Connect with us

Today News

امریکا کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کرنے والے علی لاریجانی شہید کون تھے؟

Published

on


ایران کی سیاسی اور عسکری قیادت میں سب سے نمایاں مقام رکھنے والے علی لاریجانی کو بے خوف نڈر اور بہادر رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔

آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد امریکا کو للکارنے والے علی لاریجانی کو اسرائیل نے ہٹ لسٹ میں سرفہرست رکھا ہوا تھا۔ اس کے باوجود غیور و دلیر رہنما عوامی مقامات پر بھی نظر آتے تھے۔

علی لاریجانی اسرائیلی و امریکی قتل کی دھمکیوں کے باوجود چند ہی روز قبل یوم القدس کی ریلی میں ہزاروں شرکا کے ہمراہ ہاتھ ملاتے اور سیلفیاں لیتے نظر آئے۔ وہ مطمئن، پُرعزم اور بے خوف تھے۔

علی لاریجانی سیاست کے میدان کے بھی شہہ سوار تھے۔ طویل عرصے تک پارلیمنٹ کے اسپیکر بھی رہے اور ساتھ ہی ایران کے جوہری مذاکرات اور قومی سلامتی کے معاملات میں بھی اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔

سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی اسرائیلی اور امریکی حملے میں شہادت پر علی لاریجانی نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کے دشمنوں کو اس عمل پر پچھتانے پر مجبور کردیں گے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ علی لاریجانی کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بھی بنایا گیا تھا۔ ایک اسرائیلی عہدیدار کے مطابق ان پر حملہ ایک دن پہلے ہونا تھا لیکن آخری لمحے میں اسے مؤخر کر دیا گیا۔

بعد ازاں ان کے ایک خفیہ ٹھکانے پر حملہ کیا گیا جہاں وہ مبینہ طور پر اپنے بیٹے کے ساتھ موجود تھے۔ تاہم ابتدائی اطلاعات میں ان کی ہلاکت یا زندہ بچ جانے کے بارے میں واضح تصدیق سامنے نہیں آئی۔

عراق میں پیدا ہوئے

علی لاریجانی 1958 میں عراق کے شہر نجف میں پیدا ہوئے۔ بعد میں وہ ایران منتقل ہوئے اور تہران میں تعلیم حاصل کی۔ 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد انہوں نے ریاستی اداروں میں تیزی سے ترقی کی اور مختلف اہم عہدوں پر فائز رہے۔

اہم سرکاری عہدوں پر فائز رہے

اپنے طویل سیاسی کیریئر کے دوران علی لاریجانی کئی اہم عہدوں پر رہے، وزیر ثقافت بنے، سرکاری نشریاتی ادارے کی سربراہی کی ، ایک دہائی تک پارلیمنٹ کے اسپیکر رہے اور ایران کے چیف نیوکلیئر مذاکرات کار کی کلیدی ذمہ داری بھی نبھائی۔

بطور چیف نیوکلیئر مذاکرات کار 2005 سے 2007 کے دوران انھوں نے عالمی طاقتوں کے ساتھ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا۔

2015 کے جوہری معاہدے کی حمایت بھی کی جسے عالمی سطح پر ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا گیا تھا۔

ایرانی قومی سلامتی کونسل میں اہم کردار

2025 میں انھیں دوبارہ ایران کی اعلیٰ سلامتی کونسل یعنی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا سیکریٹری مقرر کیا گیا۔ اس عہدے کے بعد وہ جنگ کے دوران تہران کی قیادت میں مرکزی شخصیت کے طور پر سامنے آئے۔

امریکا نے گرفتاری پر انعام بھی رکھا

امریکا نے ایران کی پاسدارانِ انقلاب سے منسلک اعلیٰ شخصیات کے بارے میں معلومات دینے والوں کے لیے ایک کروڑ ڈالر تک انعام کا اعلان بھی کیا تھا، جس میں علی لاریجانی کا نام بھی شامل بتایا جاتا ہے۔

علی لاریجانی کے خاندان کی سیاسی اہمیت

علی لاریجانی کا خاندان بھی ایران کی سیاست میں خاص اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ ان کے بھائی صادق لاریجانی بھی اسلامی جمہوریہ کے اہم ترین عہدوں پر فائز رہے ہیں۔

صادق لاریجانی اس وقت مجمع تشخیص مصلحت نظام کے سربراہ ہیں، جو ایران کا ایک اہم ادارہ ہے اور پارلیمنٹ اور آئینی نگران ادارے گارڈین کونسل کے درمیان اختلافات کی صورت میں آخری فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔

ایران کی سیاست میں اہم کردار

تجزیہ کاروں کے مطابق علی لاریجانی کو ایران کے ان رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے جو ریاستی اداروں، پارلیمنٹ اور سکیورٹی ڈھانچے کے درمیان رابطے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے انہیں ایران کی پالیسی سازی کے اہم چہروں میں شامل کیا جاتا ہے۔

 





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

حکومت سندھ، عیدالفطر کی چھٹیوں کا نوٹیفکیشن جاری

Published

on



حکومت سندھ نے عیدالفطر کی چھٹیوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔

چیف سیکرٹری سندھ آصف حیدر شاہ کی جانب سے عیدالفطر کی چھٹیوں کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق صوبائی حکومت کی جانب سے عیدالفطر کی دو چھٹیاں ہوں گی، عید کی چھٹیاں 20 اور 21 مارچ 2026 کو ہوں گی۔

خیال رہے کہ حکومت سندھ پہلے ہی 23 مارچ کو عام تعطیل کا اعلان کرچکی ہے اور اس حوالے سے نوٹیفکیشن بھی جاری کیا جا چکا ہے۔

دوسری جانب وفاقی حکومت نے20 اور 21 مارچ کو عیدالفطر کی دو روزہ چھٹیوں کا اعلان کردیا ہے، 22 مارچ کو اتوار کی معمول کی چھٹی ہوگی اور 23 مارچ کو ملک بھر میں عام تعطیل ہوگی۔

 

 

 



Source link

Continue Reading

Today News

ایران پر حملے کیلیے نیٹو نے تعاون نہیں کیا، امریکا کو بھی انکی ضرورت نہیں رہی؛ ٹرمپ

Published

on


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شکوہ کیا ہے کہ بیشتر نیٹو ممالک نے ایران کے خلاف جنگ میں ہمارے ساتھ تعاون نہیں کیا اور اب ہمیں بھی کسی کی ضرورت نہیں رہی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا نے اتحادی ممالک سے مدد طلب کی تھی تاکہ خلیج میں تجارتی جہازوں کو محفوظ راستہ مل سکے۔

انھوں نے مزید کہا کہ خاص طور پر اُس وقت جب ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکرز اور تجارتی جہازوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

امریکی صدر شکوہ کیا کہ بیشتر نیٹو اتحادی ممالک نے آبنائے ہرمز میں ایران کے خلاف فوجی آپریشن میں شامل ہونے سے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا اپنے اتحادیوں کے تحفظ کے لیے ہر سال اربوں ڈالر خرچ کرتا ہے، لیکن ضرورت کے وقت وہی ممالک امریکا کا ساتھ نہیں دیتے۔ یہ اتحاد اکثر یک طرفہ ثابت ہوتا ہے۔ 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا کہ حالیہ فوجی کامیابیوں کے بعد امریکا کو بھی اب نیٹو یا دیگر اتحادیوں کی مدد کی ضرورت نہیں۔

انھوں نے کہا کہ امریکا دنیا کی سب سے طاقتور ریاست ہے اور اسے کسی ملک کی فوجی مدد درکار نہیں۔

صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ دنیا کے بیشتر ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف جاری کارروائیوں میں امریکی افواج نے ایران کی عسکری صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ایرانی بحریہ تقریباً ختم ہوچکی ہے، فضائیہ کو بھی بھاری نقصان پہنچا، فضائی دفاعی نظام اور ریڈار تباہ ہو چکے ہیں اور کئی اعلیٰ رہنما بھی مارے جا چکے ہیں۔

 

 





Source link

Continue Reading

Today News

فیکٹ چیک: کابل حملے پر افغان اور عالمی میڈیا نے طالبان رجیم کا پاکستان مخالف پروپیگنڈا بے نقاب کردیا

Published

on



عالمی اور افغان میڈیا نے طالبان رجیم کی جانب سے پاکستان کیخلاف گمراہ کن اور من گھڑت پروپیگنڈے کو بے نقاب کردیا۔

عالمی اور افغان میڈیا نے طالبان رجیم کی جانب سے کابل میں اسپتال پر حملے میں 400 افراد کی ہلاکت کے جھوٹے دعوؤں کی قلعی کھول دی۔

میڈیا کے مطابق دہشت گردوں کے ٹھکانوں کی تباہی اور عبرتناک شکست کے بعد افغان طالبان ہزیمت چھپانے کیلئے جھوٹ کا سہارا لے رہے ہیں۔

افغان میڈیا کے مطابق پاک افوج کی جانب سے فضائی حملہ کے دوران ہلاکتوں اور خون کے آثار اور بڑی تباہی کے نشانات نہیں ملےْ

زویہ نیوز، افغان ٹائمز یا کسی اور میڈیا کے ادارے نے بھی اب تک کسی بڑے جانی نقصان کی تصدیق نہیں کی جبکہ طالبان حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ حملہ کابل کے ایک بحالی مرکز پر ہوا، لیکن اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت نہیں ملا۔

افغان میڈیا کے مطابق بحالی مرکز کے قریب لگی آگ معمولی نوعیت کی تھی، جو ممکنہ طور پر قریبی طالبان فوجی کیمپ پر حملے کے باعث لگی۔

افغان میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ کے ادارے برائے افغانستان (یوناما)نے بھی افغان طالبان کے 400افراد کی ہلاکت کے جھوٹے دعوے کی تصدیق نہیں کی جبکہ افغان میڈیا ٹولو کی رپورٹر نے بھی اسپتال میں موجود عینی شاہدین کے ذریعے افغانی پروپیگنڈا کو آشکار کیا ہے۔

عینی شاہد اور افغان میڈیا ٹولو نیوز کے رپورٹر کے مطابق اس وقت کابل سینٹرل اسپتال میں 15 زخمی زیر علاج ہیں۔

عالمی ماہرین کے مطابق طالبان رجیم کے دعوؤں اور زمینی حقائق میں واضح فرق گمراہ کن پروپیگنڈا کا عکاس ہے جبکہ افغان طالبان اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا 400 ہلاکتوں کے جھوٹے دعویٰ میں کوئی صداقت نہیں ہے۔



Source link

Continue Reading

Trending