Connect with us

Today News

کراچی تباہ و برباد مگر بلاول بھٹو میئر کی کارکردگی سے خوش ہیں، منعم ظفر

Published

on



کراچی:

امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا ہے کہ کراچی تباہ و برباد ہوگیا مگر بلاول بھٹو میئر کی کارکردگی سے خوش ہیں۔

ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے منعم ظفر خان نے کہا کہ کراچی میں پانی نہیں مل رہا، شہر میں 18 سال میں کچرا اٹھانے کا کوئی نظام نہیں بنایا جاسکا لیکن پھر بھی بلاول بھٹو اپنی ٹیم سے مطمئن ہیں اور وزیراعلیٰ کو شاباش دے رہے ہیں۔

منعم ظفر خان نے کہا کہ شہر میں قبضہ مئیر عوام پر مسلط کیا گیا ہے، مسئلہ جیالے میئر کا نہیں بلکہ جعلی میئر کا ہے، ان کو مسلط کرنے والے بھی اب پریشان ہیں اور بغلیں جھانک رہے ہیں، 18 ویں ترمیم کے بعد کراچی کے تمام اداروں پر قبضہ کرلیا گیا، ظلم و جبر پر چین سے نہیں بیٹھیں گے، عید کے بعد شہری حقوق کے لیے شہریوں کو کال دیں گے۔

منعم ظفر خان نے کہا کہ 15 سال میں پیپلز پارٹی کراچی کے تین ہزار 360 ارب روپے ہڑپ کرچکی ہے۔ بلاول بھٹو بتائیں 18 سال گزر گئے کراچی کے پانی میں ایک بوند کا اضافہ کیوں نہیں ہوا، کے فور منصوبہ ابھی تک کیوں مکمل نہیں ہوا۔

امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا کہ شہر کو فوری طور پر 5 ہزار بسوں کی ضرورت ہے لیکن سندھ حکومت پانچ ڈبل ڈیکر بسیں لاکر ڈھنڈورا پیٹ رہی ہے، پورے شہر کو انہوں نے قبرستان بنادیا ہے، لوگ گھروں سے نکلتے ہوئے خوفزدہ ہیں، رواں سال موبائل چھیننے کے واقعات میں 15 لوگ جانوں سے محروم ہوگئے، ٹرالر اور ڈمپرز معصوم شہریوں کو کچل رہے ہیں۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ڈکی بھائی سے رشوت لینے والے این سی سی آئی اے کے سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر کو رہا کرنے کا حکم

Published

on



لاہور ہائیکورٹ نے ڈکی بھائی سے رشوت وصول کرنے اور اختیارت کا ناجائز استعمال کرنے والے سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر کی ضمانت منظور کرتے ہوئے رہائی کا حکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں سابق ایڈیشنل ڈایکٹر این سی سی آئی اے چوہدری سرفرازکی درخواست ضمانت پر سماعت جسٹس عبہر گل خان نے کی۔

عدالت نے ضمانت کو منظور کرتے ہوئے چوہدری سرفراز کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

وکیل صفائی نے بتایا کہ دیگر ملزمان کی ضمانتیں پہلے ہی ہوچکی ہیں۔

واضح رہے کہ معروف یوٹیوبر ڈکی بھائی کی گرفتاری کے بعد اختیارات کا ناجائز استعمال اور رشوت لینے کے الزام میں این سی سی آئی اے کے سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر سمیت دیگر افراد کو معطل کر کے مقدمہ درج اور پھر گرفتار کیا گیا تھا۔

 



Source link

Continue Reading

Today News

پی ایس ایل: ویسٹ انڈیز کے اہم فاسٹ بولر کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کا حصہ بن گئے

Published

on


ویسٹ انڈیز کے فاسٹ بولر الزاری جوزف پاکستان سپر لیگ کے گیارہویں ایڈیشن کے لیے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کا حصہ بن گئے۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی جانب سے جاری پیغام کے مطابق الزاری جوزف کو آسٹریلیا کے اسپینسر جانسن کی جگہ شامل کیا گیا ہے۔

ٹیم انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اسپینسر جانسن نجی وجوہات کے سبب پی ایس ایل کے لیے دستیاب نہیں ہیں۔

واضح رہے کہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے اسپینسر جانسن کو ڈائریکٹ سائن کیا تھا۔





Source link

Continue Reading

Today News

سانحہ گل پلازہ سے متعلق قائم جوڈیشل کمیشن میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے تحریری جواب جمع کرا دیا

Published

on


سانحہ گل پلازہ سے متعلق قائم جوڈیشل کمیشن میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) نے اپنا تحریری جواب جمع کرا دیا۔

ایس بی سی اے کے مطابق اگست 1979 میں کے ڈی اے نے گل پلازہ کا ابتدائی بلڈنگ اپروول پلان جاری کیا تھا تاہم ادارے کے ریکارڈ روم میں اس کی اصل ابتدائی فائل دستیاب نہیں۔ جواب میں کہا گیا کہ ابتدائی طور پر گل پلازہ میں کتنی منزلیں منظور کی گئیں اس بارے میں بھی ریکارڈ موجود نہیں۔

جواب کے مطابق 1998 میں نظرثانی شدہ بلڈنگ پلان میں بیسمنٹ، گراؤنڈ اور تین بالائی فلورز کی منظوری دی گئی تھی اور اسی سال پلان کے تحت 1043 دکانیں منظور کی گئیں۔

ایس بی سی اے نے بتایا کہ 2003 میں ایمنسٹی اسکیم 2001-2002 کے تحت گل پلازہ کی 1102 دکانوں کو ریگولرائز کیا گیا جبکہ اس سے قبل 1998 میں 115 سب اسٹینڈرڈ دکانوں کی اندرونی تقسیم کی منظوری بھی دی گئی تھی، جو بعد میں ریگولرائزیشن میں شامل ہوئیں۔ مزید بتایا گیا کہ 2003 میں گل پلازہ کی 59 مزید دکانیں شامل کی گئیں جن میں 26 سب اسٹینڈرڈ تھیں۔

تحریری جواب میں کہا گیا کہ گل پلازہ کی عمارت میں فائر سیفٹی اور انخلا کے راستوں سے متعلق کوئی ریکارڈ موجود نہیں جبکہ عمارت کی آخری انسپیکشن 22 فروری 2003 کو ریگولرائزیشن کے دوران کی گئی تھی۔ معائنے کے دوران خلاف ورزیاں سامنے آئیں تاہم ایمنسٹی اسکیم کے تحت انہیں ریگولرائز کر دیا گیا۔

ایس بی سی اے کے مطابق 1992 میں گل پلازہ کے خلاف شوکاز نوٹس بھی جاری کیا گیا تھا اور عمارت میں سیڑھیاں مختلف مقامات پر اور مسلسل کنفیگریشن میں تعمیر کی گئی تھیں۔

جواب میں مزید کہا گیا کہ آگ سے بچاؤ کی اسٹرکچرل مزاحمت کا جائزہ لینا ادارے کی ذمہ داری نہیں جبکہ عمارت میں کسی ممکنہ تبدیلی یا راستے بند ہونے سے متعلق وضاحت بلڈر اور بلڈنگ مینجمنٹ دیں گے۔

ایس بی سی اے کے مطابق تکمیل یا ریگولرائزیشن کے بعد عمارت کی دیکھ بھال کی ذمہ داری بلڈر اور سوسائٹی پر ہوتی ہے اور عمارت مکمل ہونے کے بعد ادارہ نگرانی نہیں کرتا، اسی لیے موجودہ دکانوں کی درست تعداد معلوم نہیں۔





Source link

Continue Reading

Trending