Today News
ارکان پارلیمنٹ کے اثاثے خفیہ کیوں؟
پارلیمنٹ نے اپنے ارکان کے اثاثے خفیہ رکھنے کا جب فیصلہ کیا تھا تو ملک کے عوامی و سماجی حلقوں اور پارلیمنٹ سے باہر کی اپوزیشن نے پارلیمنٹ کے اس فیصلے پر اعتراض کیا تھا اور ارکان پارلیمنٹ کے اثاثے عوام سے چھپانے کے اس پارلیمنٹ کے فیصلے کی مذمت کی تھی جس کے بعد اب عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے بھی پارلیمنٹ کے ارکان کے اثاثے خفیہ رکھنے پر اعتراض کر دیا ہے اور اس ترمیم کو واپس لینے کا کہہ دیا ہے۔
واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کے قانون کے مطابق پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کے نومنتخب ارکان کو اپنے اثاثے تحریری طور فراہم کرنا ضروری ہوتا ہے جس کے بعد اب بھی ہر سال ارکان پارلیمنٹ و اسمبلی اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے قانونی طور پر پابند ہوتے ہیں مگر ہر سال ہوتا یہ ہے کہ ارکان وقت پر اثاثوں کی تفصیلات فراہم نہیں کرتے جس پر الیکشن کمیشن ان کی رکنیت معطل کر دیتا ہے اور معطل ارکان کے نام اشاعت کے لیے میڈیا کو فراہم کر دیے جاتے ہیں اور معطل ارکان جن میں وزیر و مشیر بھی شامل ہوتے ہیں کو اثاثوں کی تفصیلات فراہم کرنے کا نیا موقعہ دیا جاتا ہے جس کے بعد ارکان اپنی بحالی کے لیے اثاثے جمع کرانا شروع کرتے ہیں تو ان کی رکنیت بحال کرنے کا سلسلہ الیکشن کمیشن شروع کرتا ہے۔
ارکان پارلیمنٹ و اسمبلی کی رکنیت معطلی اور بحالی کوئی نئی بات نہیں بلکہ سالوں سے یہ ہوتا آ رہا ہے الیکشن کمیشن کی طرف سے معطلی کے باعث معطل ارکان اجلاسوں میں شریک نہیں ہو سکتے اور انھیں تنخواہ و مراعات بھی نہیں ملتیں تو وہ اس طرف متوجہ ہوتے ہیں اور اثاثے مجبوری میں انھیں ظاہر کرنا پڑتے ہیں تاکہ معطلی ختم اور بحالی کا نوٹیفکیشن جاری ہو سکے اور وہ ان مراعات کے حق دار بن سکیں جو قانونی طور ان کا حق بنتا ہے۔الیکشن کمیشن آف پاکستان نے آئی ایم ایف کو آگاہ کر دیا ہے کہ وہ اس سلسلے میں کسی صورت شفافیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا مگر جب حکومت اور پارلیمنٹ اس سلسلے میں کوئی فیصلہ کرے گی تو الیکشن کمیشن بھی مجبور ہو جائے گا کیونکہ وہ بھی قانون کا پابند ہے۔
حکومت کے لا ڈویژن نے بھی آئی ایم ایف کو بتایا ہے کہ حکومت نے اب تک ان ترامیم کی حمایت نہیں کی ہے جنھیں پیپلز پارٹی کے ارکان قومی اسمبلی سید نوید قمر اور شازیہ مری نے متعارف کرایا تھا جو نجی قانون سازی کے تحت ہوا تھا۔ واضح رہے کہ بعد میں قومی اسمبلی میں الیکشنز ایکٹ 2017 میں ترامیم کے حق میں مسلم لیگ (ن) نے بھی ووٹ دیا تھا تاکہ قانون سازوں کے اثاثوں اور واجبات کو عوام سے خفیہ رکھا جا سکے۔
آئی ایم ایف کو یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سینیٹ نے اب تک ان ترامیم کی منظوری نہیں دی جس کی وجہ سے یہ ترامیم قانون کا حصہ نہیں بن سکی ہیں۔واضح رہے کہ الیکشن کمیشن منتخب ارکان کے فراہم کردہ اثاثوں کی تفصیلات میڈیا کو فراہم کرتا ہے تو انھیں پڑھنے والے عوام ہنستے ہیں اور سر پکڑ لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے ملک میں اتنے غریب ارکان پارلیمنٹ، وزیر اور وزیر اعظم بھی موجود ہیں جن کے اپنے نام پر کوئی گھر ہے نہ گاڑی اور وہ جس گھر میں رہتے ہیں یا گاڑی استعمال کرتے ہیں وہ ان کی اپنی نہیں بلکہ بیوی، بیٹوں، بیٹیوں، بھائیوں و عزیزوں کے نام ہیں جنھیں وہ اپنے ذاتی اثاثوں میں ظاہر کرنے کے پابند نہیں۔ ارکان پارلیمنٹ اور منتخب ارکان اسمبلی کی حیثیت سے انھیں حکومت مراعات دیتی ہے جو سرکاری ہوتی ہیں اور ان سرکاری مراعات کا جن میں گھر، گاڑیاں و دیگر سہولتیں ہوتی ہیں ان کا وزیر اعظم، وزیر، مشیر، اسپیکرز، چیئرمین سینیٹ اور قائمہ کمیٹیوں کے ارکان بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں۔
ہر رکن پارلیمنٹ اور اسمبلی وزیر و مشیر بننا چاہتا ہے مگر قانونی طور پر ایسا ممکن نہیں ہے پھر بھی ہر حکومت اپنوں کو نوازنے کی کوشش کرتی ہے اور وہ اپنے تمام حامیوں کو نہیں نواز سکتی پھر بھی اپنوں کو سرکاری مراعات فراہم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے تاکہ کوئی ناراض نہ ہو۔ پاکستان میں تو یہ بھی ہوا ہے کہ بلوچستان میں صرف ایک رکن اپوزیشن میں تھا اور باقی تمام ارکان مختلف حیثیتوں میں حکومت میں شامل تھے۔اٹھارہویں ترمیم میں یہ پابندی لگائی گئی تھی کہ اسمبلیوں کے ارکان کی تعداد سے کابینہ بنے گی مگر پھر بھی اس قانون پر عمل نہیں ہوا۔ ہر حکومت نے اپنوں کو مختلف عہدے دے کر مالی فوائد پہنچائے۔
ایمانداری کے دعویدار پی ٹی آئی کے وزیر اعظم نے جو خود پہلی مرتبہ اقتدار میں آئے تھے انھوں نے اپنے عزیزوں کو نوازنے میں کسر نہیں چھوڑی تھی بلکہ غیر ممالک سے بھی اپنے دوستوں کو ہلا کر حکومتی عہدے دیے تھے۔پیپلز پارٹی اپنے حامیوں کو نوازنے کا دیگر پارٹیوں سے زیادہ نوازنے کا ریکارڈ رکھتی ہے۔ اثاثے خفیہ رکھنے کی ترمیم بھی پی پی ارکان نے کرائی تھی تاکہ عوام کو ان کے اثاثوں کا پتا نہ چل سکے۔ سرکاری مراعات تو اثاثوں میں ظاہر نہیں ہوتیں اس لیے ذاتی دولت گھر، سونا، گاڑیاں، ذاتی اثاثے ہوتے ہیں مگر اکثر ارکان ذاتی اثاثے بھی اپنے ظاہر نہیں کرتے کہ نیب کی پکڑ میں نہ آ جائیں۔ کیسے ممکن ہے کہ کسی رکن پارلیمنٹ و اسمبلی کے پاس اپنا گھر اور گاڑی نہ ہو مگر وہ ظاہر نہیں کیے جاتے اور وہ بھی عوام سے چھپانے کے لیے ترمیم منظور کرائی گئی جس پر آئی ایم ایف نے بھی اعتراض کیا ہے جو بالکل جائز ہے۔ عوام کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے منتخب نمایندے کے پاس کتنا مال تھا اور منتخب ہو کر اس کے پاس کتنا مال آ گیا مگر پوچھنے کا عوام کو حق نہیں۔
Today News
امریکا: اجنبی کے مشورے نے شہری کو بڑا انعام جتوا دیا
امریکا میں ایک اجنبی کے مشورے سے شہری نے بڑا انعام جیت لیا۔
ریاست میری لینڈ کے شہر حیاتس ول سے تعلق رکھنے والے شہری کو ایک دکان پر ایک اجنبی نے نئی لاٹری میں قسمت آزمانے کا مشورہ دیا۔
مشورے پر عمل کرتے ہوئے شہری نے لاٹری کا ٹک لیا اور اسکریچ کرنے پر معلوم ہوا کہ اس نے انعام میں ایک لاکھ ڈالر جیت لیے ہیں۔
انعام لینے کے لیے شہری کے ساتھ آئی ان کی اہلیہ نے لاٹری انتظامیہ کو بتایا کہ ان کے شوہر کو انعام جیتنے پر یقین نہیں آ رہا تھا۔
Source link
Today News
میٹا کی ہزاروں ملازمین کو نوکری سے نکالنے کی تیاری
ٹیکنالوجی کمپنی میٹا مبینہ طور پر ہزاروں ملازمین کو نوکری سے فارغ کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق کمپنی اپنے 20 فی صد تک ملازمین کو نوکری سے فارغ کرنے کی تیاری کر رہی ہے، جو تقریباً 16 ہزار کی تعداد بنتی ہے۔
اگر کمپنی رپورٹ کے عین مطابق کرتی ہے تو یہ 2022 کے بعد سے یہ ملازمین کو فارغ کرنے کا سب سے بڑا دور ہوگا۔ 2022 میں کمپنی کی جانب سے 11 ہزار افراد کو نوکری سے نکالا گیا تھا جبکہ اس کے اگلے برس 10 ہزار ملازمین کو فارغ کیا گیا تھا۔
دو سینئر ملازمین نے اس متعلق بزنس انسائیڈر کو بتایا کہ ملازمین کی برطرفیوں کا عمل ایک مہینے میں شروع ہو سکتا ہے۔
Source link
Today News
چائے یا کافی دماغی بیماری کے خطرات میں کمی لا سکتی ہے: تحقیق
ایک طویل المدتی مطالعے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ روزانہ معتدل مقدار میں کیفین والی مشروبات پینے سے ڈیمینشیا کے خطرے میں نمایاں کمی آتی ہے۔
جرنل آف دی امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں 1 لاکھ 31 ہزار سے زیادہ شرکا نے حصہ لیا۔ مطالعے کے آغاز پر یہ افراد کینسر، پارکنسن کی بیماری یا ڈیمینشیا میں مبتلا نہیں تھے۔
اس مطالعے میں 1980 سے 2023 تک نرسز ہیلتھ اسٹڈی میں 86 ہزار سے زائد خواتین اور 1983 سے 2023 تک ہیلتھ پروفیشنلز فالو اپ اسٹڈی میں 45 ہزار سے زائد مرد شرکا کو شامل کیا گیا۔ خواتین شرکا کی اوسط عمر 46 سال تھی، جبکہ مرد شرکاء کی اوسط عمر 54 سال تھی۔
کافی اور چائے کے استعمال اور ذہنی صحت کے درمیان تعلق کا جائزہ لینے کے لیے محققین نے شرکا سے دو سے چار سال میں ایک مرتبہ غذائی سوالنامے جمع کیے۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ شرکا میں 11 ہزار سے زیادہ ڈیمینشیا کے کیسز سامنے آئے، لیکن زیادہ کیفین والی کافی پینے سے ڈیمینشیا کے خطرے میں نمایاں کمی اور ذہنی زوال کے سبجیکٹیو علامات میں کمی دیکھنے کو ملی۔
اس کے علاوہ، نرسز ہیلتھ اسٹڈی کے شرکا میں زیادہ کافی پینے کا تعلق بہتر ذہنی کارکردگی سے بھی تھا۔ اسی طرح، کیفین والی چائے کے زیادہ استعمال کو بھی ذہنی صحت کے حوالے سے اچھے نتائج سے جوڑا گیا۔
Source link
-
Magazines1 week ago
Story Time: Culinary Disasters – Newspaper
-
Entertainment2 weeks ago
Ali Ansari On Falling in Love With More Than One Person
-
Business2 weeks ago
Privatisation Commission board recommends Fauji Fertiliser’s inclusion in consortium that won PIA auction – Pakistan
-
Sports1 week ago
Bangladesh recall Litton, Afif for Pakistan ODI series – Sport
-
Entertainment1 week ago
Fans React to Nadia Khan’s Wrinkles in Filter-Free Video
-
Sports2 weeks ago
Haris among 14 Pakistanis on The Hundred final list – Sport
-
Sports2 weeks ago
Sadaf, Fatima star as Pakistan thrash South Africa for consolation victory – Sport
-
Sports2 weeks ago
Milan consolidate top-four credentials with win at Cremonese – Sport