Connect with us

Today News

سندھ کی گورنری کا حق

Published

on


ایم کیو ایم پاکستان کا کہنا ہے کہ سندھ کی گورنری اس کا حق ہے کیونکہ وہ سندھ کے شہری علاقوں اور خصوصاً ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کی نمایندہ جماعت ہے۔ ایم کیو ایم جب شہری سندھ اور دیہی سندھ کی بات کرتی ہے یا جب دیہی سندھ کو اندرون سندھ کہا جاتا ہے تو پیپلز پارٹی کو سندھ کی اس تقسیم پر سخت اعتراض ہوتا ہے۔

پی پی سندھ کے صدر نثار کھوڑو اندرون سندھ کہنے پر متعدد بار اعتراض کر چکے ہیں اور کہہ چکے ہیں کہ سندھ صرف ایک ہے کوئی اندرون سندھ یا شہری و دیہی سندھ نہیں ہے حالانکہ پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی حکومت میں خود سندھ کو تقسیم کیا تھا اور صرف سندھ میں کوٹہ سسٹم آئینی طور پر نافذ کرکے دیہی سندھ کے لیے ساٹھ فی صد اور شہری سندھ کے لیے چالیس فی صد کوٹہ مقرر کیا تھا جو سندھ میں پی پی کے وزیر اعلیٰ ممتاز علی بھٹو دور میں سندھ میں پہلے لسانی مفادات کے بعد مقرر ہوا تھا جب کہ کسی اور صوبے میں کوئی کوٹہ سسٹم نہیں ہے جو دس سال کے لیے تھا مگر نصف صدی سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد بھی سندھ میں کوٹہ سسٹم نافذ ہے جو پیپلز پارٹی ختم کرنا نہیں چاہتی۔

سندھ میں پیپلز پارٹی کی غلط پالیسی کے بعد ایم کیو ایم قائم ہوئی تھی اور اس سے قبل حیدر آباد کے نواب مظفر کے دور میں پہلے لسانی فسادات کے بعد سندھی اور اردو بولنے والوں کی تفریق سامنے آئی تھی۔ سندھ اگر لسانی طور پر تقسیم نہیں ہے تو پیپلز پارٹی نے کوٹہ سسٹم کیوں برقرار رکھوایا ہے کیونکہ اتنے طویل عرصے میں تو سندھ میں احساس محرومی ختم ہو جانا چاہیے تھا جس کی بنیاد پر کوٹہ سسٹم نافذ ہوا تھا۔

سندھ میں احساس محرومی کے باعث ہی ڈومیسائل سسٹم نافذ ہے اور ایم کیو ایم کا الزام رہا ہے کہ اس سلسلے میں انتظامیہ جانبدارانہ کردار ادا کرتی ہے اور کراچی میں اندرون سندھ کے لاکھوں افراد کو حکومت نے جعلی ڈومیسائل بنوا کر دیے جس سے شہری سندھ کا چالیس فی صد کوٹہ بھی نہیں مل رہا ہے اور سندھ کی شہری آبادی کو مقررہ کوٹے کے مطابق داخلے اور سرکاری ملازمتیں نہیں مل رہیں۔ اس سلسلے میں ایم کیو ایم اعداد و شمار بھی جاری کرتی رہی ہے اور اسے پی پی حکومت کے وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا دور میں ہونے والے سرکاری اقدامات پر اعتراض رہا ہے جب کہ ملک میں آئین ہر پاکستانی کو اجازت دیتا ہے کہ وہ ملک کے جس صوبے میں چاہے جا کر رہائش اختیار کر سکتا ہے جس کا ثبوت کراچی ہے کہ جہاں ملک کے ہر علاقے کے لوگ رہتے ہیں۔

2008 سے سندھ میں پیپلز پارٹی کی مسلسل چوتھی حکومت ہے اور سندھ میں پی پی کے علاوہ ہر پارٹی الزام لگاتی ہے کہ 18 سالہ حکومت میں پی پی حکومت نے سندھ کی ترقی کے لیے کچھ نہیں کیا صرف کرپشن کی ہے اور کرپشن ہی کی ترقی ہوئی ہے۔

سندھ میں سیدوں کی بہت عزت کی جاتی ہے اسی لیے پی پی نے زیادہ تر سیدوں کو ہی وزیر اعلیٰ کا عہدہ دیا جب کہ سندھ میں ممتاز بھٹو، غلام مصطفیٰ جتوئی اور آفتاب میرانی بھی پی پی کے وزیر اعلیٰ رہے مگر ان تینوں سے زیادہ اقتدار کا موقع قائم علی شاہ، عبداللہ شاہ اور ان کے صاحبزادے موجودہ وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کے اقتدار کا عرصہ سب سے طویل ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ سندھ میں پیپلز پارٹی کے پاس دو تہائی سے بھی زیادہ اکثریت ہے اور سندھ کے زیادہ تر وڈیرے، جاگیردار، سجادہ نشین اور مشہور سیاسی سید خاندانوں کے افراد ہی اندرون سندھ سے پی پی کے ٹکٹ پر کامیاب ہوتے آ رہے ہیں اور سندھ حکومت میں سالوں سے اقتدار میں شامل ہیں اور صرف انھی کی مالی حیثیت تبدیل ہوئی ہے اور سندھ کے عام آدمیوں کی حالت بدلی نہ سندھ میں وہ ترقی ہوئی جو ہونی چاہیے تھی۔ سندھ حکومت صرف صحت میں ترقی کے دعوے کرتی ہے مگر سندھ اب بھی مجموعی ترقی سے محروم ہی نظر آتا ہے۔

پیپلز پارٹی کا موقف ہے کہ وہ سندھ کی سب سے بڑی پارٹی ہے جسے عوام ہر دور میں اقتدار کا حق دیتے رہے ہیں اس لیے سندھ کی گورنری بھی اس کا حق ہے مگر 2024ء میں پی پی قیادت نے سندھ و بلوچستان کی گورنری مسلم لیگ (ن) کو دی تھی اور مسلم لیگ (ن) نے اپنی اتحادی ایم کیو ایم کو سندھ کے گورنر کا عہدہ دیا تھا جس کے کامران ٹیسوری ساڑھے تین سال گورنر رہے جن کی سیاسی سرگرمیوں پر پیپلز پارٹی کو اعتراض تھا کہ انھیں ہٹا کر (ن) لیگ اپنا گورنر لائے اور اگر اس کے پاس کوئی رہنما نہیں ہے تو پی پی کا گورنر مقرر کرے جو اس کا حق بھی ہے اور پی پی سے معاہدہ بھی ہے۔

سندھ کی عوامی نمایندگی پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے پاس ہے اسی لیے سندھ کا اقتدار اکثریت کے باعث پی پی کا حق ہے اور ایم کیو ایم اپوزیشن میں ہے جب کہ سندھ اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کا کوئی رکن اسمبلی تک نہیں ہے کیونکہ سندھ میں (ن) لیگ کا وجود نہ ہونے کے برابر ہے جس کے باعث سندھ میں (ن) لیگ کے پاس اہم رہنما بھی نہیں ہیں۔ (ن) لیگ کا تو سندھ میں کوئی بلدیاتی چیئرمین تک نہیں ہے مگر پیپلز پارٹی نے ایم کیو ایم کی سیاسی مخالفت میں (ن) لیگ کو سندھ میں اپنا گورنر لانے پر مجبور کیا جو اصولی اور سیاسی طور پر بھی (ن) لیگ کا حق نہیں بنتا۔ حق تو کام کرنے والوں کا ہونا چاہیے مگر سندھ میں تو اس کا تصور نہیں ہے۔ یہاں کارکردگی کی بنیاد پر حق حکمرانی صرف سیاسی بنیاد پر ملتا ہے اچھی کارکردگی کی کہیں قدر نہیں اور کارکردگی کی مثال قائم کرنے پر ایم کیو ایم کے گورنر کو ہٹا کر (ن) لیگ اپنا گورنر لے آئی ہے جو اس کا حق نہیں۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ہمارا آج ہمیں دے دو

Published

on


ایک صاحب نے بڑا خوبصورت مضمون لکھا ہے کوئی ڈاکٹر ہے مضمون پشتو میں ہے اور ’’جنات‘‘ کے حوالے سے ہے ان پیروں فقیروں اور عاملوں کے بارے میں ہے جو’’بیماریوں‘‘ کو جنات وغیرہ سے منسوب کرکے ’’علاج‘‘ کا ڈھونگ رچاتے ہیں، اس نے تفصیل سے ان بیماریوں کا بھی ذکر کیا ہے اور آخر میں مشورہ دیا ہے کہ ایسے حالات میں ان نوسربازوں کی بجائے ڈاکٹروں سے رجوع کرنا چاہیے کیونکہ یہ بیماریاں ہوتی ہیں جن وغیرہ نہیں۔اکثر ان عامل کامل پروفیسروں بابا بنگالیوں پرتگالیوں کو’’بُرا‘‘ کہا جاتا ہے اور وہ ہیں بھی۔لیکن اگر گہرائی میں سوچا جائے تو ان باباؤں اور سیاسی لیڈروں میں فرق کیا ہے؟۔وہ بھی خوش خبریاں اور امیدیں بیچتے ہیں اور یہ بھی’’کل‘‘ اور’’امید‘‘ کے سوداگر ہیں۔اور یہ کوئی ڈھکی چھپی بات بھی نہیں ہے سب کچھ ہمارے سامنے ہے پون صدی سے۔بلکہ اس وقت سے یہ سلسلہ جاری ہے جب ہمارے ان عاملوں نے کہا تھا کہ اگر انگریز چلے گئے تو ہم جنت نشین ہوجائیں گے کیونکہ وہ ظالم کافر استحصالی لٹیرے ہمارا ملک لوٹ کر مال و دولت اپنے وطن پہنچا رہے ہیں۔

دماغی کثرت استعمال والوں نے دماغی عدم استعمال والوں کو حسب معمول نعروں، ترانوں، نغموں کی بانسری پر نچانا شروع کیا۔آخر کار میری دھرتی سونا اگلے، اگلے ہیرے موتی۔ہم آزاد ہوگئے لٹیرے چلے گئے۔اور’’گا۔گے۔گی‘‘ کا سلسلہ شروع ہوگیا جو ابھی تک چل رہا ہے لیکن آج تک نہ ان ہیرے موتیوں کا پتہ چلا نہ سونا چاندی کا۔اور نہ ان خزانوں کا جو لٹیرے لے جارہے تھے اور بچالیے گئے۔ وہ ایک نجومی نے تو سائل سے کہا تھا کہ چالیس سال میں تیرے دن پھر جائیں گے یہاں ستتر سال ہوگئے۔اور وہی بیانات ویسے ہی جلوہ گرہورہے ہیں۔ان سیاسی عاملوں کاملوں کی تیسری پیڑھی بھی آگئی۔کتنے چہرے بدل گئے، پلوں کے نیچے سے کتنا پانی اور اوپر کتنے ٹیکس؟ لیکن پانی تو گزر گیا ہے ٹیکس گزرنے کی بجائے بدستور موجود ہیں بلکہ مسلسل سیلاب کی طرح بڑھتے چلے جارہے ہیں۔ چڑھتے چلے جارہے ہیں۔نئے نئے عامل کامل آتے ہیں بھانت بھانت کے بابا جلوہ گرہوتے ہیں طرح طرح کے دم چف اخباروں میں۔’’بہائے‘‘ جاتے ہیں لیکن کچھ ہوا؟۔ہاں ہوا۔ پہلے کفن کش صرف کفن چراتا تھا۔اس کا بیٹا لاش کی بے حرمتی کرتا تھا اب پوتا اس لاش کو بھی بیچ رہا ہے بلکہ بیچ چکا ہے ؎

نشمین ہی کا غم ہوتا تو کیا غم تھا

یہاں تو بیچنے والوں نے گلشن بیچ ڈالا ہے

آج تک نہ اس دولت کا پتہ چلا جو وہ لٹیرے انگریز لوٹ کر لے جارہے تھے، نہ اس سونے اور ہیرے موتیوں کا جو یہ دھرتی اگلتی تھی، معلوم نہیں آسمان کھاگیا یا زمین کھاگئی

بدلتا ہے رنگ یہ جہان کیسے کیسے

زمیں کھاگئی آسمان کیسے کیسے

اور آتے رہیں بیان کیسے کیسے؟بولتے رہے کوے کاں کیسے کیسے۔دکاں کیسے کیسے،ڈاکوان کیسے کیسے، نوسربازاں کیسے کیسے؟قائدکیسے کیسے ، مرد حق کیسے کیسے۔معین قریشی کیسے کیسے، شوکت عزیز کیسے کیسے،چاروں صوبوں کی زنجیر کیسے کیسے، سب پر بھاری کیسے کیسے، بانی کیسے کیسے،وژن کیسے کیسے۔اور اب کیسے کیسے

جو قسمت تھی وہ قسمت دیکھ لی میں نے

قیامت سے بہت پہلے قیامت دیکھ لی میں نے

عامل کامل اور کیسے ہوتے ہیں بابا بنگالی پرتگالی اور کیسے ہوتے ہیں۔دھوکے اور نوسربازیاں اور کیا ہوتی ہیں بلکہ ہمیں تو شرما آتی ہے ان بے شرموں کی بے شرمیاں دیکھ کر اور سن کر۔ ہمارے ایک شاعر دوست تھے ایک دن ہم نے اس سے کہا چلو فلاں سے ملتے ہیں۔اس نے کہا، یار مجھے تو اسے دیکھ دیکھ کر اور باتیں سن سن کر شرم سی محسوس ہونے لگتی ہے۔ دراصل جس سے ملنے کا ہم نے کہا تھا وہ ایک الگ ٹائپ کا آدمی تھا پورا مرد تھا لیکن حرکات و سکنات باتیں ساری خواتین کی طرح کرتا تھا، لہک لہک کر ہاتھ بجابجاکر لہرا لہرا کر۔ دہرا ہوکر۔ایسا کہ دیکھنے اور سننے والے کو شرم محسوس ہوتی تھی۔بخدا ہمیں بھی آج کل اخباروں میں ان عاملوں کاملوں، نجومیوں، پروفیسروں کے بیانات پر شرم سی محسوس ہوتی ہے، ایسا لگتا ہے جسے بیانات نہیں دے رہے ہوں گویا لہری، ننھا، منورظریف، رنگیلے کوئی ایکٹ پیش کررہے ہیں۔

کتنی صدیاں بیت گئیں، کتنے ہزارے گزر گئے لیکن وہ ’’دن‘‘ وہ’’کل‘‘ جو نجانے کہاں سے آنے والا تھا نہیں پہنچا۔جس کی خوش خبریاں تھیں، ہیں اور رہیں گی، وہ دن جس کا وعدہ ہے جو لوح ازل پہ لکھا ہے،جب ظلم وستم کے کوہ گراں روئی کی طرح اڑجائیں گے،جب ارض خدا کے کعبے سے سب بُت اٹھوائے جائیں گے۔جب اہل حکم کے سروں پر یہ بجلی کھڑکھڑکے گی، ہم محکموں کے پاؤں تلے یہ دھرتی دھڑدھڑکے گی۔ہونہہ بکواس ۔اس میں یہ’’کل‘‘ کا دھوکے باز لفظ ہے کیونکہ جسے ہم آج۔کل سمجھ رہے ہیں وہ جب آتا ہے تو’’کل‘‘ کا نقاب اُلٹ کر آج ہوچکی ہوتی ہے اور وعدہ تو’’کل‘‘ کا ہے اب یہ کمال کون دکھائے کہ کل میں آج اور آج میں کل کو پکڑلے، وہ کم بخت’’کل‘‘ تو ’’آج‘‘ سے یوں نکل جاتا ہے جیسے پھول سے خوشبو نکل جاتی ہے۔

میں گراہوں تو اسی خاک میں ملنا ہے مجھے

وہ تو خوشبو ہے اسے اپنے نگر جانا ہے

وہ ایک لوہار کا لطیفہ تو آپ کو یاد ہوگا۔جس کے بیٹے نے ایک شخص کو جو لوہے کا ایک ٹکڑا اس کے پاس لایا تھا دارنتی بنانے کے لیے۔اور پوچھا کہ کب بن جائے گی لوہار کا بیٹا اس وقت کجھور کھارہا تھا۔اس نے کجھور کی گٹھلی ایک طرف پھینکتے ہوئے کہا جب یہ گٹھلی پھوٹ جائے گی پھر درخت بن کر پھل دینے لگے گی تب ، وہ شخص وعدہ لے کر چلا گیا۔لڑکے کا باپ آگیا تو اس نے باپ کو ماجرا سنایا کہ میں نے اس طرح اس شخص کو کھجور کو اگنے اور پھل دینے کا وعدہ دیا ہے تو باپ نے اسے ڈانٹتے ہوئے کہا۔بیوقوف گٹھلی تو کل اُگے گی پھر درخت بننے میں بھی زیادہ دیر نہیں لگے گی اور پھل دار بہت جلد ہوجائے گی اسے ’’کل‘‘ کا وعدہ دیا ہوتا کہ کل نہ کبھی ہے، نہ آئی ہے اور نہ کبھی آئے گی۔

یہ کل کے وعدے’’آج‘‘ کو کھانے کا سلسلہ بہت پرانا ہے یہ اس وقت سے شروع ہوا ہے جب پینڈورا کا بکس کھلا تھا۔ اور اس میں سے دنیا بھر کی آفات، غم، رنج دکھ اور سیاسی لیڈر وزیر مشیر اور معاو ن نکل کر عوام کو چمٹ گئے تھے اور وہ جو سب سے آخر میں ’’امید‘‘ کی بڑھیا لاٹھی ٹیکتے ہوئے گرتی پڑتی نکلی تھی، وہ تو بڈھی بھی تھی لنگڑی بھی شاید اسے دمہ بھی ہو اور گھٹنوں کا عارضہ بھی، چنانچہ جب وہ ہم تک پہنچے گی یہ آفات ہمارا تیا پانچا کرچکے ہوں گی ۔ہمارا ان’’کل‘‘ بیچنے والوں سے التجا ہے کہ بس بہت ہمارا’’آج‘‘ ہڑپ چکے ہو اب مہربانی کرکے اپنا’’کل‘‘ اپنے پاس رکھو اور ہمارا’’آج‘‘ ہمیں دے دو۔





Source link

Continue Reading

Today News

مالی سال کے 8 ماہ میں 700 ملین ڈالر کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ

Published

on



کراچی:

پاکستان کے بیرونی شعبے پر ایک بار پھر دباؤ کے آثار سامنے آئے ہیں، کیونکہ فروری میں بہتر کارکردگی کے باوجود مالی سال 2026 کے ابتدائی 8 ماہ کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں چلا گیا، جو حالیہ معاشی استحکام کی کمزوری کو ظاہرکرتا ہے۔

اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری بیلنس آف پیمنٹس کے تازہ اعدادوشمارکے مطابق جولائی تا فروری 2026 کے دوران پاکستان کاکرنٹ اکاؤنٹ 700 ملین ڈالر خسارے میں رہا،جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 479 ملین ڈالرکاسرپلس ریکارڈ کیا گیا تھا۔

تاہم فروری 2026 میں کرنٹ اکاؤنٹ میں 427 ملین ڈالرکاسرپلس ریکارڈکیاگیا،جو فروری 2025 کے 85 ملین ڈالر خسارے اور جنوری 2026 کے 68 ملین ڈالر سرپلس کے مقابلے میں نمایاں بہتری ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مارچ 2025 کے بعد سب سے بڑاماہانہ سرپلس ہے۔ اعداد وشمارکے مطابق پاکستان کے بیرونی کھاتے پر سب سے بڑادباؤاشیاء کی تجارت کے خسارے کی وجہ سے ہے۔

فروری میں تجارتی خسارہ بڑھ کر 2.67 ارب ڈالر تک پہنچ گیا،کیونکہ برآمدات 2.48 ارب ڈالررہیں، جبکہ درآمدات 5.15 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ جولائی تا فروری مالی سال 2026 کے دوران مجموعی تجارتی خسارہ بڑھ کر 21.08 ارب ڈالر ہوگیا،جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 16.49 ارب ڈالر تھا۔

اس عرصے میں برآمدات 20.74 ارب ڈالر رہیں،جبکہ ایک سال پہلے یہ 21.94 ارب ڈالر تھیں، دوسری جانب درآمدات بڑھ کر 41.82 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔

جولائی تا فروری کے دوران ترسیلاتِ زر 26.49 ارب ڈالر رہیں، جو پاکستان کے بیرونی کھاتے کیلیے بڑاسہارا ثابت ہوئیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ ترسیلات نہ ہوتیں تو کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کہیں زیادہ ہوسکتا تھا، صرف ترسیلاتِ زر اور بیرونی قرضوں پر انحصار معیشت کے دیرپااستحکام کیلیے کافی نہیں، پاکستان کی برآمدات اب بھی زیادہ ترکم ویلیو ایڈڈ شعبوں خصوصاً ٹیکسٹائل تک محدود ہیں،جہاں علاقائی ممالک سے سخت مقابلہ ہے۔

اسی طرح پرائمری انکم اکاؤنٹ میں بھی دباؤ برقراررہا، جولائی تافروری کے دوران اس کھاتے میں 5.64 ارب ڈالرکاخسارہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی بڑی وجہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے منافع کی منتقلی اور بیرونی قرضوں پر ادائیگیاں ہیں۔

مالیاتی کھاتے میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری بھی محدود رہی۔ معاشی ماہرین کے مطابق جب تک برآمدات میں تنوع، صنعتی پیداوار میں بہتری اور توانائی کے مؤثر استعمال کیلیے بنیادی اصلاحات نہیں کی جاتیں، پاکستان کا بیرونی کھاتہ عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور درآمدی دباؤ کے باعث غیر مستحکم ہی رہے گا۔





Source link

Continue Reading

Today News

بادشاہی مسجد میں لیلتہ القدر کی روح پرور محفل، ملکی سلامتی اور امتِ مسلمہ کے لیے خصوصی دعائیں

Published

on



لاہور:

بادشاہی مسجد میں لیلتہ القدر کی بابرکت رات کے موقع پر اجتماعی دعا کا روح پرور اہتمام کیا گیا جس میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور ملک و قوم کی سلامتی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔

تقریب میں صوبائی وزیر اوقاف و مذہبی امور شافع حسین نے خصوصی شرکت کی جبکہ مولانا عبد الخبیر آزاد، امام و خطیب بادشاہی مسجد نے اجتماعی دعا کروائی۔

اجتماعی دعا کے دوران پاکستان کی ترقی، امن و استحکام اور امتِ مسلمہ کے اتحاد و سلامتی کے لیے خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔

اس موقع پر ملک میں امن، خوشحالی اور بھائی چارے کے فروغ کے لیے بھی دعا کی گئی۔

لیلتہ القدر کی بابرکت ساعتوں میں شہریوں کی بڑی تعداد نے تاریخی بادشاہی مسجد کا رخ کیا اور عبادات کے ساتھ اجتماعی دعا میں شرکت کی، جس سے مسجد کا ماحول انتہائی روحانی اور پُرکیف ہوگیا۔





Source link

Continue Reading

Trending