Today News
مجتبیٰ خامنہ ای اسرائیلی حملے میں کیسے بال بال بچ گئے تھے؛ تفصیلات سامنے آگئیں
برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف نے ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کی شہادت اور ان کے بیٹے کے بال بال بچ جانے کی رپورٹ جاری کردی۔
دی ٹیلی گراف کے مطابق منظر عام پر آنے والی ایک آڈیو ریکارڈنگ سے انکشاف ہوا ہے کہ فروری کے آخر میں تہران میں خامنہ ای خاندان کے رہائشی کمپاؤنڈ پر ہونے والے امریکی اور اسرائیلی میزائل حملوں کا اصل ہدف مجتبیٰ خامنہ ای تھے۔
رپورٹ کے مطابق 28 فروری کو ہونے والے اس حملے سے چند منٹ قبل مجتبیٰ خامنہ ای عمارت سے باہر نکل کر باغیچے کی جانب چلے گئے تھے جس کے باعث وہ میزائل حملے میں بال بال بچ گئے۔
البتہ اسی حملے میں ان کی ٹانگ شدید زخمی ہوگئی تھی جب کہ ان کی اہلیہ، بیٹے اور داماد شہید ہوگئے تھے۔
آڈیو ریکارڈنگ میں کیا انکشاف ہوا؟
یہ آڈیو ریکارڈنگ مبینہ طور پر 12 مارچ میں ہونے والے ایک اجلاس کی ہے جس میں شہید علی خامنہ ای کے دفتر کے شعبہ تشریفات کے سربراہ مظاہر حسینی علما اور پاسداران انقلاب کے کمانڈروں کو شہادت کی تفصیلات بتا رہے تھے۔
آڈیو میں سنا جا سکتا ہے کہ مظاہر حسینی نے واضح طور پر بتایا کہ اس حملے میں مجتبیٰ خامنہ ای کی ٹانگ پر چوٹ آئی جب کہ ان کی اہلیہ، بیٹا اور داماد موقع پر ہی شہید ہوگئے تھے۔
انھوں نے پاسداران انقلاب کے کمانڈرز کو بتایا کہ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے ملٹری آفس کے سربراہ محمد شیرازی اس حملے میں شہید ہوگئے اور ان کے جسم کے کچھ ہی حصے ملے۔
مظاہر حسینی نے بتایا کہ اس حملے میں سپریم لیڈر کے ملٹری آفس کے سربراہ محمد شیرازی کو نشانہ بنانے کا مقصد ایرانی عسکری قیادت میں جانشینی کے عمل کو متاثر کرنا تھا، کیونکہ وہ فوجی قیادت اور سپریم لیڈر کے دفتر کے درمیان ایک اہم رابطہ سمجھے جاتے تھے۔
رپورٹ کے مطابق میزائل حملے انتہائی منظم انداز میں کیے گئے اور کمپاؤنڈ کے اندر متعدد مقامات کو بیک وقت نشانہ بنایا گیا۔ تین میزائل براہ راست سپریم لیڈر کی رہائش گاہ پر گرے۔
مجتبیٰ خامنہ ای کے گھر کے علاوہ ان کے داماد مصباح الہدی باقری کنی کے گھر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ دوسرے بیٹے مصطفیٰ خامنہ ای اور ان کی اہلیہ کے گھر بھی حملے کی زد میں آئے۔
حملے کے وقت علی خامنہ ای کمپاؤنڈ کے اندر اعلیٰ سکیورٹی اور عسکری حکام کے ساتھ اجلاس میں موجود تھے۔ اسی دوران ہونے والے میزائل حملوں میں متعدد اہم شخصیات ہلاک ہو گئیں جن میں ایرانی عسکری قیادت کے اہم عہدیدار بھی شامل تھے۔
رپورٹس کے مطابق نئے سپریم لیڈر کے طور پر منتخب ہونے کے بعد سے مجتبیٰ خامنہ ای عوامی سطح پر نظر نہیں آئے۔ ان کی جانب سے صرف ایک تحریری پیغام جاری کیا گیا جو سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہوا۔
ان کی غیر موجودگی نے ان کی صحت سے متعلق قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے۔ اس حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایک بیان میں کہا تھا کہ ممکن ہے مجتبیٰ خامنہ ای کے زخم تہران کے دعوؤں سے زیادہ سنگین ہوں۔
Today News
امت مسلمہ کے لیے علی لاریجانی کی شہادت بہت بڑا نقصان ہے، جعفریہ الائنس
کراچی:
جعفریہ الائنس کے ترجمان نے ایران کی اہم سیاسی و سکیورٹی شخصیت علی لاریجانی کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے امت مسلمہ سے تعزیت کی ہے۔
ترجمان کے مطابق علی لاریجانی صہیونی طاقتوں کے خلاف ڈٹ کر لڑتے ہوئے شہادت کے عظیم رتبے پر فائز ہوئے۔
ترجمان جعفریہ الائنس کا کہنا تھا کہ علی لاریجانی کی شہادت نہ صرف ایران بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے لیے ایک بڑا نقصان ہے تاہم یہ قربانی انقلابِ اسلامی کو مزید طاقتور بنائے گی اور مزاحمت کے جذبے کو نئی قوت دے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ علی لاریجانی نے اپنی زندگی کے آخری لمحات میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) پر امام حسین کے شہادت سے متعلق قول کو دہرایا جو ان کے عزم اور نظریاتی وابستگی کا واضح ثبوت ہے۔
جعفریہ الائنس کے سیکریٹری اطلاعات احسن مہدی کے مطابق، علی لاریجانی کی شہادت ایک عظیم مثال ہے جو آنے والی نسلوں کو ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کا حوصلہ دے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایسی قربانیاں تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں اور حق و باطل کی جنگ میں سچائی کی فتح کا پیش خیمہ بنتی ہیں۔
Today News
فلسفی سے فیلڈ کمانڈر تک، شہید علی لاریجانی، ایران ایک بڑے دماغ سے محروم ہو گیا
ایران کی طاقتور سیاسی و سکیورٹی شخصیت علی لاریجانی کی شہادت نے نہ صرف تہران بلکہ پورے خطے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری 67 سالہ علی لاریجانی ایک اسرائیلی فضائی حملے میں شہید ہو گئے ہیں، اسی حملے میں ایران کی بسیج فورس کے سربراہ غلام رضا سلیمانی بھی شہید ہوئے۔
علی لاریجانی کو ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ملک کا ڈی فیکٹو لیڈر سمجھا جا رہا تھا۔
وہ نہ صرف ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری تھے بلکہ جنگی حالات میں سیاسی و عسکری حکمت عملی کے مرکزی کردار بھی بن چکے تھے۔
3 جون 1958 کو عراق کے شہر نجف میں پیدا ہونے والے لاریجانی ایک بااثر مذہبی و سیاسی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے والد ایک ممتاز عالم دین تھے جبکہ ان کے بھائی بھی ایران کے اعلیٰ اداروں میں اہم عہدوں پر فائز رہے۔
شہید علی لاریجانی نے نہ صرف سیاست بلکہ تعلیم کے میدان میں بھی نمایاں مقام حاصل کیا، انہوں نے امانوئل کانٹ جیسے مغربی فلسفی پر تحقیق کی اور فلسفے میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
اپنے کیریئر کے آغاز میں انہوں نے پاسداران انقلاب میں خدمات انجام دیں، بعد ازاں وہ وزیر ثقافت، سرکاری ٹی وی کے سربراہ اور پھر طویل عرصے تک ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر رہے۔
2015 کے جوہری معاہدے کی منظوری میں بھی ان کا کلیدی کردار تھا جس سے وہ ایک معتدل اور عملی سیاستدان کے طور پر جانے جاتے تھے۔
تاہم حالیہ جنگی حالات نے ان کے انداز کو مکمل طور پر بدل دیا تھا، ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیل کے خلاف ان کے بیانات انتہائی سخت ہو گئے تھے، اور وہ کھل کر مزاحمت کی قیادت کرتے نظر آئے۔
انہوں نے واضح کیا تھا کہ ایران کسی بھی بیرونی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا اور امریکی افواج کو سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
رپورٹس کے مطابق لاریجانی تہران میں ایک خفیہ مقام پر موجود تھے جب اسرائیلی جنگی طیاروں نے انہیں نشانہ بنایا۔ ان کی شہادت ایران کے لیے ایک بڑا اسٹریٹجک نقصان سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ وہ سیاسی قیادت، عسکری حکمت عملی اور سفارتی رابطوں کے درمیان ایک اہم پل کا کردار ادا کر رہے تھے۔
Today News
جنگ سے کب کسی کا فائدہ ہوا ہے؟
انسانی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو ایک تلخ حقیقت بار بار سامنے آتی ہے اور وہ ہے جنگ۔ تہذیبوں کے آغاز سے لے کر آج کے جدید دور تک انسان نے ترقی بھی کی اور تباہی کے طریقے بھی ایجاد کیے۔
بظاہر جنگیں مختلف وجوہ کی بنا پر لڑی جاتی ہیں،کبھی سرحدی تنازعات،کبھی نظریاتی اختلافات کبھی مذہب اورکبھی قومی مفادات کے نام پر۔ مگر جب ان جنگوں کا گہرائی سے تجزیہ کیا جائے تو ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے جنگ واقعی کیوں کرائی جاتی ہے اور آخر اس سے فائدہ کس کو ہوتا ہے؟
سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جنگ عموماً عوام کی خواہش نہیں ہوتی۔ عام انسان امن، روزگار، تعلیم اور بہتر زندگی چاہتا ہے۔ جنگ کا فیصلہ زیادہ تر ریاستی قیادت طاقتور حلقوں یا عالمی طاقتوں کے مفادات کے تحت ہوتا ہے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ جنگوں کے پسِ پردہ اکثر معاشی سیاسی اور جغرافیائی مفادات ہوتے ہیں جنہیں عوام کے سامنے کسی اور شکل میں پیش کیا جاتا ہے۔
جنگ کی ایک بڑی وجہ وسائل پر قبضہ ہے۔ دنیا کے کئی خطوں میں تیل، گیس، معدنیات اور دیگر قدرتی وسائل موجود ہیں۔ طاقتور ممالک یا گروہ ان وسائل تک رسائی حاصل کرنے کے لیے براہِ راست یا بالواسطہ جنگوں کو ہوا دیتے ہیں۔
جب کسی خطے میں وسائل کی اہمیت بڑھتی ہے تو وہاں سیاسی عدم استحکام پیدا ہو جاتا ہے اور اکثر یہی عدم استحکام جنگ کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔
اس طرح وسائل پرکنٹرول حاصل کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا جاتا ہے۔ دوسری اہم وجہ سیاسی طاقت اور اثر و رسوخ ہے۔ عالمی سیاست میں ہر بڑی طاقت اپنی برتری قائم رکھنا چاہتی ہے۔
اس مقصد کے لیے وہ اپنے اتحادیوں کو مضبوط کرتی ہے اور مخالف قوتوں کو کمزور کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
بعض اوقات یہ کشمکش براہِ راست جنگ میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ سرد جنگ کے دور میں دنیا نے دیکھا کہ کس طرح بڑی طاقتیں مختلف خطوں میں پراکسی جنگوں کے ذریعے اپنا اثر و رسوخ بڑھاتی رہیں۔
جنگ کی ایک اور وجہ قوم پرستی اور جذباتی بیانیہ بھی ہوتا ہے۔ بعض اوقات حکومتیں عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے قوم پرستی کو ابھارتی ہیں۔
میڈیا اور سیاسی بیانات کے ذریعے ایسا ماحول بنایا جاتا ہے کہ دشمن کے خلاف جنگ کو قومی فریضہ قرار دے دیا جاتا ہے۔ اس طرح عوام جذباتی طور پر جنگ کی حمایت کرنے لگتے ہیں حالانکہ اصل فیصلے کہیں اور کیے جا رہے ہوتے ہیں۔
اگر یہ دیکھا جائے کہ جنگ سے فائدہ کس کو ہوتا ہے تو اس کا جواب زیادہ پیچیدہ نہیں ہے۔ جنگ سے سب سے زیادہ فائدہ اسلحہ بنانے والی صنعتوں کو ہوتا ہے۔ دنیا میں اسلحے کی صنعت ایک بہت بڑی معیشت بن چکی ہے۔
جب کہیں جنگ یا کشیدگی بڑھتی ہے تو ہتھیاروں کی طلب بھی بڑھ جاتی ہے۔ نتیجتاً اس صنعت سے وابستہ کمپنیاں اور طاقتور معاشی حلقے اربوں ڈالر کماتے ہیں۔اس کے علاوہ بعض سیاسی قیادتیں بھی جنگ سے فائدہ اٹھاتی ہیں۔
جب کسی ملک میں اندرونی مسائل بڑھ جاتے ہیں جیسے معاشی بحران سیاسی عدم استحکام یا عوامی ناراضگی تو بعض حکومتیں بیرونی دشمن کا بیانیہ بنا کر عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹا دیتی ہیں۔ اس حکمت عملی کو تاریخ میں کئی بار استعمال کیا گیا ہے۔ جنگی فضا پیدا ہونے سے حکومت کو وقتی طور پر عوامی حمایت بھی مل جاتی ہے۔
جنگ کا ایک فائدہ جغرافیائی اور اسٹرٹیجک کنٹرول کی صورت میں بھی سامنے آتا ہے، اگر کوئی طاقتور ملک کسی اہم خطے پر کنٹرول حاصل کر لے تو اسے عالمی سیاست میں زیادہ طاقت مل جاتی ہے۔
سمندری راستوں معدنی وسائل یا اہم تجارتی گزرگاہوں پر قبضہ عالمی طاقتوں کے لیے بہت اہم ہوتا ہے۔ اس لیے بعض جنگیں دراصل ان علاقوں کے کنٹرول کے لیے لڑی جاتی ہیں۔تاہم جنگ کے نقصانات ہمیشہ عام انسان کو برداشت کرنے پڑتے ہیں۔
جنگ کے میدان میں جان دینے والے زیادہ تر عام سپاہی ہوتے ہیں جو اکثر غریب یا متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔
ان کے خاندان جنگ کے بعد بھی صدمے اور مشکلات کا شکار رہتے ہیں۔ شہروں کی تباہی معیشت کی بربادی مہاجرین کا بحران اور سماجی انتشار جنگ کے وہ اثرات ہیں جو نسلوں تک باقی رہتے ہیں۔
جنگ کا سب سے بڑا نقصان انسانی جانوں کا ضیاع ہے۔ ہر جنگ ہزاروں بلکہ لاکھوں انسانوں کی جان لے لیتی ہے۔
اس کے علاوہ تعلیم، صحت اور ترقی کے وسائل بھی جنگی اخراجات میں صرف ہو جاتے ہیں، اگر یہی وسائل عوامی فلاح و بہبود پر خرچ کیے جائیں تو دنیا کہیں زیادہ پرامن اور خوشحال ہو سکتی ہے۔
جنگیں صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتیں بلکہ سماج کی نفسیات پر بھی گہرے اثرات چھوڑتی ہیں۔ نفرت، عدم برداشت اور خوف کا ماحول پیدا ہو جاتا ہے۔
بچے اور نوجوان ایسے ماحول میں پروان چڑھتے ہیں جہاں تشدد کو معمول سمجھا جانے لگتا ہے۔ اس طرح جنگ کے اثرات صرف موجودہ نسل ہی نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی متاثر کرتے ہیں۔
آج کے دور میں جب دنیا سائنسی ترقی اور عالمی رابطوں کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جنگ کی ضرورت اور بھی کم ہو جانی چاہیے۔ مگر بدقسمتی سے طاقت مفادات اور سیاست کا کھیل اب بھی جاری ہے۔
اس لیے ضروری ہے کہ عالمی برادری تنازعات کے حل کے لیے سفارت کاری مکالمہ اور تعاون کو ترجیح دے۔حقیقت یہ ہے کہ جنگ کبھی بھی مستقل حل فراہم نہیں کرتی۔
جنگ عارضی طور پر کسی مسئلے کو دبا سکتی ہے مگر اس کے نتیجے میں نئے مسائل جنم لے لیتے ہیں۔ پائیدار امن صرف انصاف برابری اور باہمی احترام کے اصولوں پر ہی قائم ہو سکتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ جنگ کا اصل فائدہ چند طاقتور حلقوں کو ہوتا ہے جب کہ اس کی قیمت عام انسان ادا کرتا ہے۔
اس لیے انسانیت کی بقا اسی میں ہے کہ ہم جنگ کے بجائے امن کو ترجیح دیں اور اختلافات کو مکالمے اور سمجھداری سے حل کرنے کی کوشش کریں، کیونکہ ایک پرامن دنیا ہی وہ خواب ہے جس میں انسان اپنی اصل صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔
-
Magazines2 weeks ago
Story Time: Culinary Disasters – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Bangladesh recall Litton, Afif for Pakistan ODI series – Sport
-
Business2 weeks ago
Privatisation Commission board recommends Fauji Fertiliser’s inclusion in consortium that won PIA auction – Pakistan
-
Sports2 weeks ago
Haris among 14 Pakistanis on The Hundred final list – Sport
-
Entertainment2 weeks ago
Fans React to Nadia Khan’s Wrinkles in Filter-Free Video
-
Today News2 weeks ago
prime minister contact Lebanon counterpart solidarity against israeli aggression
-
Entertainment2 weeks ago
Muneeb Butt Reveals Reason Of Blessings in His Income
-
Business2 weeks ago
Global markets turmoil intensifies on Iran war – Business