Connect with us

Today News

رینجرز کی گلشن حدید میں کارروائی، ڈکیتی اوراسٹریٹ کرائم میں ملوث 3 ملزمان گرفتار

Published

on


سندھ رینجرز نے گلشن حدید میں کارروائی کرتے ہوئے ڈکیتی اوراسٹریٹ کرائم کی متعدد وارداتوں میں ملوث ماکھا گینگ سے تعلق رکھنے والے 3ملزمان کوگرفتار کرکے ان کے قبضے سے 3 موبائل فونز اور نقدی برآمد کرلی ہے۔

تفصیلات کے مطابق سندھ رینجرز نے خفیہ معلومات کی بنیاد پرگلشن حدید میں کارروائی کرتے ہوئے ڈکیتی اوراسٹریٹ کرائم کی متعدد وارداتوں میں ملوث ماکھا گینگ سے تعلق رکھنے والے 3 ملزمان حفیظ ولد عبدالحق،علی حسن ولد عبدالستاراورزوہیب ستو ولد شاہ نوازکوگرفتار کرکے ان کے قبضے سے3 موبائل فونزاورنقدی برآمد کرلی گئی۔

ترجمان کے مطابق گرفتارملزمان اپنے ساتھیوں کے ہمراہ شہرکے مختلف علاقوں شاہ ٹاون، پیپری، گکھڑ پھاٹک اورگلشن حدیدکے دیگرعلاقوں میں اسلحے کے زورپرموبائل فون اورنقدی چھیننے کی متعدد وارداتوں میں ملوث ہیں۔

گرفتارملزم زوہیب ڈکیتی اوراسٹریٹ کر ائم کے لیے پسٹل کرائے پربھی دیتا تھا۔ گرفتار ملزمان عادی مجرم ہیں اور ان کے خلاف شہرکے مختلف تھانوں میں متعدد ایف آئی آرز درج ہیں۔

گرفتارملزمان کے دیگرساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ گرفتار ملزمان کو بمعہ برآمد شدہ سامان مزید قانونی کاروائی کے لیے پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

کراچی؛ نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے ایک شخص قتل

Published

on



سچل جمالی پل کے قریب دو نامعلوم ملزمان نے فائرنگ کرکے ایک شخص کو قتل کر دیا۔

پولیس کے مطابق مقتول اور اس کا بیٹا موٹر سائیکل پر سوار تھے کہ دو ملزمان آئے اور فائرنگ کرکے رحیم بخش کو قتل کر دیا۔

لاش کو عباسی شہید اسپتال منتقل کر دیا گیا جبکہ مقتول کے لواحقین بھی عباسی شہید اسپتال پہنچ گئے۔

ابتدائی اطلاع کے مطابق مقتول رحیم بخش پیشے کے لحاظ سے ڈرائیور تھا جبکہ قتل کی وجہ فوری طور پر سامنے نہ آسکی۔

پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ ملزمان نے کسی قسم کی لوٹ مار نہیں کی، مقتول کی موٹر سائیکل جبکہ اس کا اور اس کے بیٹے کا موبائل فون بھی موجود ہے۔



Source link

Continue Reading

Today News

کراچی تباہ و برباد مگر بلاول بھٹو میئر کی کارکردگی سے خوش ہیں، منعم ظفر

Published

on



کراچی:

امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا ہے کہ کراچی تباہ و برباد ہوگیا مگر بلاول بھٹو میئر کی کارکردگی سے خوش ہیں۔

ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے منعم ظفر خان نے کہا کہ کراچی میں پانی نہیں مل رہا، شہر میں 18 سال میں کچرا اٹھانے کا کوئی نظام نہیں بنایا جاسکا لیکن پھر بھی بلاول بھٹو اپنی ٹیم سے مطمئن ہیں اور وزیراعلیٰ کو شاباش دے رہے ہیں۔

منعم ظفر خان نے کہا کہ شہر میں قبضہ مئیر عوام پر مسلط کیا گیا ہے، مسئلہ جیالے میئر کا نہیں بلکہ جعلی میئر کا ہے، ان کو مسلط کرنے والے بھی اب پریشان ہیں اور بغلیں جھانک رہے ہیں، 18 ویں ترمیم کے بعد کراچی کے تمام اداروں پر قبضہ کرلیا گیا، ظلم و جبر پر چین سے نہیں بیٹھیں گے، عید کے بعد شہری حقوق کے لیے شہریوں کو کال دیں گے۔

منعم ظفر خان نے کہا کہ 15 سال میں پیپلز پارٹی کراچی کے تین ہزار 360 ارب روپے ہڑپ کرچکی ہے۔ بلاول بھٹو بتائیں 18 سال گزر گئے کراچی کے پانی میں ایک بوند کا اضافہ کیوں نہیں ہوا، کے فور منصوبہ ابھی تک کیوں مکمل نہیں ہوا۔

امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا کہ شہر کو فوری طور پر 5 ہزار بسوں کی ضرورت ہے لیکن سندھ حکومت پانچ ڈبل ڈیکر بسیں لاکر ڈھنڈورا پیٹ رہی ہے، پورے شہر کو انہوں نے قبرستان بنادیا ہے، لوگ گھروں سے نکلتے ہوئے خوفزدہ ہیں، رواں سال موبائل چھیننے کے واقعات میں 15 لوگ جانوں سے محروم ہوگئے، ٹرالر اور ڈمپرز معصوم شہریوں کو کچل رہے ہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

عالمی حالات نے تھر کوئلے کے زیادہ استعمال کی ضرورت کو اجاگر کردیا

Published

on



کراچی:

امریکہ اور ایران کے جاری تنازع نے ایک بار پھر درآمدی ایندھن پر شدید انحصار کو نمایاں کر دیا ہے جس کے باعث معیشت کے اہم شعبوں میں تھر کوئلے کے استعمال کو تیز کرنے کی ضرورت دو چند ہو گئی ہے۔

اس وقت پاکستان تھر بلاک ون اور ٹو سے 2640 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہا ہے جبکہ سب سے کم لاگت والے چھ پاور پلانٹس میں سے چار تھر کوئلے پر چل رہے ہیں۔ آزاد اقتصادی اور سرمایہ کاری کے تجزیہ کار اے اے ایچ سومرو کے مطابق بلاک ٹو کی توسیع کے ساتھ 660 میگاواٹ کا لکی پاور پلانٹ بھی تھر کوئلے پر منتقل کیا جائے گا۔ حکومت تین دیگر درآمدی کوئلے پر چلنے والے آئی پی پیز میں تھر کوئلے کے آمیزے پر بھی کام کر رہی ہے تاہم اس کے امکانات صرف بجلی کے شعبے تک محدود نہیں۔

انہوں نے کہا کہ تھر کوئلے کی مکمل صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کے لیے حکومت کو مقامی منصوبہ جاتی مالیات، مشینری و آلات کی درآمد، گردشی قرضے اور ٹیرف سے متعلق رکاوٹیں دور کرکے تھر کوئلے کے منصوبوں کے آپریشن اور توسیع میں سہولت فراہم کرنا ہوگی۔

اے اے ایچ سومرو کے مطابق تھر کوئلے کے منصوبوں کی قومی اہمیت اور عالمی قرض دہندگان کی عدم دستیابی کے پیش نظر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو مقامی کمرشل بینکوں کو بلاک ون اور ٹو کی توسیع کے لیے زیادہ مالی معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کرنی چاہیے۔ اسی طرح حکومت کو درآمدی کوئلے پر چلنے والے پاور پلانٹس میں لازمی آمیزہ ہدف متعارف کرانے پر بھی غور کرنا چاہیے تاکہ معیشت کے دیگر شعبوں میں تھر کوئلے کے استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔

انکا کہنا تھا کہ بجلی اور سیمنٹ کے شعبے اب بھی بڑی حد تک درآمدی کوئلے پر انحصار کرتے ہیں، جس کے باعث معیشت عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور جغرافیائی سیاسی خطرات سے متاثر ہوتی ہے۔ حالیہ ہفتوں میں درآمدی کوئلے کی قیمتیں 2025 کے مقابلے میں 20 فیصد سے زیادہ بڑھ کر تقریباً 110 ڈالر فی ٹن (ایف او بی) تک پہنچ گئی ہیں۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کی ایک تحقیق کے مطابق آبنائے ہرمز میں طویل تعطل کی صورت میں پاکستان کی معیشت کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے، جس سے ماہانہ پیٹرولیم درآمدی بل میں 3.5 سے 4.5 ارب ڈالر تک اضافہ اور صارفین کی مہنگائی 15 سے 17 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تھر کوئلے کے وسیع استعمال کے لیے ایک اہم پیش رفت تھر کول ریل کنیکٹیویٹی منصوبہ ہوگا، جس کے 2026 کے آخر تک فعال ہونے کی توقع ہے۔ اس ریل رابطے کے ذریعے تھر سے ملک بھر کے صنعتی صارفین، خصوصاً سیمنٹ اور پاور پلانٹس تک کوئلے کی بڑی مقدار میں ترسیل ممکن ہو سکے گی۔

اے اے ایچ سومرو نے تجویز دی کہ سیمنٹ بھٹیوں میں تبدیلی، پاور پلانٹس کی ریٹروفٹنگ اور 1.1 ارب ڈالر کے مجوزہ تھر کوئلہ گیسفیکیشن منصوبے کے لیے حکومتی ضمانت یافتہ مالی معاونت یا اسٹیٹ بینک کی گرین اور انرجی ٹرانزیشن کریڈٹ لائنز متعارف کرائی جائیں تاکہ تھر کوئلے کے استعمال میں اضافہ ممکن ہو۔ کانوں کی مزید توسیع کے لیے حکومت کو درآمدی بھاری مشینری پر ڈیوٹی اور ٹیکس میں چھوٹ یا کمی پر بھی غور کرنا چاہیے۔

اے اے ایچ سومرو کے مطابق جب تھر کوئلہ گیسفیکیشن منصوبہ عملی شکل اختیار کر لے گا تو پاکستان کے کھاد کارخانوں کو ایل این جی پر مبنی پلانٹس کی طرح گیس کی معطلی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا جیسا کہ قطر کی جانب سے فورس میجر کے اعلان کے بعد دیکھنے میں آیا۔ اس منصوبے سے پاکستان کی غذائی سلامتی مضبوط ہوگی اور کسانوں کو سستی یوریا کی مسلسل فراہمی ممکن ہو سکے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے معدنیات کے شعبے میں اصل مواقع ڈاؤن اسٹریم پراسیسنگ میں ہیں، جہاں ریفائنریز اور ویلیو ایڈڈ صنعتوں میں سرمایہ کاری کی جا سکتی ہے۔ تھر کوئلے کے منصوبوں کے قریب کاپر اسملٹنگ پلانٹ اور خصوصی اقتصادی زون قائم کر کے صنعتی سرگرمیوں اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی تیاری کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے بجلی کے شعبے میں اصلاحات پر حکومت کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ گردشی قرضے کے مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا تاکہ تھر منصوبوں کو واجب الادا اربوں روپے کی وصولی ممکن ہو سکے۔ بروقت ادائیگیوں سے کیش فلو بہتر ہوگا اور منصوبوں کی مؤثر آپریشن اور مستقبل کی ترقی یقینی بنائی جا سکے گی۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران مقامی آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیوں کی نئی سرمایہ کاری اور بہتر ریکوری مہمات کے باعث اس شعبے میں کئی سال کی کمی کا رجحان پلٹتا نظر آ رہا ہے۔ حال ہی میں تیل و گیس کی تلاش کے لیے گیارہ آن شور بلاکس کی الاٹمنٹ اپ اسٹریم سرگرمیوں کے لیے مثبت پیش رفت ہے، تاہم اس شعبے کو درپیش مالی مشکلات کے حل کی فوری ضرورت ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending