Today News
وزیراعظم کی قازقستان کے صدر سے ٹیلی فونک گفتگو؛ کامیاب آئینی ریفرنڈم پر مبارکباد
وزیراعظم شہباز شریف نے قازقستان کے صدر سے ٹیلی فونک گفتگو میں انہیں کامیاب آئینی ریفرنڈم پر مبارکباد د۔ی۔
وزیراعظم محمد شہبازشریف نے جمہوریہ قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایئف سے ٹیلی فون پر گفتگو کی۔
وزیراعظم نے 15 مارچ 2026 کو قازقستان میں ہونے والے تاریخی آئینی ریفرنڈم کی کامیابی پر صدر توکایئف کو مبارکباد دی۔
وزیر اعظم نے کہا کہ نئے آئین کے لیے زبردست ٹرن آؤٹ اور حمایت قازقستان کے عوام کے صدر توکایف کی دور اندیش قیادت اور اصلاحاتی ایجنڈے پر اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔
انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ اصلاحات قازقستان میں نظم و نسق، ادارہ جاتی استحکام اور قومی ترقی کو مزید مستحکم کریں گی۔
گزشتہ ماہ صدر توکایف کے دورہ پاکستان کا ذکر کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے صدر کو یقین دلایا کہ پاکستان اس دورے کے دوران کیے گئے فیصلوں پر ترجیحی بنیادوں پر عملدرآمد یقینی بنا رہا ہے۔
اس حوالے سے وزیرِ اعظم نے کہا کہ دونوں فریق جلد ہی مجوزہ ایم او یوز اور معاہدوں پر نتیجہ خیز عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے ملاقات کریں گے۔
صدر توکایئف نے وزیراعظم کو اس سال کے آخر میں قازقستان کا سرکاری دورہ کرنے کی دعوت دہرائی جسے وزیرِ اعظم نے قبول کر لیا گیا۔
دونوں رہنماؤں نے علاقائی پیشرفت بالخصوص افغانستان کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا اور مشترکہ خوشحالی کے لیے بات چیت، تعاون اور روابط کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا۔
وزیراعظم نے عیدالفطر کے پرمسرت موقع پر صدر توکایف اور قازقستان کے برادر عوام کو بھی تہہ دل سے پیشگی مبارکباد پیش کی اور ان کی مسلسل امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
Today News
امریکا کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کرنے والے علی لاریجانی شہید کون تھے؟
ایران کی سیاسی اور عسکری قیادت میں سب سے نمایاں مقام رکھنے والے علی لاریجانی کو بے خوف نڈر اور بہادر رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔
آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد امریکا کو للکارنے والے علی لاریجانی کو اسرائیل نے ہٹ لسٹ میں سرفہرست رکھا ہوا تھا۔ اس کے باوجود غیور و دلیر رہنما عوامی مقامات پر بھی نظر آتے تھے۔
علی لاریجانی اسرائیلی و امریکی قتل کی دھمکیوں کے باوجود چند ہی روز قبل یوم القدس کی ریلی میں ہزاروں شرکا کے ہمراہ ہاتھ ملاتے اور سیلفیاں لیتے نظر آئے۔ وہ مطمئن، پُرعزم اور بے خوف تھے۔
علی لاریجانی سیاست کے میدان کے بھی شہہ سوار تھے۔ طویل عرصے تک پارلیمنٹ کے اسپیکر بھی رہے اور ساتھ ہی ایران کے جوہری مذاکرات اور قومی سلامتی کے معاملات میں بھی اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔
سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی اسرائیلی اور امریکی حملے میں شہادت پر علی لاریجانی نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کے دشمنوں کو اس عمل پر پچھتانے پر مجبور کردیں گے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ علی لاریجانی کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بھی بنایا گیا تھا۔ ایک اسرائیلی عہدیدار کے مطابق ان پر حملہ ایک دن پہلے ہونا تھا لیکن آخری لمحے میں اسے مؤخر کر دیا گیا۔
بعد ازاں ان کے ایک خفیہ ٹھکانے پر حملہ کیا گیا جہاں وہ مبینہ طور پر اپنے بیٹے کے ساتھ موجود تھے۔ تاہم ابتدائی اطلاعات میں ان کی ہلاکت یا زندہ بچ جانے کے بارے میں واضح تصدیق سامنے نہیں آئی۔
عراق میں پیدا ہوئے
علی لاریجانی 1958 میں عراق کے شہر نجف میں پیدا ہوئے۔ بعد میں وہ ایران منتقل ہوئے اور تہران میں تعلیم حاصل کی۔ 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد انہوں نے ریاستی اداروں میں تیزی سے ترقی کی اور مختلف اہم عہدوں پر فائز رہے۔
اہم سرکاری عہدوں پر فائز رہے
اپنے طویل سیاسی کیریئر کے دوران علی لاریجانی کئی اہم عہدوں پر رہے، وزیر ثقافت بنے، سرکاری نشریاتی ادارے کی سربراہی کی ، ایک دہائی تک پارلیمنٹ کے اسپیکر رہے اور ایران کے چیف نیوکلیئر مذاکرات کار کی کلیدی ذمہ داری بھی نبھائی۔
بطور چیف نیوکلیئر مذاکرات کار 2005 سے 2007 کے دوران انھوں نے عالمی طاقتوں کے ساتھ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا۔
2015 کے جوہری معاہدے کی حمایت بھی کی جسے عالمی سطح پر ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا گیا تھا۔
ایرانی قومی سلامتی کونسل میں اہم کردار
2025 میں انھیں دوبارہ ایران کی اعلیٰ سلامتی کونسل یعنی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا سیکریٹری مقرر کیا گیا۔ اس عہدے کے بعد وہ جنگ کے دوران تہران کی قیادت میں مرکزی شخصیت کے طور پر سامنے آئے۔
امریکا نے گرفتاری پر انعام بھی رکھا
امریکا نے ایران کی پاسدارانِ انقلاب سے منسلک اعلیٰ شخصیات کے بارے میں معلومات دینے والوں کے لیے ایک کروڑ ڈالر تک انعام کا اعلان بھی کیا تھا، جس میں علی لاریجانی کا نام بھی شامل بتایا جاتا ہے۔
علی لاریجانی کے خاندان کی سیاسی اہمیت
علی لاریجانی کا خاندان بھی ایران کی سیاست میں خاص اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ ان کے بھائی صادق لاریجانی بھی اسلامی جمہوریہ کے اہم ترین عہدوں پر فائز رہے ہیں۔
صادق لاریجانی اس وقت مجمع تشخیص مصلحت نظام کے سربراہ ہیں، جو ایران کا ایک اہم ادارہ ہے اور پارلیمنٹ اور آئینی نگران ادارے گارڈین کونسل کے درمیان اختلافات کی صورت میں آخری فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔
ایران کی سیاست میں اہم کردار
تجزیہ کاروں کے مطابق علی لاریجانی کو ایران کے ان رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے جو ریاستی اداروں، پارلیمنٹ اور سکیورٹی ڈھانچے کے درمیان رابطے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے انہیں ایران کی پالیسی سازی کے اہم چہروں میں شامل کیا جاتا ہے۔
Today News
ملائشیین فٹبال فیڈریشن کو جعلی دستاویزات پر کھلاڑیوں کو کھلانا مہنگا پڑ گیا
ملائشیین فٹبال فیڈریشن کو جعلی دستاویزات پر کھلاڑیوں کو کھلانا مہنگا پڑ گیا۔
ایشین کوالیفائنگ راونڈ سے چھٹی کے ساتھ پچاس ہزار ڈالر جرمانہ بھی ہوگیا، ملائیشیا نے سات غیرملکی کھلاڑیوں کو جعلی دستاویزات بناکر شہریت دےکر ٹیم کا حصہ بنایا تھا۔
رپورٹس کے مطابق ایشین فٹبال کیفیڈریشن نے ملائشین فٹبال فیڈریشن کو اپنے فیصلے سےآگاہ کردیاہے جس کے تحت ملائیشیا نے اے ایف سی ڈسپلنری اور ایتھکس رولز چھپن کی خلاف ورزی کی ہے۔
اس بنا پر نیپال اور ویتنام کے خلاف اے ایف سی کوالیفائر میں جن میچز میں ملائیشیا نے کامیابی پائی تھی، اس کے نتائج کو بدل کر فیصلہ تین صفر سے ویتنام اور نیپال کو فاتح قرار دے دیا گیاہے۔
میچز سے محروم کرنے کے ساتھ ملائیشیا کی فٹبال فیدریشن کو ایک لاکھ چھیانوے ہزار ایک سو ایک انیس ملائیشین رنگٹ جرمانہ بھی کیاگیاہے۔
Source link
Today News
پی آئی اے کی ملازمہ کی نوکری سے برطرفی کالعدم قرار
سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے پی آئی اے کی ملازمہ کی نوکری سے برطرفی کالعدم قرار دینے کیخلاف درخواست این آئی آر سی کا فیصلہ برقرار رکھنے کا حکم دیدیا۔
ہائیکورٹ کے آئینی بینچ کے روبرو پی آئی اے کی ملازمہ کی نوکری سے برطرفی کالعدم قرار دینے کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔
پی آئی اے کے وکیل نے موقف دیا کہ صائمہ حفیظ سومرو کو 2017 میں نوکری سے غیر حاضر رہنے پر شوکاز نوٹس جاری کیا گیا۔ انکوائری کے بعد ملازمہ کو ملازمت سے برطرف کیا گیا۔ ماتحت عدالت نے شواہد کو نظر انداز کرکے ملازمہ کی برطرفی کالعدم قرار دی۔
صائمہ حفیظ سومرو کے وکیل نے موقف دیا کہ درخواستگزار اپنے والد کی علالت کے باعث رخصت پر تھیں۔ درخواستگزار کے پاس مناسب چھٹیاں موجود تھیں تاہم ایچ آر نے چھٹیاں منظور نہیں کیں, ملازمہ کو شوکاز نوٹس قانونی مدت گزر جانے کے بعد جاری کیا گیا۔
انکوائری کے دوران ملازمہ کو گواہوں کو جرح کا حق بھی نہیں دیا گیا۔ ملازمہ کیخلاف کی گئی تمام کارروائی غیر قانونی تھی۔
عدالت نے این آئی آر سی کا ملازمہ کی بحالی کا فیصلہ برقرار رکھنے اور پی آئی اے کو ملازمہ کو تمام فوائد و واجبات کی ادائیگی کا حکم دیدیا۔
عدالت نے ریمارلس دیئے کہ ماتحت فورمز کے فیصلوں میں کوئی بے ضابطگی ثابت نہیں ہوئی۔ ایسی صورت میں ہائیکورٹ کی مداخلت کا جواز نہیں ہے۔
-
Magazines2 weeks ago
Story Time: Culinary Disasters – Newspaper
-
Business2 weeks ago
Privatisation Commission board recommends Fauji Fertiliser’s inclusion in consortium that won PIA auction – Pakistan
-
Sports2 weeks ago
Bangladesh recall Litton, Afif for Pakistan ODI series – Sport
-
Entertainment2 weeks ago
Fans React to Nadia Khan’s Wrinkles in Filter-Free Video
-
Sports2 weeks ago
Haris among 14 Pakistanis on The Hundred final list – Sport
-
Today News2 weeks ago
prime minister contact Lebanon counterpart solidarity against israeli aggression
-
Entertainment2 weeks ago
Muneeb Butt Reveals Reason Of Blessings in His Income
-
Business2 weeks ago
Global markets turmoil intensifies on Iran war – Business