Connect with us

Today News

نہال ہاشمی کا سیاسی سفر

Published

on


جناب ممنون حسین گورنر سندھ کے منصب کا حلف اٹھا کر دفتر میں ابھی بیٹھے ہی ہوں گے کہ میرے ذہن میں ایک خیال آیا کہ کتنا اچھا ہو اگران کے پہلے انٹرویو کا موقع مجھے میسر آئے۔اس خیال نے مجھے آسودہ کیا ۔ اتنے میں فون کی گھنٹی بجی۔ دوسری طرف سے بے تکلف قہقہ بلند ہوا پھر پوچھا :’سب ٹھیک ہے، فاروق بھائی؟‘یہ نہال ہاشمی تھے۔ اِن کے اور میرے درمیان گفتگو اسی بے تکلفی سے ہوا کرتی تھی۔ میں نے بھی انھیں اپنا رٹا رٹایا جواب دیا: ’اب خیر، سب خیر۔نہال ہاشمی مزید کھلکھلائے پھر کہا کہ گورنر ہاؤس میں ہوں چلے آؤ۔

گورنر ہاؤس میں اس وقت وہ کہاں براجمان تھے، یہ تو ذہن میں نہیں، اتنا یاد ہے کہ باتوں کا سلسلہ ابھی جاری تھا کہ اے ڈی سی کا وہاں سے گزر ہوا۔ نہال نے ان سے کہا کہ یہ ہمارے دوست فاروق ہیں، گورنر صاحب کے انٹرویو کے لیے آئے ہیں۔ اے ڈی سی نے کہ جیسے ایسے دفاتر کے اہل کار کیا کرتے ہیں، کسی توقف کے بغیر جواب دیا، ان کا اپائنٹمنٹ تو نہیں ہے۔ ’اپائنٹمنٹ تو نہیں ہے لیکن یہ آئے ہوئے ہیں۔‘

سفید وردی میں ملبوس نوجوان نے میری طرف دیکھا پھر کہا کہ میں گورنر صاحب سے پوچھ کر آتا ہوں۔ نوجوان فوراً ہی پلٹا اور ہمیں لیتا ہوا گورنر کے چیمبر کی طرف روانہ ہوگیا۔ ہمارے ساتھ نہال ہاشمی تو تھے ہی، ایک صاحب اور بھی تھے۔ چلتے چلتے میں نے نہال سے پوچھا کہ یہ کیا کہانی ہے؟ انھوں نے بتایا کہ میں یہاں مبارک باد دینے کے لیے پہنچا تو آپ کی یاد آئی ، یوں میں نے آپ کا نمبر ملا دیا۔ کہانی کا باقی حصہ آپ کے سامنے ہے۔ شکر گزاری کے طور پر میں نے ان کے ہاتھ پر نرمی سے تھپکی دی اور انھیں بتایا جس وقت آپ کا فون آیا، میں یہی سوچ رہا تھا کہ کسی طرح گورنر صاحب کا انٹرویو ہو جائے تو لطف آ جائے۔

’دل کو دل سے راہ ہوتی ہے، فاروق بھائی!‘

نہال ہاشمی نے گورنر چیمبر میں داخل ہوتے ہوئے میرے کان میں سرگوشی کی۔ جانے قبولیت کی وہ کیسی گھڑی تھی کہ میری خواہش پوری ہوئی، صرف میری خواہش پوری نہیں ہوئی، اس واقعے کے ٹھیک ربع صدی بعد نہال ہاشمی اسی چیمبر میں آن بیٹھے ہیں اور میں سحری کے بعد پاکیزہ ماحول میں بیٹھا خوش دلی سے ان واقعات کی ترتیب کو یاد کر رہا ہوں۔

 نہال ہاشمی سے میرے تعلق کا آغاز زیادہ خوش گوار نہیں تھا۔ تھر میں ترقیاتی کام کرنی والی کسی این جی او کی بے ضابطگی کی اطلاع مجھے ہوئی تو میں نے چھان بین کے بعد اسے شائع کر دیا۔ رپورٹ کی اشاعت سے کہرام تو مچا لیکن اس کے ساتھ ہی مجھے ایک نوٹس بھی موصول ہوا جس میں این جی او کی شہرت کو نقصان پہنچانے کی پاداش میں کروڑوں روپے ہرجانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ نوٹس بھیجنے والے وکیل کا نام نہال ہاشمی تھا۔ ان دنوں رپورٹنگ آسان نہ تھی۔رپورٹر کے پاؤں پکے بھی ہوتے تو اسے اپنی ساکھ کی فکر ہوتی۔ میں بھی اسی فکر میں پریشان تھا کہ برادر عزیز اصغر عمر سے ملاقات ہو گئی۔

یہ اصغر عمر کے کیرئیر کا ابتدائی دور تھا لیکن اس کے باوجود کورٹ رپورٹنگ میں ان کا نام گونج رہا تھا۔ کہنے لگے کہ اس میں فکر کی کیا بات ہے، یہ نوٹس تو ابھی واپس ہو جائے گا۔ کچھ دیر گزری ہو گی کہ ہم شاہراہِ فیصل کی کسی اونچی بلڈنگ کے مختصر سے دفتر میں بیٹھے چائے پی رہے تھے۔ چائے پیتے پیتے اصغر عمر نے نہال ہاشمی کو مخاطب کیا اور پوچھا:’پھر اس نوٹس کا کیا ہو گا، نہال بھائی؟‘ ’کون سا نوٹس؟ رات گئی، بات گئی۔‘

بات واقعی رات کی ظلمت میں گم کہیں ہو گئی اور نہال ہاشمی کے ساتھ تعلق استوار ہو گیا۔ کہاں میں اس سانولے سلونے وکیل سے طویل لڑائی کے منصوبے باندھ رہا تھا اور کہاں چائے کی ایک پیالی نے صورت حال ہی بدل ڈالی۔ اس کایا کلپ میں عزیز بھائی اصغر عمر کی معاملہ فہمی کو تو دخل تھا ہی لیکن نہال ہاشمی کی رواداری اور کشادہ دلی کو میں کیسے بھول سکتا ہوں؟ اس واقعے نے مجھے صرف نہال ہاشمی سے ہی متعارف نہیں کرایا بلکہ انسانی مزاج کو سمجھنے کا موقع بھی فراہم کیا۔

میری سمجھ میں یہ آیا انسان کو یک رخا نہیں ہونا چاہیے۔ رمز اس بات میں یہ ہے کہ نہال ہاشمی اگر ایک طرف مسلم لیگ ن کے کارکن تھے تو دوسری طرف وہ رفاہی سرگرمیوں کے لیے بائیں بازو کا رجحان رکھنے والی ایک نمایاں شخصیت کے ہم کار بھی تھے۔ وسیع المشربی کی یہ خوبی اس زمانے میں کم از کم کراچی کی حد تک معدوم ہو رہی تھی کیوں اس شہر میں ان دنوں الطاف حسین کی سیاست اور اخلاقیات کا چلن عام تھا۔

نہال ہاشمی کا سیاسی سفر میرے سامنے ہے۔ وہ اس زمانے میں مسلم لیگ ن کا حصہ بنے جب الطاف حسین کا سورج نصف النہار پر تھا۔ سیاست کے لیے لوگ ان کے دست حق پرست پر بیعت کرتے یا پھر گھر بیٹھ جاتے۔ نہال ہاشمی نے اس کے الٹ کیا اور اپنی بساط کے مطابق کھڑے رہے۔ اس میدان میں ان کا اصل کریڈٹ وفاداری ہے۔ سیاسی اونچی نیچ کی پروا کیے بغیر اپنے سیاسی عقیدے سے انھوں نے وفا کی، خاص طور پر ۲۰۱۴ء سے۲۰۱۸ ء تک کے پر آشوب زمانے میں جب انھوں نے اپنے قائد اور جماعت کے حق میں پوری قوت سے آواز بلند کی اور سینیٹر شپ قربان اور قید و بند کا سامنا کر کے اس کی قیمت ادا کی۔

یہی سبب ہے کہ مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف اور وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی متوسط طبقے کے اس عام کارکن کو یاد رکھا اور عزت سے نوازا۔ گورنر کی حیثیت سے نہال ہاشمی کے تقرر سے ہمارے کئی تصور ٹوٹے ہیں۔ اوّل یہ کہ بڑے مناصب صرف بڑے لوگوں کے لیے ہوتے ہیں اور دوم ،مسلم لیگ ن میں دوسری جماعتوں سے بڑھ کر ہوتے ہیں۔ گورنر کی حیثیت سے نہال ہاشمی کے تقررنے یہ تاثر کمزور کر دیا ہے۔

نہال ہاشمی کے گورنر بننے سے سندھ میں مسلم لیگ ن کے احیا کا امکان بھی پیدا ہو گیا ہے۔ یہ سلسلہ آگے بڑھنا چاہیے۔ سندھ میں ن لیگ کی تنظیم اور کارکن دونوں مایوسی کا شکار رہے ہیں۔ وہ خود کو نظر انداز کیا ہوا اور پچھڑا ہوا محسوس کرتے ہیں۔ اس وجہ سے ہر گزرتے وقت کے ساتھ سندھ میں اس جماعت کے اثر و نفوذ میں کمی ہوئی ہے۔ شاہ محمد شاہ، علی اکبر گجر اوردیگر لیگی کارکنوں اور راہ نماؤں نے ایسے حالات میں بھی ہمت نہیں ہاری ۔ وہ مسلسل کام کرتے رہے ہیں۔ خواجہ طارق نذیر کئی دہائیوں تک مسلسل متحرک رہنے کے بعد تقریباً گوشہ نشین ہو چکے ہیں۔ اسی طرح ناصر الدین محمود اور دیگر راہ نما خاموش ہیں یا کسی دوسری جانب دیکھ رہے ہیں۔ اس پس منظر میں گورنر کی حیثیت سے نہال ہاشمی کا تقرر مسلم لیگ ن سندھ کے لیے خوش آئند ہے۔ بہتر ہو کہ شاہ محمد شاہ، خواجہ طارق نذیر، علی اکبر گجر اور دیگر مخلص راہ نماؤں کو مرکز اور صوبے میں ذمے داریاں سونپی جائیں ۔ یوں یہ خوابیدہ جماعت سندھ میں ایک بار پھرطاقت پکڑ سکتی ہے۔

آخر میں گورنر صاحب کے لیے ایک ضروری مشورہ، صدر ممنون حسین مرحوم و مغفور نے خصوصی دل چسپی لے کر انجمن ترقیِ اردو کی عمارت تعمیر کرائی تھی اور اس ادارے کو تباہی سے بچایا تھا۔ بھائی نہال ہاشمی کو اپنے پیش رو کے اس ورثے کی حفاظت کرنی ہے اور قومی زبان کی خدمت کرنے والے ادارے کے سر پر دست شفقت رکھنا ہے۔میں ذاتی طور پر اُن سے بس یہی چاہتا ہوں۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

افغان طالبان کا وانا میں کامیاب حملے کا دعویٰ بے بنیاد ہے، وزارت اطلاعات

Published

on



اسلام آباد:

وزارت اطلاعات و نشریات نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوے کا فیکٹ چیک جاری کردیا جس میں افغان طالبان کی نام نہاد وزارت دفاع کے وانا میں کامیاب حملے کے دعوے کو بے بنیاد قرار دیا گیا ہے۔

وزارت اطلاعات و نشریات کے مطابق جنوبی وزیرستان کے اوپر ایک ڈرون تباہ کیا گیا، ڈرون کو سافٹ کِل ٹیکنالوجی کے ذریعے ناکارہ بنایا گیا جس کا کوئی نقصان نہیں ہوا، کسی بھی فوجی تنصیب یا انفرااسٹرکچر کو نقصان نہیں پہنچا۔

وزارت اطلاعات نے طالبان حکومت کے دعوے کو پروپیگنڈا اور من گھڑت قرار دے دیا اور کہا کہ طالبان ماضی میں بھی غلط اور گمراہ کن دعوے کرتے رہے،  پاکستان ایئر فورس کے طیارے گرانے اور پائلٹس گرفتار کرنے کے دعوے بھی جھوٹے ثابت ہوئے۔

وزارت اطلاعات نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی معلومات حقائق کے برعکس ہیں، سچ ہمیشہ جھوٹ اور پروپیگنڈے پر غالب آتا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

What did Babar Azam say on the retirement of former captain Sarfaraz Ahmed?

Published

on


پاکستان کرکٹ ٹیم کے اسٹار بیٹر بابر اعظم نے سابق کپتان سرفراز احمد کو انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے اعلان پر خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں بابر اعظم نے سرفراز احمد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سیفی بھائی، آپ کی قیادت میں کھیلنا واقعی ایک اعزاز تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ سرفراز احمد کی رہنمائی، اعتماد اور پاکستان کرکٹ کے لیے ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

بابر اعظم نے اپنی نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سرفراز احمد نے پاکستان کرکٹ کو کئی یادگار لمحات دیے اور وہ ان کی نئی زندگی کے مرحلے کے لیے کامیابی اور سکون کی دعا کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ سابق کپتان سرفراز احمد نے حال ہی میں انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے پاکستان کی جانب سے 54 ٹیسٹ، 117 ون ڈے اور 61 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز کھیلے جبکہ اپنے کیریئر میں مجموعی طور پر 6164 رنز بنائے۔ بطور وکٹ کیپر انہوں نے 315 کیچز اور 56 اسٹمپنگز بھی کیں۔

سرفراز احمد کی قیادت میں پاکستان نے 2017 کی آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی جیتی تھی اور ان کے دور میں قومی ٹیم ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں عالمی نمبر ایک رینکنگ تک بھی پہنچی۔

مزید یہ کہ سرفراز احمد پاکستان کے واحد کپتان ہیں جنہوں نے جونیئر اور سینئر دونوں سطح پر آئی سی سی ٹائٹل جیتے جبکہ حکومت پاکستان نے انہیں 2018 میں پرائیڈ آف پرفارمنس سے بھی نوازا تھا۔





Source link

Continue Reading

Today News

فیفا ورلڈ کپ میں ایران کی حمایت پر جاپانی فٹبالر کا امریکی اشتہاری معاہدہ منسوخ

Published

on



جاپان کے سابق فٹبالر Keisuke Honda نے کہا ہے کہ ایران کی ورلڈ کپ میں شرکت کی حمایت کرنے کے بعد ایک امریکی کمپنی نے میرے  ساتھ طے پانے والا اشتہاری معاہدہ منسوخ کر دیا۔

رپورٹس کے مطابق جاپانی فٹبالر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام میں کہا تھا کہ میں جانتا ہوں کہ یہ بہت حساس معاملہ ہے لیکن میں ذاتی طور پر چاہتا ہوں کہ ایران کی قومی ٹیم ورلڈ کپ میں شرکت کرے۔

I know it’s very sensitive thing but I personally want them participate the World Cup ⚽️ https://t.co/MxO2K4OPLl
— Keisuke Honda (@kskgroup2017) March 12, 2026

ان کے اس بیان کے بعد امریکی کمپنی نے ورلڈ کپ کے موقع پر اشتہاری مہم کا معاہدہ روک دیا۔ یہ اشتہار ورلڈ کپ کے دوران جاری ہونا تھا لیکن فٹبالر کے اس بیان کے بعد کمپنی نے اسے منسوخ کر دیا۔

سابق جاپانی اسٹار نے اس فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بعض کمپنیاں اصل مسئلے کو سمجھے بغیر ایسے فیصلے کر لیتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اصول اور نظریات کے بغیر کسی کے ساتھ کام جاری رکھنا ممکن نہیں۔

یاد رہے کہ ایران کی قومی فٹبال ٹیم کی فیفا ورلڈ کپ میں شرکت کے حوالے سے حالیہ دنوں میں بحث جاری ہے جس کی وجہ خطے میں بڑھتی کشیدگی اور سیاسی حالات ہیں۔



Source link

Continue Reading

Trending