Today News
سفارت کاری کی سطح پر درپیش چیلنجز
پاکستان کو اس وقت داخلی ، علاقائی اور عالمی سطح پر کئی چیلنجز درپیش ہیں ۔ جو چیلنجز ابھر کر سامنے آئے ہیں ان میں مختلف ممالک کے درمیان تنازعات اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے جنگ کے عملی مناظر ہیں جس کی وجہ سے دنیا کے کئی ممالک کو ایک ہی وقت میں سیاسی ، سیکیورٹی ،دفاعی ، خود مختاری اور معاشی چیلنجز کے مراحل سے گزرنا پڑ رہا ہے یا ان کو جنگوں کی حمایت اور مخالفت میں دھکیلا جا رہا ہے ۔
پاکستان بھی علاقائی اور عالمی سیاست کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اس کشیدگی اور جنگ سے متاثر ہونے والا ملک ہے۔یہ ہی وجہ ہے ان حالات سے سفارت کاری کی سطح پر نمٹنے کے لیے خود پاکستان کو ایک مربوط طرز کی سیاسی ، سفارتی اور دفاعی حکمت عملی درکار ہے ۔پاکستان کو حالیہ امریکا اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ جو 28 فروری 2026کو شروع ہوئی ہے جس میں ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو نشانہ بنایا گیا اور مزید افراد کو نشانہ بنانے کا یہ عمل جاری ہے۔
اس جنگ کے نتیجہ میں خلیجی ممالک پر اس کے اثرات جیسے اسٹریٹ آف ہرمز کی بندش،تیل کی برآمدات میں رکاوٹ ،معاشی نقصانات اور ایرانی جوابی حملوں سے سعودی عرب ،قطر اور یو اے ای کے حالات میں خرابی سمیت پاک افغان کشیدگی ،پاکستان کی فضائی کارروائیوں اور افغا ن جوابی حملوں سے ’’اوپن وار ‘‘جیسی صورتحال میں ہمیں سفارت کاری پر غیر معمولی اقدامات درکار ہیں ۔
پاکستان نے اب تک جو پالیسی امریکا اسرائیل اور ایران یا خلیجی ممالک کے بارے میں اختیار کی ہے وہ توازن پر مبنی ہے ۔کیونکہ اس وقت ہماری پالیسی کا اختیار کرنا خود ہمارے لیے ایک نازک کھیل ہے اور ہمیں بڑی احتیاط کے ساتھ اپنے سفارت کاری کے کارڈز کھیلنے ہیںاور اسی میں خود ہمارے ریاستی مفاد بھی جڑا ہوا ہے کیونکہ ایک طرف حالیہ کچھ عرصوں میں پاک امریکا تعلقات میں بہتری کا پیدا ہونا اور خود امریکا کی طرف سے بھارت کے مقابلے میں پاکستان کے مجموعی کردار کی تعریف، فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر اور وزیر اعظم کے امریکا سے دو طرفہ تعلقات میں گرم جوشی ،امریکا اور آئی ایم ایف پر معاشی انحصار، سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ،خلیجی ممالک سے ترسیلات زر،جب کہ ایران سے سرحدی قربت، ایران کی جانب سے خلیجی ممالک پر امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے پر بڑھتا ہوا دباؤ جیسے سنگین مسائل ہمارے سامنے ہیں۔
یہ ہی وجہ ہے کہ اب تک کی پالیسی میں ہم نے کوئی براہ راست سطح پر کسی بھی ممالک کے خلاف کوئی بڑی مہم جوئی نہیں کی۔ آج بھی ہماری سیاسی اور عسکری حکمت عملی فوری جنگ بندی کا خاتمہ، ایران اور سعودی سطح یا خلیجی ممالک کے درمیان تناؤ کا خاتمہ اور خلیج کے ممالک پر مزید حملے نہ ہونا جیسے امور سرفہرست ہیں۔حالیہ دنوں میں پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کا دورہ سعودی عرب اور وہاں کی قیادت سے براہ راست ملاقات اور دیگر خلیجی ممالک بشمول ایران کے وزرائے خارجہ سے مسلسل ٹیلی فونک باہمی رابطے ظاہر کرتے ہیں کہ ہم موجودہ صورتحال سے غافل نہیں ہیں۔
اسی طرح پاکستان افغان کشیدگی کو کم کرنے میں چین کی سہولت کاری یا ثالثی کا نیا بھرتا ہوا کردار ،سعودی عرب ،قطر اور ترکی کی معاونت جیسے امور بھی اہمیت رکھتے ہیں ۔ یہ بات پہلے بھی لکھی تھی کہ چین اور بڑی طاقتوں کی ثالثی کے بغیر پاک افغان تعلقات میں بہتری ممکن نہیں ہوسکے گی اور کچھ ایسے ہی حالات پاکستان کے حق میں بن بھی رہے ہیں۔خود افغان طالبان حکومت کو اندازہ ہوا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی ہی ان کے مفاد میں ہے ۔
مسئلہ یہ ہے کہ اگر فوری طور پر امریکا اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی نہیں ہوتی اور جس انداز سے جنگ کا دائرہ کار یا دورانیہ میں اضافہ ہورہا ہے اس سے معاشی حالات اور سیکیورٹی کے معاملات میں غیرمعمولی خرابیاں پیدا ہونگی اور خود پاکستان بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے گا۔کیونکہ آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ رہی اور پاکستان کی ترسیلات،درآمد اور توانائی خطرے میں ہیں۔بالخصوص خلیجی ممالک میں ایران کے حملے وہاں کے انتظامی ڈھانچہ کو بری طرح سے متاثر کررہے ہیں۔اسی طرح یہ سوال اہمیت رکھتا ہے کہ کیا ہم اپنی سفارت کاری کی مدد سے امریکا کو ایران کے خلاف روک سکیں گے اور جو کچھ خلیجی ،ممالک بشمول سعودی عرب میں ہورہا ہے کیا ہم ایران کو بھی روک سکیں گے۔یہ بات سمجھنی ہوگی کہ ہم بھی کوئی بہت زیادہ آپشن نہیں رکھتے اور ہمیں کمزور معیشت سمیت سیاسی داخلی اور سیکیورٹی جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے ۔ویسے بھی دنیا کی سفارت کاری میں بڑی طاقتوں کا ہی قبضہ ہوتا ہے اور چھوٹے ممالک کو خود کو بڑی طاقتوںکے ساتھ ہی کھڑا کرنا ہوتا ہے۔اس بات کا اندازہ خود پاکستان کو ہے اور یہ جو بہت زیادہ تحمل یا احتیاط کا مظاہرہ کیا جارہا ہے اس کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
ہمیں ایک ہی وقت میں مشرقی وسطیٰ کا بحران، پاک افغان کشیدگی اور پاک بھارت تعلقات میں موجود بگاڑ یا بھارت افغان گٹھ جوڑ جیسے مسائل بھی درپیش ہیں ۔سفارت کاری کے محاذ پر ایک سفارت کاری وہ ہوتی ہے جو پردہ اسکرین پر ہورہی ہوتی ہے اور جب کہ دوسری پردہ کے پیچھے جسے بیک ڈور ڈپلومیسی کا نام دیا جاتا ہے۔پاکستان کو ان حالات میں بہتری کے لیے ان دونوں چینلز کو استعمال کرنا ہوگا ۔اس میں وہ لوگ جو آج یا ماضی میں بہتر سفارت کاری کے ماہر رہے ہیں ان کی خدمات سے ہمیں ان دونوں چینلز پر کام کرنے کی ضرورت ہے ۔جب کہا جاتا ہے کہ پچھلے کچھ عرصہ میں ہمیں عالمی دنیا میں سفارت کاری کے میدان میں کافی پذیرائی ملی ہے تو اب وقت ہے کہ اس پذیرائی کو اپنے حق میں استعمال کیا جائے۔
ہمیں سعودی عرب ایران اور امریکا ایران کے درمیان بات چیت کے امکانات کو بڑھانا ہوگا بالخصوص سعودی عرب اور ایران تعلقات کی بہتری ہماری بڑی ترجیحات کا حصہ ہونا چاہیے۔اس وقت ہماری موجودہ نیشنل سیکیورٹی پالیسی کا یہ نقطہ ہے کہ اب ہم دنیا میں کسی بھی ملک کی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے اور اپنی توجہ علاقائی تعلقات کی بہتری اور نئے معاشی ترقی کے امکانات تک محدود رکھیں گے۔ اس لیے کسی کے ساتھ جنگ کی حمایت اور مخالفت میں الجھنے کو کم سے کم کرکے ہی ہم آگے بڑھ سکتے ہیں ۔ ہمیں یہ یقین دہانی سعودی عرب اور ایران سے لینی ہوگی کہ دونوں ایک دوسرے کے خلاف ریڈ لائن کراس نہ کریں اور ایک دوسرے کی خود مختاری کو چیلنج نہ کیا جائے۔ اگر یہ جنگ آگے بڑھتی ہے تو کئی اسلامی ممالک بھی اس کی لپیٹ میں آسکتے ہیں،پاکستان کو دیگر ممالک بالخصوص چین ،روس، برطانیہ ،جرمنی ،ترکی کی مدد سے اقوام متحدہ اور او آئی سی پر دباؤ ڈالنا ہوگا کہ وہ اس نازک موڑ پر جنگ کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کریں ۔
Today News
جنگ کا منظر نامہ – ایکسپریس اردو
دنیا کی تمام نظریں اس وقت ایران امریکا اور اسرائیل جنگ پر ہیں۔ پاکستان نے بھی افغانستان پر سرجیکل اسٹرائیکس جاری رکھی ہوئی ہیں۔ روس یوکرین جنگ بھی جاری ہے۔لیکن مجھے ایسا لگتا ہے کہ ایک نئی جنگ کی بھی تیاری ہو رہی ہے۔ ایران اسرائیل جنگ رکنے کے ابھی کوئی آثا ر نظر نہیں آرہے ہیں۔
امریکا بھی مان رہا ہے کہ ایران سیز فائر کے لیے تیار نہیں ہے۔ آبنائے ہرمز بند ہے۔ امریکا اپنی تمام تر بحری طاقت کے باوجود آبنائے ہرمز کھلوانے کے قابل نہیں ہے۔ ایران کے میزائیل اور ڈرون ختم کرنے کے تمام دعوے غلط ثابت ہو رہے ہیں۔ ایران اسی طاقت سے ڈرونز اور میزائل مار رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بالآخر آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے امریکی اتحادیوں سے مدد مانگ لی ہے۔ انھوں نے نیٹو ممالک سے کہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے امریکا کی مدد کریں تا دم تحریر برطانیہ، فرانس، جاپان سمیت تمام بڑے ممالک امریکی صدر کی درخواست کو مسترد کر چکے ہیں۔
فی الحال کوئی بڑا اتحادی امریکا کی مدد کے لیے تیار نہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جن ممالک کا تمام انحصار آبنائے ہرمز پر ہے وہ بھی اسے کھلوانے کے لیے امریکا کی کوئی مدد کرنے کے لیے تیارنہیں۔ دنیا کے ممالک خود کو اس جنگ سے علیحدہ رکھنا چاہتے ہیں۔ اسی لیے عرب ممالک جن پر ایران ڈرون اور میزائل مار رہا ہے وہ بھی ایران کو اس کا کوئی جواب دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس لیے وہ بھی آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے کوئی کردار اد ا کرنے کے لیے تیار نہیں۔اس لیے آبنائے ہرمز کھلوانے کا کام امریکا اور اسرائیل کو ہی کرنا ہے۔ جب تک آبنائے ہرمز بند رہے گی ایران کی جیت کا اعلان رہے گا۔ یہ بات سمجھنے کی ہے کہ اب آبنائے ہر مز کی بندش امریکا کی ہار اور ایران کی جیت کا اعلان بن چکی ہے۔
دفاعی تجزیہ نگاروں کی رائے میں آبنائے ہرمز کھلوانا عملی طور پر کافی مشکل ہے۔ اس کا محل وقوع ایران کے حق میں ہے۔ پھر اس سے پہلے دیکھا گیا ہے کہ جب حوثیوں نے سمندری راستے بند کیے تھے تو ان راستوں کو بھی تب تک نہیں کھلوایا جا سکا جب تک حوثی خود ان راستوں کو کھولنے کے لیے تیار نہیں ہوئے تھے۔
حوثیوں کے لیے امریکی بمباری سے بچنا مشکل تھا۔ وہ یمن کے اندر بھی لڑ رہے تھے اس لیے ان کے لیے کافی مشکلات تھیں۔ تاہم ایران کو اندر سے کوئی مشکلات نہیں۔ ایران کی نیوی تباہ کرنے کا امریکی دعویٰ سچ نظر نہیں آرہا۔ ایران کے بارے میں یہ رائے سامنے آرہی ہے کہ وہ زیادہ عرصہ تک آبنائے ہرمز بند رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جس کی وجہ سے دنیا کی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان ہو جائے گا۔ اسی لیے امریکا دباؤ میں ہے۔ اور اسی دباؤ کو کم کرنے کے لیے وہ دیگر ممالک کو مدد کے لیے پکار رہا ہے تاکہ یہ کہا جا سکے کہ باقی ممالک نے مدد نہیں کی۔ اس لیے نہیں کھلوا سکے ۔
ایسے اشارے بھی سامنے آئے ہیں کہ امریکا اور چین کے درمیان پیرس میں تجارتی مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں۔ پیرس میں ہونے والے یہ مذاکرات ٹرمپ کے دورہ چین کے لیے تھے، تاہم امریکا اور چین کسی تجارتی پیکیج پر نہیں پہنچ سکے ہیں۔ اسی لیے امریکی صدر ٹرمپ نے ایسے اشارے دینے شروع کر دیے ہیں کہ شائد ان کا دورہ چین ملتوی ہو جائے۔ سب جانتے ہیں کہ ٹرمپ ایران کی لڑائی ختم کر کے چین جانا چاہتے تھے۔
اسی لیے انھوں نے گزشتہ چند دنوں میں ایران کو سیز فائر کی پیشکش بھی کی۔ لیکن اب بظاہر ایران سیز فائر کے لیے تیار نہیں۔ اس لیے جنگ امریکی ٹائم ٹیبل کے مطابق ختم ہوتی نظر نہیں آرہی۔ ٹرمپ جنگ کے دوران بیجنگ کا دورہ نہیں کرنا چاہتے۔ شائد پلاننگ یہی تھی کہ جنگ کے بعد ملاقات ہوگی۔ جنگ طویل ہوگئی ہے۔
بہر حال میں ایک نئی جنگ کی بات کر رہا تھا۔شمالی کوریا نے جاپان کی طرف رخ کر کے دس بیلسٹک میزائیل کے تجربات کیے ہیں۔ دنیا نے اس کی طرف توجہ نہیں دی ہے۔ لیکن مجھے ایسا لگتا ہے کہ بحرالکاہل میں بھی جنگ کے آثار ہیں۔ امریکا نے اپنی جنگی طاقت وہاں سے کم کی ہے۔ وہاں سے جنگی اثاثے ایران کی طرف لائے گئے ہیں۔ لیکن وہاں بھی چین کے بہت اہم مفادات ہیں۔ اور شمالی کوریا ان مفادات میں چین کے ساتھ ہے۔ وہاں کا منظر نامہ بھی اہم ہے۔
پہلی بات شمالی کوریا نیوکلیئر طاقت ہے۔ شمالی کوریا کے بھی جاپان اور جنوبی کوریا کے ساتھ تنازعات ہیں۔ دونوں ممالک امریکا کے اتحادی ہیں۔ پھر تائیوان کا مسئلہ بھی ہے۔ چین اور جاپان کے بھی سرحد ی تنازعات ہیں۔ ویسے سادہ سمجھنے کے لیے یہ کافی ہے کہ چین اور جاپان کے درمیان بھی وہی تعلقات ہیں جو پاکستان اور بھارت کے درمیان ہیں۔ ایسی ہی دشمنی ہے۔ جب چین نے ایک بڑی پریڈ کا انعقاد کیا تھا تو جاپان نے اس پر شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ شمالی کوریا کا جاپان کی طرف رخ کر کے میزائیل کے تجربات کرنا سادہ بات نہیں۔ چین پیغام دے رہا ہے کہ وہ بھی ایک نیا جنگی محاذ کھول سکتا ہے۔ وہ اپنے تنازعات کو بھی طے کر سکتا ہے۔ یہ امریکا کے لیے کافی خطرہ والی بات ہے۔
شمالی کوریا کی چین کے ساتھ سرحد بھی ہے۔ ایران کے ساتھ چین کی کوئی سرحد نہیں۔ اس لیے چین شمالی کوریا کی مدد بہتر کر سکتا ہے۔ پھر شمالی کوریا وہ واحد ملک ہے جس نے روس یوکرین جنگ میں روس کو فوجی دیے ہیں۔ روس اور شمالی کوریا کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی ہے جیسا پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ہے۔
ایران کا کسی بھی ملک کے ساتھ ایسا کوئی دفاعی معاہدہ نہیں ہے۔ لیکن شمالی کوریا نے روس کے ساتھ باقاعدہ دفاعی معاہدہ کیا ہوا ہے۔ اس لیے ہم شمالی کوریا کو آسان نہیں لے سکتے۔ پھر چین نے تائیوان بھی لینا ہے۔ اس جنگی ماحول کو چین اپنے لیے استعمال کرنے کے لیے آگے بڑھ رہا ہے۔ ایک طرف وہ ایران کی مدد کر رہا ہے دوسری طرف وہ بحر الکاہل میں اپنے اہداف کے حصول کے لیے بھی آگے بڑھ رہا ہے۔ شائد اسی لیے ٹرمپ کے دورہ چین کے ملتوی ہونے کی بات شروع ہو چکی ہے۔ تاہم چین نے ابھی کوئی اعلان نہیں کیا۔ ٹرمپ نے ہی اشارے دیے ہیں۔
پاکستان نے قندھار میں ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کی اسپیشل فورس کے ہیڈکواٹر کو نشانہ بنایا ہے۔ اس کے ساتھ افغانستان کی حساس ایجنسی جی ڈی آئی کے قندھار میں ہیڈ کواٹر کو نشانہ بنایا ہے۔ اسپیشل فورس امیر ملا ہیبت اللہ کی حفاظت کی ذمے دار ہے۔ اس کو نشانہ بنانے کا مطلب واضح پیغام ہے کہ ہم آگے بڑھ سکتے ہیں۔ آپ ہمارے نشانے پر ہیں۔ یہ حملہ افغان طالبان کے لیے سب سے زیادہ خطرہ کی علامت سمجھا گیا ہے۔ افغان طالبان کو پیغام ملا ہے کہ اگلے مرحلہ میں انھیں بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
اس لیے ذمے داری دکھائیں۔ افغان طالبان دنیا میں پندرہ ممالک سے درخواست کر چکے ہیں کہ پاکستان سے سیز فائر کی بات کی جائے۔ لیکن کوئی بھی افغان طالبان کی ذمے داری لینے کو تیار نہیں۔ بھارت بھی افغان طالبان کی کوئی خا ص مدد کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ دیکھا جائے تو افغان طالبان بھارت سے بھی کافی نا امید ہیں۔ امریکا نے پابندیاں لگانی شروع کر دی ہیں۔ پاکستان کو کامیابیاں مل رہی ہیں۔ یہی حقیقت ہے۔
Today News
ہمارا آج ہمیں دے دو
ایک صاحب نے بڑا خوبصورت مضمون لکھا ہے کوئی ڈاکٹر ہے مضمون پشتو میں ہے اور ’’جنات‘‘ کے حوالے سے ہے ان پیروں فقیروں اور عاملوں کے بارے میں ہے جو’’بیماریوں‘‘ کو جنات وغیرہ سے منسوب کرکے ’’علاج‘‘ کا ڈھونگ رچاتے ہیں، اس نے تفصیل سے ان بیماریوں کا بھی ذکر کیا ہے اور آخر میں مشورہ دیا ہے کہ ایسے حالات میں ان نوسربازوں کی بجائے ڈاکٹروں سے رجوع کرنا چاہیے کیونکہ یہ بیماریاں ہوتی ہیں جن وغیرہ نہیں۔اکثر ان عامل کامل پروفیسروں بابا بنگالیوں پرتگالیوں کو’’بُرا‘‘ کہا جاتا ہے اور وہ ہیں بھی۔لیکن اگر گہرائی میں سوچا جائے تو ان باباؤں اور سیاسی لیڈروں میں فرق کیا ہے؟۔وہ بھی خوش خبریاں اور امیدیں بیچتے ہیں اور یہ بھی’’کل‘‘ اور’’امید‘‘ کے سوداگر ہیں۔اور یہ کوئی ڈھکی چھپی بات بھی نہیں ہے سب کچھ ہمارے سامنے ہے پون صدی سے۔بلکہ اس وقت سے یہ سلسلہ جاری ہے جب ہمارے ان عاملوں نے کہا تھا کہ اگر انگریز چلے گئے تو ہم جنت نشین ہوجائیں گے کیونکہ وہ ظالم کافر استحصالی لٹیرے ہمارا ملک لوٹ کر مال و دولت اپنے وطن پہنچا رہے ہیں۔
دماغی کثرت استعمال والوں نے دماغی عدم استعمال والوں کو حسب معمول نعروں، ترانوں، نغموں کی بانسری پر نچانا شروع کیا۔آخر کار میری دھرتی سونا اگلے، اگلے ہیرے موتی۔ہم آزاد ہوگئے لٹیرے چلے گئے۔اور’’گا۔گے۔گی‘‘ کا سلسلہ شروع ہوگیا جو ابھی تک چل رہا ہے لیکن آج تک نہ ان ہیرے موتیوں کا پتہ چلا نہ سونا چاندی کا۔اور نہ ان خزانوں کا جو لٹیرے لے جارہے تھے اور بچالیے گئے۔ وہ ایک نجومی نے تو سائل سے کہا تھا کہ چالیس سال میں تیرے دن پھر جائیں گے یہاں ستتر سال ہوگئے۔اور وہی بیانات ویسے ہی جلوہ گرہورہے ہیں۔ان سیاسی عاملوں کاملوں کی تیسری پیڑھی بھی آگئی۔کتنے چہرے بدل گئے، پلوں کے نیچے سے کتنا پانی اور اوپر کتنے ٹیکس؟ لیکن پانی تو گزر گیا ہے ٹیکس گزرنے کی بجائے بدستور موجود ہیں بلکہ مسلسل سیلاب کی طرح بڑھتے چلے جارہے ہیں۔ چڑھتے چلے جارہے ہیں۔نئے نئے عامل کامل آتے ہیں بھانت بھانت کے بابا جلوہ گرہوتے ہیں طرح طرح کے دم چف اخباروں میں۔’’بہائے‘‘ جاتے ہیں لیکن کچھ ہوا؟۔ہاں ہوا۔ پہلے کفن کش صرف کفن چراتا تھا۔اس کا بیٹا لاش کی بے حرمتی کرتا تھا اب پوتا اس لاش کو بھی بیچ رہا ہے بلکہ بیچ چکا ہے ؎
نشمین ہی کا غم ہوتا تو کیا غم تھا
یہاں تو بیچنے والوں نے گلشن بیچ ڈالا ہے
آج تک نہ اس دولت کا پتہ چلا جو وہ لٹیرے انگریز لوٹ کر لے جارہے تھے، نہ اس سونے اور ہیرے موتیوں کا جو یہ دھرتی اگلتی تھی، معلوم نہیں آسمان کھاگیا یا زمین کھاگئی
بدلتا ہے رنگ یہ جہان کیسے کیسے
زمیں کھاگئی آسمان کیسے کیسے
اور آتے رہیں بیان کیسے کیسے؟بولتے رہے کوے کاں کیسے کیسے۔دکاں کیسے کیسے،ڈاکوان کیسے کیسے، نوسربازاں کیسے کیسے؟قائدکیسے کیسے ، مرد حق کیسے کیسے۔معین قریشی کیسے کیسے، شوکت عزیز کیسے کیسے،چاروں صوبوں کی زنجیر کیسے کیسے، سب پر بھاری کیسے کیسے، بانی کیسے کیسے،وژن کیسے کیسے۔اور اب کیسے کیسے
جو قسمت تھی وہ قسمت دیکھ لی میں نے
قیامت سے بہت پہلے قیامت دیکھ لی میں نے
عامل کامل اور کیسے ہوتے ہیں بابا بنگالی پرتگالی اور کیسے ہوتے ہیں۔دھوکے اور نوسربازیاں اور کیا ہوتی ہیں بلکہ ہمیں تو شرما آتی ہے ان بے شرموں کی بے شرمیاں دیکھ کر اور سن کر۔ ہمارے ایک شاعر دوست تھے ایک دن ہم نے اس سے کہا چلو فلاں سے ملتے ہیں۔اس نے کہا، یار مجھے تو اسے دیکھ دیکھ کر اور باتیں سن سن کر شرم سی محسوس ہونے لگتی ہے۔ دراصل جس سے ملنے کا ہم نے کہا تھا وہ ایک الگ ٹائپ کا آدمی تھا پورا مرد تھا لیکن حرکات و سکنات باتیں ساری خواتین کی طرح کرتا تھا، لہک لہک کر ہاتھ بجابجاکر لہرا لہرا کر۔ دہرا ہوکر۔ایسا کہ دیکھنے اور سننے والے کو شرم محسوس ہوتی تھی۔بخدا ہمیں بھی آج کل اخباروں میں ان عاملوں کاملوں، نجومیوں، پروفیسروں کے بیانات پر شرم سی محسوس ہوتی ہے، ایسا لگتا ہے جسے بیانات نہیں دے رہے ہوں گویا لہری، ننھا، منورظریف، رنگیلے کوئی ایکٹ پیش کررہے ہیں۔
کتنی صدیاں بیت گئیں، کتنے ہزارے گزر گئے لیکن وہ ’’دن‘‘ وہ’’کل‘‘ جو نجانے کہاں سے آنے والا تھا نہیں پہنچا۔جس کی خوش خبریاں تھیں، ہیں اور رہیں گی، وہ دن جس کا وعدہ ہے جو لوح ازل پہ لکھا ہے،جب ظلم وستم کے کوہ گراں روئی کی طرح اڑجائیں گے،جب ارض خدا کے کعبے سے سب بُت اٹھوائے جائیں گے۔جب اہل حکم کے سروں پر یہ بجلی کھڑکھڑکے گی، ہم محکموں کے پاؤں تلے یہ دھرتی دھڑدھڑکے گی۔ہونہہ بکواس ۔اس میں یہ’’کل‘‘ کا دھوکے باز لفظ ہے کیونکہ جسے ہم آج۔کل سمجھ رہے ہیں وہ جب آتا ہے تو’’کل‘‘ کا نقاب اُلٹ کر آج ہوچکی ہوتی ہے اور وعدہ تو’’کل‘‘ کا ہے اب یہ کمال کون دکھائے کہ کل میں آج اور آج میں کل کو پکڑلے، وہ کم بخت’’کل‘‘ تو ’’آج‘‘ سے یوں نکل جاتا ہے جیسے پھول سے خوشبو نکل جاتی ہے۔
میں گراہوں تو اسی خاک میں ملنا ہے مجھے
وہ تو خوشبو ہے اسے اپنے نگر جانا ہے
وہ ایک لوہار کا لطیفہ تو آپ کو یاد ہوگا۔جس کے بیٹے نے ایک شخص کو جو لوہے کا ایک ٹکڑا اس کے پاس لایا تھا دارنتی بنانے کے لیے۔اور پوچھا کہ کب بن جائے گی لوہار کا بیٹا اس وقت کجھور کھارہا تھا۔اس نے کجھور کی گٹھلی ایک طرف پھینکتے ہوئے کہا جب یہ گٹھلی پھوٹ جائے گی پھر درخت بن کر پھل دینے لگے گی تب ، وہ شخص وعدہ لے کر چلا گیا۔لڑکے کا باپ آگیا تو اس نے باپ کو ماجرا سنایا کہ میں نے اس طرح اس شخص کو کھجور کو اگنے اور پھل دینے کا وعدہ دیا ہے تو باپ نے اسے ڈانٹتے ہوئے کہا۔بیوقوف گٹھلی تو کل اُگے گی پھر درخت بننے میں بھی زیادہ دیر نہیں لگے گی اور پھل دار بہت جلد ہوجائے گی اسے ’’کل‘‘ کا وعدہ دیا ہوتا کہ کل نہ کبھی ہے، نہ آئی ہے اور نہ کبھی آئے گی۔
یہ کل کے وعدے’’آج‘‘ کو کھانے کا سلسلہ بہت پرانا ہے یہ اس وقت سے شروع ہوا ہے جب پینڈورا کا بکس کھلا تھا۔ اور اس میں سے دنیا بھر کی آفات، غم، رنج دکھ اور سیاسی لیڈر وزیر مشیر اور معاو ن نکل کر عوام کو چمٹ گئے تھے اور وہ جو سب سے آخر میں ’’امید‘‘ کی بڑھیا لاٹھی ٹیکتے ہوئے گرتی پڑتی نکلی تھی، وہ تو بڈھی بھی تھی لنگڑی بھی شاید اسے دمہ بھی ہو اور گھٹنوں کا عارضہ بھی، چنانچہ جب وہ ہم تک پہنچے گی یہ آفات ہمارا تیا پانچا کرچکے ہوں گی ۔ہمارا ان’’کل‘‘ بیچنے والوں سے التجا ہے کہ بس بہت ہمارا’’آج‘‘ ہڑپ چکے ہو اب مہربانی کرکے اپنا’’کل‘‘ اپنے پاس رکھو اور ہمارا’’آج‘‘ ہمیں دے دو۔
Today News
مالی سال کے 8 ماہ میں 700 ملین ڈالر کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ
کراچی:
پاکستان کے بیرونی شعبے پر ایک بار پھر دباؤ کے آثار سامنے آئے ہیں، کیونکہ فروری میں بہتر کارکردگی کے باوجود مالی سال 2026 کے ابتدائی 8 ماہ کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں چلا گیا، جو حالیہ معاشی استحکام کی کمزوری کو ظاہرکرتا ہے۔
اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری بیلنس آف پیمنٹس کے تازہ اعدادوشمارکے مطابق جولائی تا فروری 2026 کے دوران پاکستان کاکرنٹ اکاؤنٹ 700 ملین ڈالر خسارے میں رہا،جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 479 ملین ڈالرکاسرپلس ریکارڈ کیا گیا تھا۔
تاہم فروری 2026 میں کرنٹ اکاؤنٹ میں 427 ملین ڈالرکاسرپلس ریکارڈکیاگیا،جو فروری 2025 کے 85 ملین ڈالر خسارے اور جنوری 2026 کے 68 ملین ڈالر سرپلس کے مقابلے میں نمایاں بہتری ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مارچ 2025 کے بعد سب سے بڑاماہانہ سرپلس ہے۔ اعداد وشمارکے مطابق پاکستان کے بیرونی کھاتے پر سب سے بڑادباؤاشیاء کی تجارت کے خسارے کی وجہ سے ہے۔
فروری میں تجارتی خسارہ بڑھ کر 2.67 ارب ڈالر تک پہنچ گیا،کیونکہ برآمدات 2.48 ارب ڈالررہیں، جبکہ درآمدات 5.15 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ جولائی تا فروری مالی سال 2026 کے دوران مجموعی تجارتی خسارہ بڑھ کر 21.08 ارب ڈالر ہوگیا،جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 16.49 ارب ڈالر تھا۔
اس عرصے میں برآمدات 20.74 ارب ڈالر رہیں،جبکہ ایک سال پہلے یہ 21.94 ارب ڈالر تھیں، دوسری جانب درآمدات بڑھ کر 41.82 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔
جولائی تا فروری کے دوران ترسیلاتِ زر 26.49 ارب ڈالر رہیں، جو پاکستان کے بیرونی کھاتے کیلیے بڑاسہارا ثابت ہوئیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ ترسیلات نہ ہوتیں تو کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کہیں زیادہ ہوسکتا تھا، صرف ترسیلاتِ زر اور بیرونی قرضوں پر انحصار معیشت کے دیرپااستحکام کیلیے کافی نہیں، پاکستان کی برآمدات اب بھی زیادہ ترکم ویلیو ایڈڈ شعبوں خصوصاً ٹیکسٹائل تک محدود ہیں،جہاں علاقائی ممالک سے سخت مقابلہ ہے۔
اسی طرح پرائمری انکم اکاؤنٹ میں بھی دباؤ برقراررہا، جولائی تافروری کے دوران اس کھاتے میں 5.64 ارب ڈالرکاخسارہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی بڑی وجہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے منافع کی منتقلی اور بیرونی قرضوں پر ادائیگیاں ہیں۔
مالیاتی کھاتے میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری بھی محدود رہی۔ معاشی ماہرین کے مطابق جب تک برآمدات میں تنوع، صنعتی پیداوار میں بہتری اور توانائی کے مؤثر استعمال کیلیے بنیادی اصلاحات نہیں کی جاتیں، پاکستان کا بیرونی کھاتہ عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور درآمدی دباؤ کے باعث غیر مستحکم ہی رہے گا۔
-
Magazines1 week ago
Story Time: Culinary Disasters – Newspaper
-
Entertainment2 weeks ago
Ali Ansari On Falling in Love With More Than One Person
-
Entertainment2 weeks ago
Fans React to Nadia Khan’s Wrinkles in Filter-Free Video
-
Business2 weeks ago
Privatisation Commission board recommends Fauji Fertiliser’s inclusion in consortium that won PIA auction – Pakistan
-
Sports2 weeks ago
Bangladesh recall Litton, Afif for Pakistan ODI series – Sport
-
Sports2 weeks ago
Haris among 14 Pakistanis on The Hundred final list – Sport
-
Sports2 weeks ago
Sadaf, Fatima star as Pakistan thrash South Africa for consolation victory – Sport
-
Entertainment2 weeks ago
Muneeb Butt Reveals Reason Of Blessings in His Income