Connect with us

Today News

کراچی، شہری کی فائرنگ سے ڈاکو ہلاک، ساتھی ملزمہ گرفتار، تیسرا ڈاکو فرار

Published

on



کراچی:

شہر قائد میں راشد منہاس روڈ نجی اسکول کے قریب شہری کی فائرنگ سے ایک ڈاکو ہلاک ہوگیا ، ڈاکو کی ساتھی ملزمہ ڈاکو کو پولیس نے گرفتار کر لیا ، تیسرا ڈاکو موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق سمن آباد کے علاقے راشد منہاس روڈ گلشن چورنگی سے سہراب گوٹھ کی جانب جاتے ہوئے نجی اسکول کے قریب فائرنگ سے ایک شخص زخمی ہوگیا۔

زخمی شخص کو چھیپا ایمبولینس کے ذریعے عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہوگیا۔ 

ایس ایچ او سمن آباد انسپکٹر زبیر اعوان کا کہنا ہے کہ مارا جانے والا شخص ڈاکو ہے ، واقعے کے مطابق موٹرسائیکل سوار دو ڈاکو اور ان کے ساتھی خاتون شہری کو اسلحہ کے زور پر روک رہے تھے جس پر شہری نے کچھ فاصلے پر جا کر اپنے لائسنس یافتہ پستول سے فائرنگ کر دی۔

جس کے نتیجے میں ایک ڈاکو مارا گیا جبکہ اس کا ساتھی ڈاکو موقع سے فرار ہوگیا ، ڈاکو ملزمہ قریب چھپ گئی ، پولیس نے حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے ملزمہ ڈاکو کو گرفتار کر لیا۔ 

مارے جانے والے ڈاکو کی شناخت 25 سالہ سلمان کے نام سے کی گئی جبکہ گرفتار ملزم کی شناخت نہا کے نام سے کی گئی ، تیسرے ڈاکو کی تلاش میں پولیس چھاپے مار رہے ہے ۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ارکان پارلیمنٹ کے اثاثے خفیہ کیوں؟

Published

on


پارلیمنٹ نے اپنے ارکان کے اثاثے خفیہ رکھنے کا جب فیصلہ کیا تھا تو ملک کے عوامی و سماجی حلقوں اور پارلیمنٹ سے باہر کی اپوزیشن نے پارلیمنٹ کے اس فیصلے پر اعتراض کیا تھا اور ارکان پارلیمنٹ کے اثاثے عوام سے چھپانے کے اس پارلیمنٹ کے فیصلے کی مذمت کی تھی جس کے بعد اب عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے بھی پارلیمنٹ کے ارکان کے اثاثے خفیہ رکھنے پر اعتراض کر دیا ہے اور اس ترمیم کو واپس لینے کا کہہ دیا ہے۔

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کے قانون کے مطابق پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کے نومنتخب ارکان کو اپنے اثاثے تحریری طور فراہم کرنا ضروری ہوتا ہے جس کے بعد اب بھی ہر سال ارکان پارلیمنٹ و اسمبلی اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے قانونی طور پر پابند ہوتے ہیں مگر ہر سال ہوتا یہ ہے کہ ارکان وقت پر اثاثوں کی تفصیلات فراہم نہیں کرتے جس پر الیکشن کمیشن ان کی رکنیت معطل کر دیتا ہے اور معطل ارکان کے نام اشاعت کے لیے میڈیا کو فراہم کر دیے جاتے ہیں اور معطل ارکان جن میں وزیر و مشیر بھی شامل ہوتے ہیں کو اثاثوں کی تفصیلات فراہم کرنے کا نیا موقعہ دیا جاتا ہے جس کے بعد ارکان اپنی بحالی کے لیے اثاثے جمع کرانا شروع کرتے ہیں تو ان کی رکنیت بحال کرنے کا سلسلہ الیکشن کمیشن شروع کرتا ہے۔

ارکان پارلیمنٹ و اسمبلی کی رکنیت معطلی اور بحالی کوئی نئی بات نہیں بلکہ سالوں سے یہ ہوتا آ رہا ہے الیکشن کمیشن کی طرف سے معطلی کے باعث معطل ارکان اجلاسوں میں شریک نہیں ہو سکتے اور انھیں تنخواہ و مراعات بھی نہیں ملتیں تو وہ اس طرف متوجہ ہوتے ہیں اور اثاثے مجبوری میں انھیں ظاہر کرنا پڑتے ہیں تاکہ معطلی ختم اور بحالی کا نوٹیفکیشن جاری ہو سکے اور وہ ان مراعات کے حق دار بن سکیں جو قانونی طور ان کا حق بنتا ہے۔الیکشن کمیشن آف پاکستان نے آئی ایم ایف کو آگاہ کر دیا ہے کہ وہ اس سلسلے میں کسی صورت شفافیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا مگر جب حکومت اور پارلیمنٹ اس سلسلے میں کوئی فیصلہ کرے گی تو الیکشن کمیشن بھی مجبور ہو جائے گا کیونکہ وہ بھی قانون کا پابند ہے۔

حکومت کے لا ڈویژن نے بھی آئی ایم ایف کو بتایا ہے کہ حکومت نے اب تک ان ترامیم کی حمایت نہیں کی ہے جنھیں پیپلز پارٹی کے ارکان قومی اسمبلی سید نوید قمر اور شازیہ مری نے متعارف کرایا تھا جو نجی قانون سازی کے تحت ہوا تھا۔ واضح رہے کہ بعد میں قومی اسمبلی میں الیکشنز ایکٹ 2017 میں ترامیم کے حق میں مسلم لیگ (ن) نے بھی ووٹ دیا تھا تاکہ قانون سازوں کے اثاثوں اور واجبات کو عوام سے خفیہ رکھا جا سکے۔

آئی ایم ایف کو یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سینیٹ نے اب تک ان ترامیم کی منظوری نہیں دی جس کی وجہ سے یہ ترامیم قانون کا حصہ نہیں بن سکی ہیں۔واضح رہے کہ الیکشن کمیشن منتخب ارکان کے فراہم کردہ اثاثوں کی تفصیلات میڈیا کو فراہم کرتا ہے تو انھیں پڑھنے والے عوام ہنستے ہیں اور سر پکڑ لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے ملک میں اتنے غریب ارکان پارلیمنٹ، وزیر اور وزیر اعظم بھی موجود ہیں جن کے اپنے نام پر کوئی گھر ہے نہ گاڑی اور وہ جس گھر میں رہتے ہیں یا گاڑی استعمال کرتے ہیں وہ ان کی اپنی نہیں بلکہ بیوی، بیٹوں، بیٹیوں، بھائیوں و عزیزوں کے نام ہیں جنھیں وہ اپنے ذاتی اثاثوں میں ظاہر کرنے کے پابند نہیں۔ ارکان پارلیمنٹ اور منتخب ارکان اسمبلی کی حیثیت سے انھیں حکومت مراعات دیتی ہے جو سرکاری ہوتی ہیں اور ان سرکاری مراعات کا جن میں گھر، گاڑیاں و دیگر سہولتیں ہوتی ہیں ان کا وزیر اعظم، وزیر، مشیر، اسپیکرز، چیئرمین سینیٹ اور قائمہ کمیٹیوں کے ارکان بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں۔

ہر رکن پارلیمنٹ اور اسمبلی وزیر و مشیر بننا چاہتا ہے مگر قانونی طور پر ایسا ممکن نہیں ہے پھر بھی ہر حکومت اپنوں کو نوازنے کی کوشش کرتی ہے اور وہ اپنے تمام حامیوں کو نہیں نواز سکتی پھر بھی اپنوں کو سرکاری مراعات فراہم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے تاکہ کوئی ناراض نہ ہو۔ پاکستان میں تو یہ بھی ہوا ہے کہ بلوچستان میں صرف ایک رکن اپوزیشن میں تھا اور باقی تمام ارکان مختلف حیثیتوں میں حکومت میں شامل تھے۔اٹھارہویں ترمیم میں یہ پابندی لگائی گئی تھی کہ اسمبلیوں کے ارکان کی تعداد سے کابینہ بنے گی مگر پھر بھی اس قانون پر عمل نہیں ہوا۔ ہر حکومت نے اپنوں کو مختلف عہدے دے کر مالی فوائد پہنچائے۔

ایمانداری کے دعویدار پی ٹی آئی کے وزیر اعظم نے جو خود پہلی مرتبہ اقتدار میں آئے تھے انھوں نے اپنے عزیزوں کو نوازنے میں کسر نہیں چھوڑی تھی بلکہ غیر ممالک سے بھی اپنے دوستوں کو ہلا کر حکومتی عہدے دیے تھے۔پیپلز پارٹی اپنے حامیوں کو نوازنے کا دیگر پارٹیوں سے زیادہ نوازنے کا ریکارڈ رکھتی ہے۔ اثاثے خفیہ رکھنے کی ترمیم بھی پی پی ارکان نے کرائی تھی تاکہ عوام کو ان کے اثاثوں کا پتا نہ چل سکے۔ سرکاری مراعات تو اثاثوں میں ظاہر نہیں ہوتیں اس لیے ذاتی دولت گھر، سونا، گاڑیاں، ذاتی اثاثے ہوتے ہیں مگر اکثر ارکان ذاتی اثاثے بھی اپنے ظاہر نہیں کرتے کہ نیب کی پکڑ میں نہ آ جائیں۔ کیسے ممکن ہے کہ کسی رکن پارلیمنٹ و اسمبلی کے پاس اپنا گھر اور گاڑی نہ ہو مگر وہ ظاہر نہیں کیے جاتے اور وہ بھی عوام سے چھپانے کے لیے ترمیم منظور کرائی گئی جس پر آئی ایم ایف نے بھی اعتراض کیا ہے جو بالکل جائز ہے۔ عوام کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے منتخب نمایندے کے پاس کتنا مال تھا اور منتخب ہو کر اس کے پاس کتنا مال آ گیا مگر پوچھنے کا عوام کو حق نہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

دبئی ایئرپورٹ کے قریب ڈرون حملہ، ٹینکر کو آگ لگ گئی، پروازیں عارضی طور پر معطل

Published

on



دبئی:

دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب ڈرون حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی جس کے باعث ایئرپورٹ پر ہنگامی صورتحال پیدا ہوگئی اور پروازوں کی لینڈنگ عارضی طور پر معطل کر دی گئی۔

دبئی میڈیا آفس کے مطابق ڈرون سے متعلق واقعے کے بعد ایئرپورٹ کے اطراف میں ایک ٹینکر کو آگ لگ گئی جس پر فوری طور پر ایمرجنسی اداروں نے قابو پانے کے لیے کارروائی شروع کر دی۔

حکام کا کہنا ہے کہ آگ بجھانے کا عمل جاری ہے اور شہریوں کی حفاظت کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

دبئی میڈیا آفس کے مطابق واقعے میں اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم احتیاطی تدابیر کے تحت ایئرپورٹ پر آنے والی پروازوں کی لینڈنگ عارضی طور پر روک دی گئی ہے۔

دبئی آنے والی پروازوں کو اس وقت ایئرپورٹ سے دور فضا میں ہولڈنگ پیٹرن میں رکھا گیا ہے۔

دوسری جانب سعودی اسٹیٹ ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک گھنٹے کے دوران 34 ڈرون مار گرائے گئے ہیں۔

حکام کے مطابق صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور جلد فضائی آپریشن بحال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

گریٹر اسرائیل کا دیباچہ – ایکسپریس اردو

Published

on


امریکی سرپرستی میں اسرائیل کی ایران پر دن رات بارود کی بارش اور سفاکانہ حملوں، ایران کی مشرق وسطی کے ممالک میں موجود امریکی تنصیبات اور فوجی اڈوں پر ڈرون اور میزائل حملے، پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو اگر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی اور ایک پاکستانی کی نظر سے دیکھیں تو ساری گتھیاں سلجھ جائیں گی۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ آخر ایران سے ایسا کونسا جرم سرزد ہوا جس کی سزا دینے کے لیے دنیا کے ٹھیکیدار ان پر رات کی تاریکی اور دن کی روشنی میں آگ برسا رہے ہیں۔

اسرائیل اور امریکا کی نظر میں ایران کے جرائم تو بہت ہیں مگر دنیا کو بتایا گیا کہ ایران کو مہلک ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکنے کے لیے یہ حملہ کیا گیا۔ اگر ایٹمی صلاحیت حاصل کرنا اور ایٹم بم بنانا جرم ہے تو امریکا اور اسرائیل سمیت کئی ممالک یہ جرم بہت پہلے کرچکے ہیں۔ دنیا کی تاریخ میں پہلی بار امن کے خود ساختہ ٹھیکیدار ڈونلڈ ٹرمپ کا امریکا ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرا کر لاکھوں انسانوں کو صفحہ ہستی سے مٹا کر انسانیت دشمن ریاست اور مجرم اعظم ثابت ہوچکا ہے۔ ایران ایٹم بم بنا بھی رہا ہے تو کس قانون کی بنیاد پر وہ ایران پر چڑھائی کر سکتے ہیں؟

حملہ آور تسلیم کر چکے ہیں کہ ابھی تک ایران نے ایٹمی صلاحیت حاصل نہیں کی اور ایران ایٹم بم نہ بنانے کا وعدہ بھی کر رہا ہے مگر ایٹم بم رکھنے اور گرانے والے ایران پر ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش کے جرم کی پاداش میں حملہ آور ہیں۔ تمام مذاہب، معاشرتی اقدار اور اخلاقیات ہر کسی کو اپنی حفاظت و دفاع کا حق دیتے ہیں۔ ہر وہ ہتھیار جو جان و مال کے تحفظ اور دشمنوں کے شر سے اپنے آپ کو بچانے کے لیے ضروری ہو وہ بنانا اور خریدنا بنیادی حقوق میں آتا ہے تو ایران کی یہ کوشش قابل سزا جرم کیسے بن گئی؟ ہماری نظر میں ایران کے جرائم میں سرفہرست مسلمان ریاست ہونا، فلسطین و غزہ کے مظلومین کی حمایت اور اسرائیل کے سامنے نہ جھکنے سے انکار ہے۔

مشاہدے، منطق اور سائنسی نقطہ نظر سے چیزیں اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہے۔ جیسے دن، رات اور رات دن سے، روشنی تاریکی اور تاریکی روشنی سے، ٹھنڈا گرم اور گرم ٹھنڈے سے۔ اسی طرح ظالم مظلوم اور مظلوم ظالم سے پہچانا جاتا ہے۔ میرے خیال میں اس پر اجماع امت ہے کہ اسرائیل اور امریکا اسلام اور مسلمان دشمن ہونے کے علاوہ امن عالم کے لیے خطرناک اور ہر فساد کی جڑ ہے اور ان دونوں سے لمحہ موجود میں نبرد آزما صرف ایران ہے جو ایران کا حق پر ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ پھر کوئی منصف مزاج انسان حق و باطل کی لڑائی میں غیرجانبدار کیسے رہ سکتا؟

غیر جانبداری منافقت کا دوسرا نام ہے۔ معرکہ حق و باطل میں حق کا ساتھ دینا واجب ہے، اس لیے ایران اسرائیل جنگ میں ہمیں مظلوم ایران کے ساتھ اور ظالم امریکا و اسرائیل کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا۔ اگر عقیدے کی عینک اتار کر ہم اس جنگ کو ایک پاکستانی کی نظر سے دیکھیں تو ہر ذی شعور انسان کو ایران مظلوم اور حق پر جب کہ اسرائیل اور امریکا ظالم، غاصب، جابر اور باطل نظر آئے گا، پھر ہم اس معرکہ حق و باطل میں غیر جانبدار رہ کر باطل، ظالم و جابر اسرائیل اور امریکا کی خاموش حمایت کیوں کریں۔

ایسا اکثر غیر جانبداری کے پیچھے چھپ کر کیا جاتا ہے مگر یاد رکھیں کہ معرکہ حق و باطل میں غیر جانبداری منافقت کا دوسرا نام ہے۔ بحیثیت پاکستانی اس جنگ کو دیکھیں تو رب کعبہ کی قسم کہ یہ ہماری بقا اور پاکستان کے دفاع کی جنگ ہے ہمیں آج نہیں تو کل اسے لڑنا پڑے گا۔ خدانخواستہ ایران ہار گیا تو پاکستان کا وہ ازلی دشمن اسرائیل ہمارے سر پر بیٹھ جائے گا جو ماضی میں ہندوستان کے ساتھ مل کر ہماری ایٹمی تنصیبات تباہ کرنے کے لیے حملے کی کوشش کرچکا ہے مگر اللہ رب العزت کے فضل و کرم سے دونوں کو منہ کی کھانی پڑی تھی۔ مئی 2025ء میں اسرائیل کی بھرپور معاونت کے باوجود پاکستانی افواج کے ہاتھوں ہندوستان کی شکست فاش جس نے نریندر مودی کو سرنڈر موذی بنا دیا اور دنیا کو منہ دیکھانے کے قابل نہیں رہا دراصل و درحقیقت اسرائیل کی شکست ہے۔

عالمی امن ایوارڈ نہیں “جنگی جرائم کے عالمی ایوارڈ” کا حقیقی حقدار ٹرمپ پاکستانی فضائیہ کے ہاتھوں مئی کے معرکہ حق میں ہندوستان کے گرائے گئے رافیل طیاروں کی تعداد کو 6 مانے یا 12 اس سے فرق نہیں پڑتا اور نہ ہمیں اس پر خوش ہونا چاہیے کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ ساتھی، اتحادی ہندوستان اور اسرائیل کا ہے ہمارا نہیں۔ ہمارے عقیدے اور رسول اللہﷺ کی احادیث کی روشنی میں صہیونی ہمارے ازلی و ابدی دشمن تو ہیں ہی مگرپاکستان تو ریاستی، مملکتی اور بابائے قوم محمد علی جناح کی وضع کردہ پالیسی کے مطابق اسرائیل کو تسلیم ہی نہیں کرتا تو ایران سے بدظن بعض پاکستانی احباب ذرا راہنمائی فرمائیں کہ اس جنگ میں بحیثیت پاکستانی، ایران اور اسرائیل کی جنگ میں ایران کا ساتھ دینا چاہیے یا خاموش رہ کر امریکا اور اسرائیل کا؟

 ایران سے بدظن احباب سے اتنا کہوں گا۔ اس جنگ میں ایران کی مخالفت نہیں غیر جانبدار رہنا اسرائیل اور امریکا کا ساتھ دینے کے مترادف ہوگا جو یقیناً کوئی مسلمان یہ نہیں چاہے گا۔ تو خدا کے لیے ایران پر حملہ غزہ کے پھول اور کلیوں جیسے بچوں کے قاتل صہیونی درندوں کی گریٹر اسرائیل اور لاکھوں مسلمانوں کے قاتل امریکا کی جنونی جنگ کو عقیدے کی جنگ نہ بنائیں یہ مسلمان ممالک کو نیست و نابود کرنے کا ایک طویل المدتی منصوبہ ہے جس کے کئی مراحل میں ناعاقبت اندیش مسلمان حکمرانوں کی وجہ سے یہود و ہنود کو کامیابی حاصل ہو چکی ہے۔

 ایران پر امریکی اسرائیلی یلغار گریٹر اسرائیل کے منصوبے کا دیباچہ اور سرنامہ ہے جس میں پہلے ایران، عراق اور ترکیہ سے گریٹر کردستان، پھر پاکستان اور ایران سے گریٹر بلوچستان اور پھر پاکستان اور افغانستان سے گریٹر پختونستان برآمد ہوگا تو اس کے بعد گریٹر اسرائیل بنے گا۔ اس جنگ کو امریکا، اسرائیل اور ایران کی جنگ نہ سمجھیں یہ پاکستان سمیت بلکہ پوری امت مسلمہ کی بقا کی جنگ ہے مگر سادہ لوح مسلمان شیعہ سنی کے چکر میں اسے عقیدے کی جنگ سمجھ کر اس سے لاتعلق ہو رہے ہیں اور امریکا اسے مذہبی ٹچ کے ساتھ اور اسرائیل اسے گریٹر اسرائیل کا دیباچہ سمجھ کر لڑ رہا ہے۔

ٹرمپ کے کندھوں پر مخصوص کلٹ کے پادریوں اور مذہبی لیڈروں کا دست شفقت رکھنا اور جنگ میں کامیابی کے لیے اجتماعی دعاؤں نے صورتحال واضح کر دی کہ یہ درحقیقت مسلمانوں کے خلاف عالمی جنگ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں رہتا کہ یہ جنگ آج نہیں تو کل صرف ایران نہیں پورے عالم اسلام کے خلاف لڑی جائے گی، جس کے لیے کئی دہائیوں سے یہود و ہنود تیاری کر رہے ہیں۔

ایران عراق جنگ، مشرق وسطیٰ کے ممالک میں امریکی فوجی اڈے، ایران عراق جنگ، افغانستان، عراق پر امریکی یلغار، پاک افغان کشیدگی اور اب ایران پر اسرائیل اور امریکا کی مشترکہ یلغار، مشرق وسطیٰ کے اسلامی ممالک کو ایران کے ساتھ دست وگریبان اور ایک دوسرے پر حملہ آور کروانا اس منصوبے کی کڑیاں ہیں۔ اس لیے پاکستان، افعانستان سمیت تمام اسلامی ممالک باہمی اختلافات ختم اور ہوش کے ناخن لے کر اس جنگ کو عقیدے کی جنگ بنانے کی بجائے عقل و شعور اور فراست کے ساتھ امت کی وحدت کے لیے عملی اقدامات کریں اور عالم کفر کے شر سے امت مسلمہ کو محفوظ رکھنے کے لیے عملی اقدامات کریں ورنہ تاریخ معاف نہیں کرے گی۔





Source link

Continue Reading

Trending