Connect with us

Today News

عید کارڈ کا کلچر اب کہاں !

Published

on


ماضی میں عید کی خوشیوں میں عید کارڈ کا ایک بڑا حصہ شامل ہوتا تھا جو عید شروع ہونے سے قبل عید کا ماحول بنا دیتا تھا۔ ہر کوئی اپنے دوست احباب اور رشتے داروں کو خوشی خوشی عید کارڈ بھیجتا۔ عید کارڈز، خوشبو لگے لفافے، رنگین کاغذ اور اُن پر لکھے گئے چند اشعار جو دل سے نکل کر سیدھے دل تک پہنچتے تھے۔ یہ سارا لطف اور مزہ گزشتہ نسل (جنریشن) کا تھا جو نئی نسل کے حصے میں نہیں آسکا۔

پاکستان اور بھارت میں خاص طور پر 1960 سے 90 کی دہائیوں میں عید کارڈ بھیجنے کا رجحان بڑے عروج پر تھا، ان کارڈ پر خوبصورت خطاطی بھی ہوتی تھی، شاعری بھی ہوتی تھی، تصاویر بھی ہوتی تھیں اور ہاتھ سے لکھے ہوئے مختلف پیغامات بھی ہوتے تھے جو انسان کے جذبات کو بلندیوں پر لے جاتے تھے۔ یہ صرف عیدکارڈ نہیں ہوتے تھے بلکہ وہ جذبات ہوتے تھے جس کا اظہار دوست، احباب اور رشتے دار سب ایک دوسرے سے کرتے تھے اور ان کو پڑھ کے اندازہ ہوتا تھا کہ کون کس سے کتنی محبت کرتا ہے۔ یوں یہ ایک الگ ہی ماحول ہوتا تھا۔

اس زمانے میں جب عید کارڈ کا کلچر اپنے عروج پر تھا، بازاروں میں اس کے باقاعدہ اسٹال لگتے تھے اورگلی محلوں میں بھی یہ اسٹال نظر آتے تھے جہاں سے بچے بڑے سب رمضان کے پہلے ہی ہفتے سے عید کارڈ خرید کر لا تے، انھیں سجا تے، ان میں جذباتی تحریریں لکھتے، اشعار لکھتے اور دور دراز علاقوں میں اپنے رشتے داروں کو، دوستوں کو بھیج دیتے۔ اس موقع پر عید سے پہلے دوست، رشتے دار سب ہی انتظار کرتے کہ ہمیں کس کس نے عید کارڈ بھیجا ہے، کس کا آگیا ہے، کس کا نہیں آیا۔ یہ محبت کی ایک عجیب کیفیت ہوتی تھی، جذبات کا ایک نرالہ ہی انداز ہوتا تھا۔

ایک طرح سے یہ صرف عیدکارڈ نہیں تھے بلکہ اردو ادب کا ایک حصہ بھی تھے، یعنی ان میں بہت خوبصورت اردو زبان لکھی ہی نہیں جاتی تھی بلکہ اردو کے اشعار بھی لکھے جاتے تھے۔ بڑے اور سنجیدہ قسم کے لوگ سنجیدہ قسم کے اور محبت کے حوالے سے اشعار کا انتخاب کرتے تھے جب کہ بچے اور منچلے نوجوان اپنی معصومیت اور مزاح کے مزاج کے اعتبار سے اشعار کا انتخاب کرتے تھے۔ یہ اشعار بھی اس کلچر کا ایک خاصہ تھے۔ آج بھی جب ہم یہ اشعار کہیں سنتے یا کہیں لکھے ہوئے دیکھ لیتے تو ہمیں اپنا بچپن کا زمانہ یاد آجاتا ہے، وہ کلچر یاد آجاتا ہے جو اب ہمیں نظر نہیں آتا۔ ان اشعار میں بچوں کے بڑے معصومانہ قسم کے اشعار ہوتے تھے۔ مثلاً

عید عید کرتے ہو عید بھی آ جائے گی

پہلے رمضان کے روزے رکھو، عقل ٹھکانے آ جائے گی

یا

ڈبے میں ڈبہ ڈبے میں کیک

میرا دوست لاکھوں میں ایک

اسی طرح یہ اشعار بھی۔

گرم گرم روٹی توڑی نہیں جاتی

آپ سے دوستی چھوڑی نہیں جاتی

سویاں پکی ہیں سب نے چکھی ہیں

یار تم کیوں روتے ہو، تمہارے لیے بھی رکھی ہیں

……………

پھول تو بہت ہیں مگر گلاب جیسا نہیں

دوست تو ہیں مگر آپ جیسا نہیں

 اسی طرح بالغ عمرکے لوگ سنجیدہ قسم کے اشعار لکھتے تھے۔ مثلاً قمر بدایونی کا یہ شعر بڑا مشہور ہوا۔

عید کا دن ہے گلے آج تو مل لے ظالم

رسم دنیا بھی ہے موقع بھی ہے دستور بھی ہے

 اسی طرح امجد اسلام امجد کا یہ شعر۔

جس طرف تو ہے ادھر ہوں گی سبھی کی نظریں

عید کے چاند کا دیدار بہانہ ہی سہی

 اور نوجوان تو اس قسم کے اشعار لکھتے تھے کہ پڑھ کے اور بھی ہنسی آتی تھی۔ مثلاً

عید آئی تم نہ آئے کیا مزہ ہے عید کا

عید ہی تو نام ہے اک دوسرے کی دید کا

یا

چاند نے چاندنی سے کہا عید کب آئے گی

چاندنی نے کہا جب میری دوست مسکرائے گی

کچھ منچلے یہ شعر بھی لکھتے تھے۔

ڈبے میں ڈبہ ڈبے میں کیک

مینوں نئی پتہ، مینوں عیدی بھیج

 غرض ان اشعار کی بھی ایک دنیا ساتھ ہوتی تھی، یعنی صرف عید کارڈ نہیں ہوتا تھا، ادبی دنیا بھی ساتھ ساتھ چلتی تھی جو عوامی قسم کی ہوتی تھی جس میں شاعری کے وزن سے زیادہ جذبات کو دخل ہوتا تھا۔اخبارات بھی عید کے خصوصی ایڈیشن شائع کرتے تھے، جس میں تہنیتی اشعار شامل ہوتے تھے اور یہی اشعار بعد میں لوگ اپنی عید کارڈ پر لکھا کرتے تھے۔

ان عید کارڈ کی اپنی ایک تاریخ ہے، اگر اس تاریخ پر ہم نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ برطانوی دورِ حکومت میں جدید طباعتی صنعت نے برصغیر میں فروغ پایا جب کلکتہ، بمبئی اور لاہور جیسے شہروں میں پرنٹنگ پریس قائم ہوئے جہاں مذہبی اور تہواروں سے متعلق کارڈز شائع ہونے لگے۔ ابتدا میں زیادہ تر کارڈز کرسمس اور ہپی نیو ایئر کے لیے ہوتے تھے، لیکن جلد ہی مسلمانوں نے بھی عید کے لیے تہنیتی کارڈز بنوانا شروع کر دیے۔ 20 ویں صدی کے اوائل میں اردو اشعار، اسلامی خطاطی اور چاند ستارے کی علامات والے کارڈز مقبول ہونے لگے۔

پاکستان میں عید کارڈز پر اسلامی خطاطی، مسجدوں کے مناظر اور چاند رات کی جھلکیاں نمایاں ہوتی تھیں۔ 1960ء سے 1990ء تک بازاروں میں خصوصی عید کارڈ اسٹال لگتے تھے۔ لوگ رشتہ داروں، عزیزوں کو اندرون اور بیرونِ ملک ڈاک کے ذریعے کارڈ بھیجتے تھے۔ اسی طرح جب 80 کی دہائی میں پاکستان میں وی سی آر لوگوں کی دسترس میں آیا اور اس کے ذریعے گھر گھر بھارتی فلمیں دیکھی جانے لگیں تو ان فلموں کے مشہور اداکاروں کی تصاویر پر مشتمل عید کارڈ بھی بازار میں آگئے۔ نو جوانوں کی ایک خاص تعداد ان عید کارڈ کو خرید تی تھی۔ یہ کارڈ پوسٹ کارڈ کی طرح ہوتے تھے، جن میں ایک جانب اداکاروں کی تصاویر اور دوسری جانب (پشت پر) پیغام لکھنے کی جگہ ہوتی تھی۔

2000ء کے بعد انٹرنیٹ اور موبائل فون کے عام ہونے سے عید کارڈز کی جگہ ای کارڈز اور سوشل میڈیا پیغامات نے لے لی۔ فیس بک، واٹس ایپ اور دیگر پلیٹ فارمز نے تہنیت کے انداز بدل دیے۔ ان نت نئے انداز اور طریقوں سے لوگ اپنے پیاروں کو عید کے پیغامات بھیجتے ہیں جس کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ پیغامات سیکنڈز کے اندر اپنی منزل مقصود پر پہنچ جاتے ہیں جب کہ ماضی کے کلچر میں یہ تیزی نہیں تھی اور یہ تہنیتی پیغامات کئی دنوں میں بعض اوقات ہفتے بھر میں پہنچتے تھے یوں لوگوں کو اپنی پیاروں کی جانب سے بھیجے گئے۔ عید کارڈ کا رمضان کے آخر تک بھی انتظار رہتا تھا۔ گویا عید کارڈ کا یہ کلچر خوشی، انتظار کی کیفیت اور تجسس سے بھی بھر پور ہوتا تھا جو اب ختم ہوگیا۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

آبنائے ہرمز، کشیدگی کا خطرناک منظرنامہ

Published

on


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر اتحادی ممالک اہم عالمی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو کھلوانے اور محفوظ بنانے میں امریکا کی مدد نہیں کریں گے، تو نیٹو کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران نے امریکا سے کبھی جنگ بندی کی درخواست نہیں کی اور ملک جب تک ضروری ہوا اپنے دفاع کے لیے تیار رہے گا۔ امریکا کا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی سیاست اور بین الاقوامی طاقتوں کی کشمکش کا مرکز بنتا دکھائی دے رہا ہے۔ ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف خطے کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی اتحادوں کے مستقبل پر بھی سوالات کھڑے کردیے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آبنائے ہرمز کے حوالے سے عالمی طاقتوں سے کی گئی اپیل اور ایران کی جانب سے سخت ردعمل نے ایک ایسی صورتحال پیدا کر دی ہے جس میں کسی بھی لمحے کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ موجود ہے۔ اس تمام پس منظر میں سب سے اہم سوال یہی ہے کہ آیا دنیا ایک نئے بڑے بحران کی طرف بڑھ رہی ہے یا ابھی بھی سفارت کاری کے ذریعے اس آگ کو بجھانے کا کوئی راستہ باقی ہے۔

آبنائے ہرمز کو دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ خلیج فارس کو بحرِ عمان اور پھر عالمی سمندروں سے ملانے والا یہ تنگ مگر انتہائی اہم راستہ عالمی معیشت کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے۔ دنیا کے کئی بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک اپنی برآمدات اسی راستے کے ذریعے دنیا تک پہنچاتے ہیں۔

اندازوں کے مطابق عالمی سطح پر تیل کی ایک بڑی مقدار روزانہ اس گزرگاہ سے گزرتی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ پیدا ہو جائے تو اس کے اثرات پوری دنیا میں فوری طور پر محسوس کیے جائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی آبنائے ہرمز کے حوالے سے کشیدگی بڑھتی ہے تو عالمی منڈیوں میں بے چینی پیدا ہو جاتی ہے اور تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ شروع ہو جاتا ہے۔

امریکا طویل عرصے سے اس خطے میں ایک اہم فوجی اور سیاسی کردار ادا کرتا آیا ہے۔ خلیجی ممالک میں اس کے فوجی اڈے اور بحری بیڑے اسے اس قابل بناتے ہیں کہ وہ خطے کے سمندری راستوں کی نگرانی کرے اور اپنے مفادات کا تحفظ کرے۔ تاہم حالیہ بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ امریکا اب اس ذمے داری کو تنہا اٹھانے کے لیے تیار نہیں بلکہ وہ چاہتا ہے کہ اس کے اتحادی ممالک بھی اس میں اپنا کردار ادا کریں۔

ٹرمپ کا یہ کہنا کہ اگر اتحادی ممالک آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے میں امریکا کی مدد نہ کریں تو نیٹو کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے، دراصل ایک بڑا سیاسی پیغام ہے۔ یہ بیان اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ امریکا اپنے اتحادیوں سے زیادہ عملی تعاون کی توقع رکھتا ہے اور اگر ایسا نہ ہوا تو اس اتحاد کی نوعیت اور سمت پر بھی سوال اٹھ سکتے ہیں۔ دوسری جانب یورپی ممالک اکثر یہ شکایت کرتے رہے ہیں کہ امریکا اپنے فیصلوں میں اتحادیوں کو مکمل طور پر اعتماد میں نہیں لیتا، جب کہ امریکا کا مؤقف یہ رہا ہے کہ یورپی ممالک دفاعی اخراجات میں مناسب حصہ نہیں ڈال رہے۔

آبنائے ہرمز کے معاملے پر بھی یہی اختلافات ایک بار پھر نمایاں ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ اگرچہ یورپی ممالک اس گزرگاہ کی اہمیت سے بخوبی آگاہ ہیں، لیکن وہ اس معاملے میں براہ راست فوجی کردار ادا کرنے سے ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ایسا کوئی بھی قدم انھیں براہ راست ایران کے ساتھ تصادم کے خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ یورپی ممالک عمومی طور پر ایران کے ساتھ سفارتی روابط برقرار رکھنے کے حامی رہے ہیں اور وہ اس بات کو ترجیح دیتے ہیں کہ مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔

دوسری طرف ایران کا مؤقف اس معاملے میں نہایت سخت اور واضح ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے یہ کہہ کر صورتحال کو مزید واضح کر دیا ہے کہ ایران نے امریکا سے کبھی جنگ بندی کی درخواست نہیں کی اور نہ ہی وہ اس وقت کسی قسم کے مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ وہ اپنے دفاع کے لیے ہر وقت تیار ہے اور اگر اس پر حملے کیے گئے تو وہ بھرپور جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ ایران کی قیادت بارہا یہ مؤقف دہرا چکی ہے کہ وہ دباؤ کے تحت کسی معاہدے کے لیے تیار نہیں ہوگی۔

ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے ایران کے مختلف مقامات پر فضائی حملوں کی اطلاعات اور تہران کے اوپر ایرانی فضائی دفاعی نظام کی سرگرمیوں نے اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ خطے میں ایک غیر اعلانیہ جنگ جاری ہے۔ اگرچہ یہ جنگ ابھی محدود نوعیت کی ہے، لیکن اس کے پھیلنے کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔

مشرق وسطیٰ کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ چھوٹے پیمانے پر شروع ہونے والے تنازعات بھی بعض اوقات بڑے علاقائی یا عالمی بحرانوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ دراصل جاری کشیدگی کے اثرات صرف ایران اور اسرائیل تک محدود نہیں بلکہ پورے خطے میں پھیل سکتے ہیں۔ خلیجی ممالک کی معیشتیں بڑی حد تک توانائی کی صنعت اور عالمی تجارت پر انحصار کرتی ہیں، اس لیے کسی بھی قسم کا عدم استحکام ان کے لیے سنگین مسائل پیدا کر سکتا ہے۔

تاہم اس پورے بحران کا سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ عالمی سطح پر اعتماد کی فضا کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان تعلقات گزشتہ چار دہائیوں سے کشیدہ ہیں اور دونوں ممالک ایک دوسرے پر عدم اعتماد کا شکار ہیں۔ جوہری معاہدے کے بعد کچھ عرصے کے لیے امید پیدا ہوئی تھی کہ شاید دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم ہو جائے گی، لیکن بعد کے واقعات نے اس امید کو زیادہ دیر قائم نہ رہنے دیا۔

آج صورتحال یہ ہے کہ دونوں فریق ایک دوسرے کے اقدامات کو دشمنی کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ امریکا، ایران کی علاقائی سرگرمیوں کو اپنے اتحادیوں کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے، جب کہ ایران کا کہنا ہے کہ امریکا اور اسرائیل خطے میں اپنی بالادستی قائم رکھنے کے لیے اسے نشانہ بنا رہے ہیں۔ اس طرح ایک ایسا ماحول پیدا ہو گیا ہے جس میں غلط فہمیوں اور غلط اندازوں کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

 عالمی برادری کے لیے اس وقت سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ اس کشیدگی کو کس طرح کم کیا جائے۔ جنگ کسی بھی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہوتی۔ مشرق وسطیٰ کی گزشتہ دہائیوں کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جنگوں نے خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیلا ہے۔

عراق کی جنگ، شام کا بحران اور یمن کی خانہ جنگی نے لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کیا اور پورے خطے کو انسانی اور معاشی بحرانوں میں مبتلا کر دیا۔اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت کم نہ کیا گیا تو خدشہ ہے کہ یہ بحران مزید سنگین شکل اختیار کرسکتا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش یا اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت کے لیے شدید دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، عالمی تجارت میں رکاوٹ اور مالیاتی منڈیوں میں عدم استحکام جیسے اثرات فوری طور پر سامنے آ سکتے ہیں۔

اس صورتحال میں عالمی طاقتوں کو ذمے داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ طاقت کے استعمال کے بجائے سفارت کاری اور مذاکرات کو ترجیح دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ایران اور امریکا دونوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ مسلسل تصادم کی پالیسی کسی بھی فریق کے لیے فائدہ مند نہیں ہوگی۔ اسی طرح خطے کے دیگر ممالک کو بھی چاہیے کہ وہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مثبت کردار ادا کریں۔اب ضرورت اس بات کی ہے کہ عالمی طاقتیں اس خطے کو ایک اور جنگ کی طرف دھکیلنے کے بجائے امن اور استحکام کی راہ تلاش کریں۔

آبنائے ہرمز کی سلامتی یقینی بنانا یقیناً ایک اہم مقصد ہے، لیکن اس مقصد کے حصول کے لیے ایسا راستہ اختیار کرنا ہوگا جو تصادم کے بجائے تعاون اور اعتماد کو فروغ دے۔اگر عالمی قیادت نے دانشمندی کا مظاہرہ کیا اور سفارتی کوششوں کو سنجیدگی سے آگے بڑھایا تو ممکن ہے کہ موجودہ بحران کو ایک بڑے تصادم میں تبدیل ہونے سے روکا جا سکے۔ بصورت دیگر یہ کشیدگی نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک نئے اور خطرناک دور کا آغاز ثابت ہو سکتی ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

یو اے ای کے شاہ گیس فیلڈ پر ڈرون حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی، آپریشن معطل

Published

on



دبئی:

متحدہ عرب امارات کے اہم شاہ گیس فیلڈ پر ڈرون حملے کے بعد لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے، تاہم تنصیب پر تمام آپریشنز عارضی طور پر معطل کر دیے گئے ہیں۔

ابوظہبی حکام کے مطابق ڈرون حملے کے باعث گیس فیلڈ میں آگ بھڑک اٹھی تھی جس کے بعد ہنگامی ردعمل کی ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آگ کو قابو میں کر لیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد گیس فیلڈ کی سرگرمیاں عارضی طور پر روک دی گئی ہیں جبکہ نقصان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

سرکاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ حکام کے مطابق متعلقہ ادارے صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور حفاظتی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ شاہ گیس فیلڈ متحدہ عرب امارات کی اہم توانائی تنصیبات میں شمار ہوتا ہے اور یہاں پیدا ہونے والی گیس ملکی توانائی کے نظام میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

جنگ کا منظر نامہ – ایکسپریس اردو

Published

on


دنیا کی تمام نظریں اس وقت ایران امریکا اور اسرائیل جنگ پر ہیں۔ پاکستان نے بھی افغانستان پر سرجیکل اسٹرائیکس جاری رکھی ہوئی ہیں۔ روس یوکرین جنگ بھی جاری ہے۔لیکن مجھے ایسا لگتا ہے کہ ایک نئی جنگ کی بھی تیاری ہو رہی ہے۔ ایران اسرائیل جنگ رکنے کے ابھی کوئی آثا ر نظر نہیں آرہے ہیں۔

امریکا بھی مان رہا ہے کہ ایران سیز فائر کے لیے تیار نہیں ہے۔ آبنائے ہرمز بند ہے۔ امریکا اپنی تمام تر بحری طاقت کے باوجود آبنائے ہرمز کھلوانے کے قابل نہیں ہے۔ ایران کے میزائیل اور ڈرون ختم کرنے کے تمام دعوے غلط ثابت ہو رہے ہیں۔ ایران اسی طاقت سے ڈرونز اور میزائل مار رہا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بالآخر آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے امریکی اتحادیوں سے مدد مانگ لی ہے۔ انھوں نے نیٹو ممالک سے کہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے امریکا کی مدد کریں تا دم تحریر برطانیہ، فرانس، جاپان سمیت تمام بڑے ممالک امریکی صدر کی درخواست کو مسترد کر چکے ہیں۔

فی الحال کوئی بڑا اتحادی امریکا کی مدد کے لیے تیار نہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جن ممالک کا تمام انحصار آبنائے ہرمز پر ہے وہ بھی اسے کھلوانے کے لیے امریکا کی کوئی مدد کرنے کے لیے تیارنہیں۔ دنیا کے ممالک خود کو اس جنگ سے علیحدہ رکھنا چاہتے ہیں۔ اسی لیے عرب ممالک جن پر ایران ڈرون اور میزائل مار رہا ہے وہ بھی ایران کو اس کا کوئی جواب دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس لیے وہ بھی آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے کوئی کردار اد ا کرنے کے لیے تیار نہیں۔اس لیے آبنائے ہرمز کھلوانے کا کام امریکا اور اسرائیل کو ہی کرنا ہے۔ جب تک آبنائے ہرمز بند رہے گی ایران کی جیت کا اعلان رہے گا۔ یہ بات سمجھنے کی ہے کہ اب آبنائے ہر مز کی بندش امریکا کی ہار اور ایران کی جیت کا اعلان بن چکی ہے۔

دفاعی تجزیہ نگاروں کی رائے میں آبنائے ہرمز کھلوانا عملی طور پر کافی مشکل ہے۔ اس کا محل وقوع ایران کے حق میں ہے۔ پھر اس سے پہلے دیکھا گیا ہے کہ جب حوثیوں نے سمندری راستے بند کیے تھے تو ان راستوں کو بھی تب تک نہیں کھلوایا جا سکا جب تک حوثی خود ان راستوں کو کھولنے کے لیے تیار نہیں ہوئے تھے۔

حوثیوں کے لیے امریکی بمباری سے بچنا مشکل تھا۔ وہ یمن کے اندر بھی لڑ رہے تھے اس لیے ان کے لیے کافی مشکلات تھیں۔ تاہم ایران کو اندر سے کوئی مشکلات نہیں۔ ایران کی نیوی تباہ کرنے کا امریکی دعویٰ سچ نظر نہیں آرہا۔ ایران کے بارے میں یہ رائے سامنے آرہی ہے کہ وہ زیادہ عرصہ تک آبنائے ہرمز بند رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جس کی وجہ سے دنیا کی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان ہو جائے گا۔ اسی لیے امریکا دباؤ میں ہے۔ اور اسی دباؤ کو کم کرنے کے لیے وہ دیگر ممالک کو مدد کے لیے پکار رہا ہے تاکہ یہ کہا جا سکے کہ باقی ممالک نے مدد نہیں کی۔ اس لیے نہیں کھلوا سکے ۔

ایسے اشارے بھی سامنے آئے ہیں کہ امریکا اور چین کے درمیان پیرس میں تجارتی مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں۔ پیرس میں ہونے والے یہ مذاکرات ٹرمپ کے دورہ چین کے لیے تھے، تاہم امریکا اور چین کسی تجارتی پیکیج پر نہیں پہنچ سکے ہیں۔ اسی لیے امریکی صدر ٹرمپ نے ایسے اشارے دینے شروع کر دیے ہیں کہ شائد ان کا دورہ چین ملتوی ہو جائے۔ سب جانتے ہیں کہ ٹرمپ ایران کی لڑائی ختم کر کے چین جانا چاہتے تھے۔

اسی لیے انھوں نے گزشتہ چند دنوں میں ایران کو سیز فائر کی پیشکش بھی کی۔ لیکن اب بظاہر ایران سیز فائر کے لیے تیار نہیں۔ اس لیے جنگ امریکی ٹائم ٹیبل کے مطابق ختم ہوتی نظر نہیں آرہی۔ ٹرمپ جنگ کے دوران بیجنگ کا دورہ نہیں کرنا چاہتے۔ شائد  پلاننگ یہی تھی کہ جنگ کے بعد ملاقات ہوگی۔ جنگ طویل ہوگئی ہے۔

بہر حال میں ایک نئی جنگ کی بات کر رہا تھا۔شمالی کوریا نے جاپان کی طرف رخ کر کے دس بیلسٹک میزائیل کے تجربات کیے ہیں۔ دنیا نے اس کی طرف توجہ نہیں دی ہے۔ لیکن مجھے ایسا لگتا ہے کہ بحرالکاہل میں بھی جنگ کے آثار ہیں۔ امریکا نے اپنی جنگی طاقت وہاں سے کم کی ہے۔ وہاں سے جنگی اثاثے ایران کی طرف لائے گئے ہیں۔ لیکن وہاں بھی چین کے بہت اہم مفادات ہیں۔ اور شمالی کوریا ان مفادات میں چین کے ساتھ ہے۔ وہاں کا منظر نامہ بھی اہم ہے۔

پہلی بات شمالی کوریا نیوکلیئر طاقت ہے۔ شمالی کوریا کے بھی جاپان اور جنوبی کوریا کے ساتھ تنازعات ہیں۔ دونوں ممالک امریکا کے اتحادی ہیں۔ پھر تائیوان کا مسئلہ بھی ہے۔ چین اور جاپان کے بھی سرحد ی تنازعات ہیں۔ ویسے سادہ سمجھنے کے لیے یہ کافی ہے کہ چین اور جاپان کے درمیان بھی وہی تعلقات ہیں جو پاکستان اور بھارت کے درمیان ہیں۔ ایسی ہی دشمنی ہے۔ جب چین نے ایک بڑی پریڈ کا انعقاد کیا تھا تو جاپان نے اس پر شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ شمالی کوریا کا جاپان کی طرف رخ کر کے میزائیل کے تجربات کرنا سادہ بات نہیں۔ چین پیغام دے رہا ہے کہ وہ بھی ایک نیا جنگی محاذ کھول سکتا ہے۔ وہ اپنے تنازعات کو بھی طے کر سکتا ہے۔ یہ امریکا کے لیے کافی خطرہ والی بات ہے۔

شمالی کوریا کی چین کے ساتھ سرحد بھی ہے۔ ایران کے ساتھ چین کی کوئی سرحد نہیں۔ اس لیے چین شمالی کوریا کی مدد بہتر کر سکتا ہے۔ پھر شمالی کوریا وہ واحد ملک ہے جس نے روس یوکرین جنگ میں روس کو فوجی دیے ہیں۔ روس اور شمالی کوریا کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی ہے جیسا پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ہے۔

ایران کا کسی بھی ملک کے ساتھ ایسا کوئی دفاعی معاہدہ نہیں ہے۔ لیکن شمالی کوریا نے روس کے ساتھ باقاعدہ دفاعی معاہدہ کیا ہوا ہے۔ اس لیے ہم شمالی کوریا کو آسان نہیں لے سکتے۔ پھر چین نے تائیوان بھی لینا ہے۔ اس جنگی ماحول کو چین اپنے لیے استعمال کرنے کے لیے آگے بڑھ رہا ہے۔ ایک طرف وہ ایران کی مدد کر رہا ہے دوسری طرف وہ بحر الکاہل میں اپنے اہداف کے حصول کے لیے بھی آگے بڑھ رہا ہے۔ شائد اسی لیے ٹرمپ کے دورہ چین کے ملتوی ہونے کی بات شروع ہو چکی ہے۔ تاہم چین نے ابھی کوئی اعلان نہیں کیا۔ ٹرمپ نے ہی اشارے دیے ہیں۔

پاکستان نے قندھار میں ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کی اسپیشل فورس کے ہیڈکواٹر کو نشانہ بنایا ہے۔ اس کے ساتھ افغانستان کی حساس ایجنسی جی ڈی آئی کے قندھار میں ہیڈ کواٹر کو نشانہ بنایا ہے۔ اسپیشل فورس امیر ملا ہیبت اللہ کی حفاظت کی ذمے دار ہے۔ اس کو نشانہ بنانے کا مطلب واضح پیغام ہے کہ ہم آگے بڑھ سکتے ہیں۔ آپ ہمارے نشانے پر ہیں۔ یہ حملہ افغان طالبان کے لیے سب سے زیادہ خطرہ کی علامت سمجھا گیا ہے۔ افغان طالبان کو پیغام ملا ہے کہ اگلے مرحلہ میں انھیں بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

اس لیے ذمے داری دکھائیں۔ افغان طالبان دنیا میں پندرہ ممالک سے درخواست کر چکے ہیں کہ پاکستان سے سیز فائر کی بات کی جائے۔ لیکن کوئی بھی افغان طالبان کی ذمے داری لینے کو تیار نہیں۔ بھارت بھی افغان طالبان کی کوئی خا ص مدد کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ دیکھا جائے تو افغان طالبان بھارت سے بھی کافی نا امید ہیں۔ امریکا نے پابندیاں لگانی شروع کر دی ہیں۔ پاکستان کو کامیابیاں مل رہی ہیں۔ یہی حقیقت ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending