Connect with us

Today News

بند ہوتی گزرگاہیں اور دنیا کو درپیش نیا خطرہ

Published

on


عالمی سیاست کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ طاقت کے بے جا استعمال اور یکطرفہ فیصلوں نے ہمیشہ دنیا کو عدم استحکام کی طرف دھکیلا ہے۔ حالیہ صورتحال بھی اسی تسلسل کی ایک کڑی ہے جہاں امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف کارروائی نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کو ایک نئے بحران کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔

یہ محض دو یا تین ممالک کے درمیان کشیدگی نہیں بلکہ ایک ایسا پیچیدہ تنازع ہے جس کے اثرات عالمی معیشت، بین الاقوامی اتحادوں، توانائی کی فراہمی اور عالمی امن پر براہِ راست مرتب ہو رہے ہیں۔

امریکا کی جانب سے اسرائیل کی حمایت میں ایران کے خلاف کارروائی کا آغاز دراصل ایک بڑی اسٹرٹیجک غلطی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بظاہر یہ اقدام اپنے اتحادی کے دفاع کے لیے کیا گیا، مگر اس کے نتائج توقعات کے برعکس نکلے۔

ایران نے براہِ راست عسکری تصادم کے بجائے ایک ایسی حکمت عملی اپنائی جس نے عالمی نظام کو ہلا کر رکھ دیا اور وہ ہے آبنائے ہرمز کی بندش۔ یہ گزرگاہ دنیا کی توانائی سپلائی لائن کی شہ رگ سمجھی جاتی ہے، جہاں سے یومیہ لاکھوں بیرل تیل عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔

آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی معیشت کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس نے نہ صرف صنعتی ممالک بلکہ ترقی پذیر معیشتوں کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔

توانائی کی قیمتوں میں اضافہ براہِ راست پیداواری لاگت میں اضافے کا باعث بنتا ہے، جس کا نتیجہ مہنگائی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ دنیا بھر میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، سپلائی چین متاثر ہو رہی ہیں اور اقتصادی ترقی کی رفتار سست پڑ رہی ہے۔

ترقی پذیر ممالک کے لیے یہ صورتحال خاص طور پر تباہ کن ہے۔ ایسے ممالک جو پہلے ہی قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، ان کے لیے مہنگی توانائی درآمد کرنا مزید مشکل ہو گیا ہے۔

ان ممالک میں کرنسی کی قدر میں کمی، تجارتی خسارے میں اضافہ اور مالیاتی عدم استحکام جیسے مسائل شدت اختیار کر رہے ہیں۔ غریب طبقات کے لیے زندگی مزید دشوار ہو چکی ہے، جہاں بنیادی ضروریات کا حصول بھی ایک چیلنج بنتا جا رہا ہے۔

پاکستان جیسے ممالک اس بحران سے براہِ راست متاثر ہو رہے ہیں۔ پاکستان کی معیشت بڑی حد تک درآمدی تیل پر انحصار کرتی ہے، اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ ملک کے مالیاتی نظام پر فوری دباؤ ڈالتا ہے۔

اس کے نتیجے میں نہ صرف پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہوتی ہیں بلکہ بجلی، ٹرانسپورٹ اور خوراک کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ مہنگائی کی یہ لہر عوامی سطح پر بے چینی کو جنم دیتی ہے اور حکومتوں کے لیے معاشی استحکام برقرار رکھنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھتا ہے اورکرنسی کی قدر میں کمی واقع ہوتی ہے، جس سے بیرونی قرضوں کی ادائیگی مزید مشکل ہو جاتی ہے۔

صنعتی پیداوار متاثر ہوتی ہے اور بے روزگاری میں اضافہ ہوتا ہے۔ یوں ایک عالمی تنازع ایک مقامی معاشی بحران میں تبدیل ہو جاتا ہے، جس کا خمیازہ عام شہری کو بھگتنا پڑتا ہے۔دوسری جانب اس بحران نے نیٹو جیسے اہم عسکری اتحاد کی اندرونی سیاست کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔

نیٹو، جو طویل عرصے سے مغربی اتحاد کی علامت رہا ہے، اب اندرونی اختلافات کا شکار نظر آ رہا ہے۔

امریکا کی جانب سے اتحادی ممالک پر دباؤ ڈالنا کہ وہ اس کی فوجی کارروائی میں شامل ہوں، ایک ایسے رویے کی عکاسی کرتا ہے جو شراکت داری کے اصولوں کے برعکس ہے۔ یورپی ممالک کا اس دباؤ کو مسترد کرنا، اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ اب عالمی سیاست میں یکطرفہ قیادت کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔

جرمنی، فرانس اور برطانیہ جیسے ممالک نے کھل کر یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ اس تنازع میں براہِ راست شامل نہیں ہوں گے۔

ان ممالک کا کہنا ہے کہ کسی بھی فوجی کارروائی سے قبل اس کے مقاصد، حکمت عملی اور ممکنہ نتائج کے بارے میں مکمل وضاحت ہونی چاہیے۔ یہ موقف نہ صرف ایک محتاط پالیسی کی عکاسی کرتا ہے بلکہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ یورپی ممالک اب اندھا دھند امریکی پالیسیوں کی پیروی کرنے کے لیے تیار نہیں۔

نیٹو کے اندر پیدا ہونے والے یہ اختلافات اس اتحاد کے مستقبل کے حوالے سے سنجیدہ سوالات کو جنم دے رہے ہیں، اگر ایک اتحاد کے رکن ممالک ایک اہم عالمی بحران پر متفق نہ ہو سکیں تو اس اتحاد کی افادیت پر سوال اٹھنا فطری امر ہے۔

امریکا کی جانب سے دھمکی آمیز بیانات کہ اگر اتحادی ساتھ نہ دیں تو نیٹو کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے، دراصل اس اتحاد کی کمزوری کو ظاہر کرتے ہیں۔مشرقِ وسطیٰ کی جیو اسٹرٹیجی بھی اس بحران میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔

یہ خطہ نہ صرف توانائی کے وسائل سے مالا مال ہے بلکہ عالمی طاقتوں کے لیے اسٹرٹیجک اہمیت بھی رکھتا ہے۔ یہاں ہونے والی ہر تبدیلی عالمی سیاست پر اثر انداز ہوتی ہے۔ ایران، سعودی عرب، اسرائیل اور دیگر علاقائی طاقتوں کے درمیان طاقت کا توازن ہمیشہ سے ایک حساس مسئلہ رہا ہے۔

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بطور دباؤ کے استعمال کرنا ایک اہم اسٹرٹیجک اقدام ہے، جس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ روایتی جنگ کے علاوہ بھی ایسے ذرائع موجود ہیں جن کے ذریعے عالمی طاقتوں کو چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک غیر روایتی حکمت عملی ہے جس کے اثرات براہِ راست عالمی معیشت پر مرتب ہوتے ہیں۔

چین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کا محتاط رویہ بھی قابلِ غور ہے۔ یہ ممالک توانائی کے لیے مشرقِ وسطیٰ پر انحصار کرتے ہیں، مگر اس کے باوجود انھوں نے اس تنازع میں براہِ راست شامل ہونے سے گریز کیا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اس بحران کو مزید بڑھانے کے بجائے اسے محدود رکھنے کے خواہاں ہیں۔ چین کی جانب سے سفارتی کردار ادا کرنے کی پیشکش اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عالمی طاقتیں اب جنگ کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دینے لگی ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ کو اس وقت سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ امن، استحکام اور اقتصادی ترقی ہے، اگر خطے کے ممالک مسلسل جنگ اور کشیدگی میں الجھے رہیں گے تو اس کا سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑے گا۔

ایسے حالات میں پاکستان جیسے ممالک کا کردار مزید اہم ہو جاتا ہے جو ایک متوازن اور اصولی سفارتکاری کے ذریعے تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کرتے ہیں۔ پاکستان کی یہ کوشش ہونی چاہیے کہ وہ عالمی فورمز پر امن، مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے اپنی آواز بلند کرتا رہے۔

یہ تمام صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ عالمی برادری فوری طور پر مؤثر اقدامات کرے۔ سب سے پہلے آبنائے ہرمز کو کھولنا ضروری ہے تاکہ عالمی توانائی کی فراہمی بحال ہو سکے اور معیشت کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سنجیدہ سفارتی کوششیں کی جانی چاہئیں۔

اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کو اس معاملے میں فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہیں چاہیے کہ وہ غیر جانبدارانہ ثالثی کے ذریعے فریقین کے درمیان مذاکرات کو فروغ دیں اور ایک ایسا حل تلاش کریں جو تمام فریقوں کے لیے قابلِ قبول ہو۔

اس کے علاوہ بڑی عالمی طاقتوں کو بھی اپنی ذمے داری کا احساس کرنا ہوگا اور ایسے اقدامات سے گریز کرنا ہوگا جو صورتحال کو مزید بگاڑ سکتے ہیں۔یہ حقیقت بھی پیش نظر رکھنی چاہیے کہ جنگ کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہوتی۔ جنگیں صرف تباہی، انسانی جانوں کا ضیاع اور معاشی نقصان لاتی ہیں۔

اس کے برعکس مذاکرات اور سفارت کاری ہی وہ ذرائع ہیں جن کے ذریعے پائیدار امن قائم کیا جا سکتا ہے۔ اگر دنیا نے اس بحران سے سبق نہ سیکھا تو مستقبل میں ایسے مزید تنازعات جنم لے سکتے ہیں جو عالمی نظام کو مزید کمزور کردیں گے۔

اس لیے ضروری ہے کہ اس موقع کو ایک انتباہ کے طور پر لیا جائے اور عالمی سطح پر ایسے اقدامات کیے جائیں جو نہ صرف موجودہ بحران کو حل کریں بلکہ مستقبل میں ایسے حالات پیدا ہونے سے بھی روکیں۔

حرف آخر یہی ہے کہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھلوانا اور ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان جاری جنگ کو ختم کرنا، وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو عالمی معیشت کو استحکام فراہم کر سکتا ہے۔ 

نیٹو جیسے اتحادوں کو ٹوٹنے سے بچا سکتا ہے اور سب سے بڑھ کر انسانیت کو ایک بڑے سانحے سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔ دنیا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ طاقت کا استعمال وقتی برتری تو دے سکتا ہے مگر مستقل امن صرف مکالمے، برداشت اور باہمی احترام کے ذریعے ہی ممکن ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

امارات کا آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی کیلیے امریکی کاوشوں میں شامل ہونے پر غور

Published

on


متحدہ عرب امارات نے صدر ٹرمپ کی اپیل پر آبنائے ہرمز کی حفاظت کے لیے امریکی قیادت میں ہونے والی عالمی اقدام میں شامل ہونے کا  عندیہ دیا ہے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ بیان متحدہ عرب امارات کے صدر کے سفارتی مشیر انور قرقاش نے ایک آن لائن تقریب کے دوران دیا جو امریکی تھنک ٹینک کونسل آن فارن ریلیشنز کی جانب سے منعقد کی گئی تھی۔

آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انور قرقاش نے کہا کہ خلیج میں بڑھتی کشیدگی اور جہاز رانی کو لاحق خطرات کے باعث آبنائے ہرمز کی سکیورٹی عالمی سطح پر اہم مسئلہ بن چکی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر امریکا کی قیادت میں کسی بین الاقوامی بحری اقدام کا آغاز کیا جاتا ہے تو متحدہ عرب امارات اس میں شمولیت پر غور کر سکتا ہے۔

انور قرقاش نے مزید بتایا کہ کسی بھی سطح پر اس وقت متحدہ عرب امارات اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات نہیں ہو رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ موجودہ کشیدگی کے دوران خطے میں استحکام برقرار رکھنا اور عالمی تجارت کو متاثر ہونے سے بچانا ضروری ہے۔

خیال رہے کہ دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہ جہاں سے عالمی تیل منڈیوں تک پہنچایا جاتا ہے۔خلیج کے بیشتر تیل برآمد کرنے والے ممالک اسی بحری راستے پر انحصار کرتے ہیں۔

ایران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں آبنائے ہرمز کو بند کیا ہوا ہے اور یہاں سے گزرنے والے غیرملکی تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

جس پر صدر ٹرمپ نے نیٹو ممالک سے اپیل کی تھی کہ آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی کے لیے اپنے بحری جہاز بھیجیں تاکہ ایران کیخلاف امریکی جنگ میں کام آئیں تاہم کسی ملک نے آمادگی ظاہر نہیں کی۔

 





Source link

Continue Reading

Today News

پٹرولیم مصنوعات کا بڑھتا قومی بوجھ

Published

on


پٹرولیم مصنوعات کی مہنگی قیمتوں کے بوجھ تلے عوام پر وفاقی حکومت نے یہ مہربانی کی اور عالمی منڈی میں اضافے کے باوجود پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مزید نہ بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔

دوسری جانب حکومت کے مخالف سیاسی حلقے حکومت کی مسلسل مذمت کرتے آ رہے ہیں کہ پاکستانی حکومت نے ملک میں پٹرولیم مصنوعات کے فاضل ذخیرے کی موجودگی کے دعوے کیے تھے اور اس پر پہلے دس روپے پھر 55 روپے لیٹر اضافہ ناجائز طور کیا۔

کیونکہ پرانے نرخوں پر موجود پٹرولیم مصنوعات کی اچانک قیمتوں میں اضافے کا کوئی جواز نہیں تھا اور اضافے کا جواز پرانے مال پر نہیں بلکہ مہنگے مال کے منگوانے پر بنتا ہے اور حکومت نے لیوی میں بھی 20 روپے اضافہ کر کے خود اپنی آمدنی بڑھائی ہے جب کہ پڑوسی ملک بھارت نے قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا جہاں کھپت پاکستان سے کہیں زیادہ مگر پٹرولیم مصنوعات سستی ہیں۔

ملک میں سرکاری گاڑیوں کی تعداد ضرورت سے بہت زیادہ اور مہنگی گاڑیاں بھی سرکاری محکموں میں ضرورت سے زیادہ ہیں اور وفاقی اور صوبائی تمام حکومتیں ہر محکمے میں نہ صرف غیر ضروری گاڑیاں فراہم کرتی آئی ہیں بلکہ سیاسی حکومتیں اپنے مفاد کے لیے بیورو کریسی کو مہنگی گاڑیاں خرید کر نواز چکی ہیں جن پر سرکاری پٹرول بے انتہا استعمال ہوتا آ رہا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق اسلام آباد کے وفاقی محکموں کے پاس جتنی سرکاری گاڑیاں ہیں ، یورپ کے کئی چھوٹے ملک ایسی ہوں گے، جن کے پورے ملک میں اتنی بڑی تعداد میں سرکاری گاڑیاں نہیں ہوں گی حالانکہ پاکستان ایک غریب اور مقروض ملک ہے ۔

 سیلانی ٹرسٹ کے بانی و چیئرمین مولانا محمد بشیر فاروق قادری نے حکومت وقت کا شکریہ ادا کیا ہے اور متوقع توانائی بحران پر قابو پانے کے لیے زیادہ تعداد میں گاڑیاں رکھنے والے گھرانوں کے لیے پٹرول کوٹہ نافذ کرنے اورکار سواروں پر دفتری اوقات میں اکیلے سفر پر پابندی کی تجویز دی ہے۔

انھوں نے وزیر اعظم شہباز شریف کو مشورہ دیا ہے کہ وہ وزرا اور ماہرین معاشیات کے ساتھ بیٹھ کر ان کی تجاویز کا جائزہ لیں اور پاکستان کو مزید مقروض ہونے سے بچائیں۔

انھوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ نہ کرنے کا وزیر اعظم کا فیصلہ ان حالات میں بہتر قدم ہے کیونکہ 55 روپے لیٹر حالیہ اضافے نے پہلے ہی غریب عوام کی کمر توڑ دی ہے اور مہنگا پٹرول اسی تناسب سے غریب عوام پر ڈال دیا گیا ہے ۔

حکومت اشرافیہ کے لیے پٹرول کا کوٹہ مقرر کرے خواہ وہ سرکاری افسران ہوں یا تاجر و صنعت کار خاص طور پر زیادہ تعداد میں گاڑیاں رکھنے والوں کے پٹرول کوٹے کو محدود کیا جائے اور سرکاری محکموں میں دستیاب ڈیٹا کی مدد سے ملک میں کوٹہ سسٹم بنایا اور فوری نافذ کیا جائے۔

ملک کے ایک بڑے فلاحی ادارے سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ جو عالمی سطح پر خدمات انجام دے رہا ہے کہ چیئرمین مولانا بشیر فاروق قادری نے جو مشورہ دیا ہے وہ ایک بہترین اور بروقت مشورہ ہے۔

مگر یقین ہے کہ حکومت اس پر عمل کرے گی اور نہ وزیروں کی فوج اور سرکاری ماہرین معیشت ان تجاویز کی حمایت کریں گے کیونکہ مولانا کی تجویز سے حکومت، وزیر مشیر اور اعلیٰ سرکاری افسران خود متاثر ہوں گے اور یہ سب کبھی نہیں چاہیں گے کہ انھیں ملنے والے سرکاری مفادات متاثر ہوں۔

بلکہ وہ تو یہ چاہیں گے کہ ان کی سرکاری مراعات میں اضافہ ہو اور عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کے مزید اضافے کا بوجھ صرف عوام پر ڈالا جائے جو پٹرولیم مصنوعات، بجلی و گیس کے سرکاری بوجھ کو برداشت کرنے کے عادی ہو چکے ہیں اور وہ حکومت کا ہر فیصلہ مانیں گے۔

حکومت اور اس کے سیاسی و سرکاری حکام جانتے ہیں کہ غریب عوام مہنگائی کا بوجھ مجبوری میں برداشت کر رہے ہیں کیونکہ ان کے پاس سرکاری احکامات ماننے کے سوا کوئی اور راستہ نہیں ہے اور وہ عشروں سے نام نہاد جمہوری حکومتوں کے فیصلے تسلیم کرتے آ رہے ہیں اور یہ وہی سویلین حکومتیں ہیں جن کے لیے کہا جاتا ہے کہ یہ عوام نے خود منتخب کی ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہے۔

 پاکستان میں سرکاری گاڑیوں کی تعداد زیادہ ہے جن پر روزانہ لاکھوں لیٹر پٹرول استعمال ہوتا ہے اور بڑی تعداد میں پٹرول غیر سرکاری طور پر ضایع کیا جا رہا ہے۔

سرکاری گاڑیاں وزیر و مشیر اور سرکاری افسران ہی نہیں بلکہ ان کے اہل خانہ، دوست اور بچے تک استعمال کرتے ہیں مگر انھیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ سرکاری پٹرول کی پرچیاں رشوت کے طور پر بھی دی جاتی ہیں جب کہ سرکاری گاڑیوں کا غیر قانونی استعمال عام ہے۔

حکومتی ذمے دار اور سرکاری افسران سرکاری گاڑیوں اور سرکاری پٹرول پر عیاشی اور غیر سرکاری استعمال کرتے ہیں جس کا بوجھ ملک کے عوام قومی بوجھ سمجھ کر برداشت کر رہے ہیں اور حکومتوں نے پٹرولیم مصنوعات کو بجلی و گیس کی طرح اپنی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ بنا رکھا ہے۔

وزیر اعظم نے کٹوتیوں کا جو فیصلہ کیا ہے وہ دو ماہ کے لیے ہے جب کہ سب سے زیادہ ضرورت سرکاری گاڑیوں کی تعداد کم کرنے اور سرکاری پٹرول بچانے کی ہے جس پر عمل سے ہی عوام پر پڑتا ہوا بوجھ کم ہو سکتا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

پرعزم – ایکسپریس اردو

Published

on


جی خوش ہوگیا ایک خصوصی کا بیان پڑھ کر کہ صوبائی حکومت صحافیوں کی فلاح وبہبود کے لیے ’’پرعزم‘‘ ہے، اگرچہ ہمارے اپنے لیے اس میں کوئی خوش خبری نہیں ہے کیوں کہ جس طرح تمام عمر ’’غریب‘‘ ہونے کے لیے ترستے رہے ہیں اورغربت کی سعادت کبھی نہ پاسکے۔

اسی طرح صحافی ہونے کے لیے بھی زندگی بھرترستے رہے ہیں لیکن صحافی ہونے کا مقام بلند بھی نہیں پاسکے ہیں، اس لیے دونوں سعادتوں کے لیے دل پر پتھر بلکہ چٹان رکھ چکے ہیں کہ

شفا اپنی قسمت میں تھی ہی نہیں

کہ مقدور بھر تو دوا کرچکے

 بات اگر انصاف کی ہوتی اورتحریک کی نہ ہوتی تو میرٹ اورسینارٹی کی بنیاد پردونوں سعادتیں ہمیں مل جاناچاہیے تھیں لیکن کچھ تو کیا؟ کسی کچھ کے کچھ بھی نہ بن پائے، اس لیے صبر کو وظیفہ کرچکے ہیں۔ ویسے اس کے سوا ہم اورکربھی کیا سکتے ہیں ۔

 اس عشق کی تلافی مکافات دیکھنا

 رونے کی حسرتیں ہیں جب آنسو نہیں رہے

 دراصل اس میں تھوڑی سی کنفیوژن ہے، ہمارے اورآپ کی سوچ کے درمیان ۔ شاید آپ اسے عام غربت اورصحافت سمجھ رہے ہیں لیکن ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔

ہم سرکاری طورپر رجسٹرڈ اورغربت کی بات کر رہے ہیں ورنہ وہ تو کسی اندھے ،گونگے اورلولے لنگڑے کو پتہ ہے کہ عوام بھی اورساتھ ہی کالانعام بھی ہیں۔

خیر چھوڑئیے! یہ رونا دھونا تو ہمارا روز کاکام ہے، بات ’’پرعزم‘‘ کی کررہے ہیں جو صوبائی حکومت صحافیوں کے بارے میں ہوچکی ہے۔

یہ خوشی بھی کچھ کم نہیں ہے کہ اپنی برادری والوں کا تو کچھ بھلا ہوجائے گا، وہ بھلے ہی ہمیں اپنا نہ سمجھیں، ہم تو ان کو اپنا سمجھتے ہیں کہ کچھ بھی سہی ۔ کم زوربلکہ نہ ہونے کے برابر سہی اپنی برادری سے تعلق تو ہے یا رہا ہے

 گو واں نہیں یہ واں کے نکالے ہوئے تو ہیں

 تشویش اگر ہے تو وہ اس لفظ ’’پرعزم‘‘ سے ہے، یہ ان الفاظ میں جو بیانوں کے بیانوں کا جزو اعظم ہوتے ہیں جیسے پہلی ترجیح ، جنگی بنیادوں پر، ترجیحی بنیادوں پر ، سنجیدگی کے ساتھ ، میرٹ کی بنیادپر ، بانی کے وژن کے مطابق۔ ایک نیا اضافہ ہے ’’پرعزم‘‘ ۔کیاخوبصورت للچانے والا اورمنہ میں پانی بھر لانے والا لفظ’’پرعزم‘‘ ہے۔

اگرچہ اس کے ساتھ تھوڑا ڈاؤٹ بھی ہے بلکہ اب یہ ڈاؤٹ بڑا بھی ہوتا جارہا ہے کیوں کہ ہردوسرے سرکاری بیان میں کوئی نہ کوئی تو کسی نہ کسی طرح ’’پرعزم‘‘ ہوتا ہے اوروزیراعلیٰ اور ان کے وزیر تو ’’سینئر پرعزم‘‘ ٹھہرے ۔

سارے وزیر کسی نہ کسی کام کے لیے’’ پرعزم‘‘ اورسارے کے سارے مشیران کرام اورمعاونین عظام بھی ’’پرعزم‘‘ بلکہ بیانان کے تسلسل کو پرعزم اعظم ہوچکے ہیں اورمنتخب نمائندے۔

تو۔۔ ’’پر‘‘کو انگریزی میں فل کہتے ہیں جس میں پر سے زیادہ شدت سے اکثر لوگ اتنے ’’فل اورپر‘‘ہوجاتے ہیں کہ چورن اورسانس کے لیے بھی جگہ نہیں رہتی۔

ایک ’’بزرگ‘‘ کاتاریخی واقعہ ہے کہ اب اس ’’پر اورفل‘‘ ہونے کی وجہ سے وہ ’’گزرگ ‘‘بھی ہوگئے تھے، دراصل ان بزرگ کے اندر میٹر نہیں تھا ، شاید زیادہ بوجھ یارف استعمال سے ڈیڈ ہوچکا تھا چنانچہ جب وہ کسی چہلم یا برسی کی ’’وارادات‘‘ پر جاتے تھے اورایک شاگرد کو خصوصی طورپر ساتھ لے جاتے تھے تاکہ انہیں بروقت سرخ جھنڈی دکھا کر فل اسٹاپ کااشارہ دے دیں ۔

اب ان کی بدقسمتی یاعوام کی خوش قسمتی سے ایک مرتبہ وہ ایک بہت مرغن چرغن واردات پر گئے تو وہاں انتظام یہ تھا کہ خصوصیوں کے لیے الگ اورعوامیوں کے لیے الگ الگ انتظام تھا اوروہ شاگرد یا میٹر اس سے جدا ہوگیا۔

بزرگ دسترخوان پر بیٹھ گئے تو دستر خوان کے لوازمات اورشمولات دیکھ کر سب کچھ بھول گئے اورمیدان کارزار میں اتر گئے ، حملے پر حملے، فتوحات پر فتوحات اورمال غنیمت پر مال غنیمت ، چرتے چلے گئے ، بڑھتے چلے گئے، ٹھونستے چلے گئے۔

وہ شاگرد اپنا کام ختم کرکے استاد کی خبر لینے آئے تو باقی سارے لوگ اٹھ چکے تھے، صرف استاد اکیلے دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ اس نے بلایا چلایا لیکن استاد نے کوئی رسپانس نہیں دیا ۔

پانی لاکر منہ سے برتن لگایا تو بھی کچھ نہ ہوا ، اس نے جیب سے چورن کی شیشی نکالی جو اسی ہنگامی حالات کے لیے جیب میں رکھتا تھا، چورن کھلانا چاہا، تب اتنے میں کچھ اورلوگ بھی آگئے، جن میں استاد جی کو جاننے والا ایک بزرگوار بھی تھا، اس نے شاگرد کے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا، فضول ہے برخوردار، میں اسے جانتا ہوں، چورن تو کیا اس نے سانس کے لیے بھی جگہ نہیں چھوڑی ہوگی، اس لیے ’’پھر‘‘ ہوچکے ہیں۔ 

یہی ہوتا ہے ہمیشہ زیادہ ’’پر‘‘ ہونے کے کا کہ سانس کی ’’ھ‘‘ بھی ’’پر‘‘ میں داخل ہوکر اسے ’’پھر‘‘ بنا دیتی ہے، اس لیے ہمارا ان ’’پرعزموں‘‘ کو بھی مشورہ ہے کہ ذراسنھبل کے پر عزم ہوجائیے گا کہ’’ پر‘‘ اور ’’پھر‘‘ میں صرف دوچشمی (ھ) کافرق ہے یا ایک آہ کا ۔

کھلے گا ترک تعلق کے بعد باب فنا

یہ ایک آہ کا پردہ بھی اب ہٹا ہی دو

 ہمیں ان پرعزم جنابان عالی کی نیت پر کوئی شک نہیں ہے، جب وہ کہتے ہیں کہ پرعزم تو پرعزم ہی ہوں گے لیکن مسلہ یہ ہے کہ یہ کوئی آخری بار تو نہیں، سلسلہ اب بھی پہلی ترجیحات کا ، ترحیجی بنیادوں کا، جنگی بنیادوں پر تعمیر کا ، اسپرٹ آف میرٹ ، کام اور بانی کے وژن کا بھی پرعزم ہونے کا ہے۔ کیاپتہ آگے کچھ اورنہ نکل آئے ۔

 یہاںپر ایک چھوٹی سی تشویش نے دم ہلانا شروع کردی ہے۔ نانی کی آنکھ کو خدا صحیح سلامت رکھے، کچھ تشویشناک چیزیں آرہی ہیں ورنہ پھر ’’وژن‘‘ کاکیابنے گا ، خدا ہر بری نظر سے بچائے بلکہ اچھی نظروں سے بھی۔ بہرحال ہمارا اورتو کچھ نہیں ہے، بس صرف دعا ہے اوروہ ہم دیتے رہیں گے ، بانی کو بھی، وژن کو بھی اورپراعظموں کو بھی ۔





Source link

Continue Reading

Trending