Connect with us

Today News

وزیر اعظم کی زیر صدارت اجلاس میں پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل کی تنظیم نو کی منظوری

Published

on


وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وزرات قومی غذائی تحفظ و تحقیق اور پی اے آر سی کے امور پر اجلاس ہوا، اجلاس میں پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل (پی اے آر سی ) کی تنظیم نو کی اصولی منظوری دے دی گئی۔

وزیراعظم نے ہدایت دی کہ  *ٹائم لائن کے ساتھ پی اے آر سی کی تنظیم نو کا جامع پلان تیار کیا جائے، *وزیراعظم نےPARC کو چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز  (CAAS)  کے طرز پر زرعی تحقیق کے حوالے سے اعلی تحقیقاتی ادارہ بنانے کی ہدایت بھی کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ زرعی تحقیق کا ملک کے زراعت اور غذائی تحفظ کے شعبے کی فروغ میں  کلیدی کردار ہے۔

اجلاس کو PARC کو زرعی تحقیق کا جدید دور کی تقاضوں سے ہم آہنگ ایک فعال ادارہ بنانے کے حوالے سے تفصیلی بریفننگ دی گئی۔

قومی غذائی ضروریات پوری کرنے اور زرعی شعبے کی برآمدات بڑھانے کے حوالے سےPARC کو  ایک فعال ادارہ بنانے کیلئے گورننس ڈھانچے میں اصلاحات ، بہترین تحقیقی عملے کی خدمات، بین الاقوامی شراکت داری، صوبائی حکومتوں کے ساتھ بہتر روابط، اور  کارکردگی کے واضح اہداف اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ ہیں۔

PARC کے تحت کام کرنے والے تمام تحقیقی مراکز کو یکجا کرکے پانچ سنٹر آف ایکسیلنس بنائے جائنگے ۔ یہ سنٹرز زیادہ پیداوار والے بیج، اعلی نسل کے مویشی، پریسیشن ایگریکلچر، فارم میکانائزشن اور اس میں اے آئی کا استعمال، اور زرعی شعبے کی برآمدات بڑھانے کے لیے فوڈ پروسیسنگ کے شعبوں میں تحقیق کا کام کرینگے۔ زرعی تحقیق کو  انڈسٹری کے ساتھ جوڑا جائیگا۔ 
  
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین ، وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک ، وزیر اعظم کے مشیر رانا ثنااللہ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی ، وزیراعظم کے معاونین خصوصی ہارون اختر اور طارق باجوہ، وزیر اعظم کے کوآرڈینیٹر برائے زراعت احمد عمیر اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ملائشیین فٹبال فیڈریشن کو جعلی دستاویزات پر کھلاڑیوں  کو کھلانا مہنگا پڑ گیا

Published

on



ملائشیین فٹبال فیڈریشن کو جعلی دستاویزات پر کھلاڑیوں  کو کھلانا مہنگا پڑ گیا۔

ایشین کوالیفائنگ راونڈ سے چھٹی کے ساتھ پچاس ہزار ڈالر جرمانہ بھی ہوگیا، ملائیشیا نے سات غیرملکی کھلاڑیوں کو جعلی دستاویزات بناکر شہریت دےکر ٹیم کا حصہ بنایا تھا۔

رپورٹس کے مطابق  ایشین فٹبال کیفیڈریشن  نے ملائشین فٹبال فیڈریشن کو اپنے فیصلے سےآگاہ کردیاہے جس کے تحت ملائیشیا نے اے ایف سی ڈسپلنری اور ایتھکس  رولز  چھپن کی خلاف ورزی کی ہے۔

اس بنا پر نیپال اور ویتنام کے خلاف اے ایف سی کوالیفائر میں جن میچز میں ملائیشیا نے کامیابی پائی تھی، اس کے نتائج کو بدل کر فیصلہ تین صفر سے  ویتنام اور نیپال کو فاتح قرار دے دیا گیاہے۔

میچز سے محروم کرنے کے ساتھ ملائیشیا کی فٹبال فیدریشن کو ایک لاکھ چھیانوے ہزار ایک سو ایک انیس ملائیشین رنگٹ جرمانہ بھی کیاگیاہے۔



Source link

Continue Reading

Today News

پی آئی اے کی ملازمہ کی نوکری سے برطرفی کالعدم قرار

Published

on


سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے پی آئی اے کی ملازمہ کی نوکری سے برطرفی کالعدم قرار دینے کیخلاف درخواست این آئی آر سی کا فیصلہ برقرار رکھنے کا حکم دیدیا۔

ہائیکورٹ کے آئینی بینچ کے روبرو پی آئی اے کی ملازمہ کی نوکری سے برطرفی کالعدم قرار دینے کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔

پی آئی اے کے وکیل نے موقف دیا کہ صائمہ حفیظ سومرو کو 2017 میں نوکری سے غیر حاضر  رہنے پر شوکاز نوٹس جاری کیا گیا۔ انکوائری کے بعد ملازمہ کو ملازمت سے برطرف کیا گیا۔ ماتحت عدالت نے شواہد کو نظر انداز کرکے ملازمہ کی برطرفی کالعدم قرار دی۔

صائمہ حفیظ سومرو کے وکیل نے موقف دیا کہ درخواستگزار اپنے والد کی علالت کے باعث رخصت پر تھیں۔ درخواستگزار کے پاس مناسب چھٹیاں موجود تھیں تاہم ایچ آر نے چھٹیاں منظور نہیں کیں, ملازمہ کو شوکاز نوٹس قانونی مدت گزر جانے کے بعد جاری کیا گیا۔

انکوائری کے دوران ملازمہ کو گواہوں کو جرح کا حق بھی نہیں دیا گیا۔ ملازمہ کیخلاف کی گئی تمام کارروائی غیر قانونی تھی۔

عدالت نے این آئی آر سی کا ملازمہ کی بحالی کا فیصلہ برقرار رکھنے اور پی آئی اے کو ملازمہ کو تمام فوائد و واجبات کی ادائیگی کا حکم دیدیا۔

عدالت نے ریمارلس دیئے کہ ماتحت فورمز کے فیصلوں میں کوئی بے ضابطگی ثابت نہیں ہوئی۔ ایسی صورت میں ہائیکورٹ کی مداخلت کا جواز نہیں ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

سلمان علی آغا کے متنازع رن آؤٹ پر ایم سی سی کا مؤقف سامنے آگیا

Published

on



بنگلا دیش کے خلاف دوسرے ون ڈے میچ میں سلمان علی آغا کے متنازع رن آؤٹ پر ایم سی سی کا مؤقف سامنے آگیا

تفصیلات کے مطابق بنگلا دیش کے شیر بنگلا اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ کے دوران سلمان علی آغا کو ایک متنازع انداز میں رن آؤٹ قرار دیا گیا جس پر شائقین اور ماہرین کرکٹ کی جانب سے بحث چھڑ گئی تھی۔

Marylebone Cricket Club  (ایم سی سی) کے بیان میں کہا گیا ہے کہ قوانین کے مطابق سلمان علی آغا واضح طور پر آؤٹ تھے کیونکہ وہ کریز سے باہر موجود تھے اور اس وقت گیند کھیل میں تھی۔ بیان میں مزید وضاحت کی گئی کہ کسی بھی بیٹر کو فیلڈنگ سائیڈ کی اجازت کے بغیر گیند اٹھانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔

ایم سی سی نے یہ بھی واضح کیا کہ کھلاڑیوں کے درمیان ٹکراؤ ہونے کی صورت میں گیند خود بخود ڈیڈ نہیں ہو جاتی، اس لیے کھیل جاری تصور کیا جاتا ہے۔

ایم سی سی بیان کے مطابق اگرچہ "اسپرٹ آف کرکٹ" کے تحت بنگلا دیش اپیل واپس لے سکتا تھا، تاہم قوانین کی روشنی میں آن فیلڈ امپائرز کے پاس سلمان علی آغا کو آؤٹ دینے کے سوا کوئی اور راستہ موجود نہیں تھا۔

واضح رہے کہ پاکستان اور بنگلا دیش کے درمیان کھیلے گئے دوسرے ون ڈے میچ میں پاکستانی بلے باز سلمان علی آغا کا رن آؤٹ ایک متنازع صورت اختیار کرگیا، جس پر میدان میں کچھ دیر کے لیے کشیدگی کا ماحول دیکھنے میں آیا۔



Source link

Continue Reading

Trending