Connect with us

Today News

جزیرہ خرگ خلیج کا سب سے خطرناک مقام ہے

Published

on


جس طرح آبنائے ہرمز عالمی معیشت رواں رکھنے والی توانائی کی شہہ رگ ہے اسی طرح خلیج میں ساحل سے اٹھائیس کیلومیٹر پر واقع جزیرہ خرگ ایران کی اقتصادی شہہ رگ ہے (ایران مشرقِ وسطی کا پہلا ملک ہے جہاں انیس سو آٹھ سے تیل کی پیداوار حاصل ہو رہی ہے جب برٹش پٹرولیم نے یہاں پہلا کنواں دریافت کیا تھا۔جزیرہ نما عرب میں انیس سو تیس کے عشرے میں تیل نکلا)۔

موجودہ جنگ شروع ہونے سے پہلے ایران یومیہ تینتیس لاکھ بیرل خام تیل پیدا کر رہا تھا۔سب سے زیادہ پیداوار صوبہ اہواز کے تین بڑے آئل فیلڈز ( ابو زر ، فیروزاں ، درود ) سے نکلتی ہے۔ان آئل فیلڈز سے تیل پائپ لائنوں کے ایک گنجلک نظام کے ذریعے جزیرہ خرگ پہنچایا جاتا ہے۔یہاں سمندری گہرائی اتنی اچھی ہے کہ سپر ٹینکرز بھی باآسانی لنگر انداز ہو سکتے ہیں۔یہاں سے ہی نوے فیصد ایرانی تیل ٹینکرز میں بھر کے باقی دنیا کو بھیجا جاتا ہے۔

اس جزیرے پر تیل ذخیرہ کرنے کے تیس ٹینکوں کی گنجائش تین کروڑ بیرل ہے۔ عموماً یہاں دس سے بارہ دنوں کی ایکسپورٹ کا تیل (اٹھارہ ملین بیرل) ہی ذخیرہ ہوتا ہے۔یعنی سالانہ ساڑھے نو سو ملین بیرل تیل اس جزیرے سے گذر کے دنیا تک پہنچتا ہے۔ذرا سوچئے اگر اس ذخیرے پر براہِ راست بمباری ہو جائے تو خلیج کے دونوں طرف کا کم ازکم آدھا ساحل کیا انسانی رہائش کے قابل رہے گا ؟

جزیرہ خرگ کو کوئی بڑا نقصان پہنچانا اتنا حساس معاملہ ہے کہ جب انیس سو اناسی میں صدر جمی کارٹر نے تہران میں یرغمال بنائے گئے باون امریکی سفارت کاروں کی رہائی کے آپریشن کی منظوری دی تو اس وقت بھی جزیرہ خرگ کی تیل تنصیبات پر حملے کا خیال مسترد کر دیا گیا۔کارٹر کے بعد آنے والے امریکی صدر رونالڈ ریگن نے آٹھ سالہ ایران عراق جنگ کے دوران آبنائے ہرمز سے گذرنے والے آئل ٹینکرز کو مسلح بحری تحفظ ضرور فراہم کیا مگر جزیرہ خرگ پر قبضے کا انھیں بھی خیال نہ آیا۔

عراقیوں نے انیس سو اسی تا اٹھاسی جاری رہنے والی جنگ میں ایران کی ہر بندرگاہ اور جہاز کو نشانہ بنانے کی کوشش کی مگر خرگ پر آٹھ برس میں صرف ایک بار بمباری ہوئی۔تاہم اس حملے سے ہونے والے نقصان کی فوری بھرپائی کے سبب ایرانی تیل کی برآمد بہت زیادہ متاثر نہیں ہوئی۔

مگر مسٹر ٹرمپ اور ان کی کچن کیبنٹ کو شائد کسی نے نہیں بتایا کہ جزیرہ خرگ تیل پیدا کرنے والے تیسرے بڑے عالمی ملک کے لیے کیا اقتصادی معنی رکھتا ہے اور اگر اس جگہ کوئی مہم جوئی ہوتی ہے تو ساحل کے دوسری جانب واقع خلیجی تیل تنصیبات کے ساتھ جوابی کارروائی میں ایسا کیا کیا نہیں ہو سکتا جس کے بعد پوری دنیا توانائی کے عظیم بحران کی لپیٹ میں آنے سے بچی رہے۔ان تمام نزاکتوں سے بے نیاز ٹرمپ ٹیم نے بلومبرگ کی ایک رپورٹ کے مطابق جنگ کے پہلے ہفتے میں ہی خرگ کو ناکارہ بنانے یا اس پر قبضہ کرنے کے امکان پر غور شروع کر دیا اور ٹھیک ایک ہفتے بعد خرگ میں موجود ایرانی فوجی تنصیبات پر بمباری کر دی۔

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں کہا کہ انھوں نے اس بار تو تیل تنصیبات کو چھوڑ دیا مگر ایران نے اگر جلد آبنائے ہرمز کا محاصرہ ختم نہ کیا تو اگلے حملے میں جزیرہ خرگ پر کوئی مہربانی نہیں ہو گی۔ویسے بھی بقول ٹرمپ اس جزیرے پر کارروائی ایک مزیدار تجربہ ہو گا۔اس سے قبل ایک اور سوشل میڈیا پیغام میں ٹرمپ نے کہا کہ تیل کی قیمت جتنی بڑھے گی امریکا کا منافع بھی بڑھے گا کیونکہ امریکا اس وقت تیل پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔( اب تو دنیا کا سب سے بڑا تیل ذخیرہ وینزویلا بھی امریکا کے ہتھے چڑھ چکا ہے )۔

خرگ ایک تاریخی جزیرہ ہے۔معروف ایرانی ادیب جلال آلِ احمد کی ایک سطر ہے کہ ’’ خرگ خلیجِ فارس کا یتیم موتی ہے ‘‘۔ایرانی صوبہ بوشہر کے بالمقابل واقع ایرانی معیشت کے اس بائیس مربع کیلومیٹر کے دھڑکتے دل میں اس وقت سوائے تیل کی صنعت سے وابستہ کارکنوں اور ان کے محافظوں کے کوئی نہیں رہتا۔

اس جزیرے میں قدرتی میٹھا پانی بھی ہے۔ یہاں انسانی آبادی کے دو ہزار برس قدیم آثار پائے گئے ہیں۔یہاں ساتویں صدی کے دو بزرگوں میر آرام اور میر محمد کے مزارات بھی ہیں۔آس پاس زرتشتی ، مسیحی اور ساسانی ادوار کی نشانیاں اور قبروں کے آثار بھی بکھرے پڑے ہیں۔تیل کی صنعت سے پہلے خرگ خلیج کے تقریباً وسط میں واقع ہونے کے سبب چھوٹی سی زرعی و تجارتی منڈی بھی رہا اور تاجر و ملاح یہاں کچھ دیر رک کے تازہ دم بھی ہوتے تھے۔

یورپی سامراج نے سولہویں صدی میں پر پرزے نکالنے شروع کیے تو پرتگیزیوں نے خرگ اور اس کے قریب واقع دو دیگر چھوٹے جزیروں تمب ِ اکبر اور تمبِ اصغر پر بھی جھنڈا گاڑ دیا۔مگر اٹھارہویں صدی کے وسط میں ( سترہ سو سینتالیس ) ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی نے اس جزیرے پر قلعہ بندی کر دی۔اس قلعے اور اس سے متصل باغ کے آثار آج بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ سترہ سو چھیاسٹھ میں ایرانیوں نے تجارتی معاہدہ منسوخ کر کے ڈچ کمپنی کو یہاں سے نکال باہر کیا۔

جب انیس سو بیس کے عشرے میں کرنل رضا خان نے رضا شاہ پہلوی اول کا لقب اختیار کر کے ایران پر اپنی بادشاہت قائم کی تو انھوں نے سیاسی قیدیوں کو جزیرہ خرگ میں رکھنا شروع کیا۔مگر ان کے بیٹے رضا شاہ دوم کے زمانے میں انیس سو اٹھاون سے اس جزیرے کو تیل کی برآمد کے لیے وقف کر دیا گیا۔خرگ سے پہلا تیل بردار جہاز اگست انیس سو ساٹھ میں روانہ ہوا۔اس سے پہلے ایرانی تیل کی ایکسپورٹ آبادان کی بندرگاہ سے ہوتی تھی۔مگر آبادان کے مقابلے میں خرگ کا ساحل بڑے اور وزنی آئل ٹینکرز کے لیے زیادہ موزوں تھا۔

جزیرہ خرگ ہزاروں برس سے آتی جاتی سلطنتوں کا عروجِ زوال دیکھ رہا ہے۔اس کے ساحل پر جانے کون کون کب کب اترا اور تاریخ کی دھند میں گم ہو گیا۔مگر آج جزیرہ خرگ کو غالباً اپنی بقا کا سب سے سنگین چیلنج درپیش ہے۔ اس بار اگر یہ جزیرہ جل گیا تو بہت کچھ اپنے ساتھ لے جائے گا۔البتہ اس کا وجود سیاہ ہو کر بھی یہیں رہے گا اور اس سے ٹکرانے والی موجیں بدستور مونگے کی کھردری چٹانوں سے سر مارتی رہیں گی۔

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

آبنائے ہرمز، کشیدگی کا خطرناک منظرنامہ

Published

on


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر اتحادی ممالک اہم عالمی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو کھلوانے اور محفوظ بنانے میں امریکا کی مدد نہیں کریں گے، تو نیٹو کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران نے امریکا سے کبھی جنگ بندی کی درخواست نہیں کی اور ملک جب تک ضروری ہوا اپنے دفاع کے لیے تیار رہے گا۔ امریکا کا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی سیاست اور بین الاقوامی طاقتوں کی کشمکش کا مرکز بنتا دکھائی دے رہا ہے۔ ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف خطے کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی اتحادوں کے مستقبل پر بھی سوالات کھڑے کردیے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آبنائے ہرمز کے حوالے سے عالمی طاقتوں سے کی گئی اپیل اور ایران کی جانب سے سخت ردعمل نے ایک ایسی صورتحال پیدا کر دی ہے جس میں کسی بھی لمحے کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ موجود ہے۔ اس تمام پس منظر میں سب سے اہم سوال یہی ہے کہ آیا دنیا ایک نئے بڑے بحران کی طرف بڑھ رہی ہے یا ابھی بھی سفارت کاری کے ذریعے اس آگ کو بجھانے کا کوئی راستہ باقی ہے۔

آبنائے ہرمز کو دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ خلیج فارس کو بحرِ عمان اور پھر عالمی سمندروں سے ملانے والا یہ تنگ مگر انتہائی اہم راستہ عالمی معیشت کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے۔ دنیا کے کئی بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک اپنی برآمدات اسی راستے کے ذریعے دنیا تک پہنچاتے ہیں۔

اندازوں کے مطابق عالمی سطح پر تیل کی ایک بڑی مقدار روزانہ اس گزرگاہ سے گزرتی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ پیدا ہو جائے تو اس کے اثرات پوری دنیا میں فوری طور پر محسوس کیے جائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی آبنائے ہرمز کے حوالے سے کشیدگی بڑھتی ہے تو عالمی منڈیوں میں بے چینی پیدا ہو جاتی ہے اور تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ شروع ہو جاتا ہے۔

امریکا طویل عرصے سے اس خطے میں ایک اہم فوجی اور سیاسی کردار ادا کرتا آیا ہے۔ خلیجی ممالک میں اس کے فوجی اڈے اور بحری بیڑے اسے اس قابل بناتے ہیں کہ وہ خطے کے سمندری راستوں کی نگرانی کرے اور اپنے مفادات کا تحفظ کرے۔ تاہم حالیہ بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ امریکا اب اس ذمے داری کو تنہا اٹھانے کے لیے تیار نہیں بلکہ وہ چاہتا ہے کہ اس کے اتحادی ممالک بھی اس میں اپنا کردار ادا کریں۔

ٹرمپ کا یہ کہنا کہ اگر اتحادی ممالک آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے میں امریکا کی مدد نہ کریں تو نیٹو کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے، دراصل ایک بڑا سیاسی پیغام ہے۔ یہ بیان اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ امریکا اپنے اتحادیوں سے زیادہ عملی تعاون کی توقع رکھتا ہے اور اگر ایسا نہ ہوا تو اس اتحاد کی نوعیت اور سمت پر بھی سوال اٹھ سکتے ہیں۔ دوسری جانب یورپی ممالک اکثر یہ شکایت کرتے رہے ہیں کہ امریکا اپنے فیصلوں میں اتحادیوں کو مکمل طور پر اعتماد میں نہیں لیتا، جب کہ امریکا کا مؤقف یہ رہا ہے کہ یورپی ممالک دفاعی اخراجات میں مناسب حصہ نہیں ڈال رہے۔

آبنائے ہرمز کے معاملے پر بھی یہی اختلافات ایک بار پھر نمایاں ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ اگرچہ یورپی ممالک اس گزرگاہ کی اہمیت سے بخوبی آگاہ ہیں، لیکن وہ اس معاملے میں براہ راست فوجی کردار ادا کرنے سے ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ایسا کوئی بھی قدم انھیں براہ راست ایران کے ساتھ تصادم کے خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ یورپی ممالک عمومی طور پر ایران کے ساتھ سفارتی روابط برقرار رکھنے کے حامی رہے ہیں اور وہ اس بات کو ترجیح دیتے ہیں کہ مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔

دوسری طرف ایران کا مؤقف اس معاملے میں نہایت سخت اور واضح ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے یہ کہہ کر صورتحال کو مزید واضح کر دیا ہے کہ ایران نے امریکا سے کبھی جنگ بندی کی درخواست نہیں کی اور نہ ہی وہ اس وقت کسی قسم کے مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ وہ اپنے دفاع کے لیے ہر وقت تیار ہے اور اگر اس پر حملے کیے گئے تو وہ بھرپور جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ ایران کی قیادت بارہا یہ مؤقف دہرا چکی ہے کہ وہ دباؤ کے تحت کسی معاہدے کے لیے تیار نہیں ہوگی۔

ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے ایران کے مختلف مقامات پر فضائی حملوں کی اطلاعات اور تہران کے اوپر ایرانی فضائی دفاعی نظام کی سرگرمیوں نے اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ خطے میں ایک غیر اعلانیہ جنگ جاری ہے۔ اگرچہ یہ جنگ ابھی محدود نوعیت کی ہے، لیکن اس کے پھیلنے کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔

مشرق وسطیٰ کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ چھوٹے پیمانے پر شروع ہونے والے تنازعات بھی بعض اوقات بڑے علاقائی یا عالمی بحرانوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ دراصل جاری کشیدگی کے اثرات صرف ایران اور اسرائیل تک محدود نہیں بلکہ پورے خطے میں پھیل سکتے ہیں۔ خلیجی ممالک کی معیشتیں بڑی حد تک توانائی کی صنعت اور عالمی تجارت پر انحصار کرتی ہیں، اس لیے کسی بھی قسم کا عدم استحکام ان کے لیے سنگین مسائل پیدا کر سکتا ہے۔

تاہم اس پورے بحران کا سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ عالمی سطح پر اعتماد کی فضا کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان تعلقات گزشتہ چار دہائیوں سے کشیدہ ہیں اور دونوں ممالک ایک دوسرے پر عدم اعتماد کا شکار ہیں۔ جوہری معاہدے کے بعد کچھ عرصے کے لیے امید پیدا ہوئی تھی کہ شاید دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم ہو جائے گی، لیکن بعد کے واقعات نے اس امید کو زیادہ دیر قائم نہ رہنے دیا۔

آج صورتحال یہ ہے کہ دونوں فریق ایک دوسرے کے اقدامات کو دشمنی کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ امریکا، ایران کی علاقائی سرگرمیوں کو اپنے اتحادیوں کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے، جب کہ ایران کا کہنا ہے کہ امریکا اور اسرائیل خطے میں اپنی بالادستی قائم رکھنے کے لیے اسے نشانہ بنا رہے ہیں۔ اس طرح ایک ایسا ماحول پیدا ہو گیا ہے جس میں غلط فہمیوں اور غلط اندازوں کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

 عالمی برادری کے لیے اس وقت سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ اس کشیدگی کو کس طرح کم کیا جائے۔ جنگ کسی بھی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہوتی۔ مشرق وسطیٰ کی گزشتہ دہائیوں کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جنگوں نے خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیلا ہے۔

عراق کی جنگ، شام کا بحران اور یمن کی خانہ جنگی نے لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کیا اور پورے خطے کو انسانی اور معاشی بحرانوں میں مبتلا کر دیا۔اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت کم نہ کیا گیا تو خدشہ ہے کہ یہ بحران مزید سنگین شکل اختیار کرسکتا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش یا اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت کے لیے شدید دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، عالمی تجارت میں رکاوٹ اور مالیاتی منڈیوں میں عدم استحکام جیسے اثرات فوری طور پر سامنے آ سکتے ہیں۔

اس صورتحال میں عالمی طاقتوں کو ذمے داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ طاقت کے استعمال کے بجائے سفارت کاری اور مذاکرات کو ترجیح دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ایران اور امریکا دونوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ مسلسل تصادم کی پالیسی کسی بھی فریق کے لیے فائدہ مند نہیں ہوگی۔ اسی طرح خطے کے دیگر ممالک کو بھی چاہیے کہ وہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مثبت کردار ادا کریں۔اب ضرورت اس بات کی ہے کہ عالمی طاقتیں اس خطے کو ایک اور جنگ کی طرف دھکیلنے کے بجائے امن اور استحکام کی راہ تلاش کریں۔

آبنائے ہرمز کی سلامتی یقینی بنانا یقیناً ایک اہم مقصد ہے، لیکن اس مقصد کے حصول کے لیے ایسا راستہ اختیار کرنا ہوگا جو تصادم کے بجائے تعاون اور اعتماد کو فروغ دے۔اگر عالمی قیادت نے دانشمندی کا مظاہرہ کیا اور سفارتی کوششوں کو سنجیدگی سے آگے بڑھایا تو ممکن ہے کہ موجودہ بحران کو ایک بڑے تصادم میں تبدیل ہونے سے روکا جا سکے۔ بصورت دیگر یہ کشیدگی نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک نئے اور خطرناک دور کا آغاز ثابت ہو سکتی ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

یو اے ای کے شاہ گیس فیلڈ پر ڈرون حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی، آپریشن معطل

Published

on



دبئی:

متحدہ عرب امارات کے اہم شاہ گیس فیلڈ پر ڈرون حملے کے بعد لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے، تاہم تنصیب پر تمام آپریشنز عارضی طور پر معطل کر دیے گئے ہیں۔

ابوظہبی حکام کے مطابق ڈرون حملے کے باعث گیس فیلڈ میں آگ بھڑک اٹھی تھی جس کے بعد ہنگامی ردعمل کی ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آگ کو قابو میں کر لیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد گیس فیلڈ کی سرگرمیاں عارضی طور پر روک دی گئی ہیں جبکہ نقصان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

سرکاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ حکام کے مطابق متعلقہ ادارے صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور حفاظتی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ شاہ گیس فیلڈ متحدہ عرب امارات کی اہم توانائی تنصیبات میں شمار ہوتا ہے اور یہاں پیدا ہونے والی گیس ملکی توانائی کے نظام میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

جنگ کا منظر نامہ – ایکسپریس اردو

Published

on


دنیا کی تمام نظریں اس وقت ایران امریکا اور اسرائیل جنگ پر ہیں۔ پاکستان نے بھی افغانستان پر سرجیکل اسٹرائیکس جاری رکھی ہوئی ہیں۔ روس یوکرین جنگ بھی جاری ہے۔لیکن مجھے ایسا لگتا ہے کہ ایک نئی جنگ کی بھی تیاری ہو رہی ہے۔ ایران اسرائیل جنگ رکنے کے ابھی کوئی آثا ر نظر نہیں آرہے ہیں۔

امریکا بھی مان رہا ہے کہ ایران سیز فائر کے لیے تیار نہیں ہے۔ آبنائے ہرمز بند ہے۔ امریکا اپنی تمام تر بحری طاقت کے باوجود آبنائے ہرمز کھلوانے کے قابل نہیں ہے۔ ایران کے میزائیل اور ڈرون ختم کرنے کے تمام دعوے غلط ثابت ہو رہے ہیں۔ ایران اسی طاقت سے ڈرونز اور میزائل مار رہا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بالآخر آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے امریکی اتحادیوں سے مدد مانگ لی ہے۔ انھوں نے نیٹو ممالک سے کہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے امریکا کی مدد کریں تا دم تحریر برطانیہ، فرانس، جاپان سمیت تمام بڑے ممالک امریکی صدر کی درخواست کو مسترد کر چکے ہیں۔

فی الحال کوئی بڑا اتحادی امریکا کی مدد کے لیے تیار نہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جن ممالک کا تمام انحصار آبنائے ہرمز پر ہے وہ بھی اسے کھلوانے کے لیے امریکا کی کوئی مدد کرنے کے لیے تیارنہیں۔ دنیا کے ممالک خود کو اس جنگ سے علیحدہ رکھنا چاہتے ہیں۔ اسی لیے عرب ممالک جن پر ایران ڈرون اور میزائل مار رہا ہے وہ بھی ایران کو اس کا کوئی جواب دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس لیے وہ بھی آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے کوئی کردار اد ا کرنے کے لیے تیار نہیں۔اس لیے آبنائے ہرمز کھلوانے کا کام امریکا اور اسرائیل کو ہی کرنا ہے۔ جب تک آبنائے ہرمز بند رہے گی ایران کی جیت کا اعلان رہے گا۔ یہ بات سمجھنے کی ہے کہ اب آبنائے ہر مز کی بندش امریکا کی ہار اور ایران کی جیت کا اعلان بن چکی ہے۔

دفاعی تجزیہ نگاروں کی رائے میں آبنائے ہرمز کھلوانا عملی طور پر کافی مشکل ہے۔ اس کا محل وقوع ایران کے حق میں ہے۔ پھر اس سے پہلے دیکھا گیا ہے کہ جب حوثیوں نے سمندری راستے بند کیے تھے تو ان راستوں کو بھی تب تک نہیں کھلوایا جا سکا جب تک حوثی خود ان راستوں کو کھولنے کے لیے تیار نہیں ہوئے تھے۔

حوثیوں کے لیے امریکی بمباری سے بچنا مشکل تھا۔ وہ یمن کے اندر بھی لڑ رہے تھے اس لیے ان کے لیے کافی مشکلات تھیں۔ تاہم ایران کو اندر سے کوئی مشکلات نہیں۔ ایران کی نیوی تباہ کرنے کا امریکی دعویٰ سچ نظر نہیں آرہا۔ ایران کے بارے میں یہ رائے سامنے آرہی ہے کہ وہ زیادہ عرصہ تک آبنائے ہرمز بند رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جس کی وجہ سے دنیا کی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان ہو جائے گا۔ اسی لیے امریکا دباؤ میں ہے۔ اور اسی دباؤ کو کم کرنے کے لیے وہ دیگر ممالک کو مدد کے لیے پکار رہا ہے تاکہ یہ کہا جا سکے کہ باقی ممالک نے مدد نہیں کی۔ اس لیے نہیں کھلوا سکے ۔

ایسے اشارے بھی سامنے آئے ہیں کہ امریکا اور چین کے درمیان پیرس میں تجارتی مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں۔ پیرس میں ہونے والے یہ مذاکرات ٹرمپ کے دورہ چین کے لیے تھے، تاہم امریکا اور چین کسی تجارتی پیکیج پر نہیں پہنچ سکے ہیں۔ اسی لیے امریکی صدر ٹرمپ نے ایسے اشارے دینے شروع کر دیے ہیں کہ شائد ان کا دورہ چین ملتوی ہو جائے۔ سب جانتے ہیں کہ ٹرمپ ایران کی لڑائی ختم کر کے چین جانا چاہتے تھے۔

اسی لیے انھوں نے گزشتہ چند دنوں میں ایران کو سیز فائر کی پیشکش بھی کی۔ لیکن اب بظاہر ایران سیز فائر کے لیے تیار نہیں۔ اس لیے جنگ امریکی ٹائم ٹیبل کے مطابق ختم ہوتی نظر نہیں آرہی۔ ٹرمپ جنگ کے دوران بیجنگ کا دورہ نہیں کرنا چاہتے۔ شائد  پلاننگ یہی تھی کہ جنگ کے بعد ملاقات ہوگی۔ جنگ طویل ہوگئی ہے۔

بہر حال میں ایک نئی جنگ کی بات کر رہا تھا۔شمالی کوریا نے جاپان کی طرف رخ کر کے دس بیلسٹک میزائیل کے تجربات کیے ہیں۔ دنیا نے اس کی طرف توجہ نہیں دی ہے۔ لیکن مجھے ایسا لگتا ہے کہ بحرالکاہل میں بھی جنگ کے آثار ہیں۔ امریکا نے اپنی جنگی طاقت وہاں سے کم کی ہے۔ وہاں سے جنگی اثاثے ایران کی طرف لائے گئے ہیں۔ لیکن وہاں بھی چین کے بہت اہم مفادات ہیں۔ اور شمالی کوریا ان مفادات میں چین کے ساتھ ہے۔ وہاں کا منظر نامہ بھی اہم ہے۔

پہلی بات شمالی کوریا نیوکلیئر طاقت ہے۔ شمالی کوریا کے بھی جاپان اور جنوبی کوریا کے ساتھ تنازعات ہیں۔ دونوں ممالک امریکا کے اتحادی ہیں۔ پھر تائیوان کا مسئلہ بھی ہے۔ چین اور جاپان کے بھی سرحد ی تنازعات ہیں۔ ویسے سادہ سمجھنے کے لیے یہ کافی ہے کہ چین اور جاپان کے درمیان بھی وہی تعلقات ہیں جو پاکستان اور بھارت کے درمیان ہیں۔ ایسی ہی دشمنی ہے۔ جب چین نے ایک بڑی پریڈ کا انعقاد کیا تھا تو جاپان نے اس پر شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ شمالی کوریا کا جاپان کی طرف رخ کر کے میزائیل کے تجربات کرنا سادہ بات نہیں۔ چین پیغام دے رہا ہے کہ وہ بھی ایک نیا جنگی محاذ کھول سکتا ہے۔ وہ اپنے تنازعات کو بھی طے کر سکتا ہے۔ یہ امریکا کے لیے کافی خطرہ والی بات ہے۔

شمالی کوریا کی چین کے ساتھ سرحد بھی ہے۔ ایران کے ساتھ چین کی کوئی سرحد نہیں۔ اس لیے چین شمالی کوریا کی مدد بہتر کر سکتا ہے۔ پھر شمالی کوریا وہ واحد ملک ہے جس نے روس یوکرین جنگ میں روس کو فوجی دیے ہیں۔ روس اور شمالی کوریا کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی ہے جیسا پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ہے۔

ایران کا کسی بھی ملک کے ساتھ ایسا کوئی دفاعی معاہدہ نہیں ہے۔ لیکن شمالی کوریا نے روس کے ساتھ باقاعدہ دفاعی معاہدہ کیا ہوا ہے۔ اس لیے ہم شمالی کوریا کو آسان نہیں لے سکتے۔ پھر چین نے تائیوان بھی لینا ہے۔ اس جنگی ماحول کو چین اپنے لیے استعمال کرنے کے لیے آگے بڑھ رہا ہے۔ ایک طرف وہ ایران کی مدد کر رہا ہے دوسری طرف وہ بحر الکاہل میں اپنے اہداف کے حصول کے لیے بھی آگے بڑھ رہا ہے۔ شائد اسی لیے ٹرمپ کے دورہ چین کے ملتوی ہونے کی بات شروع ہو چکی ہے۔ تاہم چین نے ابھی کوئی اعلان نہیں کیا۔ ٹرمپ نے ہی اشارے دیے ہیں۔

پاکستان نے قندھار میں ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کی اسپیشل فورس کے ہیڈکواٹر کو نشانہ بنایا ہے۔ اس کے ساتھ افغانستان کی حساس ایجنسی جی ڈی آئی کے قندھار میں ہیڈ کواٹر کو نشانہ بنایا ہے۔ اسپیشل فورس امیر ملا ہیبت اللہ کی حفاظت کی ذمے دار ہے۔ اس کو نشانہ بنانے کا مطلب واضح پیغام ہے کہ ہم آگے بڑھ سکتے ہیں۔ آپ ہمارے نشانے پر ہیں۔ یہ حملہ افغان طالبان کے لیے سب سے زیادہ خطرہ کی علامت سمجھا گیا ہے۔ افغان طالبان کو پیغام ملا ہے کہ اگلے مرحلہ میں انھیں بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

اس لیے ذمے داری دکھائیں۔ افغان طالبان دنیا میں پندرہ ممالک سے درخواست کر چکے ہیں کہ پاکستان سے سیز فائر کی بات کی جائے۔ لیکن کوئی بھی افغان طالبان کی ذمے داری لینے کو تیار نہیں۔ بھارت بھی افغان طالبان کی کوئی خا ص مدد کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ دیکھا جائے تو افغان طالبان بھارت سے بھی کافی نا امید ہیں۔ امریکا نے پابندیاں لگانی شروع کر دی ہیں۔ پاکستان کو کامیابیاں مل رہی ہیں۔ یہی حقیقت ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending