Connect with us

Today News

رحیم یار خان: ریٹیلر شاپ کی چھت گرنے سے پانچ خواتین ہلاک، 30 زخمی

Published

on


صوبہ پنجاب کے شہر رحیم یار خان میں عمارت کی چھت گرنے سے پانچ خواتین جاں بحق جبکہ 30 زخمی ہو گئی ہیں۔

ریسکیو 1122 کے مطابق رحیم یار خان کے چک 125 پی میں یہ واقعہ پیر کو اُس وقت پیش آیا جب کئی خواتین بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت امدادی رقوم لینے کے لیے ایک ریٹیلر شاپ کی چھت موجود تھیں۔

ریسکیو 1122، ایدھی اور دیگر امدادی اداروں کی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا۔

ترجمان ضلعی انتظامیہ کے مطابق زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں جبکہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

ریسکیو 1122 کے مطابق بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت قسط وصول کرنے کے لیے 200 سے زائد خواتین چھت پر موجود تھیں جو کمزور ہونے کی وجہ سے گر گئی۔

زخمی خواتین کو شیخ زید ہسپتال منتقل کیا گیا ہے اور ہسپتال میں ایمرجنسی بھی نافذ کر دی گئی ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

سانحہ گل پلازہ سے متعلق قائم جوڈیشل کمیشن میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے تحریری جواب جمع کرا دیا

Published

on


سانحہ گل پلازہ سے متعلق قائم جوڈیشل کمیشن میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) نے اپنا تحریری جواب جمع کرا دیا۔

ایس بی سی اے کے مطابق اگست 1979 میں کے ڈی اے نے گل پلازہ کا ابتدائی بلڈنگ اپروول پلان جاری کیا تھا تاہم ادارے کے ریکارڈ روم میں اس کی اصل ابتدائی فائل دستیاب نہیں۔ جواب میں کہا گیا کہ ابتدائی طور پر گل پلازہ میں کتنی منزلیں منظور کی گئیں اس بارے میں بھی ریکارڈ موجود نہیں۔

جواب کے مطابق 1998 میں نظرثانی شدہ بلڈنگ پلان میں بیسمنٹ، گراؤنڈ اور تین بالائی فلورز کی منظوری دی گئی تھی اور اسی سال پلان کے تحت 1043 دکانیں منظور کی گئیں۔

ایس بی سی اے نے بتایا کہ 2003 میں ایمنسٹی اسکیم 2001-2002 کے تحت گل پلازہ کی 1102 دکانوں کو ریگولرائز کیا گیا جبکہ اس سے قبل 1998 میں 115 سب اسٹینڈرڈ دکانوں کی اندرونی تقسیم کی منظوری بھی دی گئی تھی، جو بعد میں ریگولرائزیشن میں شامل ہوئیں۔ مزید بتایا گیا کہ 2003 میں گل پلازہ کی 59 مزید دکانیں شامل کی گئیں جن میں 26 سب اسٹینڈرڈ تھیں۔

تحریری جواب میں کہا گیا کہ گل پلازہ کی عمارت میں فائر سیفٹی اور انخلا کے راستوں سے متعلق کوئی ریکارڈ موجود نہیں جبکہ عمارت کی آخری انسپیکشن 22 فروری 2003 کو ریگولرائزیشن کے دوران کی گئی تھی۔ معائنے کے دوران خلاف ورزیاں سامنے آئیں تاہم ایمنسٹی اسکیم کے تحت انہیں ریگولرائز کر دیا گیا۔

ایس بی سی اے کے مطابق 1992 میں گل پلازہ کے خلاف شوکاز نوٹس بھی جاری کیا گیا تھا اور عمارت میں سیڑھیاں مختلف مقامات پر اور مسلسل کنفیگریشن میں تعمیر کی گئی تھیں۔

جواب میں مزید کہا گیا کہ آگ سے بچاؤ کی اسٹرکچرل مزاحمت کا جائزہ لینا ادارے کی ذمہ داری نہیں جبکہ عمارت میں کسی ممکنہ تبدیلی یا راستے بند ہونے سے متعلق وضاحت بلڈر اور بلڈنگ مینجمنٹ دیں گے۔

ایس بی سی اے کے مطابق تکمیل یا ریگولرائزیشن کے بعد عمارت کی دیکھ بھال کی ذمہ داری بلڈر اور سوسائٹی پر ہوتی ہے اور عمارت مکمل ہونے کے بعد ادارہ نگرانی نہیں کرتا، اسی لیے موجودہ دکانوں کی درست تعداد معلوم نہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

وطن کیلئے جان کا نذرانہ پیش کرنے والے کیپٹن محمد احمد بدر شہید کو پاکستانی عوام کا خراج عقیدت

Published

on


پاک فوج کے بہادر آفیسر کیپٹن محمد احمد بدر شہید کی دوسری برسی آج منائی جارہی ہے۔

کیپٹن محمد احمد بدر نے 16 مارچ 2024 کو دشمن کا جواں مردی سے مقابلہ کرتے ہوئے شہادت کو گلے لگایا تھا۔

کپپٹن محمد احمد بدر شہید کے والد نے اپنے احساسات اور جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ
اپنے شہید بیٹے کی طرف سے وطن کے غیور عوام، شہداء کی ماؤں، بہنوں اور والدین کو سلام پیش کرتا ہوں، اپنے بیٹے کو سلیوٹ پیش کرتا ہوں جس نے اس ملک اور قوم کی خاطر اپنی جان کی قربانی دی۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا تہہ دل سے مشکور ہوں جنہوں نے ہر مشکل وقت میں ساتھ دیا۔

کپپٹن محمد احمد بدر شہید کی والدہ نے کہا کہ اللہ نے میرے بیٹے کو  شہادت دی، اس سے بڑھ کر کچھ نہیں،  کپپٹن محمد احمد بدر شہید  کی بہنوں کا کہنا تھا کہ بھائی کی جدائی کا غم  ہے لیکن شہادت سے بلند کوئی رتبہ نہیں، وہ اللہ سے ہمیشہ شہادت مانگتا تھا اور اللہ نے اسے شہادت دے کر اس کی خواہش پوری کردی۔

 





Source link

Continue Reading

Today News

سرگودھا میں دل دہلا دینے والا واقعہ، ناجائز تعلقات کے شبہے پر سفاک شخص نے بیوی، 5 بچوں کو قتل کر دیا

Published

on


پنجاب کے ضلع سرگودھا کے  نواحی علاقے بھاگٹانوالہ میں دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا جہاں ایک شخص نے مبینہ طور پر اپنی بیوی اور پانچ بچوں کو قتل کر دیا۔

پولیس کے مطابق تھانہ بھاگٹانوالہ کی حدود چک 25 جنوبی میں ملزم یاسین ملاح نے کلہاڑی کے وار کر کے اپنی بیوی اور بچوں کو قتل کیا۔ جاں بحق ہونے والوں میں ملزم کی بیوی فرخندہ، 18 سالہ بیٹی نور فاطمہ، 14 سالہ بیٹا علی حسن، 11 سالہ طیب، دو سالہ حسنین اور ایک سالہ بیٹا شامل ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے واردات کے بعد خود کو بھی زخمی کر لیا جسے تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق تمام لاشوں اور زخمی ملزم کو ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔

پولیس کے مطابق واقعے کی ابتدائی رپورٹ موصول ہو چکی ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں، جبکہ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ آیا معاملہ گھریلو تنازعہ تھا یا ملزم ذہنی دباؤ کا شکار تھا۔

اس دلخراش سانحے کے بعد علاقے میں فضا سوگوار ہو گئی۔

تھانہ بھاگٹانوالہ پولیس نے باپ کے ہاتھوں قتل ہونے والے 6 افراد کے واقعہ کا مقدمہ درج کرلیا گیا، مقدمہ مقتولہ کے بھائی کی مدعیت میں درج کیا گیا، شوہر کی طرف سے بیوی اور 5 بچوں کا قتل ناجائز تعلقات کے شبہ کی بنا پر کیا گیا۔

پولیس نے پوسٹمارٹم کے بعد لاشیں مقتولین کے چچا کے حوالے کر دیں، 6 افراد کی نماز جنازہ چک 25جنوبی میں ادا کی جائیگی۔

پولیس رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ شوہر نے ‘غیرت کے نام پر’ یہ اقدام کیا کیونکہ اسے اپنی بیوی اور بیٹی پر ایک شخص کے ساتھ ناجائز تعلقات رکھنے کا شبہ تھا۔





Source link

Continue Reading

Trending