمتوں میں اضافہ کھاد کی صنعت کو بھی متاثر کرے گا اور اس کے نتیجے میں زرعی شعبہ اور خوراک کی قیمتوں کا استحکام بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں مجموعی تجارتی درآمدات میں ایندھن کی درآمدات کا تناسب بہت زیادہ ہے۔ جہاں پاکستان کی تجارتی ساخت بڑی حد تک ایندھن کی درآمدات پر منحصر ہے، وہیں دیگر علاقائی ممالک کی تجارت صنعتی اور پیداواری شعبوں سے جڑی ہوئی ہے جو آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں سے اتنی متاثر نہیں ہوتی۔
ان ممالک کے پالیسی سازوں کے پاس ایسے متبادل موجود ہیں جن کے ذریعے وہ مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے اثرات کو کم کر سکتے ہیں۔
اس کے برعکس پاکستان کو دوہری مشکل کا سامنا ہوگا کیونکہ ایک طرف قیمتیں بڑھیں گی اور دوسری جانب ایندھن کی قلت بھی پیدا ہو سکتی ہے۔
پاکستان میں بجلی کی پیداوار بھی بڑی حد تک درآمدی ایل این جی پر منحصر ہے۔ ورلڈ ڈیولپمنٹ انڈیکیٹرز کے مطابق پاکستان میں بجلی کی پیداوار کا 17 فیصد حصہ تیل سے حاصل ہوتا ہے جبکہ مشرق ایشیا اور بحرالکاہل کے ممالک میں یہ اوسط ایک فیصد سے بھی کم ہے ۔
خلاصہ یہ کہ ایک اور بڑا علاقائی تنازع پاکستان کے معاشی پالیسی سازوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آیا ہے، جو پہلے ہی متعدد داخلی مسائل سے نبرد آزما ہیں۔ ضروری ہے کہ درآمدی تیل پر انحصار کم کیا جائے اور توانائی کے ذرائع کو قابلِ تجدید اور مقامی متبادل سے تبدیل کیا جائے۔
مثال کے طور پر اب وقت آ گیا ہے کہ ایسی الیکٹرک گاڑیوں کو فروغ دیا جائے جو مقامی طور پر پیدا ہونے والی شمسی توانائی سے چارج ہو سکیں۔
مزید یہ کہ پٹرولیم لیوی میں اضافے سے حاصل ہونے والی آمدنی کو بجلی کے شعبے میں صلاحیت سے متعلق ادائیگیوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے ۔
Today News
کراچی، شہری کی فائرنگ سے ڈاکو ہلاک، ساتھی ملزمہ گرفتار، تیسرا ڈاکو فرار
کراچی:
شہر قائد میں راشد منہاس روڈ نجی اسکول کے قریب شہری کی فائرنگ سے ایک ڈاکو ہلاک ہوگیا ، ڈاکو کی ساتھی ملزمہ ڈاکو کو پولیس نے گرفتار کر لیا ، تیسرا ڈاکو موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔
تفصیلات کے مطابق سمن آباد کے علاقے راشد منہاس روڈ گلشن چورنگی سے سہراب گوٹھ کی جانب جاتے ہوئے نجی اسکول کے قریب فائرنگ سے ایک شخص زخمی ہوگیا۔
زخمی شخص کو چھیپا ایمبولینس کے ذریعے عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہوگیا۔
ایس ایچ او سمن آباد انسپکٹر زبیر اعوان کا کہنا ہے کہ مارا جانے والا شخص ڈاکو ہے ، واقعے کے مطابق موٹرسائیکل سوار دو ڈاکو اور ان کے ساتھی خاتون شہری کو اسلحہ کے زور پر روک رہے تھے جس پر شہری نے کچھ فاصلے پر جا کر اپنے لائسنس یافتہ پستول سے فائرنگ کر دی۔
جس کے نتیجے میں ایک ڈاکو مارا گیا جبکہ اس کا ساتھی ڈاکو موقع سے فرار ہوگیا ، ڈاکو ملزمہ قریب چھپ گئی ، پولیس نے حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے ملزمہ ڈاکو کو گرفتار کر لیا۔
مارے جانے والے ڈاکو کی شناخت 25 سالہ سلمان کے نام سے کی گئی جبکہ گرفتار ملزم کی شناخت نہا کے نام سے کی گئی ، تیسرے ڈاکو کی تلاش میں پولیس چھاپے مار رہے ہے ۔
-
Magazines1 week ago
Story Time: Culinary Disasters – Newspaper
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: THE RAMAZAN EXCEPTION – Newspaper
-
Entertainment2 weeks ago
Ali Ansari On Falling in Love With More Than One Person
-
Sports2 weeks ago
Samson’s 97 puts India into T20 World Cup semi-final against England – Sport
-
Magazines2 weeks ago
THE ICON INTERVIEW: THE FUTURE’S ALWAYS BRIGHT FOR HIM – Newspaper
-
Business2 weeks ago
Privatisation Commission board recommends Fauji Fertiliser’s inclusion in consortium that won PIA auction – Pakistan
-
Sports1 week ago
Bangladesh recall Litton, Afif for Pakistan ODI series – Sport
-
Entertainment1 week ago
Fans React to Nadia Khan’s Wrinkles in Filter-Free Video