Connect with us

Today News

کراچی میں ٹریلر سے خوفناک تصادم کے بعد جیپ تباہ، 1 شخص جاں بحق

Published

on



شہر قائد کے علاقے منگھوپیر ناردرن بائی پاس دعا ہوٹل کے قریب ٹریلر اور جیپ کے مابین تصادم کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ ایک شخص زخمی ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق منگھوپیر ناردرن بائی پاس کے قریب دعا ہوٹل کے پاس تیز رفتار ٹرک اور جیپ کے درمیان تصادم ہوا جس میں گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔حادثے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ دوسرا شدید زخمی ہوا، دونوں جیپ میں سوار تھے۔ 

حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے موقع پر پہنچ کر متوفی کی لاش اور زخمیوں کو چھیپا ایمبولینس کے ذریعے عباسی شہید اسپتال منتقل کیا۔

ایس ایچ او منگھوپیر انیس الرحمٰن نے بتایا کہ حادثہ ٹریلر اور جیپ کے درمیان تصادم کے نتیجے میں پیش آیا تھا جبکہ ڈرائیور موقع سے ٹریلر چھوڑ کر فرار ہوگیا جسے پولیس نے قبضے میں لیکر تھانے منتقل کر دیا تاہم اس حوالے سے پولیس مزید معلومات حاصل کر رہی ہے۔

ریسکیو حکام نے بتایا کہ زخمی کی شناخت 30 سالہ شاکر کے نام سے کی گئی جبکہ جیپ میں سوار 2 افراد معجزانہ طور پر محفوظ رہے جو کہ محنت کش اور چھت بھرائی کا کام کرتے تھے۔

 حادثے میں محفوظ تنویر نامی شخص نے بتایا کہ جیپ میں سوار افراد محنت کش اور چھت بھرائی کا کام کرتے ہیں، متوفی کو پٹھان کے نام سے پکارا جاتا تھا جس کا اصل نام معلوم نہیں جبکہ وہ معمار موڑ فقیرا گوٹھ کا رہائشی تھا تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تفتیش اور ڈرائیور کو تلاش کیا جا رہا ہے ۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

خدا کا بندہ خدا سے ملا، اسرائیلی حملے میں علی لاریجانی شہید ہو گئے

Published

on


موجودہ صورتحال میں ایران کی طاقتور سیاسی و سکیورٹی شخصیت علی لاریجانی اسرائیل کے ہونے والے فضائی حملے میں شہید ہو گئے ہیں۔ جبکہ ایران کی اندرونی سیکیورٹی کے اہم کمانڈر اور بسیج فورس کے سربراہ غلام رضا سلیمانی بھی اسرائیل کے حملے میں شہید ہو گئے ہیں۔  

ایرانی میڈیا نے بھی ان کی شہادت کی تصدیق کر دی ہے جبکہ ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری علی ریجانی کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے بھی ایک پوسٹ کی گئی ہے جس میں ان کی شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ، خدا کا بندا خدا سے ملا۔

اسرائیل ڈیفنس فورسز غیر ملکی میڈیا کے مطابق تہران میں ایک خفیہ ٹھکانے پر اسرائیلی فضائیہ کے جنگی طیاروں نے علی لاریجانی کو نشانہ بنایا۔

واضح رہے کہ اسرائیلی حکام نے انہیں ایران کا ڈی فیکٹو لیڈر قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد عملی طور پر قیادت سنبھال چکے تھے، اسرائیل نے ان کی شہادت کو ایرانی حکومت کے خاتمے کے لیے اپنے منصوبے کا اہم حصہ قرار دیا تھا۔

علاوہ ازیں اسرائیل کے ایک اور علیحدہ حملے میں ایران کی بسیج فورس کے سربراہ غلام رضا سلیمانی کو بھی شہید کر دیا گیا، جو اندرونی سکیورٹی کے اہم ترین کمانڈرز میں شمار ہوتے تھے۔





Source link

Continue Reading

Today News

ایران جنگ کب ختم کریں گے؟ ٹرمپ نے بتادیا

Published

on


فروری کے اختتام سے اسرائیل اور امریکا کے ایران پر حملے جاری ہیں جس سے دنیا بھر میں پیٹرول کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنی لگی ہیں اور عالمی قوتیں بھی جنگ کے جلد خاتمے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسی تناظر میں ایک صحافی نے اوول آفس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایران جنگ کے خاتمے سے متعلق سوال کیا۔

جس پر امریکی صدر نے کہا کہ امریکا مستقبل قریب میں امریکی افواج ایران جنگ سے واپس آ جائیں گی لیکن فی الحال ایسا ہونا فوری طور پر ممکن نہیں ہے۔

صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ اگر امریکا ابھی ایران چھوڑ دے تب بھی ایران کو اپنی فوجی صلاحیتیں بحال کرنے میں تقریباً 10 سال لگ سکتے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ لیکن ہم ابھی ایران نکلنے کے لیے تیار نہیں ہیں لیکن بہت جلد ہم وہاں سے نکل جائیں گے۔

امریکی صدر نے ایک بار پھر کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکا کو کئی ممالک کی حمایت حاصل ہے، تاہم نیٹو ممالک کی جانب سے تقریباً کوئی تعاون نہیں ملا۔

صدر ٹرمپ نے برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کو ایک اچھے انسان قرار دیتے ہوئے شکوہ کیا کہ مجھے مایوسی ہوئی ہے کہ برطانیہ نے اب دو طیارہ بردار بحری جہاز بھیجنے کی پیشکش کی جب کہ خطرہ تقریباً ختم ہو چکا ہے۔

 





Source link

Continue Reading

Today News

ایران اور اسرائیل جنگ – ایکسپریس اردو

Published

on


برطانیہ کے درجنوں اراکین پارلیمنٹ اور لارڈز نے اسرائیل کے قیام کی راہ ہموار کرنے پر حکومت برطانیہ سے معافی مانگنے کا مطالبہ کردیا۔

برطانوی وزیر اعظم کیر اسٹارمر کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ 1916ء کے بالفور معاہدے کے نتائج آج سامنے آرہے ہیں اسی معاہدے سے 1948ء میں فلسطینیوں کا قتل عام ہوا ۔

نقبہ یعنی 1948کی عرب اسرائیل جنگ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کی گئی اور اسرائیل وجود میں آیا ۔ خط میں 1917ء تا1948ء فلسطینیوں پر ہوئی تاریخی زیادتیوں کی مذمت کی گئی ہے ۔ خط پر 45سے زائد برطانوی ارکان پارلیمنٹ اور لارڈ ز نے دستخط کیے ہیں۔

ارض فلسطین میں اسرائیل کا قیام ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت برطانوی سامراج نے کیا تھا۔ اسرائیل کا قیام بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے ۔

وہ اس طرح کہ انیسویں صدی کے شروع میں برطانوی سامراج کو یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ سرزمین حجاز ایران اور دیگر عرب علاقوں میں تیل اور کئی نایاب معدنیات کے وسیع ذخائر پائے جاتے ہیں ۔ صنعتی ترقی اور دنیا پر اپنی بالادستی قائم رکھنے کے لیے یہ بلیک گولڈ ناگزیر تھا۔

یہ ہے اعلان بالفور کا تاریخی پس منظر، ان قیمتی قدرتی وسائل کی چوکیداری اور ان کی حفاظت کے لیے اسرائیل کا قیام عمل میں لایا گیا کیونکہ دوسری طرف سوویت یونین بھی نظریاتی طور پر بڑی تیزی سے عرب خطے میں اپنا اثرورسوخ پھیلا رہا تھا۔

ایرانی شہنشاہیت کا خاتمہ امریکا کے لیے ایک ناقابل تلافی سٹرٹیجک تباہی تھی۔ انقلاب کی ابتداء میں ہی ایرانی پارلیمنٹ کو بم سے اُڑا دیا گیا جس میں 73اراکین پارلیمنٹ شہید ہوئے ۔

جس میں صدر، وزیر اعظم ، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس، سائنسدان اور مذہبی اسکالر کو چن چن کر نشانہ بنایا گیا اور یہ حالات اسلامی انقلاب کے ابتدائی تین سالوں کے ہیں ۔ مزید یہ کہ 8سال تک عراق کو ایران پر حملہ آور رکھا اس کے پیچھے امریکا سمیت دنیا کے درجنوں ممالک تھے ۔

شہنشاہ ایران کے خلاف احتجاجی تحریک ابھی ابتدائی مراحل میں تھی کہ مغربی سامراجی میڈیا اور اس کے گماشتوں نے اسے مذہبی شیعہ تحریک کا نام دے دیا تاکہ باقی مسلم دنیا کو اس سے دور رکھا جائے ۔

اسلامی دنیا میں ایران کے خلاف تعصب پھیلانے کے لیے مذہب کا بھر پور استعمال کیا گیا ۔ لیکن اس کا توڑ امام خمینی نے یہ نکالا کہ انھوں نے مولانا مودودی سمیت اسلامی دنیا کے تمام اہم مذہبی رہنماؤں سے تعلق قائم کر لیا۔

پاکستان کا یہ مؤقف دراصل اس اصولی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت پاکستان ہمیشہ علاقائی اور عالمی تنازعات کے حل کے لیے سفارتکاری اور مذاکرات کو ترجیح دیتا رہا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں استحکام پاکستان کے لیے اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ لاکھوں پاکستانی محنت کش اس خطے کے مختلف ممالک میں کام کر رہے ہیں اور پاکستان کی معیشت کے لیے ان کی ترسیلات زر انتہائی اہم ہیں۔

اس کے علاوہ پاکستان کے سعودی عرب، ایران اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی سیاسی، اقتصادی اور دفاعی تعلقات بھی ہیں۔46برس بیت گئے امریکی سامراجی سازشوں حملوں کا سیلاب تھما نہیں بلکہ گذشتہ برس جون میں صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ 12روزہ جنگ میں ایران کی ایٹمی تنصیبات کو مکمل طور پر تباہ کردیا گیا ہے ۔

28فروری کو ایران پر موجودہ حملہ اسی جھوٹ کے ساتھ شروع کیا گیا۔ اصل مقصد رجیم چینج تھا۔ ان کو یقین تھا کہ جیسے ہی امریکا ، اسرائیل ایران پر حملہ کریں گے ایرانی قوم لاکھوں کی تعداد میں امریکا اسرائیل کی حمایت میں نکل آئے گئی جنھیں ایرانی مذہبی قیادت نے غلامی کی زنجیروں میں جکڑ رکھا ہے ۔

لیکن ہوااس کے برعکس۔ دور نہ جائیں ابھی چند دن پیشتر لاکھوں ایرانی شہری پورے ایران خاص طور پر تہران اور اصفہان وغیرہ میں موجودہ مذہبی قیادت کی حمایت میں نکل آئے جس میں بے شمار خواتین بھی شامل تھیں ۔

جب کہ عین اسی وقت امریکی وزیر دفاع یہ دعویٰ کر رہا تھا کہ ایرانی اعلی قیادت زیر زمین چھپ گئی ہے جب کہ ایرانی صدر سمیت تمام اعلی قیادت یوم القدس پر لاکھوں ایرانی عوام کی سڑکوں پر قیادت کر رہی تھی۔

ایران رجیم چینج تو نہ ہو سکی لیکن اس جنگ کے تباہ کن اثرات نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ۔ اب امریکا اسرائیل ہر صورت اس جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں ۔

لیکن ایران کسی صورت جنگ بندی پر آمادہ نہیں مگر اپنی شرائط پر ۔ واشنگٹن پوسٹ نے امریکا کی 18مختلف خفیہ ایجنسیوں کے حوالے سے بتایا کہ انھوں نے ٹرمپ انتظامیہ کو 20فروری کو ہی بتا دیا تھا کہ ایران میں رجیم چینج ناممکن ہے اس کے باوجود ایران پر حملہ کردیاگیا ۔

موجودہ امریکا اسرائیل ایران جنگ بھیانک مرحلے میں داخل ہونے والی ہے 19مارچ اور اس کے بعد ۔ مارچ ، اپریل،مئی انتہائی خطرناک مہینے ہیں جو بہت کچھ تبدیل کرکے گزر جائیں گے ۔

سربراہان مملکت اور حکومتیں سخت خطرے میں ہیں ۔ ٹرمپ اور نیتن یاہو بھی بدترین وقت میں داخل ہوگئے ہیں۔ کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے ۔ اﷲ خیر کرے۔





Source link

Continue Reading

Trending