Today News
عالمی حالات نے تھر کوئلے کے زیادہ استعمال کی ضرورت کو اجاگر کردیا
کراچی:
امریکہ اور ایران کے جاری تنازع نے ایک بار پھر درآمدی ایندھن پر شدید انحصار کو نمایاں کر دیا ہے جس کے باعث معیشت کے اہم شعبوں میں تھر کوئلے کے استعمال کو تیز کرنے کی ضرورت دو چند ہو گئی ہے۔
اس وقت پاکستان تھر بلاک ون اور ٹو سے 2640 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہا ہے جبکہ سب سے کم لاگت والے چھ پاور پلانٹس میں سے چار تھر کوئلے پر چل رہے ہیں۔ آزاد اقتصادی اور سرمایہ کاری کے تجزیہ کار اے اے ایچ سومرو کے مطابق بلاک ٹو کی توسیع کے ساتھ 660 میگاواٹ کا لکی پاور پلانٹ بھی تھر کوئلے پر منتقل کیا جائے گا۔ حکومت تین دیگر درآمدی کوئلے پر چلنے والے آئی پی پیز میں تھر کوئلے کے آمیزے پر بھی کام کر رہی ہے تاہم اس کے امکانات صرف بجلی کے شعبے تک محدود نہیں۔
انہوں نے کہا کہ تھر کوئلے کی مکمل صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کے لیے حکومت کو مقامی منصوبہ جاتی مالیات، مشینری و آلات کی درآمد، گردشی قرضے اور ٹیرف سے متعلق رکاوٹیں دور کرکے تھر کوئلے کے منصوبوں کے آپریشن اور توسیع میں سہولت فراہم کرنا ہوگی۔
اے اے ایچ سومرو کے مطابق تھر کوئلے کے منصوبوں کی قومی اہمیت اور عالمی قرض دہندگان کی عدم دستیابی کے پیش نظر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو مقامی کمرشل بینکوں کو بلاک ون اور ٹو کی توسیع کے لیے زیادہ مالی معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کرنی چاہیے۔ اسی طرح حکومت کو درآمدی کوئلے پر چلنے والے پاور پلانٹس میں لازمی آمیزہ ہدف متعارف کرانے پر بھی غور کرنا چاہیے تاکہ معیشت کے دیگر شعبوں میں تھر کوئلے کے استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔
انکا کہنا تھا کہ بجلی اور سیمنٹ کے شعبے اب بھی بڑی حد تک درآمدی کوئلے پر انحصار کرتے ہیں، جس کے باعث معیشت عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور جغرافیائی سیاسی خطرات سے متاثر ہوتی ہے۔ حالیہ ہفتوں میں درآمدی کوئلے کی قیمتیں 2025 کے مقابلے میں 20 فیصد سے زیادہ بڑھ کر تقریباً 110 ڈالر فی ٹن (ایف او بی) تک پہنچ گئی ہیں۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کی ایک تحقیق کے مطابق آبنائے ہرمز میں طویل تعطل کی صورت میں پاکستان کی معیشت کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے، جس سے ماہانہ پیٹرولیم درآمدی بل میں 3.5 سے 4.5 ارب ڈالر تک اضافہ اور صارفین کی مہنگائی 15 سے 17 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تھر کوئلے کے وسیع استعمال کے لیے ایک اہم پیش رفت تھر کول ریل کنیکٹیویٹی منصوبہ ہوگا، جس کے 2026 کے آخر تک فعال ہونے کی توقع ہے۔ اس ریل رابطے کے ذریعے تھر سے ملک بھر کے صنعتی صارفین، خصوصاً سیمنٹ اور پاور پلانٹس تک کوئلے کی بڑی مقدار میں ترسیل ممکن ہو سکے گی۔
اے اے ایچ سومرو نے تجویز دی کہ سیمنٹ بھٹیوں میں تبدیلی، پاور پلانٹس کی ریٹروفٹنگ اور 1.1 ارب ڈالر کے مجوزہ تھر کوئلہ گیسفیکیشن منصوبے کے لیے حکومتی ضمانت یافتہ مالی معاونت یا اسٹیٹ بینک کی گرین اور انرجی ٹرانزیشن کریڈٹ لائنز متعارف کرائی جائیں تاکہ تھر کوئلے کے استعمال میں اضافہ ممکن ہو۔ کانوں کی مزید توسیع کے لیے حکومت کو درآمدی بھاری مشینری پر ڈیوٹی اور ٹیکس میں چھوٹ یا کمی پر بھی غور کرنا چاہیے۔
اے اے ایچ سومرو کے مطابق جب تھر کوئلہ گیسفیکیشن منصوبہ عملی شکل اختیار کر لے گا تو پاکستان کے کھاد کارخانوں کو ایل این جی پر مبنی پلانٹس کی طرح گیس کی معطلی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا جیسا کہ قطر کی جانب سے فورس میجر کے اعلان کے بعد دیکھنے میں آیا۔ اس منصوبے سے پاکستان کی غذائی سلامتی مضبوط ہوگی اور کسانوں کو سستی یوریا کی مسلسل فراہمی ممکن ہو سکے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے معدنیات کے شعبے میں اصل مواقع ڈاؤن اسٹریم پراسیسنگ میں ہیں، جہاں ریفائنریز اور ویلیو ایڈڈ صنعتوں میں سرمایہ کاری کی جا سکتی ہے۔ تھر کوئلے کے منصوبوں کے قریب کاپر اسملٹنگ پلانٹ اور خصوصی اقتصادی زون قائم کر کے صنعتی سرگرمیوں اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی تیاری کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے بجلی کے شعبے میں اصلاحات پر حکومت کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ گردشی قرضے کے مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا تاکہ تھر منصوبوں کو واجب الادا اربوں روپے کی وصولی ممکن ہو سکے۔ بروقت ادائیگیوں سے کیش فلو بہتر ہوگا اور منصوبوں کی مؤثر آپریشن اور مستقبل کی ترقی یقینی بنائی جا سکے گی۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران مقامی آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیوں کی نئی سرمایہ کاری اور بہتر ریکوری مہمات کے باعث اس شعبے میں کئی سال کی کمی کا رجحان پلٹتا نظر آ رہا ہے۔ حال ہی میں تیل و گیس کی تلاش کے لیے گیارہ آن شور بلاکس کی الاٹمنٹ اپ اسٹریم سرگرمیوں کے لیے مثبت پیش رفت ہے، تاہم اس شعبے کو درپیش مالی مشکلات کے حل کی فوری ضرورت ہے۔
Today News
پی ایس ایل: ویسٹ انڈیز کے اہم فاسٹ بولر کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کا حصہ بن گئے
ویسٹ انڈیز کے فاسٹ بولر الزاری جوزف پاکستان سپر لیگ کے گیارہویں ایڈیشن کے لیے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کا حصہ بن گئے۔
کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی جانب سے جاری پیغام کے مطابق الزاری جوزف کو آسٹریلیا کے اسپینسر جانسن کی جگہ شامل کیا گیا ہے۔
ٹیم انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اسپینسر جانسن نجی وجوہات کے سبب پی ایس ایل کے لیے دستیاب نہیں ہیں۔
واضح رہے کہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے اسپینسر جانسن کو ڈائریکٹ سائن کیا تھا۔
Today News
سانحہ گل پلازہ سے متعلق قائم جوڈیشل کمیشن میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے تحریری جواب جمع کرا دیا
سانحہ گل پلازہ سے متعلق قائم جوڈیشل کمیشن میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) نے اپنا تحریری جواب جمع کرا دیا۔
ایس بی سی اے کے مطابق اگست 1979 میں کے ڈی اے نے گل پلازہ کا ابتدائی بلڈنگ اپروول پلان جاری کیا تھا تاہم ادارے کے ریکارڈ روم میں اس کی اصل ابتدائی فائل دستیاب نہیں۔ جواب میں کہا گیا کہ ابتدائی طور پر گل پلازہ میں کتنی منزلیں منظور کی گئیں اس بارے میں بھی ریکارڈ موجود نہیں۔
جواب کے مطابق 1998 میں نظرثانی شدہ بلڈنگ پلان میں بیسمنٹ، گراؤنڈ اور تین بالائی فلورز کی منظوری دی گئی تھی اور اسی سال پلان کے تحت 1043 دکانیں منظور کی گئیں۔
ایس بی سی اے نے بتایا کہ 2003 میں ایمنسٹی اسکیم 2001-2002 کے تحت گل پلازہ کی 1102 دکانوں کو ریگولرائز کیا گیا جبکہ اس سے قبل 1998 میں 115 سب اسٹینڈرڈ دکانوں کی اندرونی تقسیم کی منظوری بھی دی گئی تھی، جو بعد میں ریگولرائزیشن میں شامل ہوئیں۔ مزید بتایا گیا کہ 2003 میں گل پلازہ کی 59 مزید دکانیں شامل کی گئیں جن میں 26 سب اسٹینڈرڈ تھیں۔
تحریری جواب میں کہا گیا کہ گل پلازہ کی عمارت میں فائر سیفٹی اور انخلا کے راستوں سے متعلق کوئی ریکارڈ موجود نہیں جبکہ عمارت کی آخری انسپیکشن 22 فروری 2003 کو ریگولرائزیشن کے دوران کی گئی تھی۔ معائنے کے دوران خلاف ورزیاں سامنے آئیں تاہم ایمنسٹی اسکیم کے تحت انہیں ریگولرائز کر دیا گیا۔
ایس بی سی اے کے مطابق 1992 میں گل پلازہ کے خلاف شوکاز نوٹس بھی جاری کیا گیا تھا اور عمارت میں سیڑھیاں مختلف مقامات پر اور مسلسل کنفیگریشن میں تعمیر کی گئی تھیں۔
جواب میں مزید کہا گیا کہ آگ سے بچاؤ کی اسٹرکچرل مزاحمت کا جائزہ لینا ادارے کی ذمہ داری نہیں جبکہ عمارت میں کسی ممکنہ تبدیلی یا راستے بند ہونے سے متعلق وضاحت بلڈر اور بلڈنگ مینجمنٹ دیں گے۔
ایس بی سی اے کے مطابق تکمیل یا ریگولرائزیشن کے بعد عمارت کی دیکھ بھال کی ذمہ داری بلڈر اور سوسائٹی پر ہوتی ہے اور عمارت مکمل ہونے کے بعد ادارہ نگرانی نہیں کرتا، اسی لیے موجودہ دکانوں کی درست تعداد معلوم نہیں۔
Today News
وطن کیلئے جان کا نذرانہ پیش کرنے والے کیپٹن محمد احمد بدر شہید کو پاکستانی عوام کا خراج عقیدت
پاک فوج کے بہادر آفیسر کیپٹن محمد احمد بدر شہید کی دوسری برسی آج منائی جارہی ہے۔
کیپٹن محمد احمد بدر نے 16 مارچ 2024 کو دشمن کا جواں مردی سے مقابلہ کرتے ہوئے شہادت کو گلے لگایا تھا۔
کپپٹن محمد احمد بدر شہید کے والد نے اپنے احساسات اور جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ
اپنے شہید بیٹے کی طرف سے وطن کے غیور عوام، شہداء کی ماؤں، بہنوں اور والدین کو سلام پیش کرتا ہوں، اپنے بیٹے کو سلیوٹ پیش کرتا ہوں جس نے اس ملک اور قوم کی خاطر اپنی جان کی قربانی دی۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا تہہ دل سے مشکور ہوں جنہوں نے ہر مشکل وقت میں ساتھ دیا۔
کپپٹن محمد احمد بدر شہید کی والدہ نے کہا کہ اللہ نے میرے بیٹے کو شہادت دی، اس سے بڑھ کر کچھ نہیں، کپپٹن محمد احمد بدر شہید کی بہنوں کا کہنا تھا کہ بھائی کی جدائی کا غم ہے لیکن شہادت سے بلند کوئی رتبہ نہیں، وہ اللہ سے ہمیشہ شہادت مانگتا تھا اور اللہ نے اسے شہادت دے کر اس کی خواہش پوری کردی۔
-
Magazines1 week ago
Story Time: Culinary Disasters – Newspaper
-
Entertainment2 weeks ago
Ali Ansari On Falling in Love With More Than One Person
-
Entertainment2 weeks ago
Fans React to Nadia Khan’s Wrinkles in Filter-Free Video
-
Business2 weeks ago
Privatisation Commission board recommends Fauji Fertiliser’s inclusion in consortium that won PIA auction – Pakistan
-
Sports2 weeks ago
Bangladesh recall Litton, Afif for Pakistan ODI series – Sport
-
Sports2 weeks ago
Haris among 14 Pakistanis on The Hundred final list – Sport
-
Sports2 weeks ago
Sadaf, Fatima star as Pakistan thrash South Africa for consolation victory – Sport
-
Sports2 weeks ago
Milan consolidate top-four credentials with win at Cremonese – Sport