Connect with us

Today News

چائے یا کافی دماغی بیماری کے خطرات میں کمی لا سکتی ہے: تحقیق

Published

on



ایک طویل المدتی مطالعے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ روزانہ معتدل مقدار میں کیفین والی مشروبات پینے سے ڈیمینشیا کے خطرے میں نمایاں کمی آتی ہے۔

جرنل آف دی امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں 1 لاکھ 31 ہزار سے زیادہ شرکا نے حصہ لیا۔ مطالعے کے آغاز پر یہ افراد کینسر، پارکنسن کی بیماری یا ڈیمینشیا میں مبتلا نہیں تھے۔

اس مطالعے میں 1980 سے 2023 تک نرسز ہیلتھ اسٹڈی میں 86 ہزار سے زائد خواتین اور 1983 سے 2023 تک ہیلتھ پروفیشنلز فالو اپ اسٹڈی میں 45 ہزار سے زائد مرد شرکا کو شامل کیا گیا۔ خواتین شرکا کی اوسط عمر 46 سال تھی، جبکہ مرد شرکاء کی اوسط عمر 54 سال تھی۔

کافی اور چائے کے استعمال اور ذہنی صحت کے درمیان تعلق کا جائزہ لینے کے لیے محققین نے شرکا سے دو سے چار سال میں ایک مرتبہ غذائی سوالنامے جمع کیے۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ شرکا میں 11 ہزار سے زیادہ ڈیمینشیا کے کیسز سامنے آئے، لیکن زیادہ کیفین والی کافی پینے سے ڈیمینشیا کے خطرے میں نمایاں کمی اور ذہنی زوال کے سبجیکٹیو علامات میں کمی دیکھنے کو ملی۔

اس کے علاوہ، نرسز ہیلتھ اسٹڈی کے شرکا میں زیادہ کافی پینے کا تعلق بہتر ذہنی کارکردگی سے بھی تھا۔ اسی طرح، کیفین والی چائے کے زیادہ استعمال کو بھی ذہنی صحت کے حوالے سے اچھے نتائج سے جوڑا گیا۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

سولجر بازار میں عمارت گرنے کا واقعہ، ملزم ارشاد کی درخواست ضمانت مسترد

Published

on



کراچی:

 ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ایسٹ کی عدالت نے سولجر بازار میں عمارت کی چھت گرنے سے 15 افراد کے جاں بحق ہونے کے مقدمے میں ملزم ارشاد کی درخواست ضمانت مسترد کردی۔

عدالت میں سماعت کے دوران پراسیکیوٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم نے غیر قانونی گیس لائن نصب کی تھی جس کے باعث دھماکہ ہوا اور عمارت کی چھت گر گئی۔ ملزم کی غفلت اور لاپرواہی کے نتیجے میں 15 افراد جاں بحق ہوئے جن میں معصوم بچے بھی شامل تھے۔

پراسیکیوٹر نے مزید بتایا کہ اس سے قبل جوڈیشل مجسٹریٹ ملزم کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج چکے ہیں۔ پولیس کے مطابق ملزم کے خلاف سولجر بازار تھانے میں مقدمہ درج ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

کراچی میں بارش اور ژالہ باری کی پیش گوئی

Published

on



مغربی ہواؤں کا سلسلہ کل سے ملک میں داخل ہونے کا امکان ہے جس کے سبب شہر میں بارش اور چند مقامات پر ژالہ باری کا امکان ہے۔

محکمہ موسمیات کی ارلی وارننگ سینٹر کی پیش گوئی کے مطابق 18 مارچ کو کراچی میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

کراچی کے مختلف علاقوں میں بارش کے دوران ژالہ باری بھی ہو سکتی ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق 18 اور 19 مارچ کے دوران دیہی سندھ کے مختلف علاقوں میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔



Source link

Continue Reading

Today News

ایمرجنسی سروس کے ملازمین سول سرونٹس نہیں ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ جاری

Published

on



سپریم کورٹ نے ایک فیصلے میں کہا ہے کہ ایمرجنسی سروس کے ملازمین سول سرونٹس نہیں ہیں، ریسکیو 1122 کے ملازمین سول سرونٹس کی تعریف میں نہیں آتے کیونکہ پنجاب ایمرجنسی سروس کے ملازمین کی حیثیت پبلک سرونٹس کی ہے۔

عدالت نے پنجاب سروس ٹربیونل کا حکم نامہ کالعدم قرار دیتے ہوئے حکومت کی اپیلیں منظور منظور کر لی۔

سپریم کورٹ کا جاری کیا گیا فیصلہ جسٹس عائشہ ملک نے تحریر کیا۔

عدالت عظمیٰ نے قرار دیا کہ ریسکیو 1122 کے ملازمین کے سروس معاملات میں پنجاب سروس ٹربیونل کا کوئی دائرہ اختیار نہیں، محض ادارہ سرکاری محکمہ بننے سے ملازمین خود بخود سول سرونٹ نہیں بن جاتے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ ریسکیو 1122 کے ملازمین علیحدہ قانونی فریم ورک اور رولز 2007 کے تحت ریگولیٹ ہوتے ہیں، 2021 کی ترمیم کے بعد بھی پنجاب ایمرجنسی سروس آزاد قانونی محکمہ کے طور پر کام کر رہی ہے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ریسکیو 1122 ایک منفرد ایمرجنسی سروس ہے جو صوبہ پنجاب کے 37 اضلاع اور تحصیلوں میں ریسکیو خدمات فراہم کرتی ہے، ریسکیو 1122 کے ایکٹ 2006 کے تحت ایمرجنسی سروس عوامی تحفظ، ہنگامی حالات اور آفات کے دوران جان و مال کے تحفظ کے مفاد میں مختلف قسم کی ریسکیو خدمات انجام دیتی ہے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ ایمرجنسی سروس کے ملازمین سول سرونٹس نہیں ہیں اور سروس ٹربیونل کو ایمرجنسی سروس سے متعلق مقدمات سننے کا اختیار نہیں ہے۔ پنجاب ایمرجنسی سروس میں سائل بطور ڈرائیور کام کرتا تھا جس کے خلاف محکمانہ کارروائی کا آغاز کیا گیا۔

سپریم کورٹ فیصلے کے مطابق سروس ٹربیونل نے ڈرائیور کے خلاف ریگولر انکوائری کو کالعدم قرار دیکر دوبارہ انکوائری کا حکم دے دیا۔ سپریم کورٹ میں سوال یہ تھا کہ ایمرجنسی سروس کے ملازمین کیا سول سرونٹس ہیں۔



Source link

Continue Reading

Trending