Connect with us

Today News

شب قدر کے فضائل و اعمال

Published

on


’’امام مالکؒ فرماتے ہیں کہ انھوں نے ایک معتبر اور نیک عالم سے یہ بات سنی کہ رسول اﷲ ﷺ کو اگلے لوگوں کی عمریں بتلائی گئیں جتنا اﷲ کو منظور تھا تو آپؐ نے اپنی امت کے لوگوں کی عمروں کو کم سمجھا اور یہ خیال کیا کہ میری امت کے لوگ (اتنی سی عمر میں) ان کے برابر عمل نہ کر سکیں گے تو اﷲ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو شب قدر عطا فرمائی جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔‘‘ (موطا امام مالک)

ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک دن بنی اسرائیل کے ایک شخص کا ذکر فرمایا کہ وہ ایک ہزار مہینے تک اﷲ کے راستے میں جہاد کرتا رہا۔ صحابہ کرامؓ کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا (ہماری عمریں تو اس کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہیں) اس پر اﷲ تعالیٰ نے شب قدر عطا فرمائی جو ایک ہزار مہینوں سے افضل اور مرتبہ میں بڑھی ہوئی ہے۔

ایک اور حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرامؓ کے سامنے حضرت ایوب، حضرت زکریا، حضرت حزقیل اور حضرت یوشع علیہم السلام، ان چار حضرات کا ذکر فرمایا کہ یہ حضرات اسّی اسّی سال اﷲ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف رہے۔ اور پلک جھپکنے کے برابر بھی اﷲ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی اس پر صحابہ کرامؓ کو تعجب اور رشک ہُوا، اﷲ تعالیٰ نے رحم فرمایا اور شب قدر کا عظیم الشان تحفہ عطا فرمایا اس کے بعد حضرت جبرئیل علیہ السلام تشریف لائے اور سورۂ قدر سنائی جس کا ترجمہ یہ ہے:

’’بے شک! ہم نے قرآن مجید کو شب قدر میں نازل کیا ہے اور آپ کو کچھ معلوم ہے کہ شب قدر کیسی بڑی چیز ہے؟ شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اس رات میں فرشتے اور روح القدس (جبرئیل علیہ السلام) اپنے پروردگار کے حکم سے ہر امر خیر کو لے کر (زمین کی طرف) اترتے ہیں، (وہ رات سراپا) سلام ہے وہ رات (انھی برکتوں کے ساتھ) طلوعِ فجر تک رہتی ہے۔‘‘ (بیان القرآن)

گویا اﷲ تعالیٰ نے یہ بات واضح فرما دی کہ ہمارے نزدیک عمر کی کمی زیادتی کوئی معنی نہیں رکھتی میں اپنی قدرت سے ایک ہی رات کے دامن کو اتنا وسیع کر سکتا ہوں کہ اس کے مقابلے میں ہزار مہینے بھی کوئی حقیقت نہیں رکھتے۔

حق تعالیٰ نے امت محمدیہ ﷺ پر کتنا بڑا انعام فرمایا یہ سرکار دو عالم ﷺ کی غلامی کا صدقہ ہے۔

اس سورہ کا نام سورۂ قدر ہے اس میں شب قدر کی چار خصوصیات ذکر کی گئی ہیں۔

نزول قرآن۔ نزول ملائکہ۔ ہزار مہینوں سے زیادہ فضیلت۔ صبح صادق تک خیر و برکت امن و سلامتی کی بارش ہوتی رہتی ہے۔

حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ شب قدر میں جبرئیل علیہ السلام ملائکہ کی ایک جماعت کے ساتھ اترتے ہیں (یعنی زمین پر) اور ہر اس شخص کے لیے جو (اس رات میں) کھڑے یا بیٹھے اﷲ کا ذکر کر رہا ہو اور عبادت میں مشغول ہو، دعائے رحمت کرتے ہیں۔ اور تفسیر خازن میں یہ بھی ہے کہ ایسے آدمی کے لیے جو اس رات میں مصروفِ عبادت ہو سلامتی کی دعا کرتے ہیں۔ مختصر یہ کہ شب قدر کی بڑی فضیلت ہے اسی وجہ سے اس کو تلاش کرنے کے لیے آنحضرت  ﷺ نے پہلے دس دنوں کا اعتکاف فرمایا پھر درمیان کے دس دنوں کا اعتکاف فرمایا پھر آپ ﷺ نے اعتکاف کی جگہ میں سے اپنا سر باہر نکال کر فرمایا میں نے پہلے عشرے میں اعتکاف کیا، پھر دوسرے عشرے میں اعتکاف کیا اس کے بعد مجھے شب قدر عطا کی گئی اور بتلایا گیا کہ وہ (شب قدر)  آخری عشرے میں ہے۔

ایک حدیث میں ہے: ’’جس شخص نے شب قدر میں قیام کیا ایمان اور طلب ثواب کے لیے‘ بخش دیے جاتے ہیں اس کے گزشتہ گناہ۔‘‘

حضرت عبداﷲ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے بعض صحابہؓ کو شب قدر رمضان کی آخری سات راتوں میں دکھائی گئی۔ اس پر رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا: ’’ تمہارے خواب آخری سات دنوں پر متفق ہوگئے، پس جو شخص شب قدر کو تلاش کرنا چاہے وہ آخری سات راتوں میں تلاش کرے۔

حضرت عائشہؓ  فرماتی ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ سے دریافت کیا کہ اگر مجھے شب قدر کا پتا چل جائے تو میں اس میں کیا دعا پڑھوں ؟  آپ ﷺ ارشاد فرماتے ہیں ، مفہوم:

’’یااﷲ! تو معاف کرنے والا ہے، معافی چاہنے والے کو پسند کرتا ہے، مجھے بھی معاف فرما دے۔‘‘

حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ سجدے میں تھے تو میں نے آپ ﷺ کے پاس جاکر کان لگایا تو آپ ﷺ یہ دعا پڑھ رہے تھے، مفہوم:

’’یااﷲ! میں تیرے عفو کی پناہ چاہتا ہوں تیری سزا سے، اور تیری رضا کی پناہ چاہتا ہوں تیرے غصہ سے، اور پناہ چاہتا ہوں تیری سختیوں سے، یااﷲ! میں آپ کی تعریف کا شمار نہیں کر سکتا، آپ کی ذات ایسی بلند و بالا ہے جیسے آپ نے بیان کی۔‘‘

صبح کو حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا نے جب حضور ﷺ سے ان کلمات کی تصدیق چاہی تو آپ ﷺ نے فرمایا تم خود بھی یاد کر لو اور دوسروں کو بھی یاد کرا دو، یہ کلمے مجھے حضرت جبرئیل علیہ السلام نے سکھائے ہیں اور فرمایا ہے کہ میں سجدے میں انھیں بار بار پڑھا کروں۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

پاکستان فٹبال فیڈریشن کے صدر نے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کیلیے منفرد مثال قائم کر دی

Published

on



پاکستان فٹبال فیڈریشن کے صدر سید محسن گیلانی نے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کیلٸے منفرد مثال قائم کر دی ، اپنے الاؤنسز ابھرتے ہوئے باصلاحیت کھلاڑیوں کو دینے کا اعلان کر دیا۔

 پاکستان فٹبال فیڈریشن کے صدر سید محسن گیلانی نے کانگریس اجلاس میں شرکت کا اپنا الاؤنس پاکستان انڈر 20 ٹیم کے کھلاڑی محمد عبداللہ کو دے دیا۔ انہوں نے یہ انعام اسلام آباد میں جاری ساف انڈر 20فٹبال چیمپین شپ کی تیاری کے موقع پر محمد عبداللہ کی حوصلہ افزاٸی کرتے ہوے دیا۔

واضح رہے کہ محمد عبداللہ ساف انڈر 17 چیمپئن شپ میں پاکستان کے لیے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے چھ گول کے ساتھ ٹاپ اسکورر رہے تھے۔

محسن گیلانی کا اس موقع پر کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد باصلاحیت کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے اور یہ سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رکھا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ وہ صرف فیڈریشن کے صدر نہیں بلکہ تمام کھلاڑیوں کے بھی صدر ہیں اور ہر باصلاحیت کھلاڑی کی بھرپور حوصلہ افزائی کی جائے گی۔امید ہے کھلاڑی ملک کا نام روشن کرینگے۔

دوسری جانب پاکستان انڈر 20 فٹبال ٹیم ساف انڈر 20 چیمپئن شپ میں شرکت کے لیے 21 مارچ کو مالدیپ روانہ ہوگی جہاں گروپ مرحلے میں پاکستان کا مقابلہ بھارت اور بنگلا دیش سے ہوگا۔



Source link

Continue Reading

Today News

ایرانی حملے میں نیتن یاہو کی ہلاکت کی خبر کے بعد اسرائیلی وزیراعظم کی ویڈیو جاری

Published

on



اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے ایرانی حملے میں ہلاکت کی خبروں کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ویڈیو جاری کرکے تردید کردی۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے عبرانی زبان میں جاری ویڈیو میں ان کی ہلاکت کی خبروں کو جھوٹ قرار دیا اور کہا کہ میں کافی کے لیے مر رہا ہوں۔

نیتن یاہو کو ایک کافی شاپ میں کافی آرڈر کرتے ہوئے اور پیتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے، اسرائیلی میڈیا کے مطابق مذکورہ شاپ یروشلم ہلز میں واقع ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم نے ‘وہ کہتے ہیں میں کیا ہوں’ کے عنوان سے جاری ویڈیو میں کہا کہ میں اپنی قوم سے بہت محبت کرتا ہوں اور جس طرح سے وہ حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔

نیتن یاہو نے ویڈیو میں اپنے دونوں ہاتھ دکھائے اور کہا کہ کیا آپ میری انگلیاں گننا چاہتے ہیں اور واضح کیا کہ ان کی 10 انگلیاں ہیں جبکہ اس سے قبل متعدد اکاؤنٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ان کے ہاتھ کی 6 انگلیاں ہیں۔

اسرائیلی وزیراعظم نے اپنے عوام کو پیغام میں کہا کہ اسرائیلیوں کو تازہ ہوا کھانے کے لیے اپنے گھروں سے باہر نکلنا چاہیے لیکن ہر وقت پناہ گاہوں کے قریب رہنا چاہیے کیونکہ ایران سے بلیسٹک میزائل اور لبنان سے راکٹ حملوں کا خطرہ ہے۔

אומרים שאני מה? צפו >> pic.twitter.com/ijHPkM3ZHZ
— Benjamin Netanyahu – בנימין נתניהו (@netanyahu) March 15, 2026

خیال رہے کہ سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا گیا تھا کہ اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو ایرانی حملے میں ہلاک ہوگئے ہیں اور وہ پریس کانفرنس میں بھی دکھائی نہیں دے رہے ہیں تاہم اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے فوری طور پر ان خبروں کی تردید کی تھی لیکن نیتن یاہو خود سامنے نہیں آئے تھے۔

ایران نے ان افواہوں کے دوران دھمکی دی تھی کہ اگر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو زندہ ہے تو اس کو نشانہ بنایا جائے گا۔



Source link

Continue Reading

Today News

چادر، تصویر اور نوحہ : ’’ زندہ شہید‘‘ کی تزویراتی ولادت

Published

on


تاریخ کے مقتل میں جب بھی کسی بڑی علامت کا خون گرتا ہے، تو وہ صرف زمین کو سرخ نہیں کرتا، بلکہ وقت کی لکیروں کو ہمیشہ کے لیے ٹیڑھا کر دیتا ہے۔ آج دنیا جس موڑ پر کھڑی ہے، وہاں سوال صرف ایک ریاست کے سربراہ یا ایک مسلک کے پیشوا کا نہیں ہے، بلکہ اس مابعد الطبیعیاتی ڈھانچے کا ہے جسے مادی طاقتیں اپنی عقلی حدوں میں ماپنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ مغربی دارالحکومتوں کے ٹھنڈے کمروں میں بیٹھے تزویراتی منصوبہ سازوں نے شاید نقشوں پر سرخ لکیریں کھینچتے ہوئے یہ سمجھا ہوگا کہ وہ ایک بوڑھے فقیہ کو ہٹا کر مشرقِ وسطیٰ کے پیچیدہ گورکھ دھندے کو سلجھا دیں گے، لیکن سچ یہ ہے کہ اس ایک فیصلے نے عالمی امن کی رہی سہی بنیادیں بھی ہلا دی ہیں۔ خامنہ ای کا قتل ایران کو کمزورکرنے کا نسخہ نہیں، بلکہ اس نظام کو وہ ابدی ایندھن فراہم کرنے کا عمل ہے جس کی اسے بقا کے لیے سب سے زیادہ ضرورت تھی۔ آپ اس تہذیب کو کبھی شکست نہیں دے سکتے جس نے مرنے کی آمادگی کو ایک باقاعدہ ادارہ جاتی شکل دے دی ہو۔ جب شہادت ایک نظریہ بن جائے اور موت ایک تزویراتی انتخاب، تو وہاں میزائلوں کی گھن گرج اور ٹیکنالوجی کی برتری محض ایک شور بن کر رہ جاتی ہے۔

آیت اللہ خامنہ ای محض ایک سیاسی لیڈر نہیں تھے، وہ ’ولی فقیہ‘ تھے۔ ایک ایسا منصب جو کروڑوں انسانوں کے لیے حقیقت کی وہ ساخت متعین کرتا ہے جس کے بغیر ان کا وجود ادھورا ہے۔ ایران کی 40 سے 50 فیصد آبادی کے لیے ولایتِ فقیہ کوئی پارلیمانی بحث کا موضوع نہیں، بلکہ ایک روحانی ستون ہے ۔

 تاریخ شاہد ہے کہ جب آپ کسی روحانی پیشوا کو قتل کرتے ہیں، تو آپ اس فرقے اور مسلک کا خاتمہ نہیں کرتے بلکہ ایک ’شہید‘ کو جنم دیتے ہیں جو مرنے کے بعد پہلے سے کہیں زیادہ طاقتور اور ناقابلِ تسخیر ہو جاتا ہے۔ واشنگٹن اور تل ابیب کے تھنک ٹینکس شاید یہ بھول گئے کہ شیعہ سیاسی فکر کی جڑیں کربلا کے اس لق و دق صحرا میں پیوست ہیں جہاں شکست، فتح کا استعارہ بن گئی تھی۔ وہاں لہو بہنا فنا نہیں، بلکہ بقا کی ضمانت ہے۔ اس قتل کے بعد اب دنیا پہلے سے کہیں زیادہ غیر متوقع اور خطرناک ہوچکی ہے،کیونکہ اب مقابلہ ایک ریاست سے نہیں بلکہ ایک ایسے ’’ زخمی تقدس‘‘ سے ہے جو انتقام کی زبان میں بات کرے گا۔

اعداد و شمارکی بے رحم زبان میں بات کریں تو ایران کا دفاعی بجٹ جو سالانہ تقریباً 15 سے 20 ارب ڈالرکے درمیان رہتا ہے، اب اس کا ایک بڑا حصہ براہِ راست غیر روایتی جنگ کی طرف منتقل ہو جائے گا۔ تہران کے پاس موجود 3,000 سے زائد بیلسٹک میزائلوں کا ذخیرہ اب صرف ایک دفاعی ڈھال نہیں رہا، بلکہ اس غصے کا اظہار بن چکا ہے جو تہران کی گلیوں میں ایک چادر پوش خاتون کی آنکھوں میں لرز رہا ہے۔ عالمی معیشت کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کی کل پیٹرولیم تجارت کا 21 فی صد گزرتا ہے، اب ایک ایسی بارود کی ڈھیر بن چکی ہے جہاں ایک چنگاری عالمی خام تیل کی قیمتوں کو 150 ڈالر فی بیرل سے اوپر لے جا سکتی ہے۔ یہ صرف معاشی اعداد و شمار نہیں ہیں، یہ اس بے چینی کا گراف ہے جو اب ہر سرحد پر محسوس کی جائے گی۔ لبنان سے یمن تک اور عراق سے شام تک، ایران کے حامی گروہوں کی افرادی قوت جو کم و بیش 5 لاکھ مسلح جنگجوؤں پر مشتمل ہے، اب ایک ایسی ’’ مرکز گریز‘‘ طاقت بن جائے گی جسے کنٹرول کرنا کسی کے بس میں نہیں رہے گا۔ جب مرکزکا سرکٹتا ہے، تو جسم کے ہر حصے میں اپنی اپنی جنگ شروع کرنے کی وحشت جاگ اٹھتی ہے۔

سماجی سطح پر اس قتل نے ایران کے اندر موجود نظریاتی خلیج کو پاٹ دیا ہے۔ وہ نوجوان جو شاید تہران کی سڑکوں پر اصلاحات کے لیے آواز اٹھاتے تھے، اب اس بیرونی وار کے بعد اپنی قومی شناخت کے گرد اکٹھے ہو رہے ہیں۔ یہ ایک نفسیاتی حقیقت ہے کہ بیرونی دشمن کا بڑا وار اندرونی اختلافات کو مٹا کر ایک آہنی دیوارکھڑی کردیتا ہے۔ اس منظرکو سمجھنے کے لیے کسی ماہرِ سیاسیات کی ضرورت نہیں، بس اس ایک تصویرکو دیکھنا کافی ہے جس میں ایک بوڑھی عورت، جس کے چہرے کی جھریوں میں صدیوں کا دکھ بسا ہے، خامنہ ای کی تصویر سینے سے لگائے کھڑی ہے۔ اس کے چہرے پر جو کیفیت ہے، وہ اداکاری نہیں، وہ کسی ریاست کا حکم نامہ نہیں، وہ اس کی روح کی پامالی کا نوحہ ہے۔ یہ وہ چہرہ ہے جسے اس خطے کی مٹی سے وابستہ ہر شخص پہچانتا ہے۔ یہ ’’ مظلومیت‘‘ کی وہ صنف ہے جو مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایٹم بم سے زیادہ مہلک ثابت ہوتی ہے۔ جب غم غصے میں بدلتا ہے اور غصہ تقدس کا لبادہ اوڑھ لیتا ہے، تو پھر ڈپلومیسی کے تمام راستے بند ہو جاتے ہیں۔

مغرب نے ہمیشہ مشرق کو ایک مشین کی طرح سمجھا ہے جس کا کوئی پرزہ نکال دینے سے وہ رک جائے گی، لیکن وہ یہ بھول گئے کہ یہ ایک نامیاتی وجود ہے جو اپنے زخموں سے توانائی کشید کرتا ہے۔ خامنہ ای کا قتل ایران کو مفلوج نہیں کرے گا، بلکہ اسے وہ ’’ زندہ شہید‘‘ فراہم کر دے گا جس کی داستانیں اگلی کئی دہائیوں تک مزاحمت کے استعارے بن کر گونجتی رہیں گی۔ امریکی منصوبہ سازوں نے نظام کا سرکاٹنے کی کوشش کی، مگر وہ یہ بھول گئے کہ کچھ سر کٹنے کے بعد آسمان کی وسعتوں میں پھیل جاتے ہیں اور ہر طرف سے سنائی دینے والی آواز بن جاتے ہیں۔ اب دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے۔

الوداعی جملہ اس گہرے صدمے اور مابعد الطبیعیاتی حقیقت کا نچوڑ ہے جس کا ادراک مادی آنکھ نہیں کر سکتی۔ وہ جو زندگی کی بقا کے لیے لڑتے ہیں، وہ تو شاید مٹ جائیں، لیکن جو موت کو زندگی کا دیباچہ بنا لیں، انھیں کون فنا کر سکے گا؟ جب خونِ تمنا خاک میں ملتا ہے، تو وہ فنا نہیں ہوتا بلکہ اس مٹی کی تاثیر بن جاتا ہے جو غاصبوں کے پاؤں تلے سے زمین نکال لیتی ہے۔ اب انتقام صرف ایک لفظ نہیں، ایک ایسی دعا بن چکا ہے جو ہر سجدے میں لہو بن کر ٹپک رہی ہے اور یاد رکھنا کہ جب زمین سے آسمان تک صرف لہوکی پکار ہو، تو تخت گرائے جاتے ہیں اور تاج اچھالے جاتے ہیں۔

آسمانِ تہران پر سسکتی ہوئی ہوا اب وہ قصیدہ پڑھے گی جو لفظوں میں نہیں، سسکیوں میں لکھا گیا ہے، کیونکہ جب کسی کے قبلہِ عقیدت کو لہو لہان کیا جاتا ہے، تو پھرکائنات کی ہر شے مرثیہ خواں بن جاتی ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں سے تباہی کا وہ سفر شروع ہوتا ہے جس کی کوئی واپسی نہیں۔





Source link

Continue Reading

Trending