Connect with us

Today News

راولپنڈی کی شاہراؤں پر چار منزلہ اور لوڈڈ گاڑی کا مڑ گشت، سی ٹی او کا نوٹس

Published

on


رات گئے بند کھنہ روڈ پر انتہائی بری طرح اور لوڈڈ گاڑی کی موجودگی پر سی ٹی او راولپنڈی فرحان اسلم نے نوٹس لے لیا ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق نائٹ ڈیوٹی پر متعین عملے کو گاڑی فوری طور پر روک کر قانونی کارروائی کے احکامات جاری کیے گئے۔

انچارج سینئر وارڈن انسپکٹر عبدل واحد نے اورلوڈڈ وہیکل کو جہاز گراؤنڈ کے قریب تعاقب کرکے روک لیا۔ وہیکل پر تہہ در تہہ فرنیچر وغیرہ کا سامان لوڈ تھا جو گاڑی سے کہیں فٹ اوپر تک نکلا ہوا تھا۔

سامان بجلی کی تاروں سے ٹکرانے یا گاڑی اور لوڈنگ کے باعث توازن کھو جانے پر چلتے چلتے الٹنے کا بھی خدشہ تھا۔ سٹی ٹریفک پولیس کے عملے نے وہیکل کے ڈرائیور کو شدید اور لوڈنگ پر دس ہزار روہے کا چالان ٹکٹ جاری کردیا۔

وہیکل ڈرائیور اور مالک کو آئندہ کے لیے سخت وارننگ بھی دی گئی۔ فرحان اسلم سی ٹی او راولپنڈی کا کہنا تھا کہ اور لوڈنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف زیرو ٹالرہنس پالیسی رکھی جائے گی۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

کراچی میں 11 مارچ سے 16 مارچ تک جان لیوا خونی حادثات میں 19 افراد زندگی سے محروم

Published

on



کراچی:

شہر قائد میں ہیوی اور دیگر نامعلوم گاڑیوں سے بڑھتے ہوئے جان لیوا خونی حادثات میں 11 مارچ سے 16 مارچ تک 19 افراد زندگی سے محروم ہوگئے۔

جس کے بعد رواں سال ٹریفک کے جان لیوا ٹریفک حادثات میں زندگی سے محروم ہونے والوں کی مجموعی تعداد 225 ہوگئی جس میں 10 افراد ہیوی گاڑیوں کے بے رحم پہیوں سے کچلے گئے۔ 

حادثات میں خواتین ، بچے اور بچیاں بھی شامل ہیں ، ٹریفک پولیس افسران کی جانب سے ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کے دعوے تو ضرور سامنے آتے ہیں لیکن زمینی حقائق اس کے بلکل ہی برعکس دکھائی دیتے ہیں جس میں شہری ہیوی ٹریفک سمیت دیگر نامعلوم گاڑیوں کی ٹکر اور ان کے بے رحم پہیوں کا شکار ہو رہے ہیں۔

 رواں ماہ 11 مارچ کو چھیپا فاؤنڈیشن کے ترجمان چوہدری شاہد کی جانب سے شہر میں ٹریفک کے جان لیوا خونی حادثات کے اعداد و شمار جاری کیے گئے تھے جس میں شہر کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے دوران خواتین ، بچوں اور بچیوں سمیت مجموعی طور پر 206 افراد جاں بحق اور 2080 افراد زخمی ہوئے۔

جبکہ ہیوی گاڑیوں سے 67 افراد لقمہ اجل بنے تاہم 11 مارچ سے 16 مارچ (5) روز میں شہر میں جان لیوا خونی ٹریفک حادثات میں مزید 19 افراد زندگی سے محروم ہوگئے۔ 

ترجمان چھیپا فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق رواں سال ٹریفک کے جان لیوا خونی حادثات میں 225 افراد زندگی سے محروم ہوگئے جس میں 162 مرد ، 31 خواتین ، 23 بچے اور 9 بچیاں شامل ہیں۔

جبکہ ٹریفک حادثات میں مجموعی طور پر 2 ہزار 254 افراد زخمی ہوئے جس میں 1768 مرد ، 363 خواتین ، 90 بچے اور 33 بچیاں شامل ہیں۔

ترجمان چھیپا فاؤنڈیشن کے مطابق رواں سال کے 75 روز میں اب تک ہیوی گاڑیوں کے جان لیوا خونی حادثات میں مجموعی طور پر 76 افراد لقمہ اجل بن گئے جس میں سب سے زیادہ 36 جان لیوا حادثات ٹریلر کی ٹکر سے پیش آئے۔

جبکہ واٹر ٹینکر سے 21 افراد ، بس کی ٹکر سے 8 افراد ، مزدا کی ٹکر سے 7 افراد جبکہ ڈمپر کی ٹکر سے 4 افراد زندگی سے محروم ہوگئے۔ 

ایک جانب ٹریفک پولیس کے افسران ٹریفک قوانین پر عملدر آمد کے دعوے کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں تو دوسری جانب زمینی حقائق ان کے دعوؤں کی نفی کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

جزیرہ خرگ خلیج کا سب سے خطرناک مقام ہے

Published

on


جس طرح آبنائے ہرمز عالمی معیشت رواں رکھنے والی توانائی کی شہہ رگ ہے اسی طرح خلیج میں ساحل سے اٹھائیس کیلومیٹر پر واقع جزیرہ خرگ ایران کی اقتصادی شہہ رگ ہے (ایران مشرقِ وسطی کا پہلا ملک ہے جہاں انیس سو آٹھ سے تیل کی پیداوار حاصل ہو رہی ہے جب برٹش پٹرولیم نے یہاں پہلا کنواں دریافت کیا تھا۔جزیرہ نما عرب میں انیس سو تیس کے عشرے میں تیل نکلا)۔

موجودہ جنگ شروع ہونے سے پہلے ایران یومیہ تینتیس لاکھ بیرل خام تیل پیدا کر رہا تھا۔سب سے زیادہ پیداوار صوبہ اہواز کے تین بڑے آئل فیلڈز ( ابو زر ، فیروزاں ، درود ) سے نکلتی ہے۔ان آئل فیلڈز سے تیل پائپ لائنوں کے ایک گنجلک نظام کے ذریعے جزیرہ خرگ پہنچایا جاتا ہے۔یہاں سمندری گہرائی اتنی اچھی ہے کہ سپر ٹینکرز بھی باآسانی لنگر انداز ہو سکتے ہیں۔یہاں سے ہی نوے فیصد ایرانی تیل ٹینکرز میں بھر کے باقی دنیا کو بھیجا جاتا ہے۔

اس جزیرے پر تیل ذخیرہ کرنے کے تیس ٹینکوں کی گنجائش تین کروڑ بیرل ہے۔ عموماً یہاں دس سے بارہ دنوں کی ایکسپورٹ کا تیل (اٹھارہ ملین بیرل) ہی ذخیرہ ہوتا ہے۔یعنی سالانہ ساڑھے نو سو ملین بیرل تیل اس جزیرے سے گذر کے دنیا تک پہنچتا ہے۔ذرا سوچئے اگر اس ذخیرے پر براہِ راست بمباری ہو جائے تو خلیج کے دونوں طرف کا کم ازکم آدھا ساحل کیا انسانی رہائش کے قابل رہے گا ؟

جزیرہ خرگ کو کوئی بڑا نقصان پہنچانا اتنا حساس معاملہ ہے کہ جب انیس سو اناسی میں صدر جمی کارٹر نے تہران میں یرغمال بنائے گئے باون امریکی سفارت کاروں کی رہائی کے آپریشن کی منظوری دی تو اس وقت بھی جزیرہ خرگ کی تیل تنصیبات پر حملے کا خیال مسترد کر دیا گیا۔کارٹر کے بعد آنے والے امریکی صدر رونالڈ ریگن نے آٹھ سالہ ایران عراق جنگ کے دوران آبنائے ہرمز سے گذرنے والے آئل ٹینکرز کو مسلح بحری تحفظ ضرور فراہم کیا مگر جزیرہ خرگ پر قبضے کا انھیں بھی خیال نہ آیا۔

عراقیوں نے انیس سو اسی تا اٹھاسی جاری رہنے والی جنگ میں ایران کی ہر بندرگاہ اور جہاز کو نشانہ بنانے کی کوشش کی مگر خرگ پر آٹھ برس میں صرف ایک بار بمباری ہوئی۔تاہم اس حملے سے ہونے والے نقصان کی فوری بھرپائی کے سبب ایرانی تیل کی برآمد بہت زیادہ متاثر نہیں ہوئی۔

مگر مسٹر ٹرمپ اور ان کی کچن کیبنٹ کو شائد کسی نے نہیں بتایا کہ جزیرہ خرگ تیل پیدا کرنے والے تیسرے بڑے عالمی ملک کے لیے کیا اقتصادی معنی رکھتا ہے اور اگر اس جگہ کوئی مہم جوئی ہوتی ہے تو ساحل کے دوسری جانب واقع خلیجی تیل تنصیبات کے ساتھ جوابی کارروائی میں ایسا کیا کیا نہیں ہو سکتا جس کے بعد پوری دنیا توانائی کے عظیم بحران کی لپیٹ میں آنے سے بچی رہے۔ان تمام نزاکتوں سے بے نیاز ٹرمپ ٹیم نے بلومبرگ کی ایک رپورٹ کے مطابق جنگ کے پہلے ہفتے میں ہی خرگ کو ناکارہ بنانے یا اس پر قبضہ کرنے کے امکان پر غور شروع کر دیا اور ٹھیک ایک ہفتے بعد خرگ میں موجود ایرانی فوجی تنصیبات پر بمباری کر دی۔

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں کہا کہ انھوں نے اس بار تو تیل تنصیبات کو چھوڑ دیا مگر ایران نے اگر جلد آبنائے ہرمز کا محاصرہ ختم نہ کیا تو اگلے حملے میں جزیرہ خرگ پر کوئی مہربانی نہیں ہو گی۔ویسے بھی بقول ٹرمپ اس جزیرے پر کارروائی ایک مزیدار تجربہ ہو گا۔اس سے قبل ایک اور سوشل میڈیا پیغام میں ٹرمپ نے کہا کہ تیل کی قیمت جتنی بڑھے گی امریکا کا منافع بھی بڑھے گا کیونکہ امریکا اس وقت تیل پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔( اب تو دنیا کا سب سے بڑا تیل ذخیرہ وینزویلا بھی امریکا کے ہتھے چڑھ چکا ہے )۔

خرگ ایک تاریخی جزیرہ ہے۔معروف ایرانی ادیب جلال آلِ احمد کی ایک سطر ہے کہ ’’ خرگ خلیجِ فارس کا یتیم موتی ہے ‘‘۔ایرانی صوبہ بوشہر کے بالمقابل واقع ایرانی معیشت کے اس بائیس مربع کیلومیٹر کے دھڑکتے دل میں اس وقت سوائے تیل کی صنعت سے وابستہ کارکنوں اور ان کے محافظوں کے کوئی نہیں رہتا۔

اس جزیرے میں قدرتی میٹھا پانی بھی ہے۔ یہاں انسانی آبادی کے دو ہزار برس قدیم آثار پائے گئے ہیں۔یہاں ساتویں صدی کے دو بزرگوں میر آرام اور میر محمد کے مزارات بھی ہیں۔آس پاس زرتشتی ، مسیحی اور ساسانی ادوار کی نشانیاں اور قبروں کے آثار بھی بکھرے پڑے ہیں۔تیل کی صنعت سے پہلے خرگ خلیج کے تقریباً وسط میں واقع ہونے کے سبب چھوٹی سی زرعی و تجارتی منڈی بھی رہا اور تاجر و ملاح یہاں کچھ دیر رک کے تازہ دم بھی ہوتے تھے۔

یورپی سامراج نے سولہویں صدی میں پر پرزے نکالنے شروع کیے تو پرتگیزیوں نے خرگ اور اس کے قریب واقع دو دیگر چھوٹے جزیروں تمب ِ اکبر اور تمبِ اصغر پر بھی جھنڈا گاڑ دیا۔مگر اٹھارہویں صدی کے وسط میں ( سترہ سو سینتالیس ) ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی نے اس جزیرے پر قلعہ بندی کر دی۔اس قلعے اور اس سے متصل باغ کے آثار آج بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ سترہ سو چھیاسٹھ میں ایرانیوں نے تجارتی معاہدہ منسوخ کر کے ڈچ کمپنی کو یہاں سے نکال باہر کیا۔

جب انیس سو بیس کے عشرے میں کرنل رضا خان نے رضا شاہ پہلوی اول کا لقب اختیار کر کے ایران پر اپنی بادشاہت قائم کی تو انھوں نے سیاسی قیدیوں کو جزیرہ خرگ میں رکھنا شروع کیا۔مگر ان کے بیٹے رضا شاہ دوم کے زمانے میں انیس سو اٹھاون سے اس جزیرے کو تیل کی برآمد کے لیے وقف کر دیا گیا۔خرگ سے پہلا تیل بردار جہاز اگست انیس سو ساٹھ میں روانہ ہوا۔اس سے پہلے ایرانی تیل کی ایکسپورٹ آبادان کی بندرگاہ سے ہوتی تھی۔مگر آبادان کے مقابلے میں خرگ کا ساحل بڑے اور وزنی آئل ٹینکرز کے لیے زیادہ موزوں تھا۔

جزیرہ خرگ ہزاروں برس سے آتی جاتی سلطنتوں کا عروجِ زوال دیکھ رہا ہے۔اس کے ساحل پر جانے کون کون کب کب اترا اور تاریخ کی دھند میں گم ہو گیا۔مگر آج جزیرہ خرگ کو غالباً اپنی بقا کا سب سے سنگین چیلنج درپیش ہے۔ اس بار اگر یہ جزیرہ جل گیا تو بہت کچھ اپنے ساتھ لے جائے گا۔البتہ اس کا وجود سیاہ ہو کر بھی یہیں رہے گا اور اس سے ٹکرانے والی موجیں بدستور مونگے کی کھردری چٹانوں سے سر مارتی رہیں گی۔

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)





Source link

Continue Reading

Today News

عید کارڈ کا کلچر اب کہاں !

Published

on


ماضی میں عید کی خوشیوں میں عید کارڈ کا ایک بڑا حصہ شامل ہوتا تھا جو عید شروع ہونے سے قبل عید کا ماحول بنا دیتا تھا۔ ہر کوئی اپنے دوست احباب اور رشتے داروں کو خوشی خوشی عید کارڈ بھیجتا۔ عید کارڈز، خوشبو لگے لفافے، رنگین کاغذ اور اُن پر لکھے گئے چند اشعار جو دل سے نکل کر سیدھے دل تک پہنچتے تھے۔ یہ سارا لطف اور مزہ گزشتہ نسل (جنریشن) کا تھا جو نئی نسل کے حصے میں نہیں آسکا۔

پاکستان اور بھارت میں خاص طور پر 1960 سے 90 کی دہائیوں میں عید کارڈ بھیجنے کا رجحان بڑے عروج پر تھا، ان کارڈ پر خوبصورت خطاطی بھی ہوتی تھی، شاعری بھی ہوتی تھی، تصاویر بھی ہوتی تھیں اور ہاتھ سے لکھے ہوئے مختلف پیغامات بھی ہوتے تھے جو انسان کے جذبات کو بلندیوں پر لے جاتے تھے۔ یہ صرف عیدکارڈ نہیں ہوتے تھے بلکہ وہ جذبات ہوتے تھے جس کا اظہار دوست، احباب اور رشتے دار سب ایک دوسرے سے کرتے تھے اور ان کو پڑھ کے اندازہ ہوتا تھا کہ کون کس سے کتنی محبت کرتا ہے۔ یوں یہ ایک الگ ہی ماحول ہوتا تھا۔

اس زمانے میں جب عید کارڈ کا کلچر اپنے عروج پر تھا، بازاروں میں اس کے باقاعدہ اسٹال لگتے تھے اورگلی محلوں میں بھی یہ اسٹال نظر آتے تھے جہاں سے بچے بڑے سب رمضان کے پہلے ہی ہفتے سے عید کارڈ خرید کر لا تے، انھیں سجا تے، ان میں جذباتی تحریریں لکھتے، اشعار لکھتے اور دور دراز علاقوں میں اپنے رشتے داروں کو، دوستوں کو بھیج دیتے۔ اس موقع پر عید سے پہلے دوست، رشتے دار سب ہی انتظار کرتے کہ ہمیں کس کس نے عید کارڈ بھیجا ہے، کس کا آگیا ہے، کس کا نہیں آیا۔ یہ محبت کی ایک عجیب کیفیت ہوتی تھی، جذبات کا ایک نرالہ ہی انداز ہوتا تھا۔

ایک طرح سے یہ صرف عیدکارڈ نہیں تھے بلکہ اردو ادب کا ایک حصہ بھی تھے، یعنی ان میں بہت خوبصورت اردو زبان لکھی ہی نہیں جاتی تھی بلکہ اردو کے اشعار بھی لکھے جاتے تھے۔ بڑے اور سنجیدہ قسم کے لوگ سنجیدہ قسم کے اور محبت کے حوالے سے اشعار کا انتخاب کرتے تھے جب کہ بچے اور منچلے نوجوان اپنی معصومیت اور مزاح کے مزاج کے اعتبار سے اشعار کا انتخاب کرتے تھے۔ یہ اشعار بھی اس کلچر کا ایک خاصہ تھے۔ آج بھی جب ہم یہ اشعار کہیں سنتے یا کہیں لکھے ہوئے دیکھ لیتے تو ہمیں اپنا بچپن کا زمانہ یاد آجاتا ہے، وہ کلچر یاد آجاتا ہے جو اب ہمیں نظر نہیں آتا۔ ان اشعار میں بچوں کے بڑے معصومانہ قسم کے اشعار ہوتے تھے۔ مثلاً

عید عید کرتے ہو عید بھی آ جائے گی

پہلے رمضان کے روزے رکھو، عقل ٹھکانے آ جائے گی

یا

ڈبے میں ڈبہ ڈبے میں کیک

میرا دوست لاکھوں میں ایک

اسی طرح یہ اشعار بھی۔

گرم گرم روٹی توڑی نہیں جاتی

آپ سے دوستی چھوڑی نہیں جاتی

سویاں پکی ہیں سب نے چکھی ہیں

یار تم کیوں روتے ہو، تمہارے لیے بھی رکھی ہیں

……………

پھول تو بہت ہیں مگر گلاب جیسا نہیں

دوست تو ہیں مگر آپ جیسا نہیں

 اسی طرح بالغ عمرکے لوگ سنجیدہ قسم کے اشعار لکھتے تھے۔ مثلاً قمر بدایونی کا یہ شعر بڑا مشہور ہوا۔

عید کا دن ہے گلے آج تو مل لے ظالم

رسم دنیا بھی ہے موقع بھی ہے دستور بھی ہے

 اسی طرح امجد اسلام امجد کا یہ شعر۔

جس طرف تو ہے ادھر ہوں گی سبھی کی نظریں

عید کے چاند کا دیدار بہانہ ہی سہی

 اور نوجوان تو اس قسم کے اشعار لکھتے تھے کہ پڑھ کے اور بھی ہنسی آتی تھی۔ مثلاً

عید آئی تم نہ آئے کیا مزہ ہے عید کا

عید ہی تو نام ہے اک دوسرے کی دید کا

یا

چاند نے چاندنی سے کہا عید کب آئے گی

چاندنی نے کہا جب میری دوست مسکرائے گی

کچھ منچلے یہ شعر بھی لکھتے تھے۔

ڈبے میں ڈبہ ڈبے میں کیک

مینوں نئی پتہ، مینوں عیدی بھیج

 غرض ان اشعار کی بھی ایک دنیا ساتھ ہوتی تھی، یعنی صرف عید کارڈ نہیں ہوتا تھا، ادبی دنیا بھی ساتھ ساتھ چلتی تھی جو عوامی قسم کی ہوتی تھی جس میں شاعری کے وزن سے زیادہ جذبات کو دخل ہوتا تھا۔اخبارات بھی عید کے خصوصی ایڈیشن شائع کرتے تھے، جس میں تہنیتی اشعار شامل ہوتے تھے اور یہی اشعار بعد میں لوگ اپنی عید کارڈ پر لکھا کرتے تھے۔

ان عید کارڈ کی اپنی ایک تاریخ ہے، اگر اس تاریخ پر ہم نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ برطانوی دورِ حکومت میں جدید طباعتی صنعت نے برصغیر میں فروغ پایا جب کلکتہ، بمبئی اور لاہور جیسے شہروں میں پرنٹنگ پریس قائم ہوئے جہاں مذہبی اور تہواروں سے متعلق کارڈز شائع ہونے لگے۔ ابتدا میں زیادہ تر کارڈز کرسمس اور ہپی نیو ایئر کے لیے ہوتے تھے، لیکن جلد ہی مسلمانوں نے بھی عید کے لیے تہنیتی کارڈز بنوانا شروع کر دیے۔ 20 ویں صدی کے اوائل میں اردو اشعار، اسلامی خطاطی اور چاند ستارے کی علامات والے کارڈز مقبول ہونے لگے۔

پاکستان میں عید کارڈز پر اسلامی خطاطی، مسجدوں کے مناظر اور چاند رات کی جھلکیاں نمایاں ہوتی تھیں۔ 1960ء سے 1990ء تک بازاروں میں خصوصی عید کارڈ اسٹال لگتے تھے۔ لوگ رشتہ داروں، عزیزوں کو اندرون اور بیرونِ ملک ڈاک کے ذریعے کارڈ بھیجتے تھے۔ اسی طرح جب 80 کی دہائی میں پاکستان میں وی سی آر لوگوں کی دسترس میں آیا اور اس کے ذریعے گھر گھر بھارتی فلمیں دیکھی جانے لگیں تو ان فلموں کے مشہور اداکاروں کی تصاویر پر مشتمل عید کارڈ بھی بازار میں آگئے۔ نو جوانوں کی ایک خاص تعداد ان عید کارڈ کو خرید تی تھی۔ یہ کارڈ پوسٹ کارڈ کی طرح ہوتے تھے، جن میں ایک جانب اداکاروں کی تصاویر اور دوسری جانب (پشت پر) پیغام لکھنے کی جگہ ہوتی تھی۔

2000ء کے بعد انٹرنیٹ اور موبائل فون کے عام ہونے سے عید کارڈز کی جگہ ای کارڈز اور سوشل میڈیا پیغامات نے لے لی۔ فیس بک، واٹس ایپ اور دیگر پلیٹ فارمز نے تہنیت کے انداز بدل دیے۔ ان نت نئے انداز اور طریقوں سے لوگ اپنے پیاروں کو عید کے پیغامات بھیجتے ہیں جس کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ پیغامات سیکنڈز کے اندر اپنی منزل مقصود پر پہنچ جاتے ہیں جب کہ ماضی کے کلچر میں یہ تیزی نہیں تھی اور یہ تہنیتی پیغامات کئی دنوں میں بعض اوقات ہفتے بھر میں پہنچتے تھے یوں لوگوں کو اپنی پیاروں کی جانب سے بھیجے گئے۔ عید کارڈ کا رمضان کے آخر تک بھی انتظار رہتا تھا۔ گویا عید کارڈ کا یہ کلچر خوشی، انتظار کی کیفیت اور تجسس سے بھی بھر پور ہوتا تھا جو اب ختم ہوگیا۔





Source link

Continue Reading

Trending