Today News
افغانستان سے مذاکرات، پاکستان کا چین کو انکار
اسلام آباد:
پاکستان نے چین سے کہا ہے کہ وہ طالبان حکومت کے ساتھ عدم رابطہ کی اپنی موجودہ پالیسی جاری رکھے گا کیونکہ کابل حکومت کالعدم ٹی ٹی پی اور افغان سرزمین سے کام کرنے والے دیگر دہشت گرد گروپوں کی موجودگی پر اپنا موقف تبدیل کرنے میں ناکام ہے۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغانستان کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کیلیے پاکستان نے اپنے قریبی اتحادی بیجنگ کی تازہ ترین سفارتی کوششوں کو مسترد کر دیا ہے۔
چین نے حال ہی میں دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان بڑھتی کشیدگی کم کرنے کیلیے افغانستان کے لیے اپنے خصوصی ایلچی کو کابل اور اسلام آباد بھیج کر سفارتی کوششیں تیز کی ہیں۔
خصوصی ایلچی اس وقت افغانستان اور پاکستان کے درمیان ثالثی کی کوشش میں مصروف ہے۔چین کی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیر خارجہ وانگ ژی نے افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی سے بھی ٹیلی فون پر بات چیت کی اور صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
چین کو امید ہے کہ دونوں فریق صبرو تحمل کا مظاہرہ کریں گے اور جلد از جلد براہ راست ملاقات اورجنگ بندی کر کے تنازعات اور اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کریں گے۔
بیجنگ نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ وہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مفاہمت اور کشیدگی کو کم کرنے کے لیے فعال کوششیں جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔
باخبر ذرائع نے ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ پاکستان نے بحران کو کم کرنے کے لیے چین کی مخلصانہ کوششوں کا اعتراف کرتے ہوئے واضح کیا کہ کابل کے ساتھ معمول کی سفارتی کوششوں کی واپسی زمینی تبدیلیوں کے بغیر ممکن نہیں ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستانی حکام نے چین کو آگاہ کیا کہ اسلام آباد طالبان حکومت کے حوالے سے اپنی موجودہ پالیسی اپنانے سے پہلے ہی تمام سفارتی راستے ختم کر چکا ہے۔
پاکستان نے دو طرفہ چینلز کے ساتھ ساتھ دوست ممالک کے ذریعے ٹی ٹی پی اور دیگر عسکریت پسند گروپوں کو پناہ دینے والی طالبان حکومت پر تحفظات کا اظہار کیا ۔
تاہم ذرائع نے بتایا کہ چینی ایلچی اور پاکستانی حکام کے درمیان ملاقاتوں کے نتیجے میں اسلام آباد اس نتیجے پر پہنچا کہ طالبان قیادت نے اپنی پوزیشن تبدیل نہیں کی ۔
باخبرذرائع نے بتایا کہ طالبان حکام نے چینی سفیر کے سامنے اپنا دیرینہ مؤقف کو دہرایا کہ ٹی ٹی پی کا مسئلہ پاکستان کا اندرونی ایشو ہے، افغان سرزمین ہمسایہ ممالک کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی تاہم پاکستانی حکام نے طالبان حکومت کے اس دعوے کو مسترد کر دیاجس میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رپورٹس کو بھی بطور ثبوت شامل کیاگیا تھا۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان میں ٹی ٹی پی دہشت گردوں کی موجودگی اور سرگرمیوں کے حوالے سے اسلام آباد کے موقف کی تصدیق ہوتی ہے۔
ان حالات میں پاکستان نے چین کو آگاہ کیا کہ جب تک کابل اسلام آباد کے تحفظات کو دور کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات نہیں کرتا، بامعنی سفارتی کوششوں کی بہت کم گنجائش ہے۔
ہفتہ وار پریس بریفنگ میں دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے تصدیق کی کہ کچھ دوست ممالک کی جانب سے طالبان حکام کے ساتھ بات چیت کے مطالبات کے باوجود پاکستان افغانستان کے حوالے سے اپنی موجودہ پالیسی کو برقرار رکھے گا۔
ان کا کہناتھا کہ جہاں تک افغانستان کی صورتحال کا تعلق ہے، صورت حال جوں کی توں ہے۔ ثالثی کی کوششوں کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے افغانستان اور اپنے مذاکرات کاروں پر زور دیا ہے کہ ہمیں افغانستان کی جانب سے قابل تصدیق یقین دہانی کی ضرورت ہے کہ ان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہوگی چونکہ یقین دہانیاں نہیں کرائی گئیں اس لیے افغانستان کے حوالے سے موجودہ پالیسی کو جاری رکھا جائیگا۔
اس بات کا امکان ہے کہ جب کہ پاکستان اپنے موقف پر قائم ہے، عید کے دوران دشمنی میں عارضی وقفہ کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔
دریں اثنا ترجمان طاہراندرابی کا کہنا ہے کہ افغانستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں اور ان کی معاونت کرنے والے مراکز پرپاکستان کی جائز کارروائیوں کے بارے بھارتی موقف مضحکہ خیز ہے۔
افغانستان کے اندر دہشتگردوں کے ٹھکانوں کیخلاف اہداف جائز ہیں،افغان سر زمین سے فتنہ الخوارج اورفتنہ الہندوستان پاکستان میں دہشت گرد کارروائیاں کر رہے ہیں، بھارت افغانستان سمیت خطے میں تخریبی کردار ادا کر رہا ہے۔
بھارت پاکستان کیخلاف دہشتگردی کرنے سے باز آ جائے، ہندوتوا کی انتہا پسندانہ سوچ کے زیر اثر بھارت اپنے ملک میں اقلیتوں کو منظم انداز میں انکے حقوق سے محروم کر رہا ہے، اسلاموفوبیا کو فروغ دے رہا ہے۔
بھارت اقوام متحدہ کے منشور اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر پر غیرقانونی قبضہ جمائے ہوئے ہے اور اس علاقے میں ریاستی دہشت گردی کا مرتکب رہا ہے۔
Today News
ایران کے خلاف امریکا جنگ میں کتنے ارب ڈالر پھونک چکا ہے؟ امریکی ٹی وی پروگرام میں انکشاف
واشنگٹن:
ایران کے خلاف جاری جنگ امریکا کے لیے مہنگی پڑنے لگی ہے اور اب تک اس جنگ پر 12 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں جبکہ امریکی حکام نے حملوں میں مزید شدت لانے کا عندیہ دے دیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی نیشنل اکنامک کونسل کے ڈائریکٹر کیون ہیسیٹ نے امریکی ٹی وی پروگرام فیس دی نیشن میں انکشاف کیا کہ امریکا نے 28 فروری سے ایران کے خلاف شروع ہونے والی جنگ میں اب تک تقریباً 12 ارب ڈالر خرچ کیے ہیں۔
Kevin Hassett, Director of the US National Economic Council, said US military strikes on Iran have cost about $12 billion so far.
“The latest number I was briefed on was 12.” pic.twitter.com/kjq2sJpGTe
— Clash Report (@clashreport) March 15, 2026
پروگرام کی میزبان مارگریٹ برینن نے نشاندہی کی کہ جنگ کے پہلے ہی ہفتے میں صرف ہتھیاروں پر 5 ارب ڈالر سے زیادہ خرچ ہو چکے تھے تاہم کیون ہیسٹ اس سوال کا واضح جواب نہ دے سکے۔
دوسری جانب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے خبردار کیا ہے کہ ایران پر بمباری میں جلد ہی ڈرامائی اضافہ ہونے والا ہے، جس سے جنگ کے اخراجات مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
ادھر ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی کے بعد عالمی منڈیاں بھی شدید بے چینی کا شکار ہیں، کیونکہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل سپلائی اسی اہم آبی گزرگاہ سے گزرتی ہے۔
تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں امریکا خود بھی بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے، اس لیے ایران کی کارروائیوں سے امریکی معیشت کو ماضی کی طرح شدید نقصان نہیں پہنچے گا۔
دوسری طرف جنگ کے مقاصد پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ابتدا میں ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کرنے کی بات کر رہی تھی، بعد میں میزائل صلاحیت کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا گیا، جبکہ اب ایران کی تیل تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
Today News
نہال ہاشمی کا سیاسی سفر
جناب ممنون حسین گورنر سندھ کے منصب کا حلف اٹھا کر دفتر میں ابھی بیٹھے ہی ہوں گے کہ میرے ذہن میں ایک خیال آیا کہ کتنا اچھا ہو اگران کے پہلے انٹرویو کا موقع مجھے میسر آئے۔اس خیال نے مجھے آسودہ کیا ۔ اتنے میں فون کی گھنٹی بجی۔ دوسری طرف سے بے تکلف قہقہ بلند ہوا پھر پوچھا :’سب ٹھیک ہے، فاروق بھائی؟‘یہ نہال ہاشمی تھے۔ اِن کے اور میرے درمیان گفتگو اسی بے تکلفی سے ہوا کرتی تھی۔ میں نے بھی انھیں اپنا رٹا رٹایا جواب دیا: ’اب خیر، سب خیر۔نہال ہاشمی مزید کھلکھلائے پھر کہا کہ گورنر ہاؤس میں ہوں چلے آؤ۔
گورنر ہاؤس میں اس وقت وہ کہاں براجمان تھے، یہ تو ذہن میں نہیں، اتنا یاد ہے کہ باتوں کا سلسلہ ابھی جاری تھا کہ اے ڈی سی کا وہاں سے گزر ہوا۔ نہال نے ان سے کہا کہ یہ ہمارے دوست فاروق ہیں، گورنر صاحب کے انٹرویو کے لیے آئے ہیں۔ اے ڈی سی نے کہ جیسے ایسے دفاتر کے اہل کار کیا کرتے ہیں، کسی توقف کے بغیر جواب دیا، ان کا اپائنٹمنٹ تو نہیں ہے۔ ’اپائنٹمنٹ تو نہیں ہے لیکن یہ آئے ہوئے ہیں۔‘
سفید وردی میں ملبوس نوجوان نے میری طرف دیکھا پھر کہا کہ میں گورنر صاحب سے پوچھ کر آتا ہوں۔ نوجوان فوراً ہی پلٹا اور ہمیں لیتا ہوا گورنر کے چیمبر کی طرف روانہ ہوگیا۔ ہمارے ساتھ نہال ہاشمی تو تھے ہی، ایک صاحب اور بھی تھے۔ چلتے چلتے میں نے نہال سے پوچھا کہ یہ کیا کہانی ہے؟ انھوں نے بتایا کہ میں یہاں مبارک باد دینے کے لیے پہنچا تو آپ کی یاد آئی ، یوں میں نے آپ کا نمبر ملا دیا۔ کہانی کا باقی حصہ آپ کے سامنے ہے۔ شکر گزاری کے طور پر میں نے ان کے ہاتھ پر نرمی سے تھپکی دی اور انھیں بتایا جس وقت آپ کا فون آیا، میں یہی سوچ رہا تھا کہ کسی طرح گورنر صاحب کا انٹرویو ہو جائے تو لطف آ جائے۔
’دل کو دل سے راہ ہوتی ہے، فاروق بھائی!‘
نہال ہاشمی نے گورنر چیمبر میں داخل ہوتے ہوئے میرے کان میں سرگوشی کی۔ جانے قبولیت کی وہ کیسی گھڑی تھی کہ میری خواہش پوری ہوئی، صرف میری خواہش پوری نہیں ہوئی، اس واقعے کے ٹھیک ربع صدی بعد نہال ہاشمی اسی چیمبر میں آن بیٹھے ہیں اور میں سحری کے بعد پاکیزہ ماحول میں بیٹھا خوش دلی سے ان واقعات کی ترتیب کو یاد کر رہا ہوں۔
نہال ہاشمی سے میرے تعلق کا آغاز زیادہ خوش گوار نہیں تھا۔ تھر میں ترقیاتی کام کرنی والی کسی این جی او کی بے ضابطگی کی اطلاع مجھے ہوئی تو میں نے چھان بین کے بعد اسے شائع کر دیا۔ رپورٹ کی اشاعت سے کہرام تو مچا لیکن اس کے ساتھ ہی مجھے ایک نوٹس بھی موصول ہوا جس میں این جی او کی شہرت کو نقصان پہنچانے کی پاداش میں کروڑوں روپے ہرجانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ نوٹس بھیجنے والے وکیل کا نام نہال ہاشمی تھا۔ ان دنوں رپورٹنگ آسان نہ تھی۔رپورٹر کے پاؤں پکے بھی ہوتے تو اسے اپنی ساکھ کی فکر ہوتی۔ میں بھی اسی فکر میں پریشان تھا کہ برادر عزیز اصغر عمر سے ملاقات ہو گئی۔
یہ اصغر عمر کے کیرئیر کا ابتدائی دور تھا لیکن اس کے باوجود کورٹ رپورٹنگ میں ان کا نام گونج رہا تھا۔ کہنے لگے کہ اس میں فکر کی کیا بات ہے، یہ نوٹس تو ابھی واپس ہو جائے گا۔ کچھ دیر گزری ہو گی کہ ہم شاہراہِ فیصل کی کسی اونچی بلڈنگ کے مختصر سے دفتر میں بیٹھے چائے پی رہے تھے۔ چائے پیتے پیتے اصغر عمر نے نہال ہاشمی کو مخاطب کیا اور پوچھا:’پھر اس نوٹس کا کیا ہو گا، نہال بھائی؟‘ ’کون سا نوٹس؟ رات گئی، بات گئی۔‘
بات واقعی رات کی ظلمت میں گم کہیں ہو گئی اور نہال ہاشمی کے ساتھ تعلق استوار ہو گیا۔ کہاں میں اس سانولے سلونے وکیل سے طویل لڑائی کے منصوبے باندھ رہا تھا اور کہاں چائے کی ایک پیالی نے صورت حال ہی بدل ڈالی۔ اس کایا کلپ میں عزیز بھائی اصغر عمر کی معاملہ فہمی کو تو دخل تھا ہی لیکن نہال ہاشمی کی رواداری اور کشادہ دلی کو میں کیسے بھول سکتا ہوں؟ اس واقعے نے مجھے صرف نہال ہاشمی سے ہی متعارف نہیں کرایا بلکہ انسانی مزاج کو سمجھنے کا موقع بھی فراہم کیا۔
میری سمجھ میں یہ آیا انسان کو یک رخا نہیں ہونا چاہیے۔ رمز اس بات میں یہ ہے کہ نہال ہاشمی اگر ایک طرف مسلم لیگ ن کے کارکن تھے تو دوسری طرف وہ رفاہی سرگرمیوں کے لیے بائیں بازو کا رجحان رکھنے والی ایک نمایاں شخصیت کے ہم کار بھی تھے۔ وسیع المشربی کی یہ خوبی اس زمانے میں کم از کم کراچی کی حد تک معدوم ہو رہی تھی کیوں اس شہر میں ان دنوں الطاف حسین کی سیاست اور اخلاقیات کا چلن عام تھا۔
نہال ہاشمی کا سیاسی سفر میرے سامنے ہے۔ وہ اس زمانے میں مسلم لیگ ن کا حصہ بنے جب الطاف حسین کا سورج نصف النہار پر تھا۔ سیاست کے لیے لوگ ان کے دست حق پرست پر بیعت کرتے یا پھر گھر بیٹھ جاتے۔ نہال ہاشمی نے اس کے الٹ کیا اور اپنی بساط کے مطابق کھڑے رہے۔ اس میدان میں ان کا اصل کریڈٹ وفاداری ہے۔ سیاسی اونچی نیچ کی پروا کیے بغیر اپنے سیاسی عقیدے سے انھوں نے وفا کی، خاص طور پر ۲۰۱۴ء سے۲۰۱۸ ء تک کے پر آشوب زمانے میں جب انھوں نے اپنے قائد اور جماعت کے حق میں پوری قوت سے آواز بلند کی اور سینیٹر شپ قربان اور قید و بند کا سامنا کر کے اس کی قیمت ادا کی۔
یہی سبب ہے کہ مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف اور وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی متوسط طبقے کے اس عام کارکن کو یاد رکھا اور عزت سے نوازا۔ گورنر کی حیثیت سے نہال ہاشمی کے تقرر سے ہمارے کئی تصور ٹوٹے ہیں۔ اوّل یہ کہ بڑے مناصب صرف بڑے لوگوں کے لیے ہوتے ہیں اور دوم ،مسلم لیگ ن میں دوسری جماعتوں سے بڑھ کر ہوتے ہیں۔ گورنر کی حیثیت سے نہال ہاشمی کے تقررنے یہ تاثر کمزور کر دیا ہے۔
نہال ہاشمی کے گورنر بننے سے سندھ میں مسلم لیگ ن کے احیا کا امکان بھی پیدا ہو گیا ہے۔ یہ سلسلہ آگے بڑھنا چاہیے۔ سندھ میں ن لیگ کی تنظیم اور کارکن دونوں مایوسی کا شکار رہے ہیں۔ وہ خود کو نظر انداز کیا ہوا اور پچھڑا ہوا محسوس کرتے ہیں۔ اس وجہ سے ہر گزرتے وقت کے ساتھ سندھ میں اس جماعت کے اثر و نفوذ میں کمی ہوئی ہے۔ شاہ محمد شاہ، علی اکبر گجر اوردیگر لیگی کارکنوں اور راہ نماؤں نے ایسے حالات میں بھی ہمت نہیں ہاری ۔ وہ مسلسل کام کرتے رہے ہیں۔ خواجہ طارق نذیر کئی دہائیوں تک مسلسل متحرک رہنے کے بعد تقریباً گوشہ نشین ہو چکے ہیں۔ اسی طرح ناصر الدین محمود اور دیگر راہ نما خاموش ہیں یا کسی دوسری جانب دیکھ رہے ہیں۔ اس پس منظر میں گورنر کی حیثیت سے نہال ہاشمی کا تقرر مسلم لیگ ن سندھ کے لیے خوش آئند ہے۔ بہتر ہو کہ شاہ محمد شاہ، خواجہ طارق نذیر، علی اکبر گجر اور دیگر مخلص راہ نماؤں کو مرکز اور صوبے میں ذمے داریاں سونپی جائیں ۔ یوں یہ خوابیدہ جماعت سندھ میں ایک بار پھرطاقت پکڑ سکتی ہے۔
آخر میں گورنر صاحب کے لیے ایک ضروری مشورہ، صدر ممنون حسین مرحوم و مغفور نے خصوصی دل چسپی لے کر انجمن ترقیِ اردو کی عمارت تعمیر کرائی تھی اور اس ادارے کو تباہی سے بچایا تھا۔ بھائی نہال ہاشمی کو اپنے پیش رو کے اس ورثے کی حفاظت کرنی ہے اور قومی زبان کی خدمت کرنے والے ادارے کے سر پر دست شفقت رکھنا ہے۔میں ذاتی طور پر اُن سے بس یہی چاہتا ہوں۔
Today News
پاکستان دوراہے پر! – ایکسپریس اردو
تاریخ شاہد ہے کہ دنیا بھر میں ہونے والی جنگیں انسانیت کے حق میں کبھی اچھی ثابت نہیں ہوئیں بلکہ ہر جنگ کے بعد تباہی و بربادی کی نئی داستان رقم ہوتی ہے۔ شکست و فتح سے قطع نظر جنگوں سے کبھی مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ یہ نت نئے مسائل کو جنم دینے کا سبب بنتی ہیں۔
دنیا کے طاقت ور حکمرانوں نے اپنی انا کی تسکین اور تکبر و گھمنڈ کے نشے میں چور ہو کر اپنے سے کمزور ملکوںو ریاستوں پر ظلم و جبر کے پہاڑ توڑے اور اپنا تسلط قائم کرنے اور انھیں اپنا دست نگر بنانے کے لیے مہلک ترین ہتھیار استعمال کیے اور خون کی ہولی کھیلنے سے دریغ نہ کیا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران امریکا نے جاپان کے دو شہروں ہیروشیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم گرا کر زمین پر جو قیامت صغریٰ برپا کی جاپانی قوم کئی دہائیوں تک اس کے مضر اثرات سے باہر نہ آ سکی۔ نصف صدی سے زائد عرصہ گزر گیا لیکن امریکا پر کمزور ملکوں کو تسخیر کرنے کا جنون آج بھی سوار ہے، ویت نام، سیریا، افغانستان، عراق، لیبیا، شام کے بعد اب ایران اس کے نشانے پر ہے۔ بدقسمتی سے امریکا پر صدر ٹرمپ جیسے شخص کی حکمرانی ہے جس کے قول و فعل میں اتنے تضادات ہیں کہ اعتماد و اعتبار کرنا آسان نہیں۔ اس پہ مستزاد ٹرمپ کے مشیران ووزرا ہیں جو انھیں بہکانے اور اکسانے میں ایک دوسرے پر بازی لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔
ایران پر حملے کے حوالے سے صدر ٹرمپ کا یہ بیان ریکارڈ پر موجود ہے کہ انھیں ان کے مشیروں اور وزیروں نے بتایا کہ ایران امریکا پر حملے میں پہل کر سکتا ہے۔ اس خطرے کے پیش نظر ایران پر ہم نے حملہ کیا۔ جنگ کا دائرہ اب پھیلتا جا رہا ہے۔
ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے آڈیو بیان میں دو ٹوک اور صاف الفاظ میں کہا ہے کہ ایران اپنے ہر اس شخص کے خون کا حساب لے گا جو حالیہ جنگ میں شہید ہوا ہے۔ ایرانی قوم کو دبایا نہیں جا سکتا۔ دشمن پر دباؤ ڈالنے کے لیے آبنائے ہرمز بند رہے گی انھوں نے مزید کہا کہ ہم خطے کے پڑوسی ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات چاہتے ہیں تاہم مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈے بند کیے جائیں بصورت دیگر ان پر حملوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔ ادھر صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران نے امریکی مطالبات تسلیم نہ کیے تو نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے خلاف کارروائی کر سکتے ہیں کیوں کہ میں ان کے انتخاب سے خوش نہیں ہوں۔
امریکا اور ایران ہر دو جانب سے قیادت کے سخت گیر بیانات اور غیر لچکدار رویے کے باعث یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ آنے والے دنوں میں جنگ کی شدت اور تباہ کاریوں میں اضافہ ہو سکتا ہے، امریکا نے ایران پر شدید ترین حملے جاری رکھنے کی دھمکی دی ہے۔ اور B-2 طیارے حملے کے لیے روانہ کر دیے ہیں، مبصرین و تجزیہ نگار اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ اگر صدر ٹرمپ ایران میں اپنے مطلوبہ اہداف جلد حاصل نہ کرسکے اور ایران کی مزاحمت تادیر جاری رہی، جس کے امکانات بعیداز قیاس نہیں، تو وہ اپنی فتح کو ہر صورت یقینی بنانے کے لیے محدود پیمانے پر ایران پر ایٹمی حملہ بھی کر سکتے ہیں جو تباہی و بربادی کی یقینا ایک نئی خون آشام داستان رقم کرے گا، ٹرمپ نے پانچ ہزار فوجی مشرق وسطیٰ بھیجنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔
دنیا بھر کے رہنما صدر ٹرمپ سے ایران کے خلاف جنگ ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ جی 7 گروپ نے امریکا سے جنگ فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ روس اور چین اگرچہ سفارتی سطح پر جنگ رکوانے کے لیے اپنی غیر مرئی کوشش کر رہے ہیں لیکن اسرائیل و امریکا کی ہٹ دھرمی کے باعث چین و روس کی کاوشیں ثمر آور ثابت نہیں ہو رہی ہیں۔ روس یوکرین کے ساتھ جنگ میں الجھا ہوا ہے اور گزشتہ کئی ماہ سے صدر ٹرمپ روس سے یوکرین کے خلاف جنگ رکوانے کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن پیوٹن نے ٹرمپ کو مثبت جواب نہیں دیا۔ غالباً اسی باعث روس ایران امریکا جنگ رکوانے میں موثر کردار ادا نہیں کر پا رہا ہے۔ اس ضمن میں پاکستان کی پوزیشن بھی خاصی نازک ہے۔
اگرچہ پاکستان نے ایران پر امریکی حملے کی بھرپور مذمت کی ہے تاہم حکومتی سطح پر امریکی صدر ٹرمپ سے براہ راست ایسا کوئی مطالبہ اب تک سامنے نہیں آیا۔ البتہ سفارتی سطح پر مشرق وسطیٰ کی جنگی صورت حال کی شدت کو کم کرنے کے لیے حکومت کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ بالخصوص سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ تعلقات اس جنگ کے باعث مشکلات کا شکار ہیں۔
چوں کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان چند ماہ قبل ایک سیکیورٹی دفاعی معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت دونوں ممالک ایک دوسرے کا دفاع کرنے کے پابند ہیں۔ سعودی عرب میں بھی قائم امریکی فوجی اڈوں پر ایران مسلسل بمباری کر رہا ہے۔ بقول مجتبیٰ خامنہ ای مشرق وسطیٰ کے تمام ممالک میں موجود فوجی اڈے بند کیے جانے تک حملے جاری رہیں گے۔ سعودی عرب پاکستان کی جانب امید بھری نظروں سے دیکھ رہا ہے کہ وہ حملے روکنے کے لیے ایران پر دباؤ ڈالے تاکہ سعودی عرب ایرانی حملوں سے محفوظ رہ سکے۔
-
Magazines1 week ago
Story Time: Culinary Disasters – Newspaper
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: THE RAMAZAN EXCEPTION – Newspaper
-
Entertainment2 weeks ago
Ali Ansari On Falling in Love With More Than One Person
-
Sports2 weeks ago
Samson’s 97 puts India into T20 World Cup semi-final against England – Sport
-
Business2 weeks ago
Privatisation Commission board recommends Fauji Fertiliser’s inclusion in consortium that won PIA auction – Pakistan
-
Magazines2 weeks ago
THE ICON INTERVIEW: THE FUTURE’S ALWAYS BRIGHT FOR HIM – Newspaper
-
Sports1 week ago
Bangladesh recall Litton, Afif for Pakistan ODI series – Sport
-
Entertainment1 week ago
Fans React to Nadia Khan’s Wrinkles in Filter-Free Video