Today News
حکمت اور دانائی – ایکسپریس اردو
بلاشبہ حکمت اور دانائی کسی انسان سے نہیں قرآن سے ملتی ہے۔ خالق نے کتابِ حق کو سراسر ہدایت اور حکمت قرار دیا ہے۔ میرے سامنے سورہ آلِ عمران کی آیات ہیں جس میں فرمایا گیا ہے ’’درحقیقت اہلِ ایمان پر اﷲ نے یہ بہت بڑا احسان کیا ہے کہ ان کے درمیان خود انھی میں سے ایک ایسا پیغمبر اٹھایا ہے جو اس کی آیات انہیں سناتا ہے، ان کی زندگیوں کو سنوارتا ہے اور ان کو کتاب اور حکمت ودانائی کی تعلیم دیتا ہے، حالانکہ اس سے پہلے یہی لوگ صریح گمراہیوں میں پڑے ہوئے تھے‘‘۔
دورِ حاضر کی سامراجی طاقتوں کے سامنے جس طرح ایران کے راہبر سیّد علی خامینائی اور ان کے ساتھی سینہ تان کر کھڑے رہے اور دنیا کی سپر پاور کے مہلک ترین بموں اور میزائلوں کے خوف سے ان کے پائے استقامت میں ذرا سی بھی لرزش پیدا نہ ہوئی۔
لگتا ہے سورہ آل عمران کی آیات خالق نے اپنے ایسے ہی جانثار مجاہدوں کے بارے میں اتاری ہیں۔ فرمایا ’’اور وہ جن سے لوگوں نے کہا کہ تمہارے خلاف بڑی فوجیں جمع ہوئی ہیں، ان سے ڈرو، تو یہ سن کر ان کا ایمان اور بڑھ گیا اور انھوں نے جواب دیا کہ ہمارے لیے اﷲ کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے۔‘‘
پھر آگے چل کر فرمایا، ’’(اے پیغمبر) جو لوگ آج کفر کی راہ میں بڑی دوڑ دھوپ کر رہے ہیں، ان کی سرگرمیاں تمہیں آزردہ نہ کریں، یہ اﷲ کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکیں گے۔۔۔۔ جو لوگ ایمان کو چھوڑ کر کفر کے خریدار بنے ہیں، وہ یقیناً اﷲ کا کوئی نقصان نہیں کررہے، ان کے لیے درد ناک عذاب تیار ہے۔
یہ ڈھیل جو ہم انہیں دیئے جاتے ہیں، اس کو یہ کافر اپنے حق میں بہتری نہ سمجھیں، ہم تو انہیں اس لیے ڈھیل دے رہے ہیں کہ یہ خوب بارِ گناہ سمیٹ لیں، پھر ان کے لیے سخت ذلیل کرنے والی سزا ہے۔‘‘
کتابِ حکمت نے دنیا کی دلکش زندگی کو متاعُ الغرور (ظاہر فریب چیز) قرار دیا ہے۔ فرمایا ’’اے محمدؐ! اگر یہ لوگ تمہیں جھٹلاتے ہیں تو بہت سے رسول تم سے پہلے بھی جھٹلائے جاچکے ہیں جو کھلی کھلی نشانیاں اور صحیفے اور روشنی بخشنے والی کتابیں لائے تھے۔
آخر کار ہر شخص کو مرنا ہے اور تم سب اپنے اپنے پورے اجر قیامت کے روز پانے والے ہو۔ کامیاب دراصل وہ ہے جو وہاں آتشِ دوزخ سے بچ جائے اور جنّت میں داخل کردیا جائے۔ رہی یہ دنیا، تو یہ محض ایک ظاہر فریب چیز ہے۔‘‘
مفسّرین ان آیات کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس دنیا کی زندگی میں جو نتائج رونما ہوتے ہیں، انھی کو اگر کوئی شخص اصلی اور آخری نتائج سمجھ بیٹھے اور انھی پر حق اور باطل اور نفع اور نقصان کے فیصلے کا مدار رکھے تو وہ سخت دھوکے میں مبتلا ہوجائے گا۔
دنیا میں کسی کو دولت، عزت اور شہرت کی صورت میں نعمتیں ملنا اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ وہی حق پر بھی ہے اور اسی کو خالقِ کائنات کا قرب حاصل ہے اور ربِّ کائنات اس سے راضی ہے۔
اسی طرح یہاں کسی کا مصائب و مشکلات میں مبتلا ہونا بھی لازمی طور پر یہ معنی نہیں رکھتا کہ وہ باطل پر ہے اور خالق ومالکِ کائنات اسے ناپسند کرتے ہیں یا اس سے ناراض ہیں۔ کسی کے دنیاوی حالات سے نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا۔
اصل نتائج وہی ہوں گے جو حیاتِ ابدی کے مرحلے میں پیش آنے والے ہیں’’ کتابِ حکمت کے مصنّف نے انسانوں کو بار بار کہا ہے کہ تمہیں عقل اور شعور اسی لیے دیا گیا ہے کہ اسے استعمال کرو اور اپنے آس پاس پھیلی ہوئی خالقِ کائنات کی حیرت انگیز تخلیقات پر غور کرو تاکہ تم اﷲ کو پہچان سکو۔‘‘
اسی سورہ میں فرمایا گیا ہے ’’ زمین اور آسمان کی پیدائش میں اور رات اور دن کے بارے میں آنے میں ان ہوش مند لوگوں کے لیے بہت نشانیاں ہیں جو اٹھتے بیٹھتے اور لیٹتے، ہر حال میں خدا کو یاد کرتے ہیں اور آسمان وزمین کی ساخت میں غور وفکر کرتے ہیں۔
انہیں دیکھ کر وہ بے اختیار بول اٹھتے ہیں ’’پروردگار! یہ سب کچھ تو نے فضول اور بے مقصد نہیں بنایا‘‘ یعنی جب وہ نطامِ کائنات کا بغور مشاہدہ کرتے ہیں تو یہ حقیقت ان پر عیاں ہوجاتی ہے کہ یہ سراسر ایک حکیمانہ نظام ہے اور یہ بات سراسر حکمت کے خلاف ہے کہ جس مخلوق میں اﷲ نے اخلاقی حِس پیدا کی ہو، جسے تصوّف کے اختیارات دیئے ہوں، جسے عقل وتمیز عطا کی ہو، اس سے اس کی دنیاوی زندگی کے اعمال اور افعال کا حساب نہ لیا جائے اور بازپرس نہ کی جائے۔
عدل اور انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ ہر انسان کو اس کے اچھے کام کی جزا اور برے کام کی سزا ضرور ملے۔ دنیا میں تو ایسا ممکن نہیں ہے، نہ ہی یہاں مکمّل انصاف کرنا کسی بڑے سے بڑے شہنشاہ کے بس میں ہے۔
فرض کریں کہ دنیا میں ایک شخص نے سو آدمیوں کو ہلاک کردیا ہے اور ایک دوسرے شخص نے جان پر کھیل کر کسی ٹرین کو حادثے سے بچالیا ہے اور سیکڑوں انسانوں کی جانیں بچالی ہیں، کیا دنیا میں ان دونوں کو عدل کے مطابق سزا اور جزا دی جاسکتی ہے۔
نہیں ایسا ممکن نہیں ہے۔ لہٰذا پوری انسانیت اس بات کا تقاضا کرتی ہے اور ربِّ کائنات کی شانِ عدل کا تقاضا بھی یہی ہے کہ کوئی ایسی عدالت لگے، کوئی ایسا دن آئے کہ جب ہر ظالم کو اس کے کیے کی سزا ملے اور ہر متقی اور پاکیزہ کردار انسان کو اس کی نیکیوں کے مطابق جزا ملے۔
اسی تقاضے کا جواب ہے روزِ محشر یا روزِ حساب۔ جب ربِّ ذوالجلال کی عدالت لگے گی اور اب تک پیدا ہونے والے تمام انسانوں کو دوبارہ زندہ کرکے حاضر کیا جائے گا اور ان کے اعمال کے مطابق جزا اور سزا دے دی جائے گی اور سزا بھی ایسی ہوگی جس کے احوال سن کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔
تاریخ میں جھوٹے نبی اور خدائی کا دعویٰ کرنے والے بھی گزرے ہیں مگر کبھی کوئی بڑے سے بڑا متکّبر شہنشاہ اور خدائی کا دعویٰ کرنے والا طاقتور حکمران بھی یہ دعویٰ کرنے کی جرات نہیں کرسکا کہ ’’میں تمام مردہ انسانوں کو ایک روز زندہ کروں گا، ان سب کا حساب ہوگا اور انہیں ان کے اعمال کے مطابق سزا اور جزا دی جائے گی‘‘۔ یہ دعویٰ صرف سچّے خدا نے ہی کیا ہے، اور یہ دعویٰ بھی اس کے سچّا ہونے کی بہت بڑی دلیل ہے۔
پھر اللہ کی نشانیوں پر غور وفکر کرنے والوں کے بارے میں فرمایا گیا ’’وہ بول اٹھتے ہیں کہ کوئی بے مقصد کام کرے۔ پس اے رب ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچالے، تو نے جسے دوزخ میں ڈال دیا، اسے درحقیقت بڑی ذلّت اور رسوائی میں ڈال دیا۔
پس اے ہمارے آقا! جو قصور ہم سے ہوئے ہیں، ان سے درگذر فرما، جو برائیاں ہم میں ہیں، انہیں دور کردے اور ہمارا خاتمہ نیک لوگوں کے ساتھ کر۔ یاالہٰی جو وعدے تو نے اپنے رسولوں کے ذریعے سے کیے ہیں، ان کو ہمارے ساتھ پورا کر اور قیامت کے دن ہمیں رسوائی میں نہ ڈال۔
بیشک تو اپنے وعدے کے خلاف کرنے والا نہیں ہے۔ جواب میں ان کے رب نے فرمایا ’’میں تم میں سے کسی کا عمل ضایع کرنے والا نہیں ہوں، خواہ مرد ہو یا عورت، تم سب ایک دوسرے کے ہم جنس ہو‘‘۔
آگے چل کر فرمایا ’’اے نبیؐ دنیا کے ملکوں میں خدا کے نافرمان لوگوں کی چلت پھرت تمہیں کسی دھوکے میں نہ ڈالے، یہ محض چند روزہ زندگی کا تھوڑا سا لطف ہے۔ پھر یہ سب جہنّم میں ڈالے جائیں گے جو بدترین جائے قرار ہے‘‘۔
اِس وقت مختلف بلاکوں میں بٹے ہوئے اور مسلمانوں کے مشترکہ دشمن کے ہاتھوں استعمال ہونے والے مسلم حکمرانوں کو راہِ راست پر لانے اور اتفاق اور اتحاد قائم کرنے کے لیے ان آیاتِ الہٰی سے بڑھ کر اور کیا چیز relevant ہوسکتی ہے۔ خالقِ کائنات سورہ آلِ عمران میں ہی فرماتے ہیں،
’’اور سب مل کر اللہ کی (ہدایت کی) رسی کو مضبوطی سے پکڑے رہنا اور فرقے فرقے نہ ہوجانا اور اپنے اوپر اللہ کی اس مہربانی کو یاد رکھنا جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی اور تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی ہوگئے اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے تک پہنچ چکے تھے تو اس نے تم کو بچالیا، اس طرح اللہ نے تم کو اپنی آیتیں کھول کھول کر سناتا ہے تاکہ تم راہِ راست پر رہو‘‘۔
شاعرِ مشرق یاد آتے ہیں جو آخر دم تک مسلمانوں کو یہی تلقین کرتے رہے کہ
بتانِ رنگ وبو کو توڑ کر ملّت میں گم ہوجا
نہ تو رانی رہے باقی نہ ایرانی نہ افغانی
اور
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر
اگلی نشست میں حکمت اور دانائی کی کچھ مزید باتیں شیئر کی جائیں گی۔
Today News
سربیا میں 3000 سال قدیم اجتماعی قبر دریافت
ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے سربیا میں ایک اجتماعی قبر دریافت کی ہے جس میں درجنوں افراد کی باقیات پائی گئیں۔ یہ باقیات ’قدیم قتل و غارت‘ کے شواہد فراہم کرتی ہیں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اجتماعی قبر میں پائی جانے والی لاشیں ان افراد کی ہیں جو قریب 3000 ہزار برس قبل گاؤں پر ہونے والے حملے سے بچنے کے لیے بھاگے تھے۔
محققین کی ٹیم نے یہ خوفناک دریافت سربیا میں گومالوا نامی علاے کا دوبارہ جائزہ لینے بعد کی۔ اس کے علاوہ ماہرین کو بلی چڑھائے گئے جانوروں کی باقیات بھی ملیں۔
آسٹرین آرکیالوجی انسٹیٹیوٹ کے ایک ماہر ماریو گیورینووچ (جو اس تحقیق میں شامل نہیں تھے) نے سائنس جرنل کو بتایا کہ یہ حیران کن دریافت ہے۔
یہ قبر سب سے پہلے 70 کی دہائی کی ابتداء میں دریافت کی گئی تھی جس کے متعلق محققین نے بتایا تھا کہ اس میں خواتین اور بچوں کی لاشیں تھیں جن کو 800 قبلِ مسیح کے قریب مارا گیا تھا۔
جبکہ جرنل نیچر ہومن بیہیویئر میں شائع ہونے والے مقالے میں، یونیورسٹی کالج ڈبلن سے تعلق رکھنے والے تحقیق کے شریک مصنف ایسوسی ایٹ پروفیسر بیری مولائے کا کہنا تھا کہ ٹیم کو ایک ایسے گاؤں کی توقع تھی جو کسی بیماری کے سبب ختم ہو گیا ہو۔
تاہم، ان کا کہنا تھا کہ شواہد بتاتے ہیں کہ یہ ایک قدیم قتلِ عام تھا۔
Source link
Today News
امارات کا آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی کیلیے امریکی کاوشوں میں شامل ہونے پر غور
متحدہ عرب امارات نے صدر ٹرمپ کی اپیل پر آبنائے ہرمز کی حفاظت کے لیے امریکی قیادت میں ہونے والی عالمی اقدام میں شامل ہونے کا عندیہ دیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ بیان متحدہ عرب امارات کے صدر کے سفارتی مشیر انور قرقاش نے ایک آن لائن تقریب کے دوران دیا جو امریکی تھنک ٹینک کونسل آن فارن ریلیشنز کی جانب سے منعقد کی گئی تھی۔
آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انور قرقاش نے کہا کہ خلیج میں بڑھتی کشیدگی اور جہاز رانی کو لاحق خطرات کے باعث آبنائے ہرمز کی سکیورٹی عالمی سطح پر اہم مسئلہ بن چکی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر امریکا کی قیادت میں کسی بین الاقوامی بحری اقدام کا آغاز کیا جاتا ہے تو متحدہ عرب امارات اس میں شمولیت پر غور کر سکتا ہے۔
انور قرقاش نے مزید بتایا کہ کسی بھی سطح پر اس وقت متحدہ عرب امارات اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات نہیں ہو رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ موجودہ کشیدگی کے دوران خطے میں استحکام برقرار رکھنا اور عالمی تجارت کو متاثر ہونے سے بچانا ضروری ہے۔
خیال رہے کہ دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہ جہاں سے عالمی تیل منڈیوں تک پہنچایا جاتا ہے۔خلیج کے بیشتر تیل برآمد کرنے والے ممالک اسی بحری راستے پر انحصار کرتے ہیں۔
ایران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں آبنائے ہرمز کو بند کیا ہوا ہے اور یہاں سے گزرنے والے غیرملکی تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
جس پر صدر ٹرمپ نے نیٹو ممالک سے اپیل کی تھی کہ آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی کے لیے اپنے بحری جہاز بھیجیں تاکہ ایران کیخلاف امریکی جنگ میں کام آئیں تاہم کسی ملک نے آمادگی ظاہر نہیں کی۔
Today News
پٹرولیم مصنوعات کا بڑھتا قومی بوجھ
پٹرولیم مصنوعات کی مہنگی قیمتوں کے بوجھ تلے عوام پر وفاقی حکومت نے یہ مہربانی کی اور عالمی منڈی میں اضافے کے باوجود پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مزید نہ بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔
دوسری جانب حکومت کے مخالف سیاسی حلقے حکومت کی مسلسل مذمت کرتے آ رہے ہیں کہ پاکستانی حکومت نے ملک میں پٹرولیم مصنوعات کے فاضل ذخیرے کی موجودگی کے دعوے کیے تھے اور اس پر پہلے دس روپے پھر 55 روپے لیٹر اضافہ ناجائز طور کیا۔
کیونکہ پرانے نرخوں پر موجود پٹرولیم مصنوعات کی اچانک قیمتوں میں اضافے کا کوئی جواز نہیں تھا اور اضافے کا جواز پرانے مال پر نہیں بلکہ مہنگے مال کے منگوانے پر بنتا ہے اور حکومت نے لیوی میں بھی 20 روپے اضافہ کر کے خود اپنی آمدنی بڑھائی ہے جب کہ پڑوسی ملک بھارت نے قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا جہاں کھپت پاکستان سے کہیں زیادہ مگر پٹرولیم مصنوعات سستی ہیں۔
ملک میں سرکاری گاڑیوں کی تعداد ضرورت سے بہت زیادہ اور مہنگی گاڑیاں بھی سرکاری محکموں میں ضرورت سے زیادہ ہیں اور وفاقی اور صوبائی تمام حکومتیں ہر محکمے میں نہ صرف غیر ضروری گاڑیاں فراہم کرتی آئی ہیں بلکہ سیاسی حکومتیں اپنے مفاد کے لیے بیورو کریسی کو مہنگی گاڑیاں خرید کر نواز چکی ہیں جن پر سرکاری پٹرول بے انتہا استعمال ہوتا آ رہا ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق اسلام آباد کے وفاقی محکموں کے پاس جتنی سرکاری گاڑیاں ہیں ، یورپ کے کئی چھوٹے ملک ایسی ہوں گے، جن کے پورے ملک میں اتنی بڑی تعداد میں سرکاری گاڑیاں نہیں ہوں گی حالانکہ پاکستان ایک غریب اور مقروض ملک ہے ۔
سیلانی ٹرسٹ کے بانی و چیئرمین مولانا محمد بشیر فاروق قادری نے حکومت وقت کا شکریہ ادا کیا ہے اور متوقع توانائی بحران پر قابو پانے کے لیے زیادہ تعداد میں گاڑیاں رکھنے والے گھرانوں کے لیے پٹرول کوٹہ نافذ کرنے اورکار سواروں پر دفتری اوقات میں اکیلے سفر پر پابندی کی تجویز دی ہے۔
انھوں نے وزیر اعظم شہباز شریف کو مشورہ دیا ہے کہ وہ وزرا اور ماہرین معاشیات کے ساتھ بیٹھ کر ان کی تجاویز کا جائزہ لیں اور پاکستان کو مزید مقروض ہونے سے بچائیں۔
انھوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ نہ کرنے کا وزیر اعظم کا فیصلہ ان حالات میں بہتر قدم ہے کیونکہ 55 روپے لیٹر حالیہ اضافے نے پہلے ہی غریب عوام کی کمر توڑ دی ہے اور مہنگا پٹرول اسی تناسب سے غریب عوام پر ڈال دیا گیا ہے ۔
حکومت اشرافیہ کے لیے پٹرول کا کوٹہ مقرر کرے خواہ وہ سرکاری افسران ہوں یا تاجر و صنعت کار خاص طور پر زیادہ تعداد میں گاڑیاں رکھنے والوں کے پٹرول کوٹے کو محدود کیا جائے اور سرکاری محکموں میں دستیاب ڈیٹا کی مدد سے ملک میں کوٹہ سسٹم بنایا اور فوری نافذ کیا جائے۔
ملک کے ایک بڑے فلاحی ادارے سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ جو عالمی سطح پر خدمات انجام دے رہا ہے کہ چیئرمین مولانا بشیر فاروق قادری نے جو مشورہ دیا ہے وہ ایک بہترین اور بروقت مشورہ ہے۔
مگر یقین ہے کہ حکومت اس پر عمل کرے گی اور نہ وزیروں کی فوج اور سرکاری ماہرین معیشت ان تجاویز کی حمایت کریں گے کیونکہ مولانا کی تجویز سے حکومت، وزیر مشیر اور اعلیٰ سرکاری افسران خود متاثر ہوں گے اور یہ سب کبھی نہیں چاہیں گے کہ انھیں ملنے والے سرکاری مفادات متاثر ہوں۔
بلکہ وہ تو یہ چاہیں گے کہ ان کی سرکاری مراعات میں اضافہ ہو اور عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کے مزید اضافے کا بوجھ صرف عوام پر ڈالا جائے جو پٹرولیم مصنوعات، بجلی و گیس کے سرکاری بوجھ کو برداشت کرنے کے عادی ہو چکے ہیں اور وہ حکومت کا ہر فیصلہ مانیں گے۔
حکومت اور اس کے سیاسی و سرکاری حکام جانتے ہیں کہ غریب عوام مہنگائی کا بوجھ مجبوری میں برداشت کر رہے ہیں کیونکہ ان کے پاس سرکاری احکامات ماننے کے سوا کوئی اور راستہ نہیں ہے اور وہ عشروں سے نام نہاد جمہوری حکومتوں کے فیصلے تسلیم کرتے آ رہے ہیں اور یہ وہی سویلین حکومتیں ہیں جن کے لیے کہا جاتا ہے کہ یہ عوام نے خود منتخب کی ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہے۔
پاکستان میں سرکاری گاڑیوں کی تعداد زیادہ ہے جن پر روزانہ لاکھوں لیٹر پٹرول استعمال ہوتا ہے اور بڑی تعداد میں پٹرول غیر سرکاری طور پر ضایع کیا جا رہا ہے۔
سرکاری گاڑیاں وزیر و مشیر اور سرکاری افسران ہی نہیں بلکہ ان کے اہل خانہ، دوست اور بچے تک استعمال کرتے ہیں مگر انھیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ سرکاری پٹرول کی پرچیاں رشوت کے طور پر بھی دی جاتی ہیں جب کہ سرکاری گاڑیوں کا غیر قانونی استعمال عام ہے۔
حکومتی ذمے دار اور سرکاری افسران سرکاری گاڑیوں اور سرکاری پٹرول پر عیاشی اور غیر سرکاری استعمال کرتے ہیں جس کا بوجھ ملک کے عوام قومی بوجھ سمجھ کر برداشت کر رہے ہیں اور حکومتوں نے پٹرولیم مصنوعات کو بجلی و گیس کی طرح اپنی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ بنا رکھا ہے۔
وزیر اعظم نے کٹوتیوں کا جو فیصلہ کیا ہے وہ دو ماہ کے لیے ہے جب کہ سب سے زیادہ ضرورت سرکاری گاڑیوں کی تعداد کم کرنے اور سرکاری پٹرول بچانے کی ہے جس پر عمل سے ہی عوام پر پڑتا ہوا بوجھ کم ہو سکتا ہے۔
-
Magazines2 weeks ago
Story Time: Culinary Disasters – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Bangladesh recall Litton, Afif for Pakistan ODI series – Sport
-
Business2 weeks ago
Privatisation Commission board recommends Fauji Fertiliser’s inclusion in consortium that won PIA auction – Pakistan
-
Entertainment2 weeks ago
Fans React to Nadia Khan’s Wrinkles in Filter-Free Video
-
Sports2 weeks ago
Haris among 14 Pakistanis on The Hundred final list – Sport
-
Today News2 weeks ago
prime minister contact Lebanon counterpart solidarity against israeli aggression
-
Entertainment2 weeks ago
Muneeb Butt Reveals Reason Of Blessings in His Income
-
Business2 weeks ago
Global markets turmoil intensifies on Iran war – Business