Today News
ناامیدی کو ذہن سے نکال دیجیے!
رابرٹ بریٹ (Robert Barrat) 1957 میں لندن میں پیدا ہوا۔ اسے بچپن سے گہرے پانیوں میں زندگی گزارنے کا شوق تھا۔ ایسے لگتا تھا کہ نیلگوں سمندر اور اس کے درمیان ایک مضبوط رابطہ ہے۔ اسکول مکمل کرنے کے بعد‘ فیصلہ کیا کہ اپنے ملک کی بحریہ میں ملازمت کرے گا۔ حکومتی اداروں سے رابطہ کرنے کے بعد‘ پتہ چلا کہ برطانوی نیوی میں آنے کے لیے کڑے امتحان کی ضرورت ہے۔
اب کالج جا رہا تھا۔ پیریڈ ختم ہونے کے بعد گراؤنڈ میں چلا جاتا اور بہت سخت کوش ورزش کرتا۔ ساتھ ساتھ جم بھی کرنا شروع ہو گیا۔ چند ماہ بعد ‘ ایسے لگتا تھا کہ اس کا جسم فولاد کا بنا ہوا تھا۔ چھ فٹ سے زیادہ قد اور ایک کسرتی باڈی ۔خیر ‘ بحریہ میں جانے کا امتحان دے ڈالا۔ جو اس نے آسانی سے پاس کر لیا۔ اب اسے برطانوی نیوی میں نوکری مل گئی۔ زندگی کا خواب مکمل ہو گیا۔ تعیناتی‘ ایک جنگی جہاز پر ہوئی۔ جو تقریباً چار ماہ تک مسلسل سمندر میں رہا۔ جب واپس بندرگاہ پر آیا تو رابرٹ اپنے سینئر افسر کے پاس گیا اور کہنے لگا کہ بالکل چھٹیاں نہیں کرنا چاہتا۔ اسے جتنی بھی جلدی ہو‘ فوراً کسی دوسرے جنگی جہاز پر دوبارہ سمندر میں بھیج دیا جائے۔ سینئر افسر حیران رہ گیا۔ کیونکہ ایسا ہوتا نہیں تھا۔ جو بھی افسر ‘ چار پانچ ماہ ‘ مسلسل بحری بیڑے کا حصہ رہتا تھا۔ اسے دو ہفتہ کے لیے چھٹیاں دی جاتی تھیں۔ اس رویے کے برعکس رابرٹ ضد کر رہا ہے کہ اسے فوراً سے پیشتر ‘ دوبارہ پانی میں بھیج دیا جائے۔ حکم دیا کہ ڈاکٹر اس کا ذہنی توازن دیکھیں۔ بحریہ کے ڈاکٹرز نے بڑی محنت سے اس کا نفسیاتی معائنہ کیا۔ لکھ کر دیا کہ رابرٹ بالکل ٹھیک ہے۔ اس کی زندگی میں سب سے بڑا عشق گہرے پانیوں میں نوکری کرنا ہے۔
سینئر افسر نے رپورٹ پڑھی ۔ اسے ‘ ایک ایسے جنگی جہاز میں تعینات کر دیا جو کافی مدت کے لیے ایک مہم پر جا رہا تھا۔ وقت گزرتا رہا۔ رابرٹ ‘ اپنے شوق کی بدولت پوری برطانوی بحریہ میں بہترین افسروں کی فہرست میں آ گیا۔ دو بلکہ ڈھائی دہائیاں گزر گئیں۔ ایک دن رابرٹ عرشے پر آرام سے پیدل چل رہا تھا کہ ایک بھاری مشین کا ٹکڑا حادثاتی طور پر اس پر آن گرا‘ اس کی بائیں ٹانگ کچلی گئی۔ درد کی شدت سے بے ہوش ہو گیا۔ آنکھ کھلی تو ایک اسپتال میں تھا۔ اسے ہیلی کاپٹر کے ذریعے‘ ایک نزدیکی برطانوی اسپتال میں لایا گیا تھا۔ جیسے ہی ہوش میں آیا تو ایک تجربہ کار سرجن‘ ملنے کے لیے آیا۔ بتانے لگا کہ اس نے پوری کوشش کی ہے ۔ مگر اب اس کی ٹانگ کو ٹھیک نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ ہڈی‘ اتنی بری طرح کچلی جا چکی ہے کہ اس کا جڑنا ناممکن ہے۔
اب ایک ہی حل ہے کہ اس کی ٹانگ کو کاٹ دیا جا ئے۔ رابرٹ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔معلوم تھا کہ اس کی بقیہ زندگی ایک اپاہج کے طور پر گزرے گی کوئی اور چارہ بھی نہیں تھا۔ اس کی بائیں ٹانگ کاٹ دی گئی ۔ ایک ماہ اسپتال گزارنے کے بعد‘ جب واپس اپنے گھر آیا تو بیساکھی کے سہارے چل رہا تھا۔ چارماہ گزر گئے۔ رابرٹ واپس سرجن کے پاس گیا اور کہنے لگا کہ بیساکھیوں کا سہارا لینا بہت معیوب لگتا ہے۔ اسے مصنوعی ٹانگ لگا دی جائے۔ چنانچہ ایسے ہی ہوا۔ اسپتال میں مصنوعی اعضا کے ڈیپارٹمنٹ نے اس کے لیے بہت اچھی‘ مصنوعی ٹانگ بنا دی۔ رابرٹ اس کے بعد‘ بیساکھیوں کے بغیر چلنا شروع ہو گیا۔ تھوڑا سا لنگڑاتا ضرور تھا ۔ مگر کسی کو یہ معلوم نہ پڑتا تھا کہ اس کی ایک ٹانگ نہیں ہے۔
مگر ابھی بہت کچھ ہونا باقی تھا۔ رابرٹ عزم و ہمت کا ایک پہاڑ تھا۔ ایک دن ‘ اپنے گھر کے نزدیک ایک گراؤنڈ میں گیا۔ وہاں کے کوچ سے ملا۔ اسے تمام صورت حال بتائی اور کہا کہ مصنوعی ٹانگ کے ساتھ دوڑنا چاہتا ہے۔ کوچ پریشان ہو گیا۔ کیونکہ اسے‘ ایک معذور آدمی کی تربیت کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ مگر صرف اتنا اندازہ تھا کہ معذور لوگوں کو دوڑنے کی تربیت دینے کے لیے ایک پورا محکمہ موجود ہے۔ رابرٹ کو وہاں بھیج دیا گیا۔ جب منتظمین نے رابرٹ کی ہمت دیکھی تو ایک کہنہ مشق کوچ کی خدمات حاصل کی گئیں۔ جس نے رابرٹ کی ٹریننگ شروع کر دی۔ ایک سال بعد‘ کوچ اور رابرٹ کی ریاضت رنگ لے آئی اور وہ بڑی آسانی سے گراؤنڈ میں بھاگنا شروع ہو گیا۔ اس کی رفتار بھی بہت تیز تھی ۔ 1988 میں سوئل (Seoul) میں پیرا اولمپکس تھیں۔
کوچ نے رابرٹ کو کہا کہ وہ پیرا اولمپکس کی تیاری شروع کر دے۔ یہ پہلا موقع تھا کہ رابرٹ کا اعتماد متزلزل ہو گیا۔ مگر ایک ٹانگ کے ساتھ‘ میں کیسے دوسروں کا مقابلہ کروں گا؟ کوچ نے اسے ہمت دلائی۔ اس کی ٹریننگ مزید سخت کر ڈالی۔ پیرا اولمپکس میں شرکت کے لیے‘ اب رابرٹ مکمل طور پر تیار تھا۔ تیز رفتار دوڑ دیکھ کر کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ وہ معذور ہے۔ اس نے اپنے لیے ‘ سو میٹر کی دوڑ منتخب کی جو کہ حددرجہ دشوار تھی۔ جب اپنے مخصوص اسپورٹس میں دوڑ لگائی‘ تو لوگ رفتار دیکھ کر حیران رہ گئے۔ ساتھ ساتھ رابرٹ نے سو میٹر کی وہ دوڑ بھی لگائی جس میں چار ایتھلیٹ ‘ ٹیم بنا کر دوڑتے ہیں۔ دونوں ریسوں میں کامیاب ٹھہرا۔اسے کانسی کے تمغے سے نوازا گیا۔ اب رابرٹ ہر مقابلہ میں حصہ لیتا تھا۔
بار سیلونا میں 1992 کی پیرا اولمپکس میں بھی حصہ لیا۔ اس میں بھی اسے امتیازی تمغہ سے نوازا گیا۔ دس برس کے عرصہ میں رابرٹ نے یورپ اور اپنے ملک یعنی یو کے ، کے ہر مقابلہ میں حصہ لیا۔ مختلف مقابلوں میں گولڈ میڈل تک لیتا رہا۔ بارسلونا کی پیرا اولمپکس کے بعدریٹائر ہو گیا اور ایک بینک میں ملازمت کر لی۔ اس کا جذبہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی توانا رہا۔ تین مختلف رگبی ٹیمز کا کھلاڑی بن گیا۔ ساتھ ساتھ قومی سطح پر معذور لوگوں کو اسپورٹس سکھانے کا کوچ بن گیا۔ آج کل ‘ لندن کی والی بال ٹیم سے بھی منسلک ہے۔ ساتھ ساتھ ‘ برف پر اسکیٹنگ کرنے کا بھی شوقین ہے۔ رابرٹ آج بھی ایک بھرپور اور آسودہ حال زندگی گزار رہا ہے۔
سوچ رہے ہوں گے کہ ایک معذور آدمی کی سچی کہانی سنانے کا کیا مقصد ہے؟ جناب یہ حقائق آپ کی زندگی تبدیل کر سکتے ہیں۔ ہر انسان کسی نہ کسی طرح‘ نامکمل ہوتا ہے۔ کوئی ذہنی آزمائش میں مبتلا ہے۔ تو ایک خاص اقلیت ‘ جسمانی معذوری کا شکار ہے۔ جسمانی طور پر نامکمل ہونا تو نظر آتا جاتا ہے۔ مگر ذہنی طور پر مسائل دوسروں کو بہت کم ہی معلوم پڑتے ہیں۔ تمام انسانوں کی بات نہیں کر رہا۔ مگر ایک محدود تعداد‘ کسی نہ کسی سقم کا شکار ہے۔ اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے۔ ہمارے جیسے ملک میں ‘ جہاں بے بس لوگوں کو تکلیف پہنچا کر دوسرے انسان اکثر ایک منفی خوشی حاصل کرتے ہیں۔ وہاں‘ سب سے بڑا مسئلہ ‘ امید کا ختم ہو جانا ہے۔
ان گنت نوجوان پوچھتے پھرتے ہیں کہ ہم کامیاب کیسے ہو سکتے ہیں؟ ہمارے تو مسائل ہی بہت گھمبیر ہیں؟ یہ رویہ ذہنی ہو یا جسمانی ۔ دراصل یہی رویہ آپ کاسب سے بڑا دشمن ہے۔ اور کامیابی کے سفر پر روانہ ہونے کے لیے ‘ ناامیدی سب سے پتھریلی رکاوٹ ہے۔ جس نے آپ کی صلاحیت کو مقید کر رکھا ہے۔ مسائل جو کچھ بھی ہوں ۔ اگر آپ میں آگے بڑھنے کا عزم ہے تو یقین فرمائیے کوئی بھی دنیاوی طاقت راستے میں حائل نہیں ہو سکتی۔ بہت سے نوجوان یہ بھی کہتے ہیں کہ ہمارے پاس تو کاروبار کرنے کے لیے کوئی سرمایہ بھی نہیں ہے۔
یقین فرمائیے اگر آپ ہمت دکھائیں تو یہ کمی بھی دور ہو جاتی ہے۔تھوڑا عرصہ پہلے‘ کووڈ کی بلا نے پورے پاکستان کو بند کر رکھا تھا۔ ہمارا ملک ہی کیا ‘ پوری دنیا ہی جمود کا شکار تھی۔ لاہور میں ایک سولہ سترہ سال کے نوجوان نے اپنے ہاتھ سے برگر بنانے شروع کر دیے۔ لاہوری ذائقہ کے مطابق بنے ہوئے یہ برگر‘ پہلے مقامی آرڈر پر بناتا رہا۔ تھوڑے ہی عرصے میں ‘ اس نے آن لائن آرڈر لینے شروع کر دیے۔ صرف تین برس میں اس کا کاروبار اتنا بڑھ گیا کہ آج لاہور ہی میں اس کے تین ریسٹورینٹ ہیں۔ جو صرف برگر بنا کر بیچتے ہیں۔ ان میں سے ایک میرے گھر کے نزدیک ہے۔ وہاں ‘ گاڑیوں اور لوگوں کی قطاریں لگی ہوتی ہیں۔ انتظار تقریباً تیس منٹ تک کا ہے۔ لوگ بڑے آرام سے انتظار کرتے ہیں۔یہ کامیابی بالکل سامنے کی بات ہے۔
دراصل رابرٹ نے ایک چیز ثابت کی ہے کہ ناامیدی ‘ کچھ بھی نہیں ہے۔ آپ امید کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیں۔ مسلسل محنت کرتے جائیں تو ہر شعبے میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ سکتے ہیں۔
Today News
سندھ میں 12سال گزرنے کے باوجود تھیلیسیمیا ایکٹ پر عمل درآمد نہیں ہوسکا
سندھ میں 12 سال گزرنے کے باوجود خون کے مرض تھیلیسیمیا کے خاتمے کے لیے منظور کردہ قانون پر آج تک عمل درآمد نہیں ہوسکا اور اسی طرح 2023 میں مصنوعی ڈبے کے بچوں کے دودھ کی کھلے عام فروخت پر پابندی کا قانون بھی اج تک نافذ نہیں ہوسکا۔
سندھ اسمبلی نے 2013 میں سندھ پریونیشن اینڈ کنٹرول آف تھیلیسیمیا ایکٹ منظور کیا تھا جس کا مقصد سندھ خون کے مرض تھیلیسیمیا کا خاتمہ کرنا تھا، تھیلیسیمیا ایک موروثی بیماری ہے جو تھیلیسیمیا کے والدین سے بچوں میں منتقل ہوتی ہے، والدین اگر تھیلیسیمیا مائنر کا شکار ہوں تو دو یا تین میں سے ایک بچہ تھیلیسیمیا میجر کا مرض لے کر پیدا ہوتا ہے، اس بیماری میں تھیلیسیمیا سے متاثرہ بچے کو ہر ماہ انتقال خون کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے جو کہ ایک مشکل ترین مرحلہ ہوتا ہے۔
تھیلیسیمیا ایکٹ منظور کرانے کا مقصد یہ تھا کہ نکاح سے پہلے لڑکا اور لڑکی کے تھیلیسیمیا کا ٹیسٹ یقینی بنایا جائے اور اس ٹیسٹ کی رپورٹ کو نکاح نامہ کے ساتھ منسلک کیا جائے لیکن بدقسمتی 12 سال گزرنے کے باوجود اس ایکٹ پر عمل درآمد نہیں کیا جاسکا۔
ملک میں کسی بھی بل یا ایکٹ کو منظور کروانے میں حکومت اور عوام کے کروڑوں روپے کے اخراجات آتے ہیں کیونکہ بل کی منظوری کے لیے اسمبلی کا اجلاس منعقد کیا جاتا ہے، جس پر کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں، حکومت اسمبلی سے بل منظور کروالیتی ہے لیکن اس پر عمل درآمد کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔
خیال رہے کہ تھیلیسیمیا کے بل پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے سندھ میں تھیلیسیمیا سے متاثرہ بچوں کی پیدائش اور مریضوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، جس کی وجہ سے بلڈ بینکوں میں خون کی ڈیمانڈ ہولناک حد تک بڑھ گئی ہے۔
ماہر امراض خون ڈاکٹر ثاقب انصاری نے بتایا کہ پاکستان میں ایک لاکھ سے زائد بچے تھیلیسیمیا میجر کا شکار ہیں، ان بچوں کی زندگیاں بچانے کے لیے سالانہ 24 لاکھ سے زائد خون کی بوتلوں کی ضرورت ہوتی ہے، ہر بچے کو ماہانہ 2خون کی بوتل کی ضرورت ہوتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کراچی سمیت سندھ بھر میں 25 ہزار سے زائد بچے اس مرض میں مبتلاہیں، ہرسال 5 ہزار بچے یہ مرض لے پیدا ہو رہے ہیں، ان بچوں کی زندگیاں بچانے کے لیے ہر ماہ انتقال خون کی ضرورت ہوتی ہے،کراچی میں جناح، سول اور چند ادارے موجود ہیں جو تھیلیسیمیا کے مرض پر کام کررہے ہیں۔
ڈاکٹر نے بتایا کہ کراچی کے علاوہ سندھ کے دیگر شہروں میں تھیلیسیمیا سینٹر نہ ہونے کی وجہ سے بلوچستان اور اس کے متعلقہ علاقوں سے بھی تھیلیسیمیا سے متاثرہ بچے کراچی اپنا علاج کروانے کراچی آتے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ایک اندازے کے مطابق سندھ میں ہر ماہ 12سے 15 ہزار تھیلیسیمیا کے بچوں کو خون کی ضرورت ہوتی ہے، اس طرح صرف سندھ میں ہر ماہ 22سے 25ہزار خون کی بوتل کی ضرورت ہوتی ہے جوکہ سالانہ 2 لاکھ 40 ہزار بوتل بنتی ہے۔
سندھ میں بیشتر تھیلیسیمیا سینٹر اپنی مدد آپ کے تحت چل رہے ہیں اور یہ سینٹر اپنی مدد آپ کے تحت خون کے عطیات کے لیے مختلف کیمپس لگاتے ہیں، خون جمع کرنے کے کیمپس مختلف یونیورسٹیوں اور اداروں میں لگائے جاتے ہیں۔
ڈاکٹر ثاقب انصاری نے بتایا کہ تھیلیسیمیا کے بچوں کو خون کے علاوہ ادویات اور لیبارٹری ٹیسٹ کی بھی ضرورت ہوتی ہے، ایک تھیلیسیمیا سے متاثرہ بچے کی ادویات کا سالانہ خرچہ 2لاکھ 40ہزار جبکہ ٹیسٹ کے 2لاکھ روپے کے اخراجات آتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں تھیلیسیمیا کی صورتحال بہت خراب ہے، حال ہی میں حکومت سندھ نے کچھ تھیلیسیمیا سینٹر کی مدد کرنا شروع کی لیکن یہ ناکافی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سندھ سمیت پاکستان میں سرکاری سطح پر بون میرو ٹرانسپلانٹ کی کوئی سہولت موجود نہیں ہے، ملک میں تھیلیسیمیا سے متاثرہ بچوں کی کوئی نیشنل رجسٹری نہ ہونے کی وجہ سے درست اعدادوشمار موجود نہیں ہیں۔
درین اثنا، دیگر طبی ماہرین کے مطابق پاکستان میں تھیلیسیمیا کے حوالے سے کوئی مستند اعدادوشمار موجود نہیں ہیں لیکن 2022 میں ہونے والی ایک تحقیق سے پتا چلا ہے کہ پاکستان میں تقریبا 9.8 ملین افراد تھیلیسیمیا کے مرض کا شکار ہیں جو کل آبادی کا 11 فیصد بنتا ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں تھیلیسیمیا کے مرض کے ساتھ پیدا ہونے والے بچوں کی وجہ کزن میرج ہے، سندھ پریوینشن اینڈ کنٹرول آف تھیلیسیمیاایکٹ 2013 کی منظوری میں نکاح سے پہلے لڑکا اور لڑکی کے تھیلیسیمیا کے ٹیسٹ کو لازمی قرار دیا گیا تھا جبکہ اس مرض کی جینیٹک کونسلنگ اور تشخیصی سہولیات متعارف کروائی جانی تھی۔
قانون میں کہا گیا ہے کہ حاملہ خواتین کے تھیلیسیمیا ٹیسٹ بھی کرائے جائیں گے اور اس ٹیسٹ کے نتائج کی رجسٹری بنائی جائے تاکہ صوبے میں اس مرض کے حوالے سے اعداد وشمار مرتب کیے جاسکیں لیکن قانون پر عمل درامد نہ ہونے کی وجہ سے اب تک اس سلسلے میں کوئی اقدامات نہیں کیے جاسکے ہیں جس کی وجہ سے تھیلیسیمیا کے متاثرہ بچوں کی پیدائش میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور متاثرہ خاندانوں پر بھی مالی دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے کیونکہ اس مرض کے علاج کے اخراجات بہت زیادہ ہے۔
اسی طرح حکومت سندھ نے صوبائی اسمبلی سے سندھ پروٹیکشن اینڈپروموشن آف بریسٹ فیڈنگ اینڈ چائلڈ نیوٹریشن ایکٹ 2023 میں منظور کرایا تھا لیکن ابھی تک اس قانون پر بھی عمل درآمد نہیں کرایا جاسکا اور آج بھی بچوں کے لیے مصنوعی ڈبے کھلے عام فروخت کیے جارہے ہیں۔
صوبائی اسمبلی سے منظورشدہ سندھ پروٹیکشن اینڈپروموشن آف بریسٹ فیڈنگ اینڈ چائلڈ نیوٹریشن ایکٹ 2023 میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ صوبے کے تمام میڈیکل اسٹوروں پر بچوں کے لیے مصنوعی دودھ ڈاکٹری نسخے کے بغیر فروخت نہیں کیے جاسکے گا، اگر کوئی ڈاکٹر کسی بچے کو غیر ضروری طور پر مصنوعی دودھ تجویز کرتا ہے تو اس ڈاکٹر کو 5 لاکھ روپے جرمانہ اور 6 ماہ کی سزا دی جائے گی۔
قانون کے مطابق اسپتالوں میں مصنوعی دودھ کے تشہیر پر پابندی عائد کی گئی ہے، اگر نوزائیدہ کو کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں مصنوعی دودھ دیا گیا تو اسپتال میں ڈاکٹروں کی ہدایت پر چند دن کے لیے یہ دودھ دیا جاسکتا ہے، اس قاںو ون کا مقصد بچوں کے لیے ماں کے دودھ کی افادیت کو فروغ دینا اور بریسٹ فیڈنگ کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔
قومی ادارہ برائے اطفال برائے صحت کے سابق ڈائریکٹر اور نیونیٹل چائلڈ انسٹیٹوٹ کے سربراہ ماہر امراض اطفال پروفیسر جمال رضا، پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن سندھ کے صدر پروفیسر وسیم جمالوی اور ڈاکٹر خالد شفیع نے بتایا کہ پاکستان میں ماں کا اپنے بچوں کو دودھ پلانے کی شرح 48 فیصد ہے جبکہ 52 فیصد مائیں اپنے بچوں کو بریسٹ فیڈنگ نہیں کراتیں جس کی وجہ انہیں وہ تمام غذائیت نہیں ملتی جو کہ بریسٹ فیڈنگ سے ملتی ہے اور نہ ہی بچوں میں قوت مدافعت پیدا ہوتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ماں کا دودھ بچوں میں قوت مدافعت اور خود اعتمادی میں بھی اضافہ کرتا ہے، مصنوعی دودھ پینے کی وجہ سے بچے کم عمری میں خسرہ، اسہال، نمونیہ، ٹائیفائیڈ سمیت مختلف انفیکشن کا شکار ہو جاتے ہیں، ہمارے ملک میں بیشتر مائیں مصنوعی یا فارمولا ملک کو ترجیحی دیتی ہیں، مارکیٹ میں ملنے والے مصنوعی دودھ سے بچوں میں قوت مدافعت پیدا نہیں ہوتی جس کی وجہ سے کم عمری میں بچے مختلف امراض کا شکار ہو رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس قانون کے تحت فارمولا دودھ کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے سخت سزائیں تجویز کی گئیں ہیں، مصنوعی دودھ کو فروغ دینے والے ڈاکٹروں پر 5 لاکھ روپے جرمانہ اور 6 ماہ تک قید کی سزا ہوگی، اس کے علاوہ، اسپتالوں اور کلینکس میں فارمولا دودھ کے اشتہارات یا پروموشنل مواد کا ڈسپلے نہیں کیا جائے گا۔
مزید بتایا کہ فارمولا دودھ صرف ڈاکٹروں کی نگرانی میں ہنگامی استعمال کے لیے اجازت دی جائے گی اور ایسے معاملات میں بھی، یہ محدود وقت کے لیے استعمال کرایا جائے گا، یہ قانون سندھ میں بچوں کی صحت کی بہتری اور تحفظ فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے، جس میں تعمیل کو یقینی بنانے اور ماں کے دودھ کی اہمیت کے بارے میں آگاہی بڑھانے کے لیے ایک فریم ورک قائم کیا گیا ہے، اس سلسلے میں عمل درآمد یقینی بنانے اور ماں کے دودھ کی اہمیت وافادیت کے بارے میں فریم ورک دیا گیا ہے۔
Source link
Today News
حیرت سے دریافت تک – ایکسپریس اردو
انسانی تاریخ کے طویل اور پُرپیچ سفر میں اگر کسی ایک جذبے کو تخلیق، دریافت اور فہمِ کائنات کی بنیاد کہا جائے تو وہ حیرت و تجسس ہے۔ البرٹ آئن اسٹائن کا یہ قول محض ایک فلسفیانہ جملہ نہیں بلکہ انسانی شعور کی پوری تاریخ کا نچوڑ ہے۔ حیرت وہ پہلا دروازہ ہے جو انسان کے باطن میں کھلتا ہے، اور تجسس وہ چراغ ہے جو اس دروازے کے پار اندھیروں کو روشنی میں بدل دیتا ہے۔ یہی جذبہ انسان کو غاروں کی دیواروں پر لکیریں کھینچنے سے لے کر کہکشاؤں کے اسرار سمجھنے تک لے آیا۔ اگر انسان اشیاءکو دیکھ کر چونکنا چھوڑ دے، سوال کرنا ترک کردے اور نامعلوم کو قبول کرنے کی خواہش کھو بیٹھے تو نہ فن باقی رہتا ہے نہ سائنس، نہ فکر زندہ رہتی ہے نہ تہذیب۔
حیرت دراصل جمود کے خلاف پہلی بغاوت ہے۔ جب انسان کسی منظر، کسی حقیقت یا کسی سوال کے سامنے رک کر یہ کہتا ہے کہ ”یہ ایسا کیوں ہے؟“ تو وہ لمحہ محض سوال نہیں ہوتا بلکہ ایک تخلیقی ارتعاش ہوتا ہے۔ یہی ارتعاش شاعر کے دل میں استعارہ بن جاتا ہے، مصور کے ہاتھ میں رنگوں کی صورت اختیار کرتا ہے اور سائنس دان کے ذہن میں نظریے کی شکل لے لیتا ہے۔ حیرت انسان کو معمول سے غیر معمول کی طرف لے جاتی ہے، اور تجسس اسے غیرمعمول کو سمجھنے کی جرأت عطا کرتا ہے۔ آئن اسٹائن اسی لیے اس جذبے کو حقیقی فن اور حقیقی سائنس کا گہوارہ قرار دیتے ہیں، کیونکہ جہاں حیرت ختم ہو جائے وہاں تحقیق محض مشق رہ جاتی ہے اور فن صرف نقل۔
سائنس کی تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ کوئی بھی بڑی دریافت محض معلومات کے انبار سے پیدا نہیں ہوئی بلکہ ایک سادہ مگر گہرا سوال اس کے پیچھے کارفرما تھا۔ نیوٹن کے ذہن میں گرتا ہوا سیب اس لیے معنی خیز بنا کہ اس نے اسے معمولی واقعہ سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا بلکہ اس پر حیران ہوا۔ اسی حیرت نے کششِ ثقل کے قانون کی بنیاد رکھی۔ آئن اسٹائن خود اگر وقت اور مکان کو جامد حقیقت مان لیتے تو اضافیت کا تصور کبھی جنم نہ لیتا۔ سوال یہ نہیں تھا کہ حساب کیسے کیا جائے، اصل سوال یہ تھا کہ کائنات ویسی کیوں ہے جیسی ہمیں دکھائی دیتی ہے۔ یہی حیرت سائنس کو زندہ رکھتی ہے اور اسے محض تکنیکی ہنر بننے سے بچاتی ہے۔
فن کی دنیا میں بھی یہی اصول کارفرما ہے۔ عظیم فن پارے اس وقت تخلیق ہوتے ہیں جب فن کار کسی عام تجربے میں غیرمعمولی معنویت دریافت کرلیتا ہے۔ ایک شاعر کے لیے شام کا ڈھلنا صرف سورج کا غروب نہیں ہوتا بلکہ وقت کے زوال، جدائی کے دکھ یا امید کے چراغ کا استعارہ بن جاتا ہے۔ یہ سب حیرت کے بغیر ممکن نہیں۔ جو فن کار دنیا کو دیکھ کر چونکتا نہیں، جو منظر کے پیچھے چھپی معنویت پر ٹھٹک کر نہیں رکتا، اس کا فن محض سجاوٹ بن کر رہ جاتا ہے۔ حقیقی فن وہ ہے جو دیکھنے والے کے اندر بھی سوال پیدا کرے، اسے سوچنے پر مجبور کرے اور اس کے شعور میں ارتعاش پیدا کرے۔
جدید دور کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ معلومات کی فراوانی نے حیرت کو دبا دیا ہے۔ ہر سوال کا فوری جواب، ہر مسئلے کا تیار حل اور ہر شے کی فوری تشریح انسان کو مطمئن تو کردیتی ہے مگر متجسس نہیں رہنے دیتی۔ ہم جاننے لگے ہیں مگر سوچنا بھول گئے ہیں۔ سرچ انجن ہمیں معلومات دیتے ہیں مگر حیرت کا ذائقہ نہیں چکھاتے۔ نتیجہ یہ ہے کہ علم بڑھ رہا ہے مگر حکمت کم ہوتی جا رہی ہے، ڈیٹا جمع ہو رہا ہے مگر بصیرت نایاب ہوتی جا رہی ہے۔ آئن اسٹائن کا قول اس تناظر میں ایک تنبیہ بھی ہے کہ اگر ہم نے حیرت کے جذبے کو زندہ نہ رکھا تو سائنس محض صنعت بن جائے گی اور فن محض تفریح۔
تعلیم کا مقصد بھی دراصل اسی جذبے کی آبیاری ہونا چاہیے۔ وہ نظامِ تعلیم جو بچوں کو سوال کرنے سے روکے، حیران ہونے پر شرمندہ کرے اور صرف درست جواب یاد کروانے پر زور دے، وہ ذہن نہیں بناتا بلکہ فائلیں تیار کرتا ہے۔ ایک زندہ ذہن وہ ہے جو سوال اٹھاتا ہے، شبہ کرتا ہے اور تلاش کے عمل سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ استاد کا اصل کام معلومات منتقل کرنا نہیں بلکہ حیرت جگانا ہے۔ جب طالب علم کے اندر “کیوں” اور “کیسے” کا سوال زندہ ہو جائے تو علم خود اس کی طرف چل کر آتا ہے۔
حیرت و تجسس محض سائنسی یا فنی دائرے تک محدود نہیں بلکہ انسانی اخلاق اور روحانیت میں بھی بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ کائنات پر غور، زندگی کے مقصد پر سوال اور وجود کے اسرار پر سوچ ہی انسان کو سطحی زندگی سے بلند کرتی ہے۔ جو شخص کائنات کو ایک مشینی تماشا سمجھ کر قبول کر لیتا ہے وہ جلد بے حسی کا شکار ہو جاتا ہے، مگر جو شخص اس میں معنی تلاش کرتا ہے وہ شکر، عاجزی اور ذمے داری کے احساس تک پہنچتا ہے۔ اسی لیے فکر و روحانیت میں بھی غور و فکر کو عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔
آئن اسٹائن خود مذہبی عقائد کے روایتی سانچوں میں مقید نہیں تھے مگر کائنات کے حسن اور ترتیب کے سامنے ان کی حیرت عمیق تھی۔ وہ جانتے تھے کہ علم جتنا بڑھتا ہے، اسرار اتنے ہی گہرے ہو جاتے ہیں۔ یہی احساس انسان کو غرور سے بچاتا ہے اور اسے مسلسل طالبِ علم بنائے رکھتا ہے۔ حقیقی سائنس دان وہی ہے جو جاننے کے باوجود یہ مانتا ہے کہ وہ بہت کچھ نہیں جانتا، اور یہی اعترافِ لاعلمی اسے مزید تلاش پر آمادہ کرتا ہے۔
آخرکار یہ کہا جا سکتا ہے کہ حیرت و تجسس انسانی روح کی سانس ہیں۔ جب یہ سانس رک جائے تو فکر گھٹنے لگتی ہے، تخلیق مرجھا جاتی ہے اور علم جامد ہو جاتا ہے۔ آئن اسٹائن کا یہ قول ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سوال کرنا کم زوری نہیں بلکہ زندگی کی علامت ہے، اور حیران ہونا نادانی نہیں بلکہ شعور کی پہلی سیڑھی ہے۔ اگر ہمیں حقیقی فن اور حقیقی سائنس کو زندہ رکھنا ہے تو ہمیں اپنے اندر اس بچے کو زندہ رکھنا ہوگا جو آسمان دیکھ کر سوال کرتا ہے، ستاروں کو گنتا ہے اور کائنات کے حسن پر خاموشی سے چونک جاتا ہے۔ یہی چونکنا انسان کو انسان بناتا ہے، اور یہی جذبہ اسے آگے بڑھنے کی ہمت عطا کرتا ہے۔
Today News
پاکستان فٹبال فیڈریشن کے صدر نے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کیلیے منفرد مثال قائم کر دی
پاکستان فٹبال فیڈریشن کے صدر سید محسن گیلانی نے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کیلٸے منفرد مثال قائم کر دی ، اپنے الاؤنسز ابھرتے ہوئے باصلاحیت کھلاڑیوں کو دینے کا اعلان کر دیا۔
پاکستان فٹبال فیڈریشن کے صدر سید محسن گیلانی نے کانگریس اجلاس میں شرکت کا اپنا الاؤنس پاکستان انڈر 20 ٹیم کے کھلاڑی محمد عبداللہ کو دے دیا۔ انہوں نے یہ انعام اسلام آباد میں جاری ساف انڈر 20فٹبال چیمپین شپ کی تیاری کے موقع پر محمد عبداللہ کی حوصلہ افزاٸی کرتے ہوے دیا۔
واضح رہے کہ محمد عبداللہ ساف انڈر 17 چیمپئن شپ میں پاکستان کے لیے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے چھ گول کے ساتھ ٹاپ اسکورر رہے تھے۔
محسن گیلانی کا اس موقع پر کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد باصلاحیت کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے اور یہ سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رکھا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ وہ صرف فیڈریشن کے صدر نہیں بلکہ تمام کھلاڑیوں کے بھی صدر ہیں اور ہر باصلاحیت کھلاڑی کی بھرپور حوصلہ افزائی کی جائے گی۔امید ہے کھلاڑی ملک کا نام روشن کرینگے۔
دوسری جانب پاکستان انڈر 20 فٹبال ٹیم ساف انڈر 20 چیمپئن شپ میں شرکت کے لیے 21 مارچ کو مالدیپ روانہ ہوگی جہاں گروپ مرحلے میں پاکستان کا مقابلہ بھارت اور بنگلا دیش سے ہوگا۔
Source link
-
Magazines1 week ago
Story Time: Culinary Disasters – Newspaper
-
Entertainment2 weeks ago
Ali Ansari On Falling in Love With More Than One Person
-
Sports2 weeks ago
Samson’s 97 puts India into T20 World Cup semi-final against England – Sport
-
Business2 weeks ago
Privatisation Commission board recommends Fauji Fertiliser’s inclusion in consortium that won PIA auction – Pakistan
-
Sports1 week ago
Bangladesh recall Litton, Afif for Pakistan ODI series – Sport
-
Entertainment1 week ago
Fans React to Nadia Khan’s Wrinkles in Filter-Free Video
-
Sports2 weeks ago
Haris among 14 Pakistanis on The Hundred final list – Sport
-
Sports2 weeks ago
Milan consolidate top-four credentials with win at Cremonese – Sport